| عنوان: | تقدیم شارح بخاری |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | سعدیہ نوری قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
تقدیم
عام حالات یہ ہیں کہ "قدرِ نعمت بعدِ زوال" جب کسی شخصیت کی رحلت ہو جاتی ہے تو خیال ہوتا ہے کہ ان کا مقام بہت اہم اور خدمات بڑی وسیع تھیں، ان کے حالات و سوانح مرتب کرنا چاہیے۔ مگر زندگی میں کسی کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ ان کی خدمات، ان کے خطبات، حلِ اشکالات، اصلاحِ عبارات، علمی افادات، روابط و تعلقات، قیمتی نصائح و ملفوظات وغیرہ کا ریکارڈ رکھا جائے۔ اس کا شکوہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اپنے سفرِ حج کے تذکرے میں کیا ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ سبھی اکابر کے ساتھ ان کی زندگی میں ہمارا یہی سلوک رہا، اور اب بھی ہم اسی روش کے پابند ہیں۔
بعدِ وصال سوانح و حالات لکھنے میں یہاں تک دشواری ہوتی ہے کہ تاریخِ پیدائش، والدین اور خاندان، احباب و متعلقین، ابتدائی اساتذہ وغیرہم کا بھی پوری طرح علم نہیں ہو پاتا۔ اور بھی بہت سے گوشے تاریک نظر آتے ہیں جن پر زندگی میں روشنی ڈالنا آسان تھا۔
میں نے اپنی اس خلش کا تذکرہ اپنے احباب و متعلقین سے بارہا کیا۔ پہلی بات کی طرف تو اب بھی باضابطہ کوئی توجہ نہیں مگر دوسری بات سے متعلق یہ پیش رفت سامنے آئی کہ چند سال قبل عرسِ حافظِ ملت کے موقع پر "شارحِ بخاری" کی حیات و خدمات پر جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے طلبہ نے لائقِ تحسین مقالات لکھے اور علمائے کرام نے اپنے تاثرات بیان فرمائے۔
اب مولانا عبد الحق رضوی، الحاج محمد سعید نوری اور دیگر احباب کو خیال آیا کہ 'نزہۃ القاری شرحِ بخاری' کی تکمیل پر باضابطہ جشن کا انعقاد ہو اور شرحِ بخاری و شارحِ بخاری سے متعلق علماء، دانشوران اور دیگر اہلِ تعلق کو دعوتِ تحریر و سخن دی جائے تاکہ جو حالات آج محفوظ ہو سکتے ہیں کم از کم وہ ضائع نہ ہونے پائیں۔ بحمدہٖ تعالیٰ اس منصوبے کے تحت کام کا آغاز ہو گیا ہے۔
مبارک پور میں اس موضوع کی پہلی نشست میں راقمِ سطور نے یہ رائے پیش کی کہ ایک مختصر تعارف جشن سے پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تاکہ جشن میں مدعو ہونے والے ناواقف حضرات بھی متعارف ہو سکیں اور تاثرات بھی پیش کر سکیں۔ اس تعارف کو عربی، انگریزی، ہندی، گجراتی میں بھی منتقل کر دیا جائے تو اس کی افادیت اور زیادہ ہو سکتی ہے۔ شرکائے نشست نے یہ رائے قبول کی، اور اس کے لیے برادرِ گرامی مولانا متین ازہری مصباحی کی خدمات حاصل کرنے میں کامیابی مل گئی۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى ذٰلِكَ۔
دیگر زبانوں میں اسے منتقل کرنے کے لیے کوئی پیش رفت ابھی تک نہ ہو سکی جس کا ایک سبب یہ ہے کہ مسودہ تیار ہوتے ہی کمپیوٹر کے حوالے ہو گیا۔ پھر پروف ریڈنگ اور نظرِ ثانی وغیرہ کے مرحلے سے اس کو رخصت ہی نہیں ملی ہے کہ کسی اور ہاتھ میں جا سکے۔ مگر جانا چاہیے اور بہت جلد تاکہ یہ تعارف عام سے عام تر ہو سکے۔
اس تعارف کا تعارف میں کیا کراؤں۔ شارحِ بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی دام ظلہ کی عظمت و اہمیت اپنوں ہی نہیں غیروں کو بھی تسلیم ہے اور میں تو ان کے خوانِ علم کا ایک خوشہ چیں ٹھہرا۔ لیکن چند باتیں عرض کروں گا جو میں نے ان کی ذات میں خاص طور سے محسوس کیں:
(1) دینی و ملی غیرت و احساس ان میں معاصرین سے زیادہ دیکھتا ہوں۔ جب بھی اسلام و سنت یا اکابرِ دین و ملت پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے تو وہ بے تاب ہو جاتے ہیں اور اس کے دفاع کے لیے اپنی ممکنہ تدبیر سے باز نہیں آتے۔
(2) علم میں وہ رسوخ حاصل ہے کہ جب کسی خاص موضوع پر لکھنے یا بولنے پر آتے ہیں تو بہت جلد اس کے تمام گوشوں کا احاطہ و استحضار کر کے بھرپور روشنی ڈالتے ہیں۔
(3) فقہی جزئیات کا استحضار، حالاتِ زمانہ پر نظر، سائلین کے فکر و مزاج سے آگاہی، بعض سائلوں کی ہلاکی و عیاری سے باخبری اور دیگر لوازم سے آراستگی ایسی ہے کہ زمانۂ دراز سے فتاویٰ کا برجستہ املا کراتے ہیں۔ لکھنے اور پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ بہت ہی مناسب اور برمحل جواب دیا گیا ہے، جو کسی ماہر مفتی کا نتیجۂ قلم ہے یا کافی غور و خوض اور محنت و تیاری کا ثمرہ ہے۔
(4) جماعت اور اداروں کے احوال پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے طویل تجربات کی روشنی میں بڑی قیمتی رہنمائی اور لاجواب عقدہ کشائی سے نوازتے ہیں۔
(5) اصلاح و تربیت کا بھی خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ اور اہلِ تعلق کو مناسب ہدایات و تنبیہ سے برابر بناتے سنوارتے رہتے ہیں۔
(6) عرصۂ دراز تک تدریس، افتاء، تبلیغ و تقریر کا جو وسیع تجربہ ہے اس میں انفرادیت کے ساتھ تحریر و تفہیم، خصوصاً تحریر اور حسنِ تفہیم میں یکتائے زمانہ ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ ان کا سایہ دراز فرمائے۔
زیرِ نظر کتاب میں شارحِ بخاری کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجمالی طور پر سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ عنوانات کی فہرست پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی اس کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس اختصار، جامعیت اور اثر آفرینی کے ساتھ ان موضوعات سے عہدہ برآ ہونا سب کے بس کی بات نہیں۔ پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ مولانا نے محض تقاضا نہیں بلکہ عقیدت سے سرشار ہو کر بڑی امنگ کے ساتھ لکھا ہے۔ اکابر کے ساتھ اس جذبۂ عقیدت کی ضرورت ہے جو اس زمانے میں کم یاب ہوتا جا رہا ہے۔
نمونۂ فتاویٰ اور نمونۂ مضامین کا اضافہ بھی بہت خوب ہے۔ اس کا نقد فائدہ یہ ہے کہ قاری ان تحریروں کے ذریعہ شارحِ بخاری کی شخصیت سے براہِ راست متعارف ہو سکتا ہے۔ ان کے علمی و فکری مقام، دینی جذبات اور قلمی اسلوب سے آشنا ہو کر علی وجہ البصیرۃ خود بھی ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کر سکتا ہے۔ تصانیف پر تبصرہ بھی بہت جامع اور دلچسپ ہے۔
اب کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے زیادہ دیر تک حائل رہنا مناسب نہیں، ورق الٹیے اور خود دیکھیے:
مُشک آنست کہ خود ببوید، نہ کہ عطار بگوید
محمد احمد مصباحی
الجامع الاسلامی، ملت نگر، مبارک پور۔
10 ربیع الآخر 1420ھ / 23 جولائی 1999ء [حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 602 تا 605]

