Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وہابیوں کے عقائد کی چند ایک جھلکیاں (قسط: دوم) ابو محمد انس رضا قادری

وہابیوں کے عقائد کی چند ایک جھلکیاں (قسط: دوم)
عنوان: وہابیوں کے عقائد کی چند ایک جھلکیاں (قسط: دوم)
تحریر: ابو محمد انس رضا قادری
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی

عقیدہ: وہابیوں کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال حجت نہیں ہیں۔ [کتاب ہدایۃ المہدی، ص: 211]

عقیدہ: بانی وہابی مذہب محمد بن عبدالوہاب نجدی کا یہ عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم و تمام مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں، اور ان سے قتل کرنا، ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے۔ [ماخوذ از: حسین احمد مدنی، الشہاب الثاقب، ص: 43]

عقیدہ: وہابیوں کے نزدیک انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام سے مدد مانگنے والے عرب کے مشرکوں سے بڑے بلکہ ابوجہل سے بڑے کافر ہیں۔ الجواہر المضیۃ میں ابن عبدالوہاب نجدی نبی اور ولی سے مدد مانگنے والے مسلمانوں کے متعلق لکھتا ہے:

”أَعْلَمْ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ فِي زَمَانِنَا قَدْ زَادُوا عَلَى الْكُفَّارِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.“

ترجمہ: جان لو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے مشرکوں کی نسبت موجودہ دور کے مسلمان زیادہ مشرک ہیں۔ [الجواہر المضیۃ، ص: 3، دار العاصمہ، الریاض]

ایک اور وہابی اپنی کتاب ”کیف نفہم التوحید“ میں لکھتا ہے:

”أَبُو جَهْلٍ وَأَبُو لَهَبٍ وَمَنْ عَلَى دِينِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَيُوَحِّدُونَهُ فِي الرُّبُوبِيَّةِ خَالِقًا وَرَازِقًا، مُحْيِيًا وَمُمِيتًا، ضَارًّا وَنَافِعًا، لَا يُشْرِكُونَ بِهِ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، عَجِيبٌ وَغَرِيبٌ، أَنْ يَكُونَ أَبُو جَهْلٍ وَأَبُو لَهَبٍ أَكْثَرَ تَوْحِيدًا لِلَّهِ وَإِخْلَاصًا إِيمَانًا بِهِ مِنْ هَؤُلَاءِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.“

ترجمہ: ابوجہل و ابولہب جو کہ مشرکوں کے دین پر تھے، لیکن اللہ کو ربوبیت میں واحد مانتے تھے، اسے خالق و رازق جانتے تھے، زندگی و موت دینے والا، نفع و نقصان کا خالق مانتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے، عجیب و غریب بات ہے کہ ابوجہل و ابولہب زیادہ توحید پرست تھے موجودہ دور کے مسلمانوں کی نسبت جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ [کیف نفہم التوحید، ص: 12، الجماعتہ الاسلامیہ، المدینہ المنورہ]

عقیدہ: وہابی مولوی مبشر احمد ربانی لکھتا ہے کہ قبر میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال ہوتا ہے اس میں نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہیں اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا ہے، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو ذہنی عقیدہ ہوتا ہے اس کے متعلق سوال ہوتا ہے۔ [احکام و وسائل، ص: 45، دار الاندلس، لاہور]

عقیدہ: وہابیوں کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بیداری کی حالت میں دیدار ناممکن ہے، جو لوگ بیداری کی حالت میں دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا تو وہ جھوٹے ہیں۔ [فتاویٰ علیمیہ، ج: 2، ص: 67، مکتبۃ المدینہ، لاہور]

جبکہ کثیر بزرگانِ دین سے جاگتی آنکھوں سے دیدارِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ثابت ہے۔

عقیدہ: وہابیوں کے نزدیک لفظ اللہ کے ساتھ ذکر کرنا ثابت ہے۔ [البنیان المرصوص، ص: 173]

عقیدہ: خود وہابی مولوی وحید الزماں کا اجتہادِ باطل اپنی کتاب ”ہدایۃ المہدی“ میں کہتا ہے کہ خطبہ میں خلفاء رضی اللہ عنہم کے ذکر کا التزام بدعت ہے۔ [ہدایۃ المہدی، ج: 1، ص: 110]

عقیدہ: وہابیوں کے نزدیک قبر کے پاس نماز پڑھنا، تلاوت کرنا شرک کا سبب ہے، سعودی مفتی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز اپنے فتاویٰ میں لکھتا ہے: ”قبروں کو سجدہ گاہ بنانے، ان کے پاس نماز پڑھنے، یا قیام کرنے، قرآن کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ سارے کام شرک کے اسباب و وسائل میں سے ہیں، اور ایسے ہی قبروں پر عمارت اور قبے بنانا اور ان پر چادریں چڑھانا شرک اور مردوں کے حق میں غلو کا سبب ہے۔“ [ارکانِ اسلام سے متعلق فتاویٰ، ص: 17، دعوت و ارشاد، ریاض]

وہابیوں کے اس غلط فتوے کے مطابق وہابیوں کی مدینہ میں نماز نہیں ہوتی کہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر صدیق و عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہم کی قبریں مبارک ہیں۔

عقیدہ: مسلمانوں کی قبروں کو شہید کرنا وہابیوں کے نزدیک عظیم عبادت ہے، بلکہ وہابی مولوی نواب نور الحسن خاں اپنی کتاب ”عرف الجادی“ میں لکھتا ہے کہ اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دینا واجب ہے، چاہے نبی کی قبر ہو یا ولی کی ہو۔ [عرف الجادی، ص: 17، ماخوذ از: رسائلِ اہل حدیث، حصہ اول، جمعیت اہل سنت، لاہور]

عقیدہ: وحید الزماں ”ہدایۃ المہدی“ میں کہتا ہے کہ رام چندر، کشن جی جو ہندوؤں میں مشہور ہیں، اسی طرح فارسیوں میں زرتشت اور چین اور جاپان والوں میں کنفیوشس، بدھا اور سقراط و فیثاغورث یونانیوں میں جو مشہور ہیں ہم ان کا انکار نہیں کر سکتے کہ یہ انبیاء و صلحاء تھے۔ [ہدایۃ المہدی، ج: 1., ص: 88]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!