Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی کے فضائل

قربانی کے فضائل
عنوان: قربانی کے فضائل
تحریر: محمد واصف رضا العطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء احمدآباد گجرات

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے کئی ایک عبادتوں کو مقرر فرمایا ہے، جن کے ذریعے سے تزکیۂ نفس، مال اور زہد و تقویٰ کی لازوال نعمت کا حصول ہوتا ہے۔

انھیں بابرکت عبادتوں میں سے ایک عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے خاص دنوں میں، خاص طریقے سے، خاص جانوروں کی قربانی کرنا ہے۔

قربانی کا معنی

قربانی عربی لفظ ”قُرب“ سے نکلا ہے جس کا معنی قریب ہونا ہے۔

قربانی کا ثبوت

قربانی کرنا قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

  1. اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْؕ ترجمہ کنز العرفان: تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ [الکوثر: ۲]

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ ترجمہ کنز العرفان: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ [الحج: ۳۷]

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ قربانی کا اصل مقصد اخلاص، تقویٰ اور اللہ کے قریب ہونا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ قربانی کے فضائل سے مالا مال ہیں۔ آئیے! قربانی کے فضائل پر چند احادیثِ کریمہ ملاحظہ کریں:

  1. سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ”انسان بقرہ عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو اللہ عزوجل کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو۔ یہ قربانی قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی اور قربانی کا خون زمیں پر گرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے۔ لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو۔“ [ترمذی، ج: ۳، ص: ۱۶۲، حدیث: ۱۴۹۸]

محقق علی الاطلاق، خاتم المحدثین، حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قربانی اپنے کرنے والے کے نیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔ [اشعۃ اللمعات، ج: ۱، ص: ۵۷۴]

حضرت سیدنا علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قربانی بھی اس کے لیے سواری بنے گی جس کے ذریعہ یہ شخص بآسانی پل صراط سے گزرے گا اور اس کا ہر عضو مالک کے ہر عضو کا فدیہ بنے گا۔ [رسالۂ ابلق گھوڑے سوار، ص: ۴]

قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔ [ترمذی، کتاب الاضاحی، باب ما جاء فی فضل الاضحیۃ، ج: ۳، ص: ۱۶۲، حدیث: ۱۴۹۸]

  1. جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی، تو وہ آتشِ جہنم سے حجاب (یعنی روک) ہو جائے گی۔ [معجم کبیر، حسن بن حسن بن علی عن ابیہ، ج: ۳، ص: ۸۴، حدیث: ۲۷۳۶]
  • قربانی ایک عظیم عبادت ہے اور یہ تقرب الی اللہ کا سبب بنتی ہے۔
  • قربانی سنتِ ابراہیمی ہے۔
  • قربانی شعائرِ اللہ میں سے ہے۔
  • قربانی دوزخ سے نجات کا سبب ہے۔
  • قربانی پل صراط کی سواری ہے۔
  • قربانی سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ قربانی کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کو محض رسماً ادا نہ کریں بلکہ خداوندِ قدوس کی رضا حاصل کرنے کے لیے ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!