Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دنیاوی چالیں اور عورت کا وقار (قسط: دوم)|سلمیٰ شاہین امجدی

دنیاوی چالیں اور عورت کا وقار (قسط: دوم)
عنوان: دنیاوی چالیں اور عورت کا وقار (قسط: دوم)
تحریر: سلمیٰ شاہین امجدی
پیش کش: زیبا رضویہ

4۔ خود نمائی اور مادیت کا فتنہ: آج بعض عورتیں شادی بیاہ یا محفلوں میں ایک دوسرے سے بہتر دکھائی دینے کی کوشش میں مصروف رہتی ہیں۔ لباس، میک اپ، اور اندازِ حرکت میں مقابلہ، دل میں غرور اور خود نمائی کو جنم دیتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی نمائشیں مادیت اور دکھاوے کی طرف مائل کرتی ہیں اور حیا کی روشنی کو مدہم کر دیتی ہیں۔ خود کو نمایاں کرنے کی یہ کوشش نہ صرف دل کو دنیا کی طرف کھینچتی ہے بلکہ ایمان اور اخلاق پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ یاد رکھیں! عورت کے ایمان کی حفاظت صرف ذاتی نجات تک محدود نہیں بلکہ پورے گھر، خاندان اور معاشرت کی بقا سے جڑی ہے۔ آج کے زمانے میں بے شمار فتنے جنم لے رہے ہیں۔ چاہے وہ خود نمائی اور مادیت کا فتنہ ہو، علم کے نام پر دین سے دوری ہو، یا محفلوں اور دوستوں کے ذریعے دلوں میں داخل ہونے والا فتنہ ہو۔ یہ سب معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی زوال کا سبب بن رہے ہیں۔ مضمون کی طوالت سے بچنے کے لیے یہاں ہم صرف ان چند اہم فتنوں پر اکتفا کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ آج کے فتنوں اور دنیاوی چالوں کے زمانے میں عورت کے ایمان، حیا، اور اخلاق کی حفاظت ہر مرد و زن پر لازمی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی اقدامات کی جانب سنجیدگی سے قدم بڑھایا جائے تاکہ دل و دماغ اور عمل سب ایمان کی روشنی میں ڈھالے جائیں۔

اہم عملی اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. قرآن و سنت کو زندگی کا محور بنائیں: روزانہ کی تلاوت، ذکر، اور دعا کو معمول بنائیں۔ دل اور دماغ کو ایمان کی روشنی میں مضبوط کریں تاکہ ہر عمل اور فیصلہ تقویٰ اور بصیرت کے مطابق ہو۔

  2. حیا اور پردہ کو اپنا زیور سمجھیں: یہ نہ صرف عورت کی شناخت اور وقار ہیں بلکہ اس کی روحانی طاقت بھی ہیں۔ پردہ اور حیا کو پابندی یا بوجھ کے بجائے اپنی حفاظت اور عزت کا ذریعہ بنائیں۔

  3. تعلیم کو دین کے تناظر میں استعمال کریں: دنیاوی علم حاصل کرنا مفید ہے، مگر اسے دل و عمل میں اتارنا ضروری ہے۔ عورتیں ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، یا سیاست میں رہنما بن سکتی ہیں، لیکن تعلیم کو دین کی روشنی میں استعمال کرنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ایمان کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔ صحابیات کی مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں خواتین نے علم اور عملی خدمات دونوں میں بلند مقام حاصل کیا۔

  4. محفلوں اور دوستوں میں محتاط رہیں: دوستیاں اور محفلیں تب تک مفید ہیں جب دل و دماغ کو دین کی راہ میں مضبوط کریں۔ لڑکوں یا غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات اور محفلیں بعض اوقات حیا اور ایمان پر اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے صحبت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔

  5. سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا میں نیت خالص رکھیں: مواد کا انتخاب ہمیشہ مفید، نیکی اور علم و ہدایت پر مبنی کریں۔ لائکس، فالوورز، اور تصاویر کی خود نمائی کے جھانسے سے بچیں۔

  6. گھر میں ایمان، اخلاق، اور حیا کے معیار قائم رکھیں: عورت کا کردار صرف ذاتی حدود میں محدود نہیں بلکہ پورے گھر اور خاندان کے لیے نمونہ ہے۔ عملی مثالیں قائم کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس روشنی سے منور ہوں۔

  7. صحیح صحبت اور نیک دوستوں کا انتخاب کریں: نیک اور دین کے مددگار دوست شخصیت کو مضبوط کرتے ہیں اور فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنتے ہیں۔

صحابیات کی مزید مثالیں: حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ اس علم کو خاندان اور معاشرت میں نافذ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی علمی خدمات، فتاویٰ کی رہنمائی، اور خواتین کی تربیت میں کردار نے اسلام میں خواتین کے لیے ایک مضبوط نمونہ قائم کیا۔ حضرت رقیہ اور حضرت نصیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جنگ میں حصہ لیا اور اسلامی ریاست کے دفاع میں عملی کردار ادا کیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ عورت کی ذمہ داری صرف گھریلو یا محدود نہیں، بلکہ معاشرتی اور علمی سطح پر بھی ہے۔

موبائل اور سوشل میڈیا نے فتنہ کو اندرونِ دل تک پہنچا دیا ہے۔ آج عورت کے لیے چیلنج یہ نہیں کہ باہر کے حالات کس طرح ہیں، بلکہ یہ ہے کہ دل، نظر، اور زبان میں یہ فتنے کیسے داخل ہوئے۔ سوشل میڈیا نے عبادت کو دکھاوا، حیا کو کانفیڈنس، اور اخلاق کو فیشن بنا دیا ہے۔ مگر اگر نیت خالص ہو، تو یہی پلیٹ فارم صدقہ جاریہ، علم و ہدایت کا ذریعہ، اور عملِ صالح کی ترغیب بن سکتا ہے۔ [باقی ص: 52 پر، دسمبر 2025ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!