Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

موت کافی ہے نصیحت کے لیے|مہتاب پیامی

موت کافی ہے نصیحت کے لیے
عنوان: موت کافی ہے نصیحت کے لیے
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

کائنات کا یہ اٹل قانون ہے کہ یہاں ہر کمال کو زوال اور ہر حیات کو فنا کا سامنا کرنا ہے۔ موت صرف سانسوں کا تسلسل ٹوٹنے کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد کا اتمام اور ایک باب حیات کے بند ہونے کا نام ہے۔ جب ہم موت کے عمومی فلسفے پر غور کرتے ہیں، تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بظاہر خاموشی ہے، مگر اپنے پیچھے یادوں، اثرات اور خلا کا ایک ایسا طوفان چھوڑ جاتی ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور دل تسلیم و رضا کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔

موت کے اسی بے رحم اور عالمگیر تصور کو جب ہم اپنے عہد کی قدآور شخصیات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تو دکھ کی لہر مزید گہری ہو جاتی ہے۔ 10 رمضان المبارک 1447ھ / 28 فروری 2026ء میں علمی و روحانی افق کا ایک روشن ستارہ، جسے دنیا مولانا رکن الدین اصدق کے نام سے جانتی ہے، ہمیشہ کے لیے روپوش ہو گیا ہے۔ موت کی حقیقت جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا، مولانا کی وفات اس کا ایک ایسا عملی اور سوگوار نمونہ ہے جس نے صرف ان کے پسماندگان بلکہ پورے علمی حلقے کو ملول کر دیا ہے۔ مولانا کی رحلت صرف ایک فرد کا جانا نہیں، بلکہ ایک علمی تسلسل اور فکری سرپرستی کا اٹھ جانا ہے۔ بقول شاعر:

فکر کا مہر درخشاں بجھ گیا
فہم کا اک ماہ تاباں بجھ گیا
موت کی آندھی چلی کچھ اس قدر
اک چراغ علم و عرفاں بجھ گیا
تجھ کو رکن الدین، جاتے دیکھ کر
چہرۂ لعل بدخشاں بجھ گیا

ان کا وصال محض ایک فرد کا اٹھ جانا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورے عہد، ایک شاندار علمی روایت، اور ایک بابرکت روحانی سلسلے کا خاموش ہو جانا ہے۔ ان کی رحلت سے اہل سنت و جماعت اور بالخصوص خانقاہی و صحافتی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کا پُر ہونا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

سید رکن الدین اصدق مصباحی علیہ الرحمہ محض ایک نام نہیں بلکہ ایک تحریک کا عنوان تھے۔ ان کا تعلق اس خانوادۂ عالیہ سے تھا جس کی بنیادیں علم نافع اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر استوار ہیں۔ ان کی پرورش ایسے علمی ماحول میں ہوئی جہاں قَالَ اللَّهُ وَقَالَ الرَّسُولُ کی صدائیں گونجتی تھیں۔ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی آغوش میں جب آپ کی علمی صلاحیتیں پروان چڑھیں، تو اس وقت کے جید اساتذہ نے بھانپ لیا تھا کہ یہ نوجوان آگے چل کر آسمان علم کا مہر منیر بنے گا۔

علم میں خشیت الٰہی کا رنگ غالب تھا، یہی وجہ ہے گفتگو ہو یا تحریر، اس میں ایک خاص قسم کی تاثیر اور روحانیت جھلکتی تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اعلاء کلمۃ اللہ اور مسلک حق کی ترجمانی میں صرف کر دی۔

صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں مولانا کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ قرطاس و قلم کو کبھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونے دیا، نہایت کٹھن حالات میں بھی حق کا پرچم بلند رکھا۔ ان کی تحریروں میں علمی متانت کے ساتھ ادبی چاشنی بھی نمایاں تھی۔

جملوں کی ساخت اور الفاظ کا انتخاب وسیع مطالعے اور زبان و بیان پر مکمل دسترس کی گواہی دیتا تھا۔ رسائل و جرائد کے لیے لکھے گئے ان کے اداریے اور مقالات آج بھی رہنمائی کا مینار ہیں۔ انھوں نے جدید طبقے کو اسلام کی حقیقی روح سے روشناس کرانے کے لیے جس انداز فکر کو اپنایا، وہ آپ ہی کے لیے مخصوص تھا۔

آج کے دور میں جہاں خانقاہی نظام پر جمود طاری ہے، وہاں سید رکن الدین اصدق مصباحی نے خانقاہ کو علم اور تربیت کا مرکز بنایا۔ وہ ”پیر“ سے زیادہ ”مربی“ اور ”معلم“ کے روپ میں نظر آئے۔ ان کا ماننا تھا کہ صوفی وہ ہے جس کا ظاہر شریعت کے مطابق اور باطن یاد الہی سے معمور ہو۔ انھوں نے اپنے مریدین اور معتقدین کی تربیت میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ذکر الٰہی کے ساتھ ساتھ علم دین کا حصول ناگزیر ہے۔ ان کی مجالس میں بیٹھنے والا شخص خود کو دنیا کی آلائشوں سے دور اور خدا کے قریب محسوس کرتا تھا۔

وہ صرف کتابی آدمی نہیں تھے، بلکہ قوم کے سچے نبض شناس بھی تھے۔ ملتِ اسلامیہ کو در پیش چیلنجز، تعلیمی پسماندگی اور سیاسی انتشار پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین اور داخلی انتشار سے بچنے کی تلقین کی۔ ان کا موقف انتہائی واضح تھا کہ جب تک مسلمان اپنے اسلاف کے نقش قدم پر نہیں چلیں گے، وہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کر سکتے۔

مولانا کی علالت اور پھر اچانک وصال کی خبر نے ملک و بیرونِ ملک میں ان کے چاہنے والوں کو سوگوار کر دیا۔ وہ اپنے پیچھے ایک وسیع علمی ذخیرہ، شاگردوں کی ایک بڑی فوج اور عقیدت مندوں کا ایک عظیم الشان حلقہ چھوڑ گئے ہیں، اب ان پس ماندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حضرت کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

آج سید رکن الدین اصدق مصباحی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی یادیں، ان کے افکار اور ان کی تحریریں ہمیشہ مشعل راہ بنی رہیں گی۔ وہ علم و فضل کا ایک ایسا سورج تھے جو بظاہر غروب تو ہو گیا ہے، لیکن اپنی روشنی کی لکیریں چھوڑ گیا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت علامہ کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

الہی! مولانا نے اپنی تمام تر توانائیاں اور قرطاس و قلم کی جولانیاں تیرے دین کی سربلندی اور مسلک حق کی ترجمانی کے لیے وقف کر رکھی تھیں، ان کی ان مخلصانہ کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرما اور ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرما۔

اے رب ذو الجلال! تیری بارگاہ میں دعا ہے کہ ان کے پسماندگان، تلامذہ اور عقیدت مندوں کو اس عظیم صدمے پر صبر جمیل عطا فرما اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علم، قلم اور روحانیت کی اس شمع کو روشن رکھ سکیں جسے وہ اپنی پوری زندگی کی محنت سے جلا کر گئے ہیں۔ حضرت کی جدائی کا یہ زخم بظاہر بہت گہرا ہے، مگر ہم تیرے فیصلے پر راضی ہیں اور تیری ہی رحمت کے طلب گار ہیں۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

ماہنامہ اشرفیہ کے موجودہ شمارے کے چند صفحات کو ہم ”گوشہ رکن الدین اصدق“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، ان صفحات میں حضرت سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ علامہ عبدالحفیظ عزیزی دام ظلہ کا تعزیتی پیغام، مصلح قوم و ملت حضرت علامہ عبدالمبین نعمانی کی تعزیتی تحریر اور چند ایک مضامین شامل اشاعت کر رہے ہیں۔ یہ تحریریں ادارہ اشرفیہ کی طرف سے حضرت کی بارگاہ میں خراج عقیدت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تحریروں اور ان کے قلم کاروں کی کاوشات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ [ماہنامہ اشرفیہ، مئی 2026ء، ص: 8 تا 9]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!