Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عید الاضحی اور مسلمانان ہند (قسط: اول)|طارق انوار مصباحی، عالمہ نازیہ فاطمہ

عید الاضحی اور مسلمانان ہند (قسط: اول)
عنوان: عید الاضحی اور مسلمانان ہند (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: عالمہ نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ماہ مئی ۲۰۱۳ء میں مرکز میں بی جے پی حکومت قائم ہوتے ہی ملکی پیمانے پر قوم مسلم کے ساتھ جو حالات پیش آ رہے ہیں، کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔

جرائم کی ناتمام فہرست درج ذیل ہے:

  1. گھر واپسی یعنی مسلمانوں کو ہندو دھرم میں واپس لانا۔

  2. مسلم نوجوانوں پر لو جہاد کا الزام لگانا۔

  3. مسلمانوں کو غدار وطن قرار دینا۔

  4. بیف کے نام پر مسلمانوں کا قتل۔

  5. انکاؤنٹر کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ہلاک کرنا۔

  6. مسلم عورتوں کی عصمت دری۔

  7. طلاق ثلاثہ، تعدد ازدواج، حلالہ وغیرہ کا موضوع گرم کر کے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی کوشش۔

  8. مسلم نوجوانوں کا اغوا۔

  9. قوم مسلم کو خوف و دہشت میں مبتلا رکھنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنانا۔

  10. مسلمانوں سے بالجبر وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کہلوانا۔

  11. مسلمانوں سے جے شری رام کہلوانے کی کوشش۔

  12. مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی وغیرہ۔

ماہ ستمبر ۲۰۱۷ء کے ابتدائی عشرہ میں عید قرباں ہے۔ ہمارے خیال سے موجودہ حالات کے تناظر میں ان مقامات میں گائے کی قربانی سے گریز کیا جائے، جہاں حکومت کی جانب سے پابندی ہو، یا جہاں فرقہ وارانہ فساد کا اندیشہ ہو۔ بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد فرقہ پرست قوتوں نے بہت سے ہندؤں کو جنونی بنا دیا ہے، حالانکہ گائے کے تعلق سے خود اہل ہنود بھی دو حصّوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

کچھ لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور کچھ لوگ پرہیز کرتے ہیں۔ بی جے پی کے بعض لیڈر بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور بی جے پی کی حکومت والی بعض ریاستوں مثلاً گوا میں بیف پر پابندی نہیں۔ ملک کے سب سے بڑے کورٹ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے دو سال قبل گائے کے ماتا ہونے کا بھی انکار کیا اور گائے کا گوشت کھانے کا بھی اعتراف کیا، تفصیل درج ذیل ہے۔

چیف جسٹس آف سپریم کورٹ (انڈیا) کا بیان

سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو (Markandey Katju) نے نئی دہلی میں ۲۳ مئی ۲۰۱۵ء کو کہا:

“I am a Hindu, and I have eaten beef, and will again eat it. There is nothing wrong in beef eating. 90% of the world eats beef. Are they all sinners? And I refuse to believe that cow is sacred or our mother. How can an animal be a mother of a human being? That is why I say 90% Indians are idiots.”

ترجمہ: میں ایک ہندو ہوں اور میں نے گائے کا گوشت کھایا ہے اور آئندہ بھی اسے کھاؤں گا۔ گائے کا گوشت کھانا کچھ غلط نہیں ہے۔ دنیا کے نوے فیصد لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں، کیا وہ تمام گنہگار ہیں؟ اور میں اس عقیدہ کا انکار کرتا ہوں کہ گائے مقدس یا ہماری ماں ہے، وہ ایک حیوان ہے تو انسان کی ماں کیسے ہو سکتی ہے؟ اس لیے میں کہتا ہوں کہ نوے فیصد انڈین بے وقوف ہیں۔ [Coastal digest.com 23 May 2015]

پروفیسر ڈی این جھا (Dwijendra Narayan Jha) سابق پروفیسر دہلی یونیورسٹی (دہلی) نے اپنی مشہور کتاب دی متھ آف دی ہولی کاؤ (The Myth of the Holy Cow) میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ پرانے زمانے میں ہندو لوگ بھی گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد تشدد پرست ہندؤں نے خوب ہنگامہ آرائی بھی کی لیکن سچ وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ افادۂ عامہ کے لیے پروفیسر ڈی این جھا کی مذکورہ کتاب کے ابواب (Chapters) کے عناوین ذیل میں تحریر کر دیے جاتے ہیں، اس سے کتاب کا ایک اجمالی نقشہ واضح ہو جائے گا۔

  1. Animals are verily food, but Yajnavalkya favours Beef

  2. The rejection of animal sacrifice / An assertion of the sacredness of the cow

  3. The later Dharmasastric tradition and beyond

  4. The cow in the Kali Age and memories of Beef Consumption

  5. A paradoxial sin and the paradox of the cow

  6. Resume; The elusive “Holy Cow”

تراجم ابواب

  1. حیوانات یقیناً غذا ہیں، لیکن سادھو یجناوالکیا کی پسند بیف ہے۔

  2. حیوان کی قربانی کو مسترد کرنا (گائے کے تقدس کا دعویٰ)۔

  3. مابعد و ماقبل کی دھرم شاستری روایات۔

  4. کلجگ (Kali Yuga) میں گائے اور بیف کے کھپت کی یادیں۔

  5. ایک خلاف عقل گناہ اور گائے کی اصل حقیقت۔

  6. گائے کے تقدس کے دھوکے کا آغاز۔

کتاب کے اخیر میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر (۱۸۹۱ء - ۱۹۵۶ء) کا درج ذیل رسالہ شامل کیا گیا ہے۔

Untouchability, The dead cow and the Brahmin (چھوت چھات، مردہ گائے اور برہمن)

افادۂ عامہ کے لیے کتاب مذکور کے چند اقتباسات محررہ ذیل ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ جلد ہی تفاصیل بھی سپرد قرطاس ہوں گی۔

1- Although flesh eating was forbidden for a Vedic teacher during the months between Upakarma and Utsarjana, according to a Dharmasutra text the flesh of cows and bulls was pure and may be eaten. Not surprisingly, beef was the favourite food of the much-respected sage of Mithila, Yajnavalkya, who made the obdurate statement that he would continue to eat the flesh of cows and oxen so long as it was tender. [The Myth of the Holy Cow, page 36]

ترجمہ: گرچہ وید کے گرو کو آپکرما اور اتسرجنا مہینوں کے درمیان گوشت کھانا حرام تھا، لیکن ایک مذہبی قانونی کتاب کے مطابق گائے اور بیل کا گوشت حلال تھا، اور کھایا جا سکتا تھا۔ تعجب کی بات نہیں کہ متھلا کے انتہائی قابل احترام سادھو یجناوالکیا، جس نے سخت بیان دیا کہ وہ مسلسل گائے اور بیل کا گوشت کھاتا رہے گا، جب تک کہ وہ نرم رہے۔

2- Laksmidhara in his Kriyakalpataru(twelfth century) explains the crucial passage of Yajnavalkya as well as a statement of Vasistha that in ancient times it was the duty of the householder to kill the cow for a learned brahmana. [The Myth of the Holy Cow, page 117 Printed by: Navayana Publishing M-100, First Floor, Saket New Delhi 110017]

ترجمہ: لکشمی دھارا، اپنی کتاب “کریا کلپترو” میں وسستھا کے بیان کی طرح یجناوالکیا کی اہم عبارت کی عمدہ تشریح کرتا ہے کہ زمانہ ماضی میں فاضل برہمن کے لیے گائے کو مارنا (کاٹنا / ذبح کرنا) گھر کے مالک کی ذمہ داری تھی۔

مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہو گیا کہ برہمن بھی گائے کا گوشت کھاتا تھا، اسی لیے جب وہ کسی کے گھر مہمان ہوتا اس کے لیے گائے کاٹی جاتی تھی۔

Devala (دیوالا)، Atri (آتری)، Yajnavalkya (یجناوالکیا)، Vasistha (وسستھا)، Visnu (وشنو)، Manu (منو)، Parasara (پراسارا) وغیرہ ہندو مذہب کے قانون ساز (Lawgivers) تھے۔ [دی متھ آف دی ہولی کاؤ، ص: ۱۴۵]

مسلمانو! آج گائے کے نام پر کس قدر ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ گلی کوچوں سے لے کر ملکی پارلیامنٹ تک اس بحث کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مسلمان اور دلت انتہائی کمزور سمجھ لیے گئے ہیں، اس نظریہ کے زور پر مسلمانوں اور دلتوں پر پے درپے حملے ہو رہے ہیں۔ اب ملک بھر میں مسلم، دلت اتحاد کا ماحول بھی بنتا جارہا ہے، تاکہ متفقہ طور پر اپنی آواز سے حکومت کو آگاہ کیا جائے۔ قوم مسلم اقلیت کے وہم میں بھی مبتلا ہے، اس لیے بہت سے کاموں میں وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے، حالانکہ تمام معاملات کا دار و مدار اکثریت و اقلیت پر نہیں ہے۔ ملک میں ڈھائی فیصد برہمن آر ایس ایس (RSS) کے بینر تلے پورے ہندوستان کو اپنی مٹھی میں کیے ہوئے ہیں، حالانکہ حقیقت میں بلا تفریق مذہب و ملت ہندوستان کی تمام قومیں آوازیں بلند کر رہی ہیں۔

اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ برہمنوں کا ایک بڑا طبقہ حکومت کے تمام شعبہ جات میں موجود ہے، وہ حکومتی مشینری پر قابض ہیں۔ عالمی سطح پر غور کریں تو یہودی جو دنیا بھر میں قلیل التعداد ہیں، وہ یوروپی حکومتوں مثلاً امریکہ، برطانیہ، وغیرہ پر قابض ہیں، کیونکہ اکثر اعلیٰ حکومتی عہدوں پر یہودی براجمان ہیں۔ برہمن اور بنی اسرائیل دونوں سازشی ذہن رکھتے ہیں، ظلم و جبر بھی ان کی فطرتوں میں شامل ہے، ساتھ ہی علم و دولت ان کے پاس ہے۔

جمہوری حکومت میں جب تک کہ کوئی قوم کلیدی عہدوں پر قبضہ نہیں جماتی، اس کی پسماندگی اور مظلومیت کا ختم ہونا ایک بے تعبیر خواب ہے۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے اعلی تعلیم یافتگان کو حرکت کرنی ہوگی۔ سلفی جماعت، اسلامی جماعت اور تبلیغی جماعت نے اس جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ ارباب تسنن کی جانب سے بھی خبر آ رہی ہے کہ جمشید پور میں رضا فورس کے نام سے ایک تحریک نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اللہ تعالی اس تنظیم کو وسیع خدمات کی قوت عطا فرمائے، آمین۔

ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ ہندوستان کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہر قدم پر ناانصافی کی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم نے انصاف پانے کی کتنی کوششیں کی ہیں؟ جمہوری ملک میں تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق ہوتے ہیں، لیکن جدوجہد اور تگ و دو کر کے یہ حقوق حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا حق ڈاکخانہ میں ہوتا تو پوسٹ مین گھر تک پہنچا دیتا، لیکن آپ کا حق جمہوری نظام (Democratic System) میں ہے۔ ان حقوق کی حصولیابی کے لیے ہمیں پارلیامنٹ و اسمبلی، عدلیہ و انتظامیہ اور دیگر محکمہ جات کے چکر لگانے ہوں گے۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ قوم مسلم ان تمام شعبہ جات میں اصیل یا دخیل ہو، تاکہ بطریق احسن آپ کے حقوق و مراعات کا لحاظ کیا جاسکے۔ جمہوریت میں رواج ہے: “جو جاگا، وہ پایا۔ جو سویا، وہ کھویا۔”

رب تعالٰی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے توفیق و احسان کی امید پر ہم نے یہ پلان بنایا ہے کہ قوم کے لیے افادہ بخش اور کارآمد دستاویزات کو میگزین کے صفحات میں محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے۔ ارباب علم و دانش اس پروگرام میں شریک ہو کر ہمارا قلمی و علمی تعاون فرمائیں۔ ماہنامہ “پیغام شریعت” میں غیر مذہبی مضامین (Unreligious Articles) سے سیاسی و سماجی، طبی و تاریخی، تعلیمی و معاشی اعتبار سے کارآمد اور مفید مضامین مراد ہیں، جو حالات حاضرہ کے موافق ہوں۔ [ماہنامہ پیغام شریعت: ماہ مئی ۲۰۱۷ء، ص: ۵۴]

موجودہ ایام میں مسلمانان ہند جن مشکل مسائل سے نبرد آزما ہیں، ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے، اسی طرح جن امور پر قومی رہنمائی کی ضرورت محسوس ہو، ان پر قلم کاری کی جائے۔ عہد حاضر میں کسی میگزین کو دیکھ کر قارئین کا عام تاثر ہوتا ہے: “بس وہی ہے جو پچاس برسوں سے لکھا جا رہا ہے۔” قلم کاروں کو چاہیے کہ وہ محنت و جانفشانی کریں، اور نئے میدانوں کی تلاش کریں۔ مستفیدین کی پسند کا لحاظ رکھیں اور حالات حاضرہ کی رعایت۔

وَاللَّهُ الْهَادِي إِلَى الصِّرَاطِ الْقَوِيمِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى حَبِيبِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ. [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی: ستمبر ۲۰۱۷ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!