| عنوان: | انوار الانتباہ فی حل ندائے یا رسول اللہ - ایک مطالعہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد گلزار احمد خان، جامعۃ الرضا، بریلی شریف |
| پیش کش: | قدسی شمیم قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
انوار الانتباہ فی حل ندائے یا رسول اللہ: ایک مطالعہ
تقریباً ۲۳ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے بحر علم و حکمت کا ایک در بے بہا ہے جس میں ندائے یا رسول اللہ! یا نبی اللہ! یا غوث! یا شیخ عبد القادر جیلانی! وغیرہ کہنے کی حقانیت پر احادیث نبویہ، اقوال فقہاء و محدثین، عمل صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور عبارات مشائخ سے استدلال کرتے ہوئے امام اہل سنت نے دلائل کا انبار لگا دیا۔ وہابیہ دیابنہ اور وہ تمام فرق ضالہ جو ندائے یا رسول اللہ وغیرہ کو شرک و بدعت گردانتے ہیں، ان کے رد میں اتنے واضح دلائل پیش فرمائے جن کا انکار نہ کرے گا مگر عقل کا اندھا، ایمان سے کورا اور ہٹ دھرم۔ اب ہم مزید وضاحت کے لیے سائل کا سوال من و عن نقل کر رہے ہیں:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید موحد مسلمان جو خدا کو خدا اور رسول کو رسول جانتا ہے۔ نماز کے بعد اور دیگر اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکلمہ “یا” ندا کرتا اور “الصلوۃ والسلام علیک يارسول الله! أسئلک الشفاعۃ یا رسول الله!” کہا کرتا ہے، یہ کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ اسے اس کلمہ کی وجہ سے کافر و مشرک کہیں ان کا کیا حکم ہے؟ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
اس سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
الجواب:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَى وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى حَبِيبِهِ الْمُصْطَفَى وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أُولِي الصِّدْقِ وَالصَّفَا
کلمات مذکورہ بے شک جائز ہیں جن کے جواز میں کلام نہ کرے گا مگر سفیہ جاہل یا ضال مضل، جسے اس مسئلہ کے متعلق قدرے تفصیل دیکھنی ہو شفاء السقام امام علام بقیۃ المجتہدین الکرام تقی الملۃ والدین ابو الحسن علی سبکی، و مواہب لدنیہ امام احمد قسطلانی شارح صحیح بخاری، و “شرح مواہب” علامہ زرقانی، و “مطالع المسرات” علامہ فاسی، و “مرقاۃ شرح مشکوۃ” علامہ علی قاری، و “لمعات واشعۃ اللمعات شروح مشکوۃ”، و “جذب القلوب الی دیار المحبوب”، و “مدارج النبوۃ” تصانیف شیخ عبد الحق محدث دہلوی، و “افضل القریٰ شرح ام القریٰ” امام ابن حجر مکی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ اللہ العلام کی طرف رجوع لائے یا فقیر کا رسالہ “الانہار بفیض الاولیاء بعد الوصال” مطالعہ کرے۔
یہاں فقیر بقدر ضرورت چند کلمات اجمالی لکھتا ہے، حدیث صحیح مذیل بطراز گرانمائے تصحیح جسے امام نسائی، و امام ترمذی، و ابن ماجہ، و حاکم، و بیہقی، و امام الائمہ ابن خزیمہ، و امام ابو القاسم طبرانی نے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے حسن غریب صحیح، اور طبرانی و بیہقی نے صحیح، اور حاکم نے بر شرط بخاری و مسلم، جس میں حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا کو دُعا تعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں کہے:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِي، اَللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ. [جامع ترمذی، ابواب الدعوات، باب فی انتظار الفرج وغیر ذلک: 197/2] [سنن ابن ماجہ، باب ما جاء فی صلوۃ الحاجۃ: ص 100]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جو مہربانی کے نبی ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں کہ میری حاجت روا ہو۔ الہی ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
امام طبرانی کی “معجم” میں یوں ہے:
أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ، وَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ: اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَيَقْضِي حَاجَتِي، وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ، وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ، فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطُّنْفُسَةِ وَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ فَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا ذَكَرْتُ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ، وَقَالَ: مَا كَانَ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَأْتِنَا. ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِيَّ. فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ، وَلَكِنْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ. فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضُرٌّ قَطُّ. [الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی، الترغیب فی صلوۃ الحاجۃ حدیث: 1 / 274 / 1 تا 276]
یعنی ایک حاجتمند اپنی حاجت کے لیے امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آتا جاتا، امیر المؤمنین نہ اس کی طرف التفات فرماتے نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے اس امر کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا وضو کر کے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ پھر دعا مانگ “الہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے توجہ کرتا ہوں، یا رسول اللہ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ میری حاجت روا فرمائے” اور اپنی حاجت ذکر کر، پھر شام کو میرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں۔ حاجتمند نے (کہ وہ بھی صحابی یا اقل کبار تابعین میں سے تھے) یوں ہی کیا، پھر آستانہ خلافت پر حاضر ہوئے، دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا، امیر المومنین نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا، مطلب پوچھا، عرض کیا، فوراً روا فرمایا، اور ارشاد فرمایا اتنے دنوں میں اس وقت اپنا مطلب بیان کیا، پھر فرمایا: جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ہمارے پاس چلے آیا کرو۔ یہ صاحب وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف سے ملے اور کہا اللہ تعالی تمہیں جزائے خیر دے امیر المومنین میری حاجت پر نظر اور میری طرف توجہ نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی، عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے تو تمہارے معاملے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہوا یہ کہ میں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضور نے یونہی اس سے ارشاد فرمایا کہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے پھر یہ دعا کرے۔ خدا کی قسم ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا گویا کبھی وہ اندھا نہ تھا۔
امام شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری کے فتاوی میں ہے:
سُئِلَ عَمَّا يَقَعُ مِنَ الْعَامَّةِ مِنْ قَوْلِهِمْ عِنْدَ الشَّدَائِدِ يَا شَيْخُ فُلَانٌ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِنَ الِاسْتِغَاثَةِ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَالصَّالِحِينَ، وَهَلْ لِلْمَشَايِخِ إِغَاثَةٌ بَعْدَ مَوْتِهِمْ أَمْ لَا؟ فَأَجَابَ بِمَا نَصُّهُ: أَنَّ الِاسْتِغَاثَةَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالْعُلَمَاءِ الصَّالِحِينَ جَائِزَةٌ، وَلِلْأَنْبِيَاءِ وَلِلرُّسُلِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ إِغَاثَةٌ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَخْ. [فتاوی الرملي، فروع الفقه الشافعي: 733]
یعنی ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین و اولیاء و صالحین سے فریاد کرتے اور یا شیخ فلاں (یا رسول اللہ، یا علی، یا شیخ عبد القادر جیلانی) اور ان کی مثل کلمات کہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بے شک انبیاء و مرسلین و اولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں۔ الخ۔
علامہ خیر الدین رملی استاذ صاحب در مختار فتاوی خیریہ میں فرماتے ہیں:
قَوْلُهُمْ يَا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرِ فَهُوَ نِدَاءٌ فَمَا الْمُوجِبُ لِحُرْمَتِهِ؟ [فتاوی خیریہ، کتاب الکراہیۃ والاستحسان: 2 / 182]
لوگوں کا کہنا کہ: یا شیخ عبدالقادر یہ ایک ندا ہے پھر اُس کی حرمت کا سبب کیا ہے؟
سیدی جمال بن عبداللہ بن عمر مکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
سُئِلْتُ مِمَّنْ يَقُولُ فِي حَالِ الشَّدَائِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ يَا عَلِيُّ، أَوْ يَا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرِ مَثَلًا، هَلْ هُوَ جَائِزٌ شَرْعًا أَمْ لَا؟ أَجَبْتُ: نَعَمْ، الِاسْتِغَاثَةُ بِالْأَوْلِيَاءِ وَنِدَاؤُهُمْ وَالتَّوَسُّلُ بِهِمْ أَمْرٌ مَشْرُوعٌ وَشَيْءٌ مَرْغُوبٌ، لَا يُنْكِرُهُ إِلَّا مُكَابِرٌ أَوْ مُعَانِدٌ، وَقَدْ حُرِمَ بَرَكَةَ الْأَوْلِيَاءِ الْكِرَامِ إِلَخْ. [فتاوی جمال بن عبداللہ بن عمر مکی]
یعنی مجھ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جو مصیبت کے وقت میں کہتا ہو یا رسول اللہ، یا علی، یا شیخ عبد القادر، مثلاً آیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ میں نے جواب دیا: ہاں اولیاء سے مدد مانگنی اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا شرع میں جائز اور پسندیدہ چیز ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا صاحب عناد، اور بے شک وہ اولیاء کرام کی برکت سے محروم ہے۔
امام اہلسنت علیہ الرحمہ دلائل کثیرہ پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نداء کرنے کے عمدہ دلائل سے التحیات ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دورکعت پر پڑھتا ہے اور اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے عرض کرتا ہے “السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ” سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ اگر ندا معاذ اللہ شرک ہے، تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اور یہ جاہلانہ خیال محض باطل کہ التحیات زمانہ اقدس سے ویسے ہی چلی آتی ہے تو مقصود ان لفظوں کی ادا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نداء، حاشا وکلا شریعت مطہرہ نے نماز میں کوئی ایسا ذکر نہیں رکھا ہے جس میں صرف زبان سے لفظ نکالے جائیں اور معنی مراد نہ ہوں، نہیں نہیں بلکہ قطعاً یہی درکار ہے۔ “التحيات للہ والصلوات والطیبات” سے حمد الہی کا قصد رکھے اور “السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ” سے یہ ارادہ کرے کہ اس وقت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا اور حضور پر نور سے بالقصد عرض کر رہا ہوں کہ سلام حضور پر، اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ فتاوی عالمگیری میں شرح قدوری سے ہے:
لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَقْصِدَ بِأَلْفَاظِ التَّشَهُّدِ مَعَانِيَهَا الَّتِي وُضِعَتْ لَهَا مِنْ عِنْدِهِ، كَأَنَّهُ يُحَيِّي اللَّهَ تَعَالَى وَيُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى أَوْلِيَاءِ اللَّهِ تَعَالَى. [الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الثاني: 72/1]
تشہد کے الفاظ سے ان معانی کا قصد کرنا ضروری ہے جن کے لیے ان الفاظ کو وضع کیا گیا ہے اور جو نمازی کی طرف سے مقصود ہوں۔ گویا نمازی اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ عبادت پیش کر رہا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور خود اپنی ذات پر اور اولیاء اللہ پر سلام بھیج رہا ہے۔
تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے:
وَيَقْصِدُ بِأَلْفَاظِ التَّشَهُّدِ مَعَانِيَهَا مُرَادَةً لَهُ عَلَى وَجْهِ الْإِنْشَاءِ، كَأَنَّهُ يُحَيِّي اللَّهَ تَعَالَى وَيُسَلِّمُ عَلَى نَبِيِّهِ وَعَلَى نَفْسِهِ وَأَوْلِيَائِهِ، لَا الْإِخْبَارِ عَنْ ذَلِكَ. ذَكَرَهُ فِي الْمُجْتَبَى. [الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة: 77]
الفاظ تشہد سے اُن کے معانی مقصودہ کا بطور انشاء قصد کرے، گویا کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اظہار بندگی کر رہا ہے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خود اپنی ذات اور اولیاء اللہ پر سلام بھیج رہا ہے، ان الفاظ سے حکایت و خبر کا قصد نہ کرے اس کو مجتبی میں ذکر کیا ہے۔
علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں فرماتے ہیں:
يَقْصِدُ مَعَانِيَهُ، مُرَادَةً لَهُ، عَلَى أَنَّهُ يُنْشِئُهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا مِنْهُ. [مراقی الفلاح علی ہامش حاشیۃ الطحطاوی، کتاب الصلوۃ: ص 155]
قصد کرے معانی مقصودہ کا بایں طور کہ نمازی اپنی طرف سے تحیت اور سلام پیش کر رہا ہے۔
اسی طرح بہت علماء نے تصریح فرمائی۔ اس پر بعض سفہائے منکرین یہ عذر گڑھتے ہیں کہ صلوۃ و سلام پہنچانے پر ملائکہ مقرر ہیں تو ان میں نداء جائز اور ان کے ماوراء میں نا جائز، حالانکہ یہ سخت جہالت بے مزہ ہے قطع نظر بہت اعتراضوں سے جو اس پر وارد ہوتے ہیں ان ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ صرف درود و سلام ہی نہیں بلکہ امت کے تمام اقوال وافعال و اعمال روزانہ دو وقت سرکار عرش وقار حضور سید الابرار صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیے جاتے ہیں۔ احادیث کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطلقاً اعمال حسنہ و سیئہ سب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں، اور یونہی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور والدین و اعزاء و اقارب سب پر عرض اعمال ہوتی ہے۔ فقیر نے اپنے رسالہ “سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری” میں وہ سب حدیثیں جمع کیں، یہاں اسی قدر بس ہے کہ امام اجل عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہما سے راوی:
لَيْسَ مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَتُعْرَضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَالُ أُمَّتِهِ غُدْوَةً وَعَشِيًّا، فَيَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ وَأَعْمَالِهِمْ. [المواهب اللدنية بحواله ابن المبارک عن سعید بن مسیب، المقصد الرابع، الفصل الثانی: 697/2]
یعنی کوئی دن ایسا نہیں جس میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعمال اُمت ہر صبح و شام پیش نہ کیے جاتے ہوں، تو حضور کا اپنے امتیوں کو پہچاننا ان کی علامت اور ان کے اعمال دونوں وجہ سے ہے۔
امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے اس رسالے میں حضرت عثمان ابن حنیف، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، امام نووی، علامہ شہاب الدین خفاجی، عبد الرحمن بذلی، شہاب رملی، خیر الدین رملی، ابن جوزی، نور الدین علی شمس الدین حنفی، علامہ جامی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رضی اللہ عنہم اجمعین کے الفاظ وافعال نقل کرنے کے بعد فرمایا:
غرض یہ کہ صحابہ کرام سے اس وقت تک کے اس قدر ائمہ، اولیاء، وعلماء ہیں جن کے اقوال فقیر نے ایک ساعت قلیلہ میں جمع کیا۔ اب مشرک کہنے والوں سے صاف صاف پوچھنا چاہیے کہ عثمان بن حنیف، وعبداللہ بن عباس، و عبد اللہ بن عمر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر شاہ ولی اللہ و شاہ عبد العزیز صاحب اور ان کے اساتذہ و مشائخ تک سب کو کافر و مشرک کہتے ہو یا نہیں؟ اگر انکار کریں تو الحمد للہ ہدایت پائی اور حق واضح ہو گیا اور بے دھڑک ان سب پر کفر و شرک کا فتوی جاری کریں تو ان سے اتنا کہئے کہ اللہ تمہیں ہدایت کرے۔
ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو کسے کہا اور کیا کچھ کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور جان لیجئے کہ جس مذہب کی بنا پر صحابہ سے لے کر اب تک کے اکابر سب معاذ اللہ مشرک و کافر ٹھہریں، وہ مذہب خدا اور رسول کا کس قدر دشمن ہوگا۔ صحیح حدیثوں میں آیا کہ جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہے۔ [صحیح البخاری، کتاب الادب، باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل: 2 /901]
اور بہت ائمہ دین نے مطلقاً اس پر فتوی دیا جس کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ “النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید” میں ذکر کی۔ ہم اگرچہ بحکم احتیاط تکفیر نہ کریں تاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ ایک گروہ ائمہ کے نزدیک یہ حضرات کہ یا رسول اللہ و یا علی و یا حسین و یا غوث الثقلین کہنے والے مسلمانوں کو کافر و مشرک کہتے ہیں خود کافر ہیں تو ان پر لازم ہے کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں۔ در مختار میں ہے:
مَا فِيهِ خِلَافٌ يُؤْمَرُ بِالِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ. [الدر المختار، کتاب الجہاد، باب المرتد: 1 / 359]
اور جس چیز کے کفر میں اختلاف ہو اس کے مرتکب کو استغفار و توبہ اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔
خلاصہ کلام یہ کہ عالم اسلام بالخصوص برصغیر میں اسلاف بیزاری اور نجدی عقائد ونظریات کے جو ناسور پل رہے تھے امام اہلسنت کے قلم نے ایک تیز نشتر کی طرح سب کو چاک کر دیا اور وہابیہ دیابنہ کے ظاہری و باطنی تضادات اور تعلیمات صحابہ سے انحراف کو آشکارا کر دیا۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد و کلام، منطق و فلسفہ وغیرہ غرض دینیات سے متعلق اکثر موضوعات پر ایسی بے حجابانہ تحقیق پیش فرمائی کہ ہر تحریر سے علوم و معارف کا چشمہ پھوٹتا معلوم ہوتا ہے۔
رسالہ ہذا اپنے موضوع پر ایک بہترین رسالہ ہے جو عوام خواص کو دعوت مطالعہ دے رہا ہے، اس میں معترضین و مفترین کو اپنی حقیقت کا عکس صاف صاف دکھائی دے گا۔ جس نے بھی تعصب کی عینک اتار کر آپ کو پڑھا بے ساختہ کہہ اٹھا:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفاں اے شہ احمد رضا تم ہو
حرم والوں نے مانا تم کو اپنا قبلہ و کعبہ
جو قبلہ اہل قبلہ کا ہے وہ قبلہ نما تم ہو
[ماہنامہ جامعۃ الرضا، جمادی الاولی 1443]

