| عنوان: | فرقہ بجنوریہ (فرقہ سراویہ) (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | اقراء شیخ |
۷۔ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ
اشخاص اربعہ کی تکفیر پر جتنے سوالات ممکن تھے، ان تمام سوالوں اور تاویلوں کے جوابات علمائے اہل سنت اپنی کتابوں میں دے چکے ہیں۔ اشخاص اربعہ کو (باستثنائے تھانوی) امام اہل سنت علیہ الرحمہ والرضوان سے قبل بھی علمائے اہل سنت کافر و مرتد قرار دے چکے تھے، پھر امام احمد رضا خاں قادری (۱۲۷۲ھ ۱۳۴۰ھ) نے ۱۳۲۰ھ مطابق ۱۹۰۲ء میں “المعتمد المستند” میں افراد خمسہ (قادیانی، نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی و تھانوی) کی تکفیر کلامی کی۔ “المعتمد المستند” ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۹۰۳ء میں مطبع تحفہ حنفیہ پٹنہ سے شائع ہوئی تھی۔
اس کے بعد ١٣٢٣ھ، ١٣٢٤ھ مطابق ١٩٠٦ء میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے استفتا پر علمائے حرمین طیبین نے بھی اشخاص خمسہ (بشمول قادیانی) پر حکم کفر جاری فرمایا۔ علمائے حرمین طیبین کے فتاویٰ “حسام الحرمین” میں موجود ہیں۔ ایک مدت بعد شیر بیشہ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خان (۱۹۰۱ء - ۱۹٦۰ء) کے مشورہ پر سال ١٣٤٤ھ - ۱۳٤۵ھ میں برصغیر (غیر منقسم انڈیا) کے (۲٦۸) دو سو اڑسٹھ اکابر علمائے کرام نے علمائے حرمین طیبین کے فتویٰ کی تصدیق فرمائی۔ تمام تصدیقات “الصوارم الہندیہ” میں موجود ہیں۔
۸۔ بے ادبوں کی تائید سے خذلان کا خطرہ
حضور اقدس سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی پر جان بوجھ کر ضد و اصرار اور جان بوجھ کر بے ادبوں کی تائید و حمایت کے سبب اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق سلب فرما کر خذلان میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ عہد رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا سے تا امروز اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ ہر انسان کو ان دونوں غلط کاموں سے دور بھاگنا چاہیے۔
منافقین کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے:
فِي قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا [سورۃ البقرۃ: 10]
(ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی) (کنز الایمان) پس کسی امر شنیع پر ضد اور اصرار نہ کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بیماری بڑھ کر مرض لاعلاج بن جائے۔ جو شخص بے ادبوں کی ناحق تائید و طرف داری کرتا ہو، اس سے دور بھاگیں، ورنہ وہ دیر یا سویر آپ کو بھی اس مرض متعدی میں مبتلا کر دے گا۔
ہر گناہ، بلکہ کفر و شرک سے بھی توبہ ہوتی ہے، لیکن بندہ توبہ اسی وقت کرتا ہے، جب توفیق الہی مددگار ہو۔ اگر کسی کو کسی قسم کا شبہ ہو تو علمائے اہل سنت و جماعت کے پاس جائیں، تاکہ تشفی بخش جواب پائیں۔ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے انکار پر جو تاویلات پیش کی جاتی ہیں، ان تمام کے جوابات علمائے اہل سنت نے اپنی کتابوں میں رقم فرما دیا ہے۔ اسی طرح دیابنہ سے مناظرہ کے وقت بھی تکفیر اشخاص اربعہ سے متعلق مختلف قسم کے سوالوں اور تاویلوں کے جوابات دیئے جاچکے ہیں۔ وہ تمام باطل تاویلات ہیں اور عند الشرع نا قابل قبول ہیں۔
منافقین مدینہ ایک طویل مدت تک مسلمانوں کے ساتھ رہے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو ان کی منافقت کا علم تھا لیکن اب تک ان کے بارے میں نہ آیت قرآنی نازل ہوئی تھی، نہ ہی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کوئی حکم صادر ہوا تھا، لہذا صحابہ کرام خاموش تھے، پھر وہ وقت بھی آیا کہ رب تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں واضح حکم نازل فرما دیا اور حضور اقدس حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر منافقین کو مسجد نبوی سے نکال دیا۔ اسی طرح مذبذبین کا یہ ٹولہ بھی یا تو راہ حق کی طرف آئے گا، یا پھر اپنے انجام کو پہنچے گا۔ واپسی کی امید نظر نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو راہ حق پر استقامت عطا فرمائے: آمین بجاہ النبی الامین صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
خاتم الفلاسفہ مجاہد آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی چشتی (۱۷۹۷ء ۱۸٦۱ء) نے اسماعیل دہلوی (۱۷۷۹ء-۱۸۳۱ء) پر کفر فقہی کا فتویٰ دیا تھا۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز بھی اس کفر فقہی کو اپنی تصانیف میں تسلیم کرتے ہیں۔ صرف دہلوی کو اصول متکلمین کے اعتبار سے کافر نہیں کہتے ہیں، پس دونوں ائمہ اہل سنت دہلوی کے کفر فقہی پر متفق ہیں اور جب علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے دہلوی پر کفر کلامی کا فتویٰ ہی نہیں دیا تو دہلوی کی تکفیر کلامی سے امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کا پرہیز علامہ خیر آبادی سے اختلاف کیسے ہو گیا؟
لوگوں نے خود سے یہ گڑھ لیا کہ علامہ خیر آبادی نے دہلوی کی تکفیر کلامی کی تھی اور پھر یہ ثابت کرنے لگے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان نے فلاں سبب کی بنیاد پر دہلوی کی تکفیر کلامی سے احتیاط کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اصول کے مطابق دہلوی کی تکفیر کلامی ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارے درج ذیل رسائل میں اس موضوع پر تفصیلی مباحث مرقوم ہیں۔
۹۔ اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی پر ہمارے رسائل
-
تکفیر دہلوی اور علمائے اہل سنت و جماعت
-
سکوت دہلوی کا خیالی دعویٰ
-
تکفیر فقہی میں من شک کا استعمال
-
اسماعیل دہلوی اور اکابر دیوبند
-
معروضات و تاثرات (حصہ چہارم دیگر حصص)
-
عبارات شارح بخاری
-
حوالہ دکھاؤ! ایک لاکھ انعام پاؤ!
-
الموت الاحمر اور الزامی جوابات
-
ضروریات دین اور عہد حاضر کے منکرین (دفتر دوم و سوم)
-
دیوبند و سراواں اور عناصر اربعہ
-
کافر کلامی اور کافر فقہی
-
کفر لزومی اور فقہا و متکلمین (باب یازدہم)
-
توبہ کی شہرت کاذبہ
-
تکفیر دہلوی اور الزامی جوابات
صحیح تکفیر کلامی سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔ ہمارے درج ذیل رسائل میں تفصیل ہے:
-
مسئلہ تکفیر اور تحقیق و تصدیق
-
تاویلات اقوال کلامیہ
-
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
-
اسماعیل دہلوی اور اکابر دیوبند
-
معروضات و تاثرات (حصہ اول، دوم، سوم)
فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کو رد کرنے کے واسطے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں، یا ان لوگوں کی تکفیر کلامی سے کف لسان پر جو دلیلیں پیش کی جاتی ہیں، ان تمام دلائل کا تعلق کفر فقہی سے ہے، جب کہ اشخاص اربعہ کا کفر، کفر فقہی نہیں، بلکہ کفر کلامی ہے۔
۱۰۔ سال ۱۳۰۷ھ میں گنگوہی و انبیٹھوی کی تکفیر
مناظر اہل سنت حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری (م۱۳۱۵ھ-۱۸۹۷ء) نے “تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل” میں گنگوہی اور انبیٹھوی پر حکم شرعی نافذ کیا تو سال ۱۳۰۷ھ میں حرمین طیبین جاتے وقت علمائے حرمین طیبین سے تصدیق کے لیے “تقدیس الوکیل” کا عربی ترجمہ فرما کر ساتھ لیتے گئے۔ گیارہ ماہ تک حرمین طیبین میں رہ کر علمائے حرمین طیبین کی تصدیقات حاصل فرمائیں۔ ایک ہفتہ کم ایک سال بعد وطن واپسی ہوئی۔ [تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل، ص: 480، رضا اکیڈمی ممبئی]
علمائے حرمین طیبین نے تقدیس الوکیل کی تصدیق میں گنگوہی و انبیٹھوی کی تکفیر کی۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے “المعتمد المستند” کے جس حصے میں قادیانی اور فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کی تکفیر کی تھی۔ اس حصے کو سال ۱۳۲۳ھ میں حج و زیارت حرمین طیبین جاتے وقت بصورت استفتا ساتھ لے گئے، تاکہ علمائے حرمین طیبین سے اس حکم شرعی کی تصدیق حاصل کر لی جائے۔ مکہ معظمہ و مدینہ منورہ میں سلطنت عثمانیہ ترکیہ کی جانب سے چاروں مذاہب کے اجلہ مفتیان کرام اور قضات عظام مقرر کیے جاتے تھے، کیوں کہ حرمین طیبین عالم اسلام کے مرکزی مقدس مقامات ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان، خواص و عوام، علما و امرا و جملہ طبقات ان دونوں مقدس شہروں میں حج و زیارت کے واسطے حاضر ہوتے ہیں۔
حرمین طیبین کے علمائے مذاہب اربعہ ساری دنیائے اسلام میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ علمائے حرمین طیبین نے “المعتمد المستند” کے اس حصے کو ملاحظہ فرمایا اور اس حکم شرعی یعنی افراد خمسہ (غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد انبیٹھوی و اشرف علی تھانوی) کی تکفیر کلامی کو قوانین اسلام اور اصول دین کے مطابق صحیح و موافق پا کر اس پر اپنی تصدیقات رقم فرمائیں۔ خلیل احمد انبیٹھوی (۱۸۵۲ء ۱۹۲۷ء) بھی اس وقت مکہ معظمہ میں موجود تھا اور مدینہ منورہ میں حسین احمد ٹانڈوی (۱۸۷۹ء ۱۹۵۷ء) قیام پذیر تھا۔
علمائے حرمین شریفین کی تصدیقات کا مجموعہ “حسام الحرمین” کے نام سے مشہور ہے۔ امام اہل سنت حج کی ادائیگی کے بعد علمائے مکہ مشرفہ کی تصدیق حاصل کرنے کے لیے ۲٤ صفر المظفر ١٣٢٤ھ تک مکہ معظمہ میں قیام فرما رہے، پھر مدینہ طیبہ کے لیے روانگی ہوئی۔
چھ یا سات ربیع الاول کو دیار حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری سے سرفراز ہوئے۔ مدینہ منورہ میں علمائے کرام کی تصدیق و تائید حاصل کرنے کے لیے 31 اکتیس دنوں تک قیام پذیر رہے۔ ماہ ربیع الآخر کے عشرہ اولیٰ میں مدینہ طیبہ سے وطن کے لیے روانگی ہوئی۔ اس طرح اس فتویٰ پر علمائے حرمین طیبین کی تصدیقات حاصل کرنے میں قریباً چار ماہ کا وقت لگا۔ [الملفوظ، ج: 2، ملخصاً / حیات اعلیٰ حضرت، ج: 1، ملخصاً]
حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری قدس سرہ العزیز اور امام اہل سنت علیہ الرحمہ والرضوان جیسے عبقری فقیہ و متکلم اور عالم متقن نے اپنے فتویٰ پر علمائے کرام و فقہائے عظام سے رائے لینا بہتر سمجھا لیکن وہ لوگ جو ان نفوس قدسیہ کے عشر عشیر بھی نہیں، بلکہ ان اکابر اسلام کی تحریر کردہ عبارتوں کو سمجھنے کے لائق بھی نہیں، وہ کفر کلامی جیسے مشکل مسائل میں کلام کرنے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عزوجل ایسے مذبذبین و ضالین سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے: آمین۔ [عہد حاضر کے بد مذہب فرقے، ص: 89]
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ

