Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیر مسلم سے دوستی رکھنا کیسا؟|محمد شہید حسین عطاری

غیر مسلم سے دوستی رکھنا کیسا؟
عنوان: غیر مسلم سے دوستی رکھنا کیسا؟
تحریر: محمد شہید حسین عطاری

اللہ پاک نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ [سورۃ الممتحنة: 1]

اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

آیتِ مذکورہ میں خداوندِ متعال نے مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے اور ان کے ساتھ میل ملاپ رکھنے سے منع فرمایا اور بتایا کہ کفار کو جب بھی موقع ملے گا تو تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ وہ تمہارا کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتا۔

دوست کس کو بنائیں؟

حکمِ خداوندی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دوست کفار کو نہ بنائیں، تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم دوست کس کو بنائیں؟ تو یاد رکھیں بعض احادیثِ کریمہ و کتبِ سیر میں یہ بات مذکور و مکتوب ہے کہ دوست اس شخص کو بنائیں جو ہمیں آخرت کی فکر اور خداوندِ قدوس کے قریب کر دے، جن کا دیکھنا ہمیں فکرِ آخرت پیدا کرے، جن کی قربت ہمارے لیے دین و دنیا میں فائدہ ہو، اور جن کا دیدار ہمیں آخرت کی یاد دلائے اور خداوندِ متعال کے قریب کر دے، اور یہ تمام اوصاف صرف مسلمانوں میں ہی پائے جا سکتے ہیں، کفار کبھی بھی خدا کے قریب نہیں کر سکتے۔

چنانچہ ایک اور جگہ پر اللہ پاک مشرکوں کو دوست بنانے سے روکتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ [سورۃ الممتحنة: 13]

ترجمہ (کنز الایمان): اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے۔

ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [سورۃ الممتحنة: 13]

اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب کیا۔

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے ایمان والو! مشرکوں سے دوستی نہ کرو، بیشک وہ آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے اس کے ثواب سے ایسے ناامید ہو چکے ہیں جیسے وہ قبر والوں کے دنیا میں واپس آنے سے ناامید ہو چکے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے ایمان والو! یہودیوں سے دوستی نہ کرو، بیشک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق نبی جاننے کے باوجود انکار کرنے کی وجہ سے آخرت کے ثواب سے ایسے ہی ناامید ہو چکے ہیں جیسے کفار مرے ہوئے لوگوں کے دنیا میں واپس آنے سے مایوس ہو چکے ہیں۔ [تفسیر صراط الجنان، سورۃ الممتحنة، آیت: 13]

مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:

اور یہودیوں سے بھی دوستی کرنے سے منع کیا گیا کیوں کہ کفار اللہ پاک کے دشمن ہیں اور مسلمانوں کے بھی دشمن ہیں۔ اور اللہ پاک کی رضا چاہنا اور کفار سے دوستی کرنا دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے کہ دوستی اور دشمنی ایک دوسرے کی ضد ہے، یعنی جیسے رات اور دن ایک دوسرے کی ضد ہے، جب رات ہوگی تو دن نہیں، جب دن ہوگا تو رات نہیں، اس طرح جہاں دوستی ہوگی وہاں دشمنی نہیں ہوگی اور جہاں دشمنی ہوگی وہاں دوستی نہیں ہوگی۔ اور کافر کبھی بھی مسلمان کا دوست اور خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔ [تعلیماتِ قرآن، حصہ: 5، ص: 312]

خلاصۂ کلام: اللہ پاک نے مسلمانوں کو غیر مسلم سے دوستی رکھنے سے منع فرمایا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار اللہ پاک کے دشمن ہیں اور مسلمانوں کے بھی، اور اللہ پاک کی رضا چاہنا اور کفار سے دوستی کرنا دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہودیوں سے اللہ پاک نے دوستی کرنے سے منع فرمایا اور ایک تفسیر میں مشرکین کا ذکر ہے یعنی مشرکین سے دوستی کرنے سے بھی منع فرمایا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!