Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گوشت، پیٹ اور خارجہ پالیسی|محمد آصف اقبال

```html گوشت، پیٹ اور خارجہ پالیسی
عنوان: گوشت، پیٹ اور خارجہ پالیسی
تحریر: محمد آصف اقبال

```

بڑے بوڑھے کہا کرتے ہیں “مال پرایا ہے تو کیا ہوا پیٹ تو اپنا ہے” یوں ہی یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ “گوشت زیادہ ہے تو کیا ہوا پیٹ تو اپنا ہے” سچی بات ہے بڑی عید پر گوشت کی بہتات ہوتی ہے لہذا گوشت خوری میں ہاتھ ہلکا رکھنا چاہیے ورنہ “لینے” کے “دینے” پڑ سکتے ہیں۔ یقیناً گوشت دنیا و آخرت میں کھانوں کا سردار ہے مگر دنیا میں اس کے کھانے میں اعتدال و میانہ روی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ امام غزالی نے فرمایا: گوشت مسلسل نہیں کھانا چاہیے کیونکہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَنْ تَرَكَ اللَّحْمَ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا سَاءَ خُلُقُهُ، وَمَنْ دَاوَمَ عَلَيْهِ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا قَسَا قَلْبُهُ

یعنی جس نے 40 دن گوشت نہ کھایا اس کے اخلاق خراب ہو جائیں گے اور جس نے 40 دن مسلسل گوشت کھایا اس کا دل سخت ہو جائے گا۔ [فيض القدير، ج: 4، ص: 124]

گوشت خوری میں بے اعتدالی روحانی بربادی کے ساتھ ساتھ جسمانی تباہی بھی لا سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول، یورک ایسڈ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور ہاں جو لوگ اس معاملے میں اپنی داخلہ پالیسی پر کنٹرول نہیں رکھتے ان کی خارجہ پالیسی آؤٹ آف کنٹرول ہو جاتی ہے۔ زیادہ مت ہنسیے گوشت خوری کو قابو میں رکھنے کا سوچیے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!