| عنوان: | حضرت مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریزی (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر |
| پیش کش: | رابعہ خاتون بنت عمران احمد شیخ |
مولانا جلال الدین رومی سلطان العلما مولانا بہاؤ الدین کے گھر 604ھ بلخ میں پیدا ہوئے۔ سپہ سالار نے تاریخ ولادت نہیں دی ہے۔ صرف ”در شہور سنہ اربع و ستما تیہ“ [1] مگر افلاکی نے تاریخ ولادت 6 ربیع الاول 604ھ درج کی ہے۔ [2] اور اسی پر عام اتفاق ہے۔ مولانا روم اپنے والد کے ساتھ جب نیشاپور پہنچے اس وقت ان کی عمر 6 سال تھی۔ جہاں فرید الدین عطار کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شیخ نے اپنی کتاب ”مثنوی اسرار نامہ“ ان کو عطا کی اور مولانا کے والد سے فرمایا کہ اس جوہرِ قابل کی نگہداشت کریں۔ مولانا روم ”اسرار نامے“ کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے۔ یہ کسی دن تمام عالم میں ہل چل ڈال دے گا۔ [3] ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی بعد کی تربیت ان کے والد کے مرید خاص سید برہان الدین محقق نے کی۔ 18/19 برس کی عمر میں اپنے والد کے پاس قونیہ آگئے۔ والد کی وفات کے بعد 629ھ میں حلب اور دمشق کا سفر کیا۔ حلب میں کمال الدین بن عدیم حلبی اور بعض دوسرے افاضل سے علم حاصل کیے۔ مولانا رومی کی زندگی کا اہم اور غیر معمولی واقعہ شمس تبریز سے ان کی ملاقات کا ہے۔ اس واقعہ کے سلسلے میں بے شمار روایات ہیں لیکن یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ مولانا کے دل میں شمس تبریزی کی عقیدت عشق کی حد تک تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی غزلیات کا دیوان اپنے اس مرشد روحانی کے نام سے مرتب کیا ہے۔ مناقب العارفین کی رو سے یہ واقعہ 642ھ کا ہے۔ مولانا رومی اور حضرت شمس تبریز کے تعلقات کی تفصیل ان کے فرزند سلطان ولد کی ”مثنوی ولد نامہ“ اور مولانا کے صحبت یافتہ فریدون بن احمد کے رسالہ ”سپہ سالار“ اور افلاکی کی مناقب العارفین میں بیان کیے گئے واقعات صحت اور اعتبار کی گنجائش رکھتے ہیں۔ [4]
حضرت شمس تبریز سوداگروں کی وضع میں سیاحت کرتے تھے۔ سینے میں عشق الہی کی آگ شعلہ رخساں کی طرح انہیں بے چین اور مضطرب بنا چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے خدا مجھے کوئی اپنا ایسا بندہ عطا فرما جو میری آگ کا تحمل کر سکے اور یہ امانت میں اس کے سینے میں منتقل کر سکوں۔ یہ دعا قبول ہوئی اور الہام ہوا کہ روم جاؤ۔ اسی وقت چل کھڑے ہوئے اور قونیہ پہنچ کر چاول فروشوں کے سرائے میں مقیم ہوئے جہاں اس کے چبوترے پر شہر کے عمائدین اور معززین جمع ہوتے تھے۔ اسی مقام پر مولانا رومی اور شمس تبریز کی ملاقات ہوئی۔ پھر دونوں بزرگوں کی تنہائیوں میں ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ بند کمرے میں ان کی مجلس ہوتی کسی اور کو اجازت نہ تھی۔ مولانا رومی کے سینے میں حضرت شمس تبریزی نے کیا آگ بھر دی وہ مثنوی معنوی کے 6 جلدوں اور غزلیات رومی سے ظاہر ہے۔ [5]
حضرت مولانا رومی اپنے مرشد روحانی حضرت شمس تبریزی کا تعارف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
الْمَوْلَى الْأَعَفُّ الدَّاعِي إِلَى الْخَيْرِ خُلَاصَةُ الْأَرْوَاحِ سِرُّ الْمِشْكَاةِ وَالزُّجَاجَةِ وَالْمِصْبَاحِ، شَمْسُ الْحَقِّ وَالدِّينِ نُورُ اللهِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ. [6]
یعنی وہ آقا و مولی ہیں عزیز ترین شخصیت ہیں، خیر کی طرف بلانے والے، ارواح کا خلاصہ، طاق شیشہ اور چراغ (یعنی نورِ الہی) کا راز ہیں، حق اور دین کے آفتاب (شمس الدین) اور آپ اولین و آخرین میں خدا کے نور ہیں۔
حضرت شمس تبریز شیخ ابوبکر زمبیل باف تبریزی کے مرید تھے۔ بعض محققین کے نزدیک شیخ رکن الدین سنجامی کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شمس تبریزی بابا کمال جندی کے مرید ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ نے ان تمام شیوخ سے شرفِ صحبت حاصل کرتے ہوئے ان بزرگوں سے تربیت پائی ہو۔ مولانا شمس تبریزی کے علاوہ شیخ فخرالدین عراقی بھی بابا کمال جندی کی صحبت سے فیض اٹھاتے ہوئے جو کچھ کشف اور فتح شیخ عراقی کو ہوتا تھا اس کو وہ نظم یا نثر میں بیان کر دیتے تھے اور بابا کمال کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ لیکن شمس تبریز اس کا اظہار نہیں فرماتے تھے۔ ایک دن بابا کمال نے ان سے فرمایا اے شمس تبریز جو اسرار و حقائق فخر الدین عراقی ظاہر کرتے ہیں کیا تم پر ان میں سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتے؟ انہوں نے کہا کہ اے پیر و مرشد مجھ پر تو ان سے زیادہ اسرار منکشف ہوتے ہیں اور بحمد اللہ ان سے بڑھ کر مشاہدہ ہوتا ہے لیکن شیخ عراق اپنے فتوحات، مشاہدات کو چند مصطلحات کے ذریعے اچھی صورت میں ظاہر کر دیتے ہیں جب کہ میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ سن کر بابا کمال نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایسا مصاحب (رفیقِ صحبت) نصیب کرے کہ وہ اولین و آخرین کے حقائق و معارف تمہارے نام سے ظاہر کر دے اور حکمت و معارف کے جو چشمے اس کے دل میں پھوٹتے ہوں اور حرف و صوت کے لباس میں جلوہ گر ہوتے ہوں تمہارے نام پر ہو۔ بابا کمال کا یہ دعائیہ اشارہ ہے ”دیوانِ شمس تبریز“ جو اصل میں شمس تبریز کے مرید مولانا رومی کا کلام ہے۔ یہ کلیات جو 1494 صفحات پر مشتمل ہے جن میں 42000 ابیات 3360 غزلیں اور 1995 رباعیات شامل ہیں۔ [7]
مولانا رومی اور مولانا شمس تبریز کی ملاقات کے سلسلے میں بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مولانا شمس تبریز قونیہ پہنچے اور مولانا رومی کی مجلس میں آئے مولانا ایک حوض کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور چند کتابیں آپ کے پاس رکھی ہوئی تھیں حضرت شمس تبریزی نے پوچھا یہ کیسی کتابیں ہیں؟ مولانا نے کہا ان کو قیل و قال کہتے ہیں، آپ کو اس سے کیا مطلب؟ تم اس کو کیا جانو؟ حضرت شمس تبریزی نے ہاتھ بڑھایا اور تمام کتابیں اٹھا کر حوض میں ڈال دیں۔ مولانا بڑے افسوس کے ساتھ کہنے لگے اے درویش تم نے یہ کیا کیا؟ ان کتابوں میں سے بعض کتابوں پر میرے والد کے تعلیقات (فوائد) تحریر تھے، اب وہ کہاں سے میسر آسکتے ہیں؟ شیخ شمس الدین تبریزی نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور کتابوں کو باہر نکال کر رکھ دیا۔ کسی کتاب پر پانی کا اثر نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر مولانا نے حیرت سے کہا یہ کیا راز ہے؟ حضرت شمس تبریزی نے جواباً فرمایا یہ ذوق و حال ہے اس کو تم کیا جانو۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہے۔ [8]
حضرت شمس تبریز کا مولانا رومی پر اثر:
صاحب نفحات الانس علامہ عبدالرحمٰن جامی نے شمس تبریزی کا مکمل نام شمس الدین محمد بن علی بن ملک داد تبریزی لکھا ہے۔ آپ صوفی اور مولانا جلال الدین رومی کے مرشد تھے، تبریز میں پیدا ہوئے۔ جہاں آپ کے والد بزازی (کپڑا بننا) کا کام کرتے تھے۔ بابا کمال جندی سے اکتسابِ فیض کیا۔ اس کے بعد آپ درویش سیاح بن گئے اور 642ھ میں قونیہ پہنچے۔ مولانا رومی پر آپ کی پُر جوش شخصیت کا بہت گہرا اثر ہوا۔ مولانا کے شاگرد اس گہری عقیدت مندی کو دیکھ کر جو ان کے استاد کو اپنے مرشد اور پیارے دوست حضرت شمس تبریز سے پیدا ہوگئی تھی کچھ ناراض سے ہو گئے اور انہوں نے شمس تبریز کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دمشق میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد آپ مولانا کے صاحبزادے سلطان ولد کے ساتھ جنہیں ان کی تلاش میں بھیجا گیا تھا قونیہ واپس آگئے۔ ماہِ شوال 643ھ میں آپ پُر اسرار طور پر غائب ہو گئے۔ ان کے متعلق یہ کہانیاں بالخصوص یورپی مؤرخین کے خیالات کہ انہیں حکومت کے کارندوں نے مار ڈالا یا سازشیوں کے کسی گروہ نے قتل کر ڈالا، جن میں مولانا رومی کا چھوٹا لڑکا علاؤ الدین بھی شامل تھا، غیر مصدقہ ہیں اور معتبر ترین مآخذ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ یعنی ”مثنویاتِ سلطان ولد“ سے اور فریدون بن احمد کے رسالہ ”سپہ سالار“ سے جس میں مولانا رومی اور ان کے جانشینوں کا حال درج ہے۔ یہ رسالہ فارسی زبان میں 720ھ میں لکھا گیا تھا۔ [9]
عہدِ حاضر کے بعض فاضلین کا خیال ہے کہ شمس تبریزی صرف شاعر کے تخیل ہی میں تھے اور ظاہر میں ان کا کوئی وجود نہ تھا، لیکن اگر ہم سوانح نگاروں کی دی ہوئی تاریخوں اور دیگر جزئیات کو فرضی بھی خیال کر لیں تب بھی اس نظریہ کی بنیاد کمزور ہی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت شمس تبریز کا معاملہ کچھ ایسا نہ تھا جس کی نظیر پیش نہ کی جا سکتی ہو۔ شاعرِ رومی تمجید و تکریم اور بے پناہ گہری عقیدت کے جن خیالات کا اظہار ”دیوانِ شمس تبریز“ میں حضرت شمس تبریزی کے لیے کرتے ہیں اسی طرز کے خیالات کا اظہار مولانا رومی نے اپنی مثنوی معنوی میں حسام الدین چلپی کے لیے اور اپنے ایک عزیز دوست صلاح الدین زرکوب کے لیے بھی چند غزلیات میں کیا ہے۔ جہاں تک زبان کی شہادت کا تعلق ہے مولانا جلال الدین رومی کے ان تینوں منبع ہائے فیض کی حیثیت یکساں ہے، اور اسی لسانی شہادت کی تاویل معقول تر بنا پر طریق سے بھی ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ڈانٹے کا مطالعہ کیا ہے انہیں یہ بات کچھ عجیب معلوم نہ ہوگی کہ یہ جلیل القدر ایرانی صوفی اپنے گہرے روحانی تعلقات اور ذاتی واردات کو ان الفاظ میں ملبوس کرتے ہیں جو ہمہ اوستی فلسفے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ [10]
بعض روایات کے بموجب مولانا رومی کے متعلقین حضرت شمس تبریز سے مولانا کے اس پُر شوق تعلق سے ناخوش تھے۔ چنانچہ حضرت شمس تبریز جب پہلی مرتبہ روٹھ کر چلے گئے اور واپس لائے گئے تو دوسری مرتبہ رنجش اتنی بڑھی کہ قتل کر دیے گئے۔ مگر یہ روایت درست معلوم نہیں ہوتی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ 645ھ میں دوبارہ غائب ہو گئے تھے اور ان کا پتہ نہ چلا تھا۔ [11] نفحات الانس میں علامہ عبدالرحمٰن جامی لکھتے ہیں:
”بعض حضرات کہتے ہیں کہ حضرت شمس تبریزی مولانا رومی کے والد مولانا بہاؤالدین کے پہلو میں دفن ہیں۔ بعض تذکرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد آپ کے جسدِ مبارک کو کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔ ایک رات مولانا رومی کے بڑے فرزند سلطان ولد نے خواب میں دیکھا کہ حضرت شمس تبریزی نے اشارہ کیا ہے کہ میں فلاں کنوئیں میں سوتا ہوں۔ جب یہ بیدار ہوئے تو چند محرم دوستوں کی مدد سے ان کے جسدِ مبارک کو کنوئیں سے نکال کر مولانا کے مدرسے میں بانی مدرسہ امیر برہان الدین کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔“ [12]

