Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اتر پردیش میں مدارس اسلامیہ پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط: دوم)|مولانا محمد ایوب مصباحی

اتر پردیش میں مدارس اسلامیہ پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط: دوم)
عنوان: اتر پردیش میں مدارس اسلامیہ پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط: دوم)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اس بابت مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے یہاں مدارس کو مضبوط کریں، مکاتب کا لیول اونچا کریں، اور ان میں اساتذہ کی بحالی کرکے ہندی، انگلش، حساب و سائنس کی ضروری تعلیم کا بندوبست کریں اور اسکول و کالجز سے اجتناب کریں، کہ ویسے بھی یہ اسلامی تعلیمات، تہذیب و کلچر سے کوسوں دور ہیں۔ طالبات کے ارتداد کی وارداتیں بھی بیشتر انہی کی دی ہوئی تہذیب و تمدن کا نتیجہ ہیں۔ چھٹی کا وقت سات آٹھ بجے سے ہٹا کر بارہ یا ایک بجے کا رکھیں اس سے بے شمار مسائل کا حل نکل سکتا ہے، مثلاً مسلم طالبات کو حجاب کے مسائل سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑے گا، مسلمانوں میں جو انحطاط پائی جا رہی ہے وہ دور ہوگی، یونہی تعلیم کا فیصد بھی بڑھے گا، تعلیم کے میدان میں ترقی ہوگی۔ آج مسلمانوں کے پاس ان کے اپنے ذاتی تعلیمی ادارے بہت کم ہیں، انہیں میرج ہال بنانے کا شوق تو بہت ہوتا ہے، لیکن ایک دو معیاری ادارہ نہیں کھول سکتے اسی وجہ سے مسلمانوں میں تعلیمی شرح فیصد بہت کم ہے اور دین سے بیزاری ہے، اور یہ دوری ہی مدارس پر افتاد کا باعث ہے کہ انہیں اصل دینی تعلیم کی جانکاری ہی نہیں تو اس کا درد کیا معلوم ہوگا۔

مدارس اسلامیہ پر افتاد کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جب سے اداروں کو ایڈ کرانے کا عمل شروع ہوا تب سے تعلیمی نظام بھی کمزور ہو گیا۔ مزید جو ادارے رشوت کے لین دین کو حرام ٹھہراتے تھے جہاں اس کا سبق پڑھایا جاتا تھا، وہیں سے رشوت کا بازار گرم ہوا۔ جہلا دیدہ و دانستہ موٹی موٹی رقوم اساتذہ کی بھرتی کے نام پر وصول کرنے لگے، چونکہ ادارے کی کمیٹی عموماً جہالت کا پلندہ ہوتی ہے، وہ دنیا دار ہوتے ہیں، انہیں اس سے کیا سروکار کہ حکمِ شرع اس بابت کیا ہے؟ وہ تو پان چبانے والے گٹکھا اور سگریٹ پینے والے ہیں ایڈ مدارس کو انہوں نے تجارت کے نظریے سے دیکھا اور ہر ایک استاد کے رکھے جانے پر قاعدہ بولیاں لگائی گئیں کہ ادارے کے تعمیراتی کام کے لیے انہوں نے رسید بنوائی ہے، ادنیٰ سی عقل رکھنے والا بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ رشوت کے سوا کچھ نہیں۔ اگر واقعی یہ ادارے کی امداد تھی تو بحیثیت استاد مقرر ہونے سے قبل کبھی کیوں دو چار ہزار کی امداد نہیں کی کہ اب تیس چالیس لاکھ کی امداد کر ڈالی یا بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری کیوں نہ رہا؟ دماغ کی بتی اس وقت گل ہوجاتی ہے جب بعض علما بھی اسی روش پر چل پڑے کہ جاہل مکار عیار ناظموں، مہتمموں نے ایسا کیا تو یہ بھی کرنے لگے، انہوں نے رشوت مانگی، انہوں نے فجأۃ دے دی، جب الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مدارس کے بابت ایکٹ 2004 کی منسوخی کا آیا تھا تو ایسے لوگوں کی نیند اڑ گئی تھی۔

ایسے مواقع پر کسی کو بھی سوائے کاغذاتی کارروائی کے خرچ کے ایک روپیہ بھی دینے کی ضرورت نہیں تھی، پھر اس میں اقربا پروری بھی زوروں پر ہوئی، مستحقین کو نظر انداز کیا گیا جس نے موٹی رقم منہ پر ماری اس کا تقرر کیا گیا یا مستحق کا نام ہٹا کر اپنے ہی کسی نااہل کا تقرر کیا گیا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ایک بیان کی اخبار میں سرخی اس انداز سے لگی ہوئی تھی “کہ لوگ بیٹی کو جہیز میں اور بہو کو منہ دکھائی میں دیتے تھے نوکری!” یہ بات کافی حد تک درست ہے، نیز جو پہلی فارسی تک نہیں پڑھا سکتے موٹی رشوت دے کر ساٹھ ستر ہزار کی نوکری پا رہے ہیں اور جو کامل استعداد رکھتے ہیں وہ دس ہزار پر قناعت کیے ہوئے ہیں، یہ بھی ہماری قوم کا علماء پر ظلم ہو رہا ہے۔

مدارس پر افتاد کی چوتھی وجہ حکومت کی مار ہے، وہ جانتی ہے کہ دین کی خالص سمجھ رکھنے والے یہی مدارس سے پڑھنے والے علماء فضلا ہوتے ہیں ورنہ عوام کالانعام کو تو دین کی کوئی سمجھ نہیں اور اگر تھوڑی بہت ہوتی بھی ہے تو دین سے ہمدردی قطعاً نہیں ہوتی، اس لیے آئے دن ایسے قوانین بنتے رہتے ہیں جس سے مدارس کے چلنے میں صعوبتیں پیدا ہوں۔

اب تک ہم نے وہ باتیں ذکر کیں جو آئے دن لوگوں کی زبانوں پر رہتی ہیں اور سب صداقت پر مبنی ہیں اگرچہ آپ کو اتفاق نہ ہو، اب ایک ماہ قبل دیے گئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ مدرسہ تعلیمی ایکٹ 2004 کی منسوخی کے پیچھے کیا منصوبے کار فرما تھے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004ء کو یہ کہہ کر منسوخ کر دیا کہ یہ سیکولرزم کے اصولوں کے خلاف ہے اور یوپی حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ وہ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو مرکزی تعلیم کے دھارے کے نظام میں شامل کرے۔

واضح رہے کہ انشومن سنگھ راٹھور اور دیگر کئی عرض داشتوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں یہ عرضی دائر کی تھی کہ یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004ء کو منسوخ کیا جائے، اس کی تائید میں حکومتِ ہند، ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مدارس کے نظام تعلیم اور اسے ملنے والی امداد پر اعتراضات کیے گئے تھے۔ عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس وویک چودھری اور جسٹس سبھاس ودیارتھی کی ڈویژن بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ یوپی کے تمام مدارس کو بند کر دیا جائے اور ریاستی حکومت مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے اسکولی تعلیم کا انتظام کرائے۔

جب اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو کورٹ نے کہا کہ یہ جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ ہے، دونوں فریقوں کی دلیل پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے اس لیے اس مقدمے کی اگلی سماعت جون میں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004 غیر آئینی نہیں ہے، ہندوستان کا دستور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہر مذہب والا اپنے مذہب، مذہبی تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی ادارے چلا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے مسلمانوں کو کچھ راحت ضرور ملی ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، سپریم کورٹ کے اس تبصرے کے بعد لگتا ہے کہ اگلی سماعت پر بھی فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہی آئے گا۔

اس پورے معاملے میں ریاستی حکومت اور ان کے حامیان وکلا مع جسٹس کا یہ کہنا تھا کہ مدارس اسلامیہ میں بچوں کو جو نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے، وہ ناکافی ہے، اس سے بچوں کا مستقبل خراب ہو رہا ہے۔ وہ بنیادی تعلیم اسکولی تعلیم ہے جو ابتدا سے انٹر، بی اے وغیرہ تک کہلاتی ہے، اسی وجہ سے اس کے فیصلے میں ہدایات بھی موجود تھیں کہ اہل مدارس بچوں کا داخلہ پندرہ سال کی عمر سے قبل نہیں لے سکتے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ پہلے بنیادی تعلیم مکمل کرلیں۔

اس ضمن میں کچھ لوگوں کے قلم اس پر بھی خوب چلے کہ مدارس اسلامیہ کو نصاب تعلیم بدل دینا چاہیے اور اسے حکومت کی منشا کے مطابق کر لینا چاہیے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اولاً تو مدارس کو حکومت کی گرانٹ ہی نہیں لینی چاہیے تھی اور انہیں گورنمنٹ سے منظور نہیں کرانا چاہیے تھا۔ اگر دس بیس ہزار ماہانہ تنخواہ پر علماء درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہتے تو فاقے سے تو مر نہ جاتے، کہ اسلاف کی سنت بھی باقی رہتی نہ حکومت کا کوئی دباؤ ہوتا کہ وندے ماترم کہو، جن گن من پڑھو، چھبیس جنوری اور پندرہ اگست کو پرچم کشائی اور قومی گیت کی ویڈیو بنا کر محب وطن ہونے کا ثبوت پیش کرو، نہ نصاب تعلیم میں تبدیلی کی بات آتی اور نہ ہی رشوت کا بازار گرم ہوتا۔ شاید اسی وجہ سے صدر الافاضل نعیم الدین مرادآبادی جامعہ نعیمیہ مرادآباد کے متعلق یہ وصیت فرما گئے تھے کہ کچھ بھی ہو لیکن حکومت کی گرانٹ قبول نہ کرنا اور وہ آج تک پرائیویٹ ہی ہے اور اگر حکومت کی امداد کو قبول بھی کرلیا اور مدارس کو ایڈ کرا بھی لیا تو مناسب تبدیلی کرنا ناگزیر تھا یعنی نہ تو یہ کہ مکمل عصری تعلیم کا رنگ اس پر چڑھا دیا جائے نہ یہ کہ بالکل عصری علوم سے دور رکھا جائے۔

میں سمجھتا ہوں مدبر علماء نے اپنی صواب دید کے مطابق نصاب تعلیم میں عصری علوم مثلاً: ہندی، انگریزی، سائنس، ریاضی وغیرہ کو شامل بھی کیا اور بہت سے طلبہ نے یونیورسٹیز کا رخ بھی کیا اور یوپی ایس سی کے امتحانات میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ اب اگر کوئی یہ چاہے کہ عصری علوم کو غلبہ دے دیا جائے اور عربی فارسی کے مضامین برائے نام رہیں تو یہ اپنے ہی ہاتھوں دین مٹانا ہے۔ ظاہر ہے جب طلبہ مدارس میں اسکول و کالجز کی تعلیم حاصل کریں گے تو پھر تہذیب و کلچر بھی انگریزوں کا فالو کریں گے پینٹ شرٹ پہنیں گے داڑھیاں منڈائیں گے، جس کے نتائج ان طلبہ میں دیکھنے کو ملے جنہوں نے یونیورسٹیز کا رخ کیا۔ پھر نہ کوئی مسجد کا امام بنے گا نہ مدرسہ کا مدرس، اس لیے ہمارے دور اندیش علماء نے نصاب تعلیم میں خاطر خواہ ہی تبدیلی کی اور عصری علوم کو متداول علوم پر فوقیت اور غلبہ نہ دیا۔

دراصل بچوں کی بنیادی تعلیم کا بہانہ اسلام دشمن عناصر کا مذہب اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا، ان کے وجود کو مٹانا حکومت کی منشاء ہے۔ اگر واقعی یہ خیر خواہ ہوتے تو مدارس کو بند کرنے کے بجائے اس میں در آئی خامیوں کی اصلاح کی کوشش کرتے، اس کے لیے ٹیچرز فراہم کرتے، طلبہ کے روشن مستقبل کی اگر انہیں فکر ہوتی تو پری میٹرک اسکالرشپ بند کرنے کے بجائے اس کے بجٹ میں مناسب اضافہ کرتے، اداروں کی تعمیرات کے لیے فنڈ مہیا کراتے، جب کہ یہاں اس کے برعکس ان چندوں پر بھی اعتراض ہے جن سے مدارس چلتے ہیں۔ دراصل ان کی نیت میں کھوٹ ہے، یہ چاہتے ہیں کہ مدارس بند کر کے مسلمانوں کے ایمان و عقائد کو مجروح کر دیں، اسلام کی محبت ان کے دلوں سے نکال دیں اور ہندو راشٹر کا جو ان کا خواب ہے وہ مدارس کو بند کیے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

آسام میں مدارس بند کر دیے، یوپی میں بھی بند کر دیے، وہ تو کہیے کہ سپریم کورٹ نے فیصلے کے نفاذ پر روک لگادی، لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ آر ایس ایس حمایت یافتہ حزب اقتدار بی جے پی اگر پھر برسر اقتدار ہوئی تو مدارس کو بند کرنے، شعائر اسلام پر قدغن لگانے اور ہندو راشٹر کا اعلان کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا، اس کے بعد جو قتل و غارت گری ہوگی اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

پھر علماء و ائمہ پر ظلم و ستم کرنے والے ناظموں، صدروں، سیکرٹریوں اور مدارس کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے، اپنی ذمہ داری نہ نبھانے والے، محنت سے نہ پڑھانے والے اساتذہ اور امام و مدرس کو اپنا غلام سمجھنے والی عوام کالانعام اور قوم کا پیسہ لوٹنے والے بازاری خطباء و شعراء کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے، وقت ہے، ابھی سمجھنے کا سنبھلنے کا، ہم اپنی روش بدلیں سسٹم سدھاریں۔

نصاب تعلیم، معیار تعلیم وغیرہ میں مناسب تبدیلی کی جائے، تعلیم کا معیار بلند ہوگا تو قوم مسلم ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہوگی، ظالم إِنْ شَاءَ اللّٰهُ! اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے، دراصل یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو مٹا دیا جائے، اس لیے نت نئے منصوبے مسلمانوں کی شناخت مٹانے کے بناتے رہتے ہیں۔

کیوں ہراساں ہے صہیلِ فرسِ اعدا سے
نورِ حق بجھ نہ سکے گا نَفَسِ اعدا سے

وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

مدارس اگر بند ہوئے تو یہ ہماری شامتِ نفس، غفلت، اقربا پروری، رشوت خوری، دین سے بیزاری، دین کی سوداگری، خانہ جنگی، علماء سے تنفر جیسے کاموں کی وجہ سے ہوگا، جیسے دیگر ممالک میں ہوا۔ ترکی میں قرآن کی تعلیم پر پابندی لگائی گئی، یہ سب دین سے بیزار ہونے کی وجہ سے ہے۔

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

امتحان ہے ترے ایثار کا خودداری کا

ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف

صفحہ 27/32

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!