| عنوان: | ہند میں آمدِ خواجہ کی بہار |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء الرحمن نوری مالیگاؤں |
| پیش کش: | شیخ کنیزِ فاطمہ |
جس ملک سے پیغمبرِ اسلام کی محبت کا عالم یہ ہے کہ وادیٔ حجاز میں اس (ہند) کی خوشبو محسوس کرتے ہوں وہ سرزمینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ سے کیسے محروم رہ سکتی تھی۔ دورِ رسالت ہی میں یہاں اسلام کی شمع روشن ہو چکی تھی۔ مالابار کے راجہ “زمورن سامری” نے حیر العقول معجزہ “شَقُّ الْقَمَر” کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کچھ دن بعد اسلام قبول کر لیا۔ ہند سے ایک وفد بارگاہِ رسالت میں زنجبیل (سونٹھ) کا تحفہ لے کر حاضر آیا تھا۔ [مُسْتَدْرَك حَاكِم، ٣٥/٤، بحوالہ: سلطان الہند، ص: 13، از: ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی]
ہندوستان پر کئی مجاہدین نے فوج کشی کی۔ غزوۂ ہند کا یہ ذوق محض کشور کشائی کے جذبے سے نہیں تھا بلکہ انہوں نے جہادِ ہند کے لیے پیش رفت ارشادِ نبوی کی تکمیل کے لیے کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو حضرت ابنِ مریم کا ساتھ دے گا۔ [مرجع سابق، ص: 13]
مسلم فاتحین و سلاطین نے طاقت و قوت کے زور پر ہندوستان میں شمعِ اسلام کو روشن کیا۔ تاج و تخت کے مالک بنے اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے جلوے دکھا کر رخصت ہو گئے۔ لیکن درحقیقت قدرتِ خداوندی نے ہندوستان کی فتح اور یہاں اسلامی اقتدار کا قیام ایسے فرزندِ توحید کے نام لکھ دیا تھا جس نے للہیت، ربانیت، عشقِ خدا، ذوقِ اتباعِ سنت، حبِ رسول، دل سوزی، بلند ہمتی، تازگیٔ فکر، نورِ بصیرت، فراستِ ایمانی، حقیقت پسندی، اعتقاد صحیح، عملِ صالح، وسعتِ قلب و نظر اور اخلاص و ايثار کی متاعِ گراں بہا سے شمعِ اسلام کو روشن کیا اور اس کی روشنی سے ملک کے ہر خطے کو تابناک کیا۔
اسے دنیا قُطْبُ الْأَقْطَاب، مُعِيْنُ الْمِلَّةِ وَالْحَقّ، خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے نام سے جانتی ہے۔ مجاہدین، تاجروں، خود مختار حکمرانوں سے اسلام کو وہ استحکام نہ مل سکا جیسا نَائِبُ النَّبِي فِي الْهِنْد نے عطا فرمایا۔ آپ نے صبحِ قیامت تک کے لیے اس دیار میں اسلامی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم فرما دیا۔ ہم ہندوستانیوں کو بھی چاہیے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ خاص کے فیوض و برکات کو حاصل کرتے ہوئے مقصدِ خواجہ پر عمل کریں، دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیں اور بزرگانِ دین سے محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کے مشن کو عام کیا جائے۔
اللہ پاک نے سلطان الہند، عطائے رسول حضرت خواجہ غریب نواز چشتی اجمیری قدس سرہ (٦٣٣/٥٣٤ھ) کو وہ عزت و عظمت اور رفعت و بلندی عطا کی کہ اہلِ تاریخ و سیر کی تو بات دیگر ہے، اربابِ سیاست و حکومت بھی غریب نواز کی حکومت و سلطنت کو اب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ غریب نواز ہندوستان کیا آئے بہار آگئی، اسلام کی رونق و روشنی نے کفر و ضلالت اور نفاق و جہالت سے لوگوں کے قلوب کو تجلی و مصفیٰ کیا۔ آج دین کی جو باغ و بہار نظر آرہی ہے وہ حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ کی ہی تبلیغی کاوشوں اور بے پناہ دینی مساعی کا ثمرہ ہے، کیوں نہ ہو کہ خود ہمارے آقا حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دربارِ اقدس میں حاضری کے وقت یہ بشارت سنائی:
“اے معین الدین! تو میرے دین کا معین ہے، میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی، وہاں کفر و ظلمت پھیلی ہوئی ہے۔ تو اجمیر جا، تیرے وجود سے ظلمت و کفر، دور ہوگی اور اسلام کی رونق بڑھ جائے گی۔” [سِيَرُ الْأَقْطَاب، ص: 124]
اسی طرح حج کے دوران کعبہ میں حضرت خواجہ یادِ الٰہی میں مشغول تھے کہ آپ نے ایک غیبی آواز سنی “اے معین الدین! ہم تجھ سے خوش ہیں، ہم نے تجھے بخش دیا، جو کچھ چاہے مانگ عطا کروں۔” [اہلِ سنت کی آواز، مارہرہ شریف، ص: 158]
یہ تمام بشارتیں بارگاہِ الٰہی میں حضرت غریب نواز کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے ساری کائنات اس کی تابع ہو جاتی ہے۔ خود خالقِ کائنات اس بندہ کی اعانت فرماتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ [سورۃ محمد: 7]
حقیقت یہ ہے کہ اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ و اشاعت، اس کی عبادت و ریاضت اور تقویٰ و طہارت کو اپنا لیا تو خداوندِ قدوس نے انہیں وہ عزت و عظمت عطا فرمائی۔ آج ہر ایک دکھ درد کا مارا، اولیائے کرام کے مزارات پر حاضر ہو کر سلامِ نیاز پیش کرتا ہے اور فیض پاتا ہے۔ اولیائے کرام ہی دین کے سچے پاسبان و علمبردار ہیں، یہی گروہِ فرمانِ باری تعالیٰ “وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِيْنَ” کی سچی تفسیر ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے ہندوستان میں آ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، اسلامی شریعت سے لوگوں کو آشنا کیا، ظلمت کدۂ ہند کو دینِ مصطفےٰ کے نور سے روشن کیا۔
خواجہ غریب نواز ہندوستان تشریف لائے تو اسلام آیا، ایمان کی بادِ بہاری چلی۔ محبت و اخوت، صداقت و دیانت، عدل و انصاف، مساوات و رواداری کا نظام قائم ہوا۔ نہ تیر چلا، نہ تلوار اٹھی، نہ بتوں کو چھوا نہ بت کدوں کو چھیڑا۔ یہ تو محض ان کی نگاہِ کیمیا گر کی کشش تھی کہ ترشول برداروں کا جتھہ آیا، جب نظر اٹھی، سب اس نظرِ پُر تاثیر کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ وہ ہندوستان جہاں بت پرستی عام تھی وہاں توحید پرستی عام ہو گئی، پھر ایک دن وہ آیا جب غریب نواز ہندوستان کا طغرائے افتخار قرار پائے۔ اب حکمران کوئی بھی ہو ان کی چوکھٹ پر اپنا سرِ عقیدت ٹیک دیتا ہے۔ ہندوستان میں مذہبی مقامات اور مذہبی تہواروں کی کمی تو نہیں جہاں خوب بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے، مگر مختلف قوموں، امیروں، رئیسوں اور وزیروں کی جو بھیڑ یہاں اکٹھی ہوتی ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتی۔
مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ کی دعوت و تبلیغ پر نوے لاکھ سے زیادہ کفار و مشرکین نے اسلام قبول کیا۔ یہ حضرت خواجہ کا ایسا کارنامہ ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج ہندوستان میں ایمان و اسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے یہ سب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت و تبلیغ ہی کا ثمرہ ہے۔ آپ نے تقریباً ٤٥ سال تک سرزمینِ ہند پر دعوت و توحید اور تبلیغِ دین فرمائی، اور ظلمت کدۂ ہند میں اسلام کا اجالا پھیلایا۔
آپ کا اسمِ گرامی معین الدین ہے، والدین “حسن” کہہ کر پکارتے۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ شجرۂ نسب بارہویں پشت میں امیر المؤمنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ مادر زاد ولی ہونے کے ساتھ بلند پایہ عالم، مصنف اور شاعر بھی تھے۔ “دَلِيْلُ الْعَارِفِيْن”، “زُبْدَةُ الْعَقَائِد” اور دیوان آپ کی یادگار تصانیف ہیں۔ “فَوَائِدُ السَّالِكِيْن”، آپ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے جسے حضرت بابا فرید الدین رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب فرمایا تھا۔
اللہ پاک ہمیں بزرگوں کے دامن سے وابستہ رکھے اور اوصافِ حمیدہ سے مزین ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
