| عنوان: | حضرت امام مسروق ابن عبدالرحمن ہمدانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | زین العابدین اشرفی |
| پیش کش: | آمنہ امن رضویہ بنت شیخ حبیب احمد قادری |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نام:
مسروق بن اجدع ہے۔ انہیں مسروق اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب یہ چھوٹے تھے تو ان کو کسی نے چرا لیا تھا۔
کنیت:
ابو عائشہ، ابو یمانیہ، ابو امیہ، ابو ہشام، ابو یزید ہے۔
لقب:
علامہ ذہبی نے انہیں “الامام”، “القدوۃ” اور “العلم” جیسے القاب سے یاد کیا۔ [سير أعلام النبلاء، ج: 5، ص: 24، دار الحديث، القاهرة، 2006م]
والدِ گرامی:
والدِ گرامی کا نام اجدع تھا۔ لیکن شعبی کہتے ہیں کہ جب مسروق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پہنچے تو انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ مسروق نے کہا: مسروق بن اجدع، حضرت عمر فاروق نے فرمایا: اجدع تو شیطان ہے اور تم تو مسروق بن عبدالرحمن ہو۔ اس کے بعد حضرت مسروق اپنے والد کا نام عبدالرحمن بتانے لگے۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ج: 5، ص: 262، مكتبة الرشد، الرياض، 1409هـ]
ایک دوسری روایت یہ ہے کہ اجدع خود حضرت عمر فاروق کی بارگاہِ عالیہ میں آئے اور وہ شاعر بھی تھے۔ حضرت عمر نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کی: اجدع، حضرت عمر فاروق نے فرمایا: اجدع شیطان ہے اور تم عبدالرحمن ہو۔ [الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 138-139، دار الكتب العلمية، بيروت، 1990م]
ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ مسروق کے والد کا نام اجدع تھا، جسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد عبدالرحمن میں تبدیل فرما دیا۔
سلسلۂ نسب:
مسروق بن عبدالرحمن [اجدع] بن مالک بن امیہ بن عبداللہ بن مر بن سلمان یا سلامان بن معمر بن حارث بن سعد بن عبداللہ بن وادعہ بن عمرو بن عامر بن ناشح بن رافع بن مالک بن جشم بن حاشد بن جشم بن خیوان بن نوف بن ہمدان۔ [تهذيب الكمال، ج: 27، ص: 451، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1980م]
آپ کے سلسلۂ نسب میں زیادہ اختلاف واقع نہیں ہوا ہے، تقریباً سارے تذکرہ نگاروں نے ایک ہی نسب نامہ بیان کیا ہے، البتہ کہیں کہیں حروف کے تقدم و تاخر میں اختلاف ہے۔ مثلاً “الطبقات” میں سلمان کی جگہ سلیمان ہے اور ابن حبان کی “الثقات” میں “وادعہ” کی جگہ وداعہ ہے۔ [الثقات لابن حبان، ج: 5، ص: 456، دائرة المعارف العثمانية، حيدرآباد دكن الهند، 1973م]
خاندانی پسِ منظر:
آپ کا تعلق یمن کے مشہور خاندان ہمدان سے تھا، آپ اصلاً یمنی اور ہجرۃً کوفی تھے۔ امام ابو داؤد نے کہا: مسروق کے والد یمن کے مشہور شہسوار تھے، مزید کہا کہ مسروق حضرت عمر بن معدی کرب جو مشہور بہادر، عظیم گھڑ سوار اور فارسِ عرب تھے، ان کے بھانجے تھے اور ان کے والد حضرت اجدع بھی مسلمان تھے۔ [تهذيب الكمال، ج: 27، ص: 451، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1980م]
ولادت:
کسی مؤرخ نے اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ آپ کی ولادت کب ہوئی، لیکن ان کی تاریخِ ولادت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات بقول فضل بن عمرو وغیرہ ترسٹھ (63) سال میں ہوئی۔ [مختصر تاريخ دمشق، ج: 24، ص: 252، دار الفكر للطباعة والتوزيع والنشر، دمشق، 1984م]
اور ان کی تاریخِ وفات بقول جمہور 63 ہجری ہے۔ [الإصابة، ج: 6، ص: 230، دار الكتب العلمية، بيروت، 1415هـ]
اس لحاظ سے بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ولادت 1 ہجری میں ہوئی ہے اور اگر بقول بعض تاریخِ وفات 62 ہجری مان لی جائے تو ان کی تاریخِ ولادت ہجرتِ نبوی سے ایک سال قبل ہوئی ہوگی۔ اور اگر بقول حربی وفات کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی۔ [إكمال تهذيب الكمال، ج: 11، ص: 155] تو اس لحاظ سے ان کی ولادت بعثتِ نبوی کے دو سال قبل ہوئی ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
قبولِ اسلام:
اس بارے میں کوئی صراحت نہیں ملتی کہ حضرت مسروق نے کس سن میں اسلام قبول کیا، ہاں البتہ اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور آپ کی حیاتِ ظاہری میں اسلام قبول کیا ہے، تاہم ملاقات ثابت نہیں ہے۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے:
وَفِي الْمُخَضْرَمِينَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
آپ کا شمار ان مخضرمین میں ہے، جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اسلام قبول کیا۔ [سير أعلام النبلاء، ج: 5، ص: 24]
علامہ ابن حجر “الإصابة” میں لکھتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ مبارک کے بعد یمن سے آئے تھے۔ [الإصابة، ج: 6، ص: 230]
صحابہ سے اکتسابِ فیض:
مسروق نے متعدد صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم سے علم حاصل کیا ہے: مثلاً حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت معقل بن سنان، حضرت خباب بن ارت، حضرت عائشہ، حضرت سبیعہ اسلمیہ، حضرت ام سلمہ، اور اپنی ماں حضرت ام رومان۔ اس کے علاوہ تابعین میں حضرت عبید بن عمیر لیثی سے بھی علمی پیاس بجھائی ہے۔ [تاريخ الإسلام، ج: 2، ص: 712، دار الغرب الإسلامي، 2003م؛ تهذيب الأسماء واللغات، ج: 3، ص: 88، دار الكتب العلمية، بيروت؛ تهذيب الكمال، ج: 27، ص: 451]
تلامذہ:
انس بن سیرین، ایوب ہانی، حبال بن رفیدہ، ابو وائل شفیق بن سلمہ، عامر شعبی، عبداللہ بن مرہ خارفی، عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود، عبید بن نضلہ، عمارہ بن عمیر، قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود، محمد بن نشر، مکحول شامی، یحییٰ بن جزار، ابو الاحوص، ابو الشعثاء محاربی، سعید بن جبیر، ابو الضحیٰ، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن وثاب، ابو اسحاق سبیعی، عبداللہ بن مرہ وغیرہم جیسے اربابِ علم و معرفت نے آپ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیا ہے۔ [تاريخ الإسلام، ج: 2، ص: 712؛ تهذيب الأسماء واللغات، ج: 2، ص: 88؛ تهذيب الكمال، ج: 27، ص: 451]
اسلامی معرکوں میں شرکت:
حضرت مسروق نے اسلام لانے کے بعد چند معرکوں میں حصہ بھی لیا ہے۔ جنگِ قادسیہ میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ شریک رہے، تینوں بھائی اسی جنگ میں شہید ہوئے، لیکن مسروق زخمی ہوئے، ہاتھ شل ہوا اور سر میں چوٹ آئی۔ ایک قول کے مطابق جنگِ صفین میں بھی شریک رہے، لیکن جنگ کرنے سے اجتناب کیا۔ جنگِ نہروان میں حضرت علی کے ساتھ خوارج کا مقابلہ بھی کیا اور ایک ضعیف قول کی بنیاد پر جنگِ حروریہ میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ رہے۔ [تاريخ الإسلام، ج: 2، ص: 712؛ الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 140؛ سير أعلام النبلاء، ج: 5، ص: 26]
وفات:
آپ کا وصال ظالم و جابر امیر عبید اللہ بن زیاد کے دورِ حکومت میں کوفہ کی سرزمین پر ہوا۔ آپ کی تاریخِ وفات کے متعلق عام طور پر دو قول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی وفات 62 ہجری میں ہوئی، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کا وصال 63 ہجری میں ہوا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی، ابو نعیم کے حوالے سے لکھتے ہیں:
وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ، وَأَرَّخَهُ غَيْرُهُ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَهُوَ قَوْلُ الْجُمْهُورِ.
ابو نعیم نے کہا ان کی وفات 62 ہجری میں ہوئی، لیکن دوسرے علماء نے 63 ہجری میں بتائی ہے اور یہی قولِ جمہور ہے۔ [الإصابة، ج: 6، ص: 229-230]
مدفن:
شعبی کہتے ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت مسروق کو ان کی وفات سے تقریباً ایک سال یا دو سال قبل “سلسلہ” (یہ مقام واسط میں واقع ایک علاقہ ہے) بھیجا، لہٰذا وہ وہاں گئے اور اسی جگہ ان کا وصال ہوا۔ ابو شہاب حناط نے کہا کہ آپ کو مقام واسط کے “سلسلہ” نامی علاقہ میں دفن کیا گیا۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: قبیلہ نبط سے تعلق رکھنے والی ایک مشرکہ عورت جو ان کے لیے نمک لاتی تھی، اس کا بیان یہ ہے کہ جب جب پانی کا قحط پڑتا، ہم حضرت مسروق کی قبرِ مبارک کے پاس آتے اور ان کی قبر مقام “سلسلہ” میں تھی۔ پھر ہم پانی طلب کرتے تو ہمیں پانی دیا جاتا، مزید کہا کہ پھر ہم ان کی قبر پر شراب چھڑکتے، ایک دن وہ ہمارے خواب میں آئے اور کہا: اگر تم لوگ کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو خوشبو چھڑکا کرو۔ [تاريخ الإسلام، ج: 2، ص: 712؛ الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 145]
فضل و کمال:
کتبِ تاریخ و سیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسروق بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو اللہ رب العزت نے گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا، آپ عابد و شب زندہ دار تھے یہاں تک کہ کثرتِ عبادت کی وجہ سے پاؤں سوج جاتے تھے، خلوت نشینی آپ کا خاص ذوق، زہد و قناعت آپ کا شعار، توکل علی اللہ طرۂ امتیاز، خدمتِ خلق آپ کا وصفِ عالی، اخلاص و للہیت خدائے یکتا کا خاص عطیہ، عدل و انصاف آپ کی حق تراث اور خوفِ الٰہی و خشیتِ ربانی آپ کی زندگی کا جزوِ لاینفک تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آدمی کے عالم ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ رب العزت سے ڈرے اور جاہل ہونے کے لیے یہی چیز کافی ہے کہ وہ اپنے عمل سے خوش ہو جائے۔ آپ اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالیہ میں ہمہ وقت توبہ و استغفار کرنے والے بندۂ کامل اور تصوف کی حقیقت تک پہنچے ہوئے ولیِ بافیض بلکہ ولی تراش تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مردِ حقیقی وہی ہے جو اپنی مجلسِ تنہائی میں اپنے گناہ یاد کرے اور اللہ رب العزت سے توبہ و استغفار کرے۔
جلالتِ علمی اور ائمۂ اعلام کی شہادتیں:
آپ علم و فضل کے امام اور فقہ و فتاویٰ میں مرجعِ خلائق تھے، شریعت کے رمز شناس، قرآن و حدیث کی عقدہ کشائی کرنے والے مفسر و محدث، درجۂ اجتہاد پر فائز مجتہد اور اپنے زمانے کے یکتائے روزگار فقیہ تھے۔ طلبِ علم آپ کی جبلتِ حسنہ تھی، علم و دانائی اور تفقہ فی الدین آپ کی برتری و عظمت اور شوکت و سطوت تھی۔ آپ نے اکابر صحابہ اور بڑے بڑے اساطینِ فضل و کمال سے علم حاصل کیا ہے۔ طلبِ علم کا عالم یہ تھا کہ کبھی کبھی محض ایک ہی آیت کے لیے کئی کئی شہروں کا سفر کیا کرتے تھے۔
شعبی کہتے ہیں: “مسروق بصرہ میں ایک آدمی کے پاس کسی آیت کی بابت پوچھنے کے لیے آئے، لیکن آدمی کے پاس اس کے متعلق کوئی جانکاری نہ تھی، اس نے کسی شامی کے بارے میں بتایا، مسروق ہمارے یہاں آنے کے بعد اس شامی آدمی کے پاس بھی گئے۔” [حلية الأولياء، ج: 2، ص: 95، دار الكتب العلمية، بيروت، 1409هـ]
حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ! لَنْ تَعْجِزُوا أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ الْهَمْدَانِيِّ وَالسَّلْمَانِيِّ.
اے کوفیو! تم ہمدانی (مسروق بن اجدع) اور سلمانی (عبیدہ بن عمرو) کی نظیر لانے سے عاجز ہو۔ [طبقات الفقهاء، ج: 1، ص: 79، دار الرائد العربي، 1970م]
ابن سعد نے انہیں کوفہ کے طبقۂ اولیٰ کے محدثین و فقہاء میں شمار کیا ہے۔ [الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 137]
علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
مَا عَلِمْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ كَانَ أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ فِي أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ مِنْ مَسْرُوقٍ.
روئے زمین پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو مسروق سے زیادہ علم کا حریص ہو۔ [تاريخ الإسلام، ج: 5، ص: 235]
شعبی کہتے ہیں:
مَا رَأَيْتُ أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ مِنْهُ. كَانَ أَعْلَمَ بِالْفَتْوَى مِنْ شُرَيْحٍ.
میں نے ان سے بڑھ کر علم کا متلاشی نہیں پایا، وہ فقہ و فتاویٰ میں شریح سے بھی آگے تھے۔ [العبر في خبر من غبر، ج: 1، ص: 50، دار الكتب العلمية، بيروت]
اور یہ بھی کہا کہ شریح مسروق سے مشورہ لیتے تھے، لیکن مسروق کو شریح کے مشورے کی حاجت نہ تھی۔ [الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 144؛ تاريخ الإسلام، ج: 2، ص: 712]
مرہ کہتے ہیں: “کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسا کوئی بچہ نہ جنا۔” [الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 141]
علی بن مدینی کہتے ہیں:
مَا أُقَدِّمُ عَلَى مَسْرُوقٍ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ.
میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے کسی کو مسروق پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ [سير أعلام النبلاء، ج: 4، ص: 67]
شعبی کہتے ہیں: “مسروق منصبِ قضا پر بھی فائز تھے۔ قاسم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: کبھی قضا پر اجرت نہیں لیتے تھے۔ شعبی نے کہا: وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک حق و درست فیصلہ کرنا اللہ رب العزت کی راہ میں ایک سال تک جہاد کرنے سے بہتر ہے۔” [الطبقات الكبرى، ج: 6، ص: 144]
محمد بن منتشر نے بھی کہا: مسروق قضا پر اجرت نہیں لیتے تھے اور اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرماتے تھے: “اللہ رب العزت نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے۔” [حلية الأولياء، ج: 2، ص: 96، دار الكتب العلمية، بيروت، 1409هـ]
علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں:
وَاتَّفَقُوا عَلَى جَلَالَتِهِ وَفَضِيلَتِهِ وَإِمَامَتِهِ.
ان کی علمی جلالت، ثقاہت اور فضیلت و امامت پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔ [تهذيب الأسماء واللغات، ج: 2، ص: 88]
یحییٰ بن معین کہتے ہیں: مسروق ایسے ثقہ ہیں کہ ان کی نظیر نہ پوچھو۔ [تهذيب الكمال، ج: 27، ص: 455]
تفقہ اور اجتہاد:
آپ کوفہ جیسے چمنستانِ علم و معرفت میں رہے، جسے 17 ہجری میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آباد فرمایا، جہاں بڑے بڑے صحابہ نے علم کی روشنی بکھیریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے جس شہر کو علم و فقہ کی دولتِ لازوال عطا فرمائی، حتیٰ کہ اس نو آباد شہر میں چار ہزار علماء، فقہاء اور محدثین پیدا ہو گئے، جسے دیکھ کر باب مدینۃ العلم حضرت مولائے کائنات بھی پکار اٹھے کہ اللہ تعالیٰ ابن مسعود پر رحم فرمائے، انہوں نے اس شہر کو علم و آگہی سے بھر دیا ہے۔ جس خطۂ پر انوار کی بابت عجلی نے کہا کہ 1500 صحابہ نے قیام فرمایا جن میں 80 اصحابِ بدری تھے۔ جہاں بعض صحابہ بھی تابعین سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔ حضرت مسروق نے اتنے عظیم شہر اور مرکزِ علم و روحانیت میں اپنی علمی تشنگی بجھائی اور علم کی شمعِ فروزاں سے روشنی حاصل کی، بطورِ خاص حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے علمِ فقہ کی خیرات لی اور فقہ و فتاویٰ میں مرجعِ انام ہو گئے حتیٰ کہ قاضیِ وقت حضرت شریح بھی آپ سے مشورہ لینے کے خواہاں رہتے تھے۔ آپ کی فقاہت، بالغ نظری، دقیق الخیالی اور علمی بلندی کا عالم یہ ہے کہ فقہ کے اکثر و بیشتر ابواب میں خواہ وہ طہارت، جنابت، صلاۃ، زکوٰۃ، روزہ، حج، وراثت، قضاءات ہوں یا جنایات، دیات، عقوبات، بینات، بیع، ربا، اجارہ، ایمان، نکاح، طلاق، خیار، عدت، رضاعت، وصیت، اور فرائض ہوں، ان سب میں آپ کی مرویات موجود ہیں، جو آپ کی فقیہانہ بصیرت پر شاہدِ عدل ہیں۔ ہم ذیل میں اپنی بات کی تائید و توثیق کے لیے ان کی کچھ مرویات ذکر کرتے ہیں:
حضرت مسروق، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بغیر طہارت اور مجھ پر درود کے کوئی بھی نماز قبول نہیں ہے۔” [سنن الدارمي، ج: 2، ص: 170، مؤسسة الرسالة، بيروت، 2004م]
حضرت مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے گرمی حاصل کرتے۔ [سنن ابن ماجه، ج: 1، ص: 192، دار إحياء الكتب العربية]
حضرت مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں آدمی کے پلٹنے کے متعلق پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک جھپٹ ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے جھپٹتا ہے۔” [صحيح البخاري، ج: 4، ص: 159، دار طوق النجاة، 1422هـ؛ سنن أبي داود، ج: 1، ص: 239، المكتبة العصرية، صيدا، بيروت]
مسروق، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانبِ یمن بھیجا اور ہر چالیس گائے میں سے ایک “مُسِنَّہ” (تیسرے سال میں داخل ہونے والی) اور ہر تیس میں سے ایک “تَبِیْع” یا “تَبِیْعَہ” (دوسرے سال میں داخل ہونے والی) لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه، ج: 1، ص: 576]
مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور مس کرتے تھے، حالانکہ وہ تم میں سب سے زیادہ خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [صحيح مسلم، ج: 2، ص: 777، دار إحياء التراث العربي، بيروت]
مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحالتِ احرام ہوتے اور میں درمیانِ سر خوشبو کی چمک دیکھتی۔” [صحيح مسلم، ج: 2، ص: 848]
مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے “جدہ مع ابنہا” کے متعلق فرمایا: یقیناً یہ پہلی جدہ ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کے ساتھ سدس (چھٹا حصہ) دیا، حالانکہ ان کا بیٹا زندہ تھا۔ [جامع الترمذي، ج: 3، ص: 492، دار الغرب الإسلامي، بيروت، 1998م]
مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لوگوں کے مابین فیصلہ کرنے والا ہر قاضی بروزِ قیامت آئے گا، فرشتہ اسے پیچھے سے پکڑے ہوگا، پھر وہ آسمان کی جانب دیکھے گا تو اللہ رب العزت فرمائے گا کہ اسے جہنم میں ڈال دو تو فرشتہ اسے چالیس سال کی ہلاکت میں ڈال دے گا۔” [سنن ابن ماجه، ج: 2، ص: 775]
مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔” [المعجم الكبير، ج: 10، ص: 157، مكتبة ابن تيمية، القاهرة]
حضرت مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: “جس انسان کو بھی قتل کیا جائے اس کا ذمہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر ہوگا۔” [صحيح البخاري، ج: 3، ص: 9]
مسروق حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کلمۂ شہادت کی گواہی دینے والے مسلمان مرد کا خون محض تین ہی چیزوں سے حلال ہوتا ہے (1) اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو (2) شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا کیا ہو (3) دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔” [صحيح البخاري، ج: 5، ص: 9]
مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حالانکہ ایک آدمی میرے پاس موجود تھا، آپ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: میرا رضاعی بھائی، فرمایا: اے عائشہ! تحقیق کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں؟ کیونکہ رضاعت بھوک (بھوک مٹانے والے دودھ) کی بنیاد پر ثابت ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري، ج: 3، ص: 170، بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الْأَنْسَابِ]
مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: “جب سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی پھر شراب کی تجارت کرنے سے منع فرما دیا۔” [صحيح مسلم، ج: 3، ص: 1206]
مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: “ربا کے تہتر دروازے ہیں۔” [سنن ابن ماجه، ج: 1، ص: 653]
مسروق، حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے کہا: “میں ایک غلام آدمی تھا، لہٰذا میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا تو ان کے یہاں میرا کچھ روپیہ رہ گیا، پھر میں اسے لینے کے لیے آیا، اس نے کہا: بخدا! جب تک تو محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں جھٹلائے گا میں تجھے نہیں دوں گا، خباب نے کہا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا، حتیٰ کہ تو مر جائے اور تجھے اٹھایا جائے پھر بھی میں ایسا نہیں کروں گا، اس نے کہا: میں مرنے کے بعد اٹھایا جاؤں گا؟ خباب نے کہا: ہاں، اس نے کہا: جب تو وہاں میرے لیے مال و اولاد ہوں گے پھر میں تجھے تیرا مال دے دوں گا۔ الخ” [صحيح البخاري، ج: 3، ص: 92]
مسروق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ وہ کسی مسلمان آدمی کا مال لے، وہ اللہ رب العزت سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا۔” [المعجم الكبير، ج: 10، ص: 157]
مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق روایت کرتے ہیں، جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر مر گیا، نہ اس کے ساتھ دخول کیا اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا، عبداللہ فرماتے ہیں: اس کے لیے مکمل مہر ہوگا، اس پر عدت ہوگی اور اس کے لیے وراثت بھی جاری ہوگی۔ [سنن أبي داود، ج: 2، ص: 237]
مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، لہٰذا ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو چنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو ہمارے حق میں کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [صحيح البخاري، ج: 7، ص: 43]
مسروق اور عمرو بن عتبہ نے سبیعہ بنت حارث کے پاس ان کے معاملے کی دریافت کے لیے خط لکھا، حضرت سبیعہ نے ان دونوں کے پاس لکھا کہ انہیں شوہر کی وفات کے پچیس دن کے بعد ولادت ہوئی پھر وہ شادی کے لیے تیار ہو گئیں۔ ابو سنابل بن بعکک کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے کہا تو نے جلدی کر دی آخری والی یعنی چار مہینہ دس دن والی عدت گزار لو، سبیعہ کہتی ہیں: پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میرے لیے دعا فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس معاملے میں؟ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاملے سے باخبر کیا، آپ نے فرمایا: اگر کوئی مرد ملے تو شادی کر لو۔ [سنن ابن ماجه، ج: 1، ص: 653]
مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی اونٹ، کوئی بکری نہیں چھوڑی اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ [سنن أبي داود، ج: 3، ص: 112]
مسروق نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود حقیقی بہنوں سے کہا کرتے تھے کہ حقیقی بھائی، بہن اور علاقی بہنوں کا ثلثان (دو تہائی حصہ) ہے باقی سارا مال مذکر کے لیے ہے، مؤنث کے لیے نہیں، جب مسروق مدینہ آئے اور اس بارے میں زید بن ثابت کا فرمان سنا تو انہیں اچھا لگا، پھر مسروق کے بعض ساتھیوں نے کہا: کیا آپ عبداللہ بن مسعود کے قول کو چھوڑ دیں گے؟ مسروق نے کہا: جب میں مدینہ گیا تو میں نے زید بن ثابت کو علمائے راسخین میں پایا۔ [سنن سعيد بن منصور، ج: 1، ص: 56، الدار السلفية، الهند، 1982م]
یہ چند فقہی مرویات بطور تائید و نمونہ رقم کی گئی ہیں، جن سے ہر اہلِ علم پر یہ بات آفتابِ نیم روز کی مانند روشن و عیاں ہو گئی ہوگی کہ مسروق کی علمی گہرائی اور فقہیانہ بصیرت کس قدر بلند و بالا ہے۔ اور اگر آپ تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ حضرت مسروق سے صحاح ستہ کے علاوہ بھی کتبِ حدیث میں بہت ساری روایتیں موجود ہیں، جو ان کی علمی اور فقہی عظمت و شوکت کے آئینہ دار ہیں۔
اللہ رب العزت نے حضرت مسروق کو مقامِ اجتہاد سے بھی سرفراز فرمایا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی جانب سے کچھ ایسے تفردات معرضِ وجود میں آئے ہیں، جن میں وہ جمہورِ امت سے بہت دور اور الگ نظر آتے ہیں۔ اب ذیل میں حضرت مسروق بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے وہی اقوال نقل کیے جا رہے ہیں:
حضرت مسروق نصف النہار میں بھی نماز پڑھا کرتے تھے، پوچھا گیا: اس وقت نماز پڑھنا تو مکروہ ہے؟ مسروق نے کہا: کیوں؟ لوگوں نے عرض کی کہ اس وقت جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، مسروق نے کہا: جب تو نماز کے ذریعے اللہ رب العزت کی پناہ مانگنا جہنم کے دروازوں کے کھلنے کے وقت زیادہ اچھا ہے۔ [عمدة القاري، ج: 5، ص: 83، دار إحياء التراث العربي، بيروت]
جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے “أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ أَوْ هَذَا عَلَيَّ حَرَامٌ” جیسے الفاظ کہے تو ایسی صورت میں علامہ بدر الدین عینی حنفی نے قاضی عیاض کے حوالے سے کل چودہ مذاہب بیان کیے ہیں، جن میں کسی نے طلاقِ رجعی کی بات کہی، کسی نے طلاقِ مغلظہ کی بات کہی اور کسی نے کفارہ کی بات کہی ہے، لیکن حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرد اپنے اوپر کھانا اور پانی حرام کر دیتا ہے تو ایسی صورت میں کچھ واجب نہیں ہوتا، اسی طرح ایسا جملہ کہنے سے بھی کچھ واقع نہیں ہوگا اور یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ [عمدة القاري، ج: 19، ص: 248]
ربیبہ کی ماں کی جانب دیکھنے کے سلسلے میں امام مالک فرماتے ہیں: جب مرد اس کے بال یا سینے یا کسی دوسرے حسن کی طرف شہوت کے ساتھ دیکھے گا تو مرد پر ماں اور بیٹی دونوں حرام ہو جائیں گی۔ اہلِ کوفہ کہتے ہیں: اگر کسی نے عورت کے فرج کو شہوت کے ساتھ دیکھا تو یہ شہوت کے ساتھ چھونے کے مانند ہے، لہٰذا حرمت ثابت ہوگی۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: محض چھونے سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ لیکن حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ محض دیکھنے ہی سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ [عمدة القاري، ج: 20، ص: 104]
قاضی کے قضا پر اجرت لینے کے سلسلے میں جمہور کہتے ہیں کہ اجرت لینا جائز ہے۔ لیکن حضرت مسروق اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ [عمدة القاري، ج: 24، ص: 242]
یہ حضرت مسروق کے چند تفردات ہیں، جن سے ان کی اجتہادی شان اور جلالتِ علمی کا پتہ چلتا ہے۔ آپ معیارِ علم کی کس بلندی پر فائز تھے، اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ عامر شعبی، ابو اسحاق سبیعی، شفیق بن سلمہ، مکحول شامی، ابراہیم نخعی، ابو الاحوص، اور ابو الشعثاء محاربی جیسے صاحبانِ فضل و کمال آپ کی درسگاہ کے فیض یافتہ اور خوشہ چیں تھے جن کی جلالتِ علمی عظمت و برتری اور تفقہ فی الدین پر عمائدینِ امت کا اتفاق ہے۔
