| عنوان: | افتخار العلماء، الفلکی الکبیر علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمر الزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
یہ تحریر خواجہ علم و فن علیہ الرحمہ کی وفات کے موقع پر مفکر اسلام علامہ قمر الزماں اعظمی کے قلم سے معرض وجود میں آئی تھی جسے حضرت علامہ نظام الدین مصباحی انگلینڈ نے حضرت خواجہ علم و فن کے پانچویں عرس کے موقع پر اشاعت کے لیے ادارہ کو ارسال کیا ہے۔ ہم موصوف کے شکریہ کے ساتھ اسے قارئین کے لیے شائع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
۲۰ اکتوبر ۲۰۱۱۲ء کی صبح کو نماز فجر کے بعد حسب معمول بستر پر دراز ہو کر امام الطائفہ سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ عنه کی حیات طیبہ سے متعلق خان عطاف کا ایک مضمون پڑھ رہا تھا، آنکھ لگ گئی تو خواب میں مرشد کریم حضور سیدی مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی زیارت ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ کسی گاؤں میں حضرت کا انتظار ہو رہا ہے۔ میں بہت سے لوگوں کے ساتھ اس گھر کے دروازے پر کھڑا ہوں کہ سرکار مفتی اعظم تشریف لائے۔ حضرت بہت صحت مند نظر آ رہے تھے۔ میں انہیں ایک دالان نما کمرے میں لے گیا، جہاں دو چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک پر حضرت لیٹ گئے اور میں نے ان کے پائے مبارک کو دبانا شروع کیا، جبکہ اس اثنا میں سوچتا رہا کہ آخر دوسری چارپائی کس کے لیے ہے، جبکہ اس پر بستر لگا ہوا ہے؟ میں نے سوچا کہ شاید کوئی اور بزرگ تشریف لانے والے ہیں۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بیڈ ٹیبل پر رکھا ٹیلی فون بجا اور میں بیدار ہو گیا۔ میں نے فون اٹھایا تو اسکاٹ لینڈ سے مولانا فروغ القادری انتہائی نحیف آواز میں مجھ سے مخاطب تھے۔ انھوں نے اندوہناک اطلاع دی کہ حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب کا انتقال ہو گیا۔ کلمہ استرجاع پڑھنے کے بعد میں نے وصال کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو شدت غم کی وجہ سے زیادہ گفتگو نہ ہو سکیbox۔
میں نے حضرت خواجہ علیہ الرحمہ کے وصال کی اطلاع انگلینڈ میں قیام پذیر دوسرے علما کو دی۔ حضرت خواجہ مظفر حسین صاحب بیمار تو بہت دنوں سے تھے مگر ان کا انتقال اس قدر اچانک ہوگا، یہ اندازہ کسی کو نہ تھا۔ میں نے ان کے انتہائی قابل قدر شاگرد مفتی مطیع الرحمن کو فون کر کے تعزیت کرنی چاہی تو وہ بھی شدت غم میں زیادہ کچھ نہ بتا سکے۔ صرف اتنا فرمایا کہ وصال سے کچھ پہلے میری ان سے گفتگو ہوئی تھی، وہ بالکل ٹھیک تھے، لوگوں نے بتایا کہ ان کے سینے میں تھوڑا سا درد ہوا، اور وہ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ جامعہ روناہی کے ناظم اعلیٰ قاری جلال الدین صاحب اور مفتی خواجہ صاحب ناظم تعلیمات جامعہ نیز قاری رئیس صاحب استاذ دار العلوم نور الحق چہرہ سے گفتگو ہوئی، انھوں نے کچھ تفصیلات بتائیں۔ افسوس اب امام علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین رحمۃ اللہ علیہ ہم میں نہیں رہے۔
خلیفۂ اعلیٰ حضرت سے اکتساب علم و فضل
انھوں نے ریاضی، فلکیات، ہیئت وغیرہ علوم ملک العلماء حضرت مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے تھے۔ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ کو دیوبند کے سب سے بڑے عالم و مفتی شفیع نے ریاضی کے عالمی شہرت یافتہ، بانی تحریک خاکساران، علامہ عنایت اللہ مشرقی سے ہزار درجہ بڑا ریاضی داں قرار دیا اور عنایت اللہ مشرقی کے مقابلے میں ملک العلماء کی مہارت کو ترجیح دی۔ اب نہ ملک العلماء جیسا استاد ہوگا اور نہ ہی خواجہ مظفر حسین جیسا شاگرد۔ البتہ وہ علماء جنہوں نے ان سے علوم فلکیہ، ریاضی اور فقہ کی تحصیل کی، جیسے مولانا مفتی مطیع الرحمن صاحب مظفر پوری، مولانا شہید عالم اور بدایوں شریف کے صدیوں کے دامن پر محیط علمی اور فکری ورثے کو امت مسلمہ تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھانے والے علامہ اسید الحق و غیرہم سے امید ہے کہ وہ خواجہ علیہ الرحمہ کے علم و فن کو آنے والی علماء کی نسل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ (مولانا اسید الحق اب حیات نہیں رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب ایک باکمال اور عبقری مدرس تھے۔ انھوں نے ہندوستان کی مختلف درسگاہوں میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ جس درسگاہ میں مسند تدریس پر فائز ہوئے، ذہین اور علم کی پیاس بجھانے والے عالم وہاں پہنچ جاتے اور ان سے فیضیاب ہوتے۔ وہ ابر بارندہ کی طرح مختلف درسگاہوں میں طالبان علوم نبویہ کی پیاس بجھاتے رہے، تشنہ دلوں کو سیراب کرتے رہے، ان کا انداز تدریس منفرد تھا۔ وہ تلامذہ کو تحقیق اور ریسرچ کی طرف مائل کرتے، تاکہ وہ شخصیت پسندی اور سہل انگاری کی بجائے غور و فکر اور تحقیق و ریسرچ کی عادت ڈالیں اور سطور و عبارات کے ظاهری مفاہیم، ان کے عمق و گہرائی اور ہمہ جہت گیرائی کا جائزہ لیں۔ صرف معلومات کو جمع نہ کریں، بلکہ معلومات کی صحت اور علم کے باب میں قلم کی پختگی حاصل کریں۔
حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ کا تقویٰ، ان کی اخلاقی اور روحانی قدریں ان کے مرشد گرامی حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے فیضان نظر کا نتیجہ تھیں۔ اسی لیے وہ اپنے مرشد کریم کا تذکرہ انتہائی والہانہ انداز میں کیا کرتے تھے۔ مظہر اسلام اور منظر اسلام کے زمانہ تدریس کو اپنی تدریسی زندگی کا حاصل تصور کیا کرتے تھے۔ سرکار مفتی اعظم کے تقویٰ، پرہیزگاری، ان کے علم و عرفان، ان کے فیوض و برکات کا تذکرہ کرتے کہ سامعین خود کو بارگاہ مفتی اعظم میں موجود محسوس کرتے تھے۔ کاش ان کے شاگردوں نے سرکار مفتی اعظم کے حوالے سے ان کے ملفوظات کو جمع کیا ہوتا تو یقیناً ان کی حیات طیبہ کے بہت سے گوشے لوگوں کے سامنے جلوہ گر ہوتے۔
اپنے ایک مضمون میں وہ اپنے مرشد گرامی کا تذکرہ اس طرح فرماتے ہیں کہ ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر جملہ سیدی مفتی اعظم کی عظمت کا آئینہ دار، اور ان کی بلند شخصیت کے مختلف گوشوں کی حسین توضیح و تعبیر معلوم ہوتا ہے۔ ان کی تحریر کے صرف دو پیراگراف ملاحظہ فرمائیں:
“اور پھر جب ذکر، فکر و صبر و شکر، عشق و عرفان، ضبط و تحمل، ایثار و توکل، تسلیم و رضا، خدمت و اطاعت، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، احتیاط اور صدق و صفا آپ کی زینت کا حاصل بن گیا تو آپ کو محبوبیت کے مقام پر فائز کر دیا گیا۔ دنیا کے متعدد علماء اور ذی وجاہت مشائخ کرام آپ کے گرد پروانہ وار جمع ہونے لگے۔ آنکھیں تھیں جو آپ کے دیدار سے سیر نہیں ہو پاتی تھیں، قلوب تھے جو آپ کی عقیدت سے آشنا نہیں ہو پاتے، زائرین کا یہ حال ہوتا کہ اے جلوۂ جاناں نہ دل دیتا ہوں نذرانہ کہہ کر قدموں سے لپٹ جاتے۔”
“خیالوں کی دنیا میں آؤ اور سوچو کہ وہ منظر کتنا دیدہ زیب اور نظر نواز ہوگا جو کسی رشد و ہدایت کا، شمع و آگہی کا پیکر بن کر پھولوں کی مالاؤں سے سج دھج کر ابو حنیفہ کا علم، عراق کا تصوف، بایزید کا کردار، جنیدی کی گفتار لوگوں میں بانٹ رہی ہوگی۔ علماء، صلحاء، مشائخ، اساتذہ، طلبہ اور عوام اپنی بساط بھر لوٹ رہے ہوں گے۔”
تدریس کے علاوہ خواجہ مظفر حسین نے کئی مقالات اور تحقیقی مقالات تحریر فرمائے ہیں، جن میں کچھ مقالات کو ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی نے “تحقیقاتِ امامِ علم و فن” کے نام سے جمع کیا ہے۔
پیغام شریعت اکتوبر ۲۰۱۷
