Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دعا کی طاقت (قسط: دوم)مہتاب پیامی

دعا کی طاقت (قسط: دوم)
عنوان: دعا کی طاقت (قسط: دوم)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: زرین امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

دعا کی طاقت (قسط: دوم)

اس طرح کی دیگر متعدد آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا بندگی کی بنیاد اور اس کی روح ہے۔ دعا اپنے رب کے سامنے عاجزی، فروتنی اور ٹوٹ کر بکھرنے کا نام ہے، اسی لیے قرآنِ کریم میں کثیر مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تاکید فرمائی ہے اور ترغیب دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ۞ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ۔ [سورۃ الاعراف: 55-56]

“اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو، یقیناً وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اور اس (اللہ) کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو، یقیناً اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔”

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا کی ترغیب دیتے ہوئے یہ خبر دی کہ وہ ان کے بہت قریب ہے، ان کی دعا قبول کرتا ہے، ان کی امیدیں پوری کرتا ہے اور جو وہ مانگتے ہیں، عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ ماقبل میں آیتِ کریمہ گزری:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔ [سورۃ البقرة: 186]

“اور (اے محبوب!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ کہہ دیجیے کہ) یقیناً میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہیے کہ وہ میرے حکم کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔”

ایک مقام پر سوالیہ انداز میں ارشاد فرمایا:

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ۔ [سورۃ النمل: 62]

“بھلا وہ کون ہے جو بے قرار کی فریاد سنتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟”

معلوم ہوا کہ بندے کی اللہ کے بارے میں معرفت جتنی زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ تعلق جتنا مضبوط ہوتا ہے، اس کی دعا اتنی ہی عظیم ہوتی ہے اور اللہ کے حضور اس کی عاجزی و انکساری اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انبیاءِ کرام اور رسولانِ عظام تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر دعا کا حق ادا کرنے والے تھے اور اپنے تمام حالات اور معاملات میں اس کا اہتمام کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کی اس صفت کی تعریف بیان فرمائی اور مختلف حالات اور متنوع مواقع پر کی گئی ان کی دعاؤں کا ذکر بھی فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی عظمتِ شان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ۔ [سورۃ الانبياء: 90]

“بے شک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق اور خوف سے پکارتے تھے، اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔”

رمضان المبارک ہی میں غزوۂ بدر پیش آیا۔ اس موقع پر محبوبِ رب العالمین، رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ رب العزت میں دعا کی:

اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ۔ [مسلم شریف]

“اے اللہ! جو وعدہ تو نے مجھ سے فرمایا ہے، اسے میرے حق میں پورا فرما۔ اے اللہ! جو چیز تو نے مجھ سے وعدہ کی ہے، وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔”

لہٰذا اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اس عبادت (دعا) کا خاص اہتمام کریں اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوں، اور دعا کے شرائط و آداب کا خیال رکھتے ہوئے، امید اور خوف کے ساتھ خوب گڑگڑا کر رب تعالیٰ سے طلب کریں اور امید رکھیں کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک ان کا شمار ثواب پانے والوں اور جہنم سے نجات پانے والوں میں ہو گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس ماہِ مقدس کی برکتوں کے طفیل بہت سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور یہ سلسلہ رمضان کی ہر رات جاری رہتا ہے۔

آج بھارت کے موجودہ حالات میں مسلمانوں، خاص طور پر دینی مدارس اور مساجد کو جن کٹھن آزمائشوں کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ کہیں اوقاف کی املاک کا تحفظ ایک مسئلہ بنا ہوا ہے تو کہیں مدارس کے نصاب اور وجود پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئے دن نت نئی قانون سازی اور انتظامیہ کے رویوں نے پوری قوم کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟

اسلام ایک متوازن دین ہے، جو نہ تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی اسباب و ذرائع سے کٹ کر صرف غیبی مدد کے انتظار کا درس دیتا ہے۔ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں “تدبیر” اور “توکل” دونوں بازوؤں کو استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو “دارالاسباب” بنایا ہے۔ جب ہم پر کوئی مشکل آتی ہے تو ہمارے لیے حکم ہے کہ ہم اس کے دفاع کے لیے تمام جائز دنیوی وسائل بروئے کار لائیں۔ یہ دور محض جذباتی نعرہ بازی کا نہیں، قانونی جنگ کا ہے۔ مدارس اور مساجد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہم ملکی آئین اور قانون کا گہرا شعور رکھیں، کچہریوں میں اپنے مقدمات کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کریں، کاغذات درست رکھیں اور قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کریں۔ یہ سب “تدبیر” کے زمرے میں ہیں اور بہترین تدبیر اختیار کرنے کا ہمارے لیے واضح حکم موجود ہے۔ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ اُحد میں دو زرہیں پہنی تھیں اور ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں قیام فرمایا تھا۔ یہ واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ احتیاطی تدابیر اور اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ توکل کا عین تقاضا ہے۔

لیکن! اور یہ ایک بہت بڑا “لیکن” ہے۔ اگر ہم صرف وکیلوں، عدالتوں، سیاسی لیڈروں اور اپنی عقل و دانش پر بھروسا کر بیٹھیں اور “مسبب الاسباب” سے ہمارا تعلق کمزور پڑ جائے، تو ناکامی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں، جہاں ظاہری اسباب بظاہر ہمارے خلاف نظر آ رہے ہیں، وہاں “دعا” ہی وہ ہتھیار ہے جو تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بے شک قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کامیابی کو اپنی نصرت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ حدیثِ شریف میں ہے کہ مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ آج اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، تو ہمیں اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑانا ہو گا، نہ کہ مایوس ہو کر بیٹھ جانا ہو گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے حسنِ تدبیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا، تو نصرتِ الٰہی سے کمزور وسائل کے باوجود انہیں ہر محاذ پر فتح مندی اور سرخروئی حاصل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں مسلمان تعداد اور اسلحے میں کم تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعا فرمائی اور رب العالمین نے حضور کی حمایت میں فرشتوں کی فوج زمین پر اتار دی۔

آج مدارس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، تو یقین جانو کہ ان سازشوں کے تار و پود بکھیرنے والی ذات صرف اللہ جل شانہ کی ذات ہے۔ بادشاہوں اور حکمرانوں کے دل تو اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہیں، وہ جب چاہے انہیں پھیر دے۔ ہم عدالتوں میں بحث تو کر سکتے ہیں، لیکن انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے جج کے دل میں رحم اور انصاف کے بیج بونا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ ہم بہترین قانون داں حضرات کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، مگر ان کے دلائل کو مؤثر بنانا تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر منحصر ہے۔

مدارس کے اربابِ حل و عقد، علماء، اساتذہ اور تمام مسلمانوں کو آج “قیامِ لیل” (راتوں کی عبادت) اور “قیامِ حق” (حق کے لیے سینہ سپر ہونا) دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ دن کے اجالے میں ہم بہترین شہری ہونے کا ثبوت دیں، اپنے اداروں کے کاغذات درست کریں، عدالتوں میں بہترین قانونی جنگ لڑیں، اور جمہوری طریقے سے اپنا دفاع کریں۔ لیکن جب رات کا اندھیرا چھا جائے، تو ہمارے مصلے بچھ جائیں اور ہم اپنے رب کے حضور اپنی بے بسی کا یوں اظہار کریں:

“اے پروردگارِ عالم! ہم نے وہ سب کچھ کر لیا جو ہمارے بس میں تھا، ہمارے وکیلوں نے بحث کر لی، ہماری تنظیموں نے کوشش کر لی، لیکن نتیجہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ اے اللہ! ہمارے مدارس تیرے دین کے قلعے ہیں، ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ظالم کی تدبیر کو اسی پر لوٹا دے۔”

“اے اللہ! ہم تیرے کمزور اور ناتواں بندے ہیں۔ نہ ہماری عقل کامل ہے، نہ عمل پورا، نہ نیتوں میں خلوص۔ ہم سے قدم قدم پر غلطیاں ہوتی ہیں۔ یارب! ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اور شرمندہ دل کے ساتھ تیرے حضور جھکتے ہیں۔ ہمارے دلوں کی سختی کو نرمی میں تبدیل فرما، ہماری آنکھوں کو اپنی بارگاہ میں قبول ہونے والے آنسو عطا فرما، ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے، ہمیں اتنا حوصلہ دے کہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں اور تیری رضا کے راستے پر چل سکیں۔”

“اے اللہ! آج کے ان حالات میں، جب دل بے چین ہیں، رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں، سچ دب رہا ہے اور ظلم کھل کر سامنے آ رہا ہے، تو ہی ہمارا سہارا ہے۔ ہمیں حق کو پہچاننے کی سمجھ عطا فرما، باطل کے فریب سے بچا، ہمارے دلوں میں صبر، برداشت اور ایک دوسرے کے لیے رحم پیدا فرما۔ جو مظلوم ہیں، ان کی مدد فرما؛ جو پریشان ہیں، ان کے لیے آسانیاں پیدا کر، اور ہمیں ایسا انسان بنا دے جو نفرت نہیں بلکہ خیر بانٹے۔”

یاد رکھیے! جو قوم اسباب کے ساتھ مصلے پر بھی زندہ رہتی ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ آج ہمیں مایوسی کے بجائے رجوع الی اللہ اور دانشمندانہ قانونی جدوجہد کا راستہ اپنانا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس، مساجد اور ہماری نسلوں کے ایمان و جان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ماہ نامہ اشرفیہ (اداریہ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!