Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط: دوم) | مفتی فیضان المصطفیٰ قادری

امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور اکابر امت کا دفاع (قسط: دوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: ثمینہ پروین قادریہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

(7) زکوٰۃ واجب ہو جانے کے بعد ادا نہ کرنے کا حیلہ بالاجماع حرام قطعی ہے، لیکن یہاں معاملہ قبلِ وجوب ہے یعنی ایسی تدبیر کرنی کہ ابتداءً زکوٰۃ واجب ہی نہ ہو۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس میں کون سے حکمِ خدا کی نافرمانی ہوئی، اللہ عزوجل نے سال پورے ہونے پر زکوٰۃ فرض کی اس کے بعد جو ادا نہ کرے وہ گنہ گار ہے، یہ کہاں فرض کیا کہ اپنے مال پر سال گزر بھی جانے دو، ہرگز واجب بلکہ مستحب بھی نہیں کہ قدرِ نصاب مال جمع کر کے رکھ چھوڑو تاکہ زکوٰۃ واجب ہو، اور حق یہ ہے کہ امام ابو یوسف کا یہ قول بھی اس لیے نہیں کہ لوگ اسے دستاویز بنا کر زکوٰۃ سے بچیں، بلکہ وہ بوقتِ ضرورت و حاجت پر محمول ہے، مثلاً کسی پر حج فرض ہو گیا تھا لیکن اس کا مال چوری ہو گیا، حج اور گھر کے اخراجات کے لیے ایک ہزار درہم کی ضرورت ہے، محنت سے جمع کیے، سفرِ حج کا وقت آچکا ہے، اور اگلے روز زکوٰۃ کا سال پورا ہونے والا ہے، اگر پچیس درہم نکل جائیں گے تو اخراجات میں کمی پڑے گی ان حالات میں ایسا حیلہ کرے کہ حجِ فرض سے محروم نہ رہے۔

یا کوئی شخص اپنے حال کو جانتا ہے کہ زکوٰۃ اس سے ہرگز ہرگز نہ دی جائے گی اس کا نفس ایسا غالب ہے کہ کسی طرح اس فرض پر اصلاً قدرت نہ دے گا یہ اس خیال سے ایسا کرے کہ بعدِ فرضیت ارتکابِ گناہ سے بچ جائے تو یہ ایسا ہی ہے کہ جو دو بلاؤں میں مبتلا ہو رہا ہو وہ ہلکی اختیار کرلے۔ تو ایسا حیلہ گناہ سے بچنے کے لیے ہے نہ کہ گناہ میں پڑنے کے لیے۔ خود قرآن و حدیث سے اس حیلہ شرعیہ کا جواز ثابت ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی سو کوڑے مارنے کی قسم، پھر سو تنکوں کی ایک جھاڑو سے قسم! جھاڑو سے قسم پوری کرنے کی ترکیب، پھر اسی ترکیب پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل جب ایک کمزور شخص پر حد لگانی پڑی، اور صحیحین کی روایت کہ خیبر کی کھجوروں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کہ کیسے کم کھجوریں بیچ کر زیادہ کھجوریں لی جائیں۔ یہ شرعی حیلے نہیں تو اور کیا ہیں؟ جب اللہ و رسول اجازت دیں اور تعلیم فرمائیں تو امام ابو یوسف پر کیا الزام آ سکتا ہے؟

ہاں ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رضی اللہ عنہم نے یہ خیال فرمایا کہ کہیں اس کی تجویز عوام کے لیے غلط مقصد کا دروازہ نہ کھولے، لہٰذا ممانعت فرمادی اور ائمہ فتویٰ نے اس منع پر ہی فتویٰ دیا، امام بخاری بھی اگر امام محمد کا ساتھ دیں اور امام ابو یوسف کا قول پسند نہ کریں تو امام ابو یوسف کی شانِ جلیل کو کیا نقصان؟ وہ کون سا مجتہد ہے جس کے بعض اقوال دوسرے ائمہ کو پسند نہ ہوئے، یہ رد و قبول تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے بلا نکیر رائج و معمول ہے، نہ امام بخاری کے مذکورہ اقوال میں کوئی کلمہ نفرت ہے، اور ہو بھی تو ان کی نفرت امام مجتہد کو کیا نقصان دے سکتی ہے، امام بخاری، امام احمد بن حنبل کے شاگرد ہیں، امام احمد بن حنبل، امام شافعی کے شاگرد ہیں، وہ امام محمد کے، وہ امام ابو یوسف کے، وہ امام ابو حنیفہ کے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اللہ عزوجل نے انہیں (امام بخاری کو) خدمتِ الفاظِ کریمہ کے لیے بنایا تھا، خدمتِ معانی ائمہ مجتہدین خصوصاً امام الائمہ ابو حنیفہ کا حصہ تھا۔ محدث و مجتہد کی نسبت عطار و طبیب کی مثل ہے۔ عطار دوا شناس ہے اس کی دوکان عمدہ عمدہ دواؤں سے مالا مال ہے، مگر تشخیصِ مرض و معرفتِ علاج و طریقِ استعمال طبیب کا کام ہے، عطار کامل اگر طبیبِ حاذق کے مدارکِ عالیہ تک نہ پہنچے، معذور ہے۔

کاش سیدنا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری اگر فرصت پاتے اور زیادہ نہیں دس بارہ ہی برس امام حفص کبیر بخاری وغیرہ ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ سے فقہ حاصل فرماتے تو امام ابو حنیفہ کے اقوالِ شریفہ کی جلالتِ شان و عظمتِ مکان سے آگاہ ہو جاتے، امام ابو جعفر طحاوی حنفی کی طرح ائمہ محدثین و ائمہ فقہا دونوں کے شمار میں یکساں آتے، مگر تقسیمِ ازل جو حصہ دے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 4، ص: 447-448، ملتقطاً]

اعلیٰ حضرت کے وہ کلمات جو آپ نے اس رسالے کے اختتام پر لکھے ہیں وہ احترامِ اکابر میں نسخہ کیمیا ہیں، انہیں من وعن نقل کرنا چاہتا ہوں، تاکہ اہلِ شوق دیکھیں اور اسی کو اپنا مذہب و مسلک و مشرب بنائیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

“بالجملہ ہم اہلِ حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضور پرنور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور پرنور امیر المومنین مولیٰ المسلمین سیدنا و مولانا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الاسنی سے، کہ فرقِ مراتب بے شمار، اور حق بدستِ حیدرِ کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن ان پر بھی کارِ فجار، جو معاویہ کی حمایت میں عِيَاذًا بِاللّٰهِ اسد اللہ کے سبقت و اولیت و افضلیت و اکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و خدمت و نسبتِ بارگاہِ حضرتِ رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی۔ یہی روش بحمد اللہ تعالیٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے، یہی نسبت ہمارے نزدیک امام ابن الجوزی کو حضور سیدنا غوثِ اعظم، اور مولانا علی قاری کو حضرت خاتمِ ولایتِ محمدیہ شیخ اکبر سے ہے، نہ ہم بخاری و ابن جوزی و ملا قاری کے اعتراضوں سے شانِ رفیع امام اعظم و غوث اعظم و شیخ اکبر رضی اللہ عنہم پر کچھ اثر سمجھیں، نہ ان حضرات سے کہ بوجہ خطاء فی الفہم معترض ہوئے الجھیں، ہم جانتے ہیں کہ ان کا منشاِ اعتراض بھی نفسانیت نہ تھا، بلکہ ان اکابر محبوبانِ خدا کے مدارکِ عالیہ تک دستِ ادراک نہ پہنچنا و بس، لاجرم اعتراض باطل اور معترض معذور اور معترض علیہم کی شان ارفع واقدس:”

وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [فتاوی رضویہ، ج: 4، ص: 449]

ہم نے مذکورہ رسالہ سے کچھ باتیں اخذ کر کے پیش کی ہیں، باقی پورا رسالہ بار بار مطالعہ کرنے کے لائق ہے۔ آخر میں حاصلِ مطالعہ کے طور پر چند نکات پر غور کرنا چاہیے:

  1. یہاں دو باتیں ہیں، ایک یہ کہ امام ابو یوسف وجوبِ زکوٰۃ کے معاملہ میں حیلہ شرعیہ کے جواز کے قائل تھے، دوسرے یہ کہ آپ اس پر عامل بھی تھے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے جواب کی تفصیلات کی بنیاد پہلے امر کو بنایا ہے کہ یہ آپ کا قول ہے، وہ بھی حسبِ ضرورت، ورنہ مکروہ و ممنوع قرار دیتے ہیں۔ رہا دوسرا امر کہ وہ ایسا کرتے تھے، اعلیٰ حضرت نے اس کا رد کیا ہے، کہ یہ بے سر و پا اور بے بنیاد حکایت ہے۔

  2. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ پر مذکورہ طعن کا جواب چند جملوں میں بھی دے سکتے تھے، لیکن اس سلسلے میں اتنا تفصیلی کلام اس بات کا غماز ہے کہ آپ کے نزدیک اکابر کی حرمتیں اس لیے نہیں ہوتیں کہ سنی سنائی باتوں کی بنا پر ان سے کھلواڑ کیا جائے۔

  3. جب یہ سوال اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں آیا جس میں کوئی شرعی مسئلہ نہیں پوچھا گیا تھا، بلکہ ایک واقعہ کی توضیح مانگی گئی تھی جو مفتی کا منصب نہیں، تو ایسا بھی ہو سکتا تھا اس سوال کو نظر انداز کر دیا جاتا، یا یوں کہ اعتراض تو امام ابو یوسف پر ہوا، اس سے ہمارا کیا بگڑتا ہے جو ہم اس جنجال میں پڑیں اور جواب دینے کا بوجھ اٹھائیں نہیں، بلکہ امام احمد رضا قدس سرہ نے امام ابو یوسف پر لگائے گئے الزام کا تفصیلی جواب دے کر یہ مزاج دیا ہے کہ اکابر کی حرمتیں پامال کرنے کا مزاج پروان چڑھتا رہا تو پھر کسی کی عزت سلامت نہ رہے گی، اس لیے اکابر کے دفاع میں بھر پور علمی و فکری توانائیاں صرف کی جانی چاہئیں۔

  4. سوال میں یہ بھی تھا کہ امام بخاری نے ایسا بہت نفرت سے لکھا ہے، اس پر کوئی ناخواندہ حنفی جذبات کی رو میں آکر امام بخاری کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کر سکتا ہے، لیکن اعلیٰ حضرت نے اس شان سے امام ابو یوسف کا دفاع کیا کہ امام بخاری کی شان پر کوئی حرف نہیں آتا، بلکہ ان کے احترام کا بھی داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس حساس موضوع پر کلام کرتے ہوئے “کاش سیدنا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری” جیسے الفاظ اعلیٰ حضرت ہی کی تحریروں میں ملیں گے۔ [پیغام شریعت دہلی، دسمبر 2017، ص: 19-23]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!