| عنوان: | اہل سنت کی شیرازہ بندی — مسائل اور امکانات |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
آج جب ہم اہل سنت کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان میں بنیادی فکری و اعتقادی اتحاد کے باوجود عالمی یا ملکی یا صوبائی یا ضلعی سطح پر عملاً کوئی باضابطہ ارتباط نظر نہیں آتا۔ یوں اپنی نجی ضروریات اور وقتی کاموں کے لیے لوگ آپس میں رابطہ ضرور رکھتے ہیں مگر جماعتی و اجتماعی انداز میں کوئی باقاعدہ تنظیم کسی میدان میں نہیں۔ نہ کوئی دعوتی و اصلاحی مرکز ہے جس پر سب متفق ہوں، نہ کوئی روحانی قیادت ہے جو سب کا مرجع اور سب پر اثر انداز ہو، نہ کوئی تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے جس میں سب کے لیے کشش ہو اور جس کی پیشوائی سب کو قبول ہو، نہ کوئی علمی تحقیقی تصنیفی انجمن ہے جسے قبول عام حاصل ہو، نہ دوسرے سماجی رفاہی قومی میدانوں میں کام کی کوئی اجتماعی ہیئت ہے جو قابل ذکر ہو۔ اور سیاسی میدان تو بالکل خالی ہے، اس میں نہ ہماری کوئی نمائندگی ہے، نہ قومی و ملکی سطح پر ہمارا کوئی نام و نشان۔ یہ پورا وسیع و عریض میدان غیروں کے لیے محفوظ ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ انفرادی طور پر جماعت میں بہت سارا کام ہو رہا ہے اور اسی کی بدولت جماعت کا کارواں کسی طرح رواں دواں ہے لیکن اجتماعیت اور تنظیم کی شان ہی الگ ہے اور اس کے ثمرات و برکات ہمہ گیر اور پائیدار ہیں۔
مسائل
اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت و جماعت جن کا وجود عہد رسالت سے آج تک پورے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، یہی ہمیشہ بیرونی و اندرونی سازشوں کا نشانہ بنے۔ خارجی طاقتوں کا نشانہ بھی یہی رہے اور داخلی فتنوں کا شکار بھی یہی ہوئے۔ خلافت راشدہ کے دورِ اخیر میں خوارج کا گروہ ہمارے ہی درمیان سے نکلا اور خود مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہوا، اس کے بعد بھی ہر دور میں ایک تسلسل کے ساتھ فتنے اٹھتے، فرقے بنتے اور باطل مذاہب بڑھتے رہے۔ اہل سنت کی تعداد گھٹتی رہی، اہل حق کو اکثر ادوار میں بیرونی دشمنوں سے بھی مقابلہ کرنا پڑا اور عوام کو داخلی فتنوں سے بچانے کے لیے بھی سرگرم رہنا پڑا۔ ان کی دردمندی، مخلصانہ سرگرمی اور ہمہ جہت مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے فرقوں کا خاتمہ ہو گیا اور آج ان کی طرف اپنے کو منسوب کرنے والا کوئی نہ رہا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے کچھ خیالات بعد کے نئے فرقوں میں در آئے اور ان کے اثرات آج بھی باقی ہیں مگر قدیم علمائے حق اور ان کے معاونین سے جو کچھ ہو سکتا تھا اس میں انھوں نے کوئی کسر روا نہ رکھی۔
اب اہل سنت پر جن فرقوں کا حملہ زیادہ شدت سے ہو رہا ہے وہ تقریباً دو سو سال پہلے کی پیداوار ہیں، یہ اہل سنت ہی کے درمیان سے نکلے اور ایک نیا مذہب بنا کر اہل سنت کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے اور نئے جال میں پھنسانے کی مہم تیزی سے شروع کر دی۔ اس کے لیے انھوں نے مختلف حربے استعمال کیے:
• کتابیں لکھیں جن میں اہل سنت کے عقائد و معمولات کو شرک و بدعت قرار دیا۔
• اجتماعات اور جلسے کر کے لوگوں کا ذہن مسموم کرنے کی کوشش کی۔
• لوگوں سے مکانوں، دکانوں پر ملاقات کر کے انھیں اپنی طرف مائل کیا۔
• اہل سنت کے درمیان اپنے مکاتب و مدارس قائم کر کے تعلیم و تربیت کے نام پر ہماری نسل کو قریب کیا پھر اسے اپنا ہم عقیدہ اور اپنے مذہب کا داعی و مبلغ بنا دیا، اسی طرح اہل سنت کے درمیان مسجدیں بنائیں یا ان کی مسجدوں پر قبضہ کیا پھر نمازیوں کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیا۔
• اسکول اور کالج قائم کر کے عصری تعلیم کا شوق دلایا پھر طلبہ کے ذہن میں اپنا عقیدہ اور مذہب بھی اتار دیا۔
• کلمہ و نماز کی تبلیغ کے نام پر ایک جماعت قائم کی اور اس کے ذریعے اہل سنت کے بے شمار افراد اور چھوٹی بڑی بہت سی آبادیوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا۔
• ان کے علاوہ تحقیق و تصنیف، سیاسی و سماجی نقل و حرکت اور دوسرے ہر قسم کے ذرائع سے لوگوں کو پہلے اپنا مداح و معتقد پھر اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کی۔
ان حرکتوں سے نقصان صرف اہل سنت کو پہنچا، انھی کی تعداد گھٹی، انھی کے افراد اہل باطل کا نشانہ بنے اور وہی طرح طرح کی سازشوں کا شکار ہوئے۔ اور یہ سلسلہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔
اب اہل سنت کے سامنے دو چیلنج ہیں:
1. اپنے ٹوٹے ہوئے افراد کو پھر جوڑنا۔
2. دیگر افراد کو شکار ہونے سے بچانا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ دشمن کے پاس جتنے اسلحے اور ہتھیار ہیں ان سے زیادہ ہتھیار اور ان سے قوی اسلحے ہمارے پاس ہوں، ان کے اندر جو سرگرمی اور مستعدی ہے اس سے زیادہ ہمارے اندر ہو۔ اس کے لیے باہمی اختلاف و انتشار سے دوری اور تحفظِ عقائد و فروغِ مسلک کے لیے اجتماعیت اور شیرازہ بندی کس قدر ضروری ہے، یہ اہل دانش کے لیے محتاجِ بیان نہیں۔
امکانات
پیشوایانِ اہل سنت اور دردمندانِ ملت اگر دل و جان سے متوجہ ہوں تو اسباب و وسائل کی فراہمی ہمارے لیے بھی ممکن ہے اور ایسا ہو سکتا ہے کہ کام کو مختلف حصوں اور شعبوں میں تقسیم کر کے ہر شعبے کے لیے لائق اور فعال افراد پر مشتمل مجلسیں یا بورڈ بنا دیے جائیں تاکہ کام آسانی سے ہو سکے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ تین چار یا چار پانچ افراد پر مشتمل ایک تھنک ٹینک یا مجلسِ اعلیٰ ہو، جو پوری بالغ نظری کے ساتھ تمام امور کے لیے منصوبہ سازی، مجالس سازی، اصول سازی اور تنفیذ و ترویج کی ذمہ دار ہو۔ اسی طرح مشکلات اور رکاوٹوں پر غور کرنے اور انھیں دور کرنے پر بھی اس کی نظر ہو۔
یہ کام ممکن ہونے کے ساتھ مشکل ضرور ہے۔ وقت اور سرمایے کی بڑی قربانی چاہتا ہے۔ اتنے بڑے ملک میں پھیلے ہوئے اہل سنت کی شیرازہ بندی اور ہر خطے کے لوگوں کو متحرک و فعال بنانا اور شاطرانہ حملوں کے دفاع کے لیے بیدار و تیار رکھنا کوئی ایسا کام نہیں جو چند دنوں یا ہفتوں کی محنت میں انجام پذیر ہو جائے۔ مہینوں بلکہ برسوں کی مدت درکار ہے۔
ہو سکتا ہے کہ پہلے ہر علاقے کا دورہ کر کے وہاں کے حالات اور ضروریات کا جائزہ لیا جائے، قابلِ عمل اور لائقِ اعتماد افراد تلاش کیے جائیں، پھر جہاں مکتب، مسجد، مدرسہ، اسکول، کالج، شفا خانہ وغیرہ قائم کرنے کی ضرورت ہو ان کا قیام عمل میں لایا جائے اور طے شدہ خطوط پر ان کا انتظام معتمد افراد کے سپرد کیا جائے۔ اور جہاں پہلے سے ادارے قائم ہیں انھیں بھی تنظیم سے منسلک کرنے کی کوشش کی جائے اور انھیں زیادہ فعال اور کارآمد بنایا جائے۔ اس طرح ہر جگہ کے حالات سے واقفیت بھی بہم ہوگی اور ہر علاقے کے نمائندے مجلسِ اعلیٰ کے ماتحت مجلسِ منتظمہ یا مجلسِ شوریٰ میں شامل ہوں گے اور برابر ان سے رابطہ رہ سکے گا۔
بہت بڑی مرکزی عمارت اور بہت سے آفسوں اور ورکروں کی بھی ضرورت ہوگی جو ہر علاقے کے حالات جاننے، ان کی رپورٹ پیش کرنے اور عام ضروریات کے لیے اپنے متعلقہ مقامات کا دورہ کرنے کے ذمہ دار ہوں۔
ساری تفصیلات تھنک ٹینک یا مجلسِ اعلیٰ طے کر سکتی ہے۔ اگر ملک گیر پیمانے پر آغاز مشکل ہو تو جس حد تک بآسانی ابتدا ہو سکے اسی حد پر کام شروع کیا جائے۔ اسی طرح جو کام انفرادی طور پر یا کسی مجلس اور بورڈ کی ماتحتی میں ہو رہے ہیں انھی کو تقویت دی جائے اور جو میدان بالکل خالی ہے اس پر خاص توجہ صرف کی جائے۔
سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ پیش قدمی کس طرح سے ہو؟ کہاں سے ہو؟ اور کون کرے؟ بہر حال یہ اقدام ایک یا چند حساس، دردمند، مخلص اور توانا قلب و جگر کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ مگر قوم کے خسارے سے صرفِ نظر کسی طرح روا نہیں۔ اقدام ہونا چاہیے اور ضرور ہونا چاہیے۔ واللہ الموفق والمعین۔
اندیشے
اگر سارے اکابر اور پیشوایانِ قوم اس میں دل چسپی نہیں لیتے تو جو دردمند اور حساس حضرات ہیں وہی پیش قدمی کر کے کام شروع کریں اور آگے بڑھائیں، باقی حضرات سے گزارش کی جائے کہ اگر حمایت اور مشارکت نہیں کر سکتے تو مخالفت اور رکاوٹ سے بھی باز رہیں ورنہ احکم الحاکمین کے حضور اہل سنت کے عظیم خساروں کا حساب دینے کے لیے تیار رہیں۔
اگر جماعت کی اکثریت خصوصاً اہل علم و دانش اور اہل ثروت میں یہ احساس بیدار ہو جاتا ہے کہ ہم مسلسل خساروں سے دوچار ہیں اور تلافی کے لیے میدانِ عمل میں جان و دل، ہوش و خرد، اور زبان و قلم کے ساتھ سرگرم ہونا ضروری ہے تو کام کی راہیں کھل سکتی ہیں ورنہ غفلت و بے حسی کے ماحول میں کامیابی کی توقع فضول ہے۔ مگر میرا اندازہ ہے کہ اکثریت حساس اور بیدار ہونے کے ساتھ کسی پیش قدمی کی منتظر ہے۔ رب تعالیٰ ہمارا حسنِ ظن راست فرمائے اور سب کو حسبِ درجہ و مقام اور حسبِ ہمت و صلاحیت توفیقِ خیر سے نوازے۔ وهو المستعان وعليه التكلان۔

