| عنوان: | انسان کا سب سے محفوظ سرمایہ |
|---|---|
| تحریر: | ابوالابدال محمد رضوان طاہر فریدی |
| پیش کش: | ناصرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مکرمی! علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے، سونے چاندی اور دیگر دھات پر مبنی تیار شدہ زیورات صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہیں لیکن علم ہر انسان کا زیور ہے اور یہی سب سے محفوظ زیور ہے، سب سے محفوظ سرمایہ ہے۔
دنیا کا مال و اسباب چھینا جا سکتا ہے، دولت کو لوٹا جاسکتا ہے، بیگ، سوٹ کیس، بیڈنگ، بکس، صندوق وغیرہ چوری کیا جاسکتا ہے لیکن علم لوٹا نہیں جاسکتا، علم چھینا نہیں جاسکتا، علم چوری نہیں کیا جا سکتا۔
چاہے انسان کسی بھی حالت میں ہو، کسی مکان میں رہائش پذیر ہو یا سفر میں ہو، شہر میں ہو یا دیہات میں ہو، اپنے ملک میں ہو یا بیرون ملک میں ہو، امیر ہو یا غریب، سرمایہ دار ہو یا مزدور، ملازم ہو یا مدیر، اس کے پاس علم ہے تو وہی سب سے محفوظ سرمایہ ہے۔ کسی بھی تعلیم یافتہ انسان کو کوئی دوسرا انسان پریشان کر سکتا ہے، اسے مار سکتا ہے، اس کی ہڈیاں توڑ سکتا ہے لیکن چاہے کہ اس کا علم اس سے چھین لے تو یہ ناممکن ہے۔
علم روشنی ہے اور جہل اندھیرا ہے، علم سے انسان کے اندر حرام و حلال کی تمیز آتی ہے، جائز اور ناجائز کی پہچان ہوتی ہے۔
کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ جن کے پاس علم ہے وہ لوگ بھی ایسے کام کرتے ہیں جو مذہبی اعتبار سے درست نہیں ہوتے تو پھر جہاں یہ بات کہی جاتی ہے کہ علم سے انسان کے اندر حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی پہچان ہوتی ہے تو پھر وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو اس کا صحیح جواب تو یہی ہے کہ علم حاصل کرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہونا بھی ضروری ہے کہ اے اللہ! میرے علم کے ساتھ تو اپنی رحمتیں شامل حال رکھنا، اور کسی بھی تعلیم یافتہ شخص پر اللہ کی رحمتیں شامل حال ہوں گی تو یقیناً اس کا قدم کبھی نہیں بہکے گا کیونکہ جس کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل حال ہوگی تو اس کا اٹھایا ہوا ہر قدم ملک و ملت کے لیے نفع بخش ہو گا اور جو علم حاصل کرنے کے بعد اپنے علم پر گھمنڈ کرے گا تو ایسے شخص کا قدم کبھی بھی بہک سکتا ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے پر یہی بات سامنے آتی ہے کہ اکثر گمراہ وہی لوگ ہوئے ہیں جو تعلیم یافتہ رہے ہیں، علم سے محروم کسی شخص کے گمراہ ہونے کی کبھی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ حال ہی میں بھی بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے جو گمراہ ہوئے ہیں تو وہ تعلیم یافتہ ہی رہے ہیں، اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کچھ لوگ علم حاصل کرنے کے بعد ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ راستہ اندھیرے کی طرف جاتا ہے، اس لیے علم حاصل کرنے کے بعد انہیں اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں ہوتا، وہ اپنی عقل و دماغ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ اگر اللہ کی رحمت ان کے علم کے ساتھ شامل حال ہوتی تو وہ ایسا قدم ہرگز نہیں اٹھاتے اور اندھیروں و گمراہیوں کی طرف جانے والا راستہ کبھی نہیں اختیار کرتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور دماغ کا استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے کہ یہ دل و دماغ، عقل و شعور مجھے جو ملا ہے یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے ہی ملا ہے اور جسے اللہ رب العالمین کی ذات پر بھروسہ ہو گا تو وہ کہیں ناکام نہیں ہو گا بلکہ کامیاب ہو گا۔
علم سرمایہ ہے اور علمِ دین عظیم سرمایہ ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کی بھی تعلیم حاصل کریں اور عصرِ جدید کی بھی تعلیم حاصل کریں۔ اسلام میں حافظ ہونے کا بہت بڑا مرتبہ ہے، وہ والدین بہت خوش نصیب ہیں جن کی گود میں پلنے والے بچوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذمہ داری سونپی ہے، ان کے نام کے ساتھ حافظ لگنا اللہ کے پیارے نام کے ساتھ جڑ جانا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس، آئی پی ایس، ایم بی بی ایس افسر بنانا ضروری ہے تاکہ وہ لوگوں کے کام آسکیں اور ان کے اندر قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو مگر اس سے پہلے انہیں دینی تعلیم دے کر نیک انسان بنانا بھی بے حد ضروری ہے، اس کے بغیر دونوں زندگیاں بے کار ثابت ہو سکتی ہیں۔
مدارس دینیہ کا قیام مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد ہے۔ جہاں تک بات عصری تعلیم کی ہے تو یاد رکھیں کہ عصری تعلیم کی ضرورت بھی ہر دور میں رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی، اسی لیے اب ایسے تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے دینی اور عصری تعلیم کا موثر انتظام ہو۔
علمائے کرام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ شریعت اور سماج دونوں کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں کیونکہ علمائے کرام شریعت کے ساتھ سماج و معاشرہ اور سوسائٹی کے بھی نمائندے ہوتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی مضبوط انتظام ہونا ضروری ہے کیونکہ تعلیم اور تربیت دونوں کا بڑا گہرا لگاؤ ہے۔ جس شخص کے پاس تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت بھی ہوتی ہے تو وہ ہر میدان میں کامیاب نظر آتا ہے ورنہ ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان خود کو اپنے سماج سے الگ کر لیتا ہے اور جس کے پاس تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت بھی ہوتی ہے تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرے سماج کے لوگ اور میری آبادی کے لوگ بھی تعلیم یافتہ ہوں اور ایک تعلیم یافتہ کی یہی سوچ بھی ہونی چاہیے، اسی کو علم نافع کہتے ہیں۔

