| عنوان: | اسلام کا سیاسی نظام اور دور حاضر |
|---|---|
| تحریر: | محمد حسین جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی |
| پیش کش: | ناصرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَسَلِّمْ
اسلام کا سیاسی نظام اور دور حاضر
موجودہ دور میں حکمرانوں اور سیاست دانوں نے سیاست کو ایک ایسی شناخت دے رکھی ہے اور اس کو اپنے مقصد اصلی سے اتنا دور کر دیا ہے کہ انسان سیاست کا نام سنتے ہی اپنے ذہن و فکر میں ایک ایسے برے سیاست داں کا تصور کر لیتا ہے جو جھوٹ، وعدہ خلافی، الزام تراشی، دھوکا دہی پر مبنی ہو اور جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں، جو اپنے مفاد کے لیے انسانیت کا گلا گھونٹتا ہو، جو ذات پات، مذہب وغیرہ کا نام لے کر دنگے کرواتا ہو، جو کسی بھی شخص پر اپنی طاقت کے بل بوتے ظلم کرتا ہو اور جو ناجائز طریقے سے پیسے کی وصولی کرتا ہو وغیرہ وغیرہ۔
ایسی سیاست کو دیکھنے کے بعد انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اسلام کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟ اور اسلام سیاست کی اجازت کیوں دے گا؟ یاد رکھیں اسلام کا ایسی گندی سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام اور سیاست ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیوں کہ اسلام نے نہ صرف انسان کی انفرادی زندگی میں رہنمائی فرمائی ہے بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی اس کا گہرا اثر باقی ہے۔
اسلام ایک نظامِ حیات ہے اور وہ انسان کے ہر گوشے اور ہر محاذ پر اس کی ہدایت و رہنمائی کرتا آیا ہے، چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے ہو، معاشیات سے ہو یا سماجیات سے ہو، یا پھر اس کا تعلق سیاسیات سے ہو وہ زندگی کے ہر پہلو پر راہ دکھاتا ہے، اب ذرا سیاست کی صحیح تعریف جان لیں۔
اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح کے قریب اور فتنہ و فساد سے دور ہو جائیں۔ قرآن میں سیاست کے معنی حاکم کا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دلانا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا (برائی سے روکنا اور نیکی کی رغبت دلانا) اور رشوت وغیرہ کو ممنوع قرار دینا ہے۔
قرآن پاک میں ایسی متعدد آیات ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں بلکہ قرآن کا بیشتر حصہ سیاست پر مشتمل ہے مثلاً عدل و انصاف، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِ حمایت و ہمدردی، ظالم و ظلم سے نفرت، اور اس کے علاوہ انبیا، اولیا کا اندازِ سیاست بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا سیاسی نظام اور اس کا اہم پہلو مدینہ منورہ سے شروع ہوتا ہے۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد قومی، سماجی اور بین الاقوامی ترقی اور امن و امان کے قیام کے لیے مہاجرین و انصار، مشرکینِ مدینہ اور اطرافِ مدینہ اور دیگر قبائلِ عرب کو مد نظر رکھتے ہوئے تقریباً 53 نکات پر مشتمل ایک آئین تیار کیا گیا جو میثاق مدینہ (دستور مدینہ) کے نام سے موسوم ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاست کا ایسا نظام قائم کیا کہ جس کی مثال دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ آپ نے بھائی چارہ، عدل و انصاف، برابری، حقوق کو قائم کیا، یہودیوں کو مذہبی آزادی دی، قاتلوں کو سزا اور مظلوموں کو انصاف فراہم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امور خارجہ، تجارت، عدل و انصاف، صحت، صنعت، تعلیم اور حقوق انسانی سے متعلق واضح نظام ریاست بنایا بلکہ دنیا کو امور حکومت چلانا بھی سکھایا اور اس کے بعد خلفائے راشدین نے اپنے زمانوں میں حضور کی سنت پر عمل کرتے ہوئے انتظام اور بھی منظم کیے، یہاں تک کہ جانوروں کو بھی حقوق دیے گئے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت بہترین دور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساڑھے دس سال دور خلافت میں اسلامی ریاست ایران، بلوچستان، خراسان سے طرابلس تک پھیل گئی اور تقریباً 22 لاکھ پندرہ ہزار مربع میل تک اسلام کا دامن وسیع ہو گیا، جو تاریخ انسانی میں اس مدت میں ایک ریکارڈ ہے جس کو گولڈن پیریڈ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے خلافت میں ایک ہزار سے زائد بلاد فتح فرمائے اور زمین پر عدل و انصاف، راستی اور دیانت داری کی اعلیٰ مثال قائم فرمائی۔ ایک طرف مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی اور پاک بازی پیدا فرمائی تو دوسری طرف ایسا فلاحی نظام قائم کیا کہ ہر شخص کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کیں، حتیٰ کہ جانوروں کے تحفظ کے لیے قوانین وضع فرمائے اور فرمایا کہ اگر دریائے نیل کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو اس کا ذمہ دار عمر ہو گا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک بار مسجد میں خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: عمر! ہم اس وقت تک خطبہ نہیں سنیں گے جب تک آپ یہ نہ وضاحت فرمائیں کہ آپ کے پاس ہم لوگوں سے زائد کپڑے کیسے ہو گئے؟ اگر آپ نے برابر تقسیم کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم میرا اللہ گواہ ہے یہ میرا بیٹا عبداللہ آپ کے سامنے ہے آپ اس سے معلوم کر سکتے ہیں دراصل جو کپڑے ملے تھے وہ مجھے نہیں آ رہے تھے اس لیے میں نے اپنے بیٹے کے بھی کپڑے کو ملا کر ایک بنایا ہے۔
ذرا سوچیں! کہ اس وقت رعایا کو اتنا حق حاصل تھا کہ وہ بے خوف ہو کر خلیفہ سے سوال کر سکیں اور خلیفہ پر لازم تھا کہ وہ اس کی وضاحت کرے۔ کاش کہ آج کے حکمران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کو سامنے رکھ کر حکومت کریں تو پوری دنیا سے ظلم و جبر ختم ہو جائے اور انصاف کا بول بالا ہو جائے۔
آج جب کہ پوری دنیا یہ سوچتی ہے کہ ظلم و جبر کو ختم کیا جائے، جرائم کو روکا جائے اور معاشرے میں امن کو بحال کیا جائے، جب کہ انصاف کے بغیر امن قائم کرنا ناممکن ہے، اس لیے معاشرے میں امن بحال کرنے کے لیے انصاف بہت مضبوط کرنا ہو گا۔
دنیا آج کرائم کو ختم کرنے کے لیے جرائم کو ہائی لائٹ کر رہی ہے تو اس سے ظالموں کی طاقتوں میں اور اضافہ ہو رہا ہے، ان کی ہمت و جراءت کو بڑھاوا مل رہا ہے کیوں کہ ان جرائم کرنے والوں کی پشت پر کچھ گندے سیاست دانوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔
لیکن اگر حکومت کرائم کو ہائی لائٹ نہ کر کے انصاف کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے سزا کو ہائی لائٹ کرے تو مجرم اس سے سبق سیکھیں گے ان کی ہمتیں پست ہوں گی اور کافی حد تک کرپشن کا خاتمہ ہو گا اور معاشرے میں امن و امان قائم ہو گا۔
سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی سیاسی نظام کو عمل میں لائیں اور خلفائے راشدین کی طرز سیاست اپنائیں تو ان شاء اللہ ہمارا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا اور عوام خوش حال ہو گی!

