Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)|مقالات مصباحی

اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)
عنوان: اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)
پیش کش: سائرہ الطاف امجدی

اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور یہ ہے کہ انسان عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات سب میں راہِ راست پر ہو، ہر فرد جب درست ہو گا تو معاشرہ بھی درست ہو گا، اس لیے کہ معاشرہ افراد ہی کی اجتماعی شکل کا نام ہے۔

کون سی خوبیوں سے معاشرہ صالح ہوتا ہے اور کون سی خرابیوں سے معاشرہ فاسد ہوتا ہے؟ ان سب کی کافی تفصیل کتاب و سنت میں موجود ہے، سب کو یکجا کرنا بہت دشوار ہے۔ ایک آیت کریمہ پر اکتفا کرتا ہوں۔ ارشادِ ربانی ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90]

ترجمہ: ”بے شک اللہ انصاف اور نیکی اور قرابت دار کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ دھیان دو۔“

مستدرک میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت خیر و شر کے بیان میں سب سے زیادہ جامع ہے۔“

اس میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے: (1) انصاف، (2) نیکی، (3) قرابت دار سے حسنِ سلوک۔ اور تین باتوں سے روکا گیا ہے: (1) بے حیائی، (2) بُرائی، (3) سرکشی اور زیادتی۔

(1) انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے۔ ارشادِ نبوی ہے:

آتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ [صحيح البخاري]

ترجمہ: ”ہر حق والے کو اس کا حق دو۔“

اسلام میں حقوق کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کیوں کہ ان کی ادائیگی سے صلاح و فلاح کا وجود ہوتا ہے اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے، جب کہ ان کی پامالی سے فساد و بدنظمی اور جنگ و جدال کا ماحول گرم ہوتا ہے اور ایک کرب ناک منظر سامنے آتا ہے۔

اولاد پر والدین کے حقوق ہیں جن کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے یہاں تک کہ رب تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کا حق ذکر کیا ہے:

أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ [لقمان: 14]

ترجمہ: ”حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔“

والدین پر اولاد کے بھی حقوق ہیں، جن کی تفصیل ”مشعلة الإرشاد إلى حقوق الأولاد“ (از امام احمد رضا قدس سرہ) میں مذکور ہے۔

زوجین، بھائی بہن، پڑوسیوں اور قرابت داروں کے بھی ایک دوسرے پر حقوق ہیں۔ ہر مسلم کا دوسرے مسلم پر حق ہے، ہر شہری کا دوسرے شہری پر حق ہے۔ رعایا اور حکام کے بھی ایک دوسرے پر حقوق ہیں۔ ان سب حقوق کی جتنی زیادہ رعایت ہوگی اتنی ہی زیادہ خوش گواری پیدا ہو گی اور ان سے جس قدر انحراف ہو گا اسی قدر خرابیاں جنم لیں گی۔

آج نااتفاقی اور باہمی تعلقات کی خرابی کے مناظر جو شب و روز سامنے آتے رہتے ہیں وہ ایک دوسرے کے حقوق کو اچھی طرح نہ سمجھنے اور نہ ادا کرنے ہی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔

باہم عدل و انصاف ہوگا تو حقوق کی ادائیگی بھی ہوگی اور انصاف کی پروا نہ ہو تو حقوق سے بھی بے فکری ہوگی اور دل خراش نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

امانتوں کی ادائیگی اور لوگوں کے درمیان اقامتِ عدل کا ذکر ایک آیت کریمہ میں یکجا آیا ہے۔ ارشاد ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [النساء: 58]

ترجمہ: ”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپر د کر دو اور یہ کہ جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔“

عدل کے فقدان سے معاشرہ بھی تہ و بالا ہوتا ہے اور شہری و ملکی نظام بھی درہم برہم ہوتا ہے۔

(2) اب آئیے ”احسان“ پر نظر کریں۔ احسان کے معنی اچھائی کرنا، نیکی کرنا، بھلائی کرنا۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

بندے اور رب کے معاملات میں ”احسان“ یہ ہے کہ بندہ رب کے عائد کردہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کرے۔ عبادت کرے تو اس طرح کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ تصور حاوی ہو کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہ صورت صرف نماز میں نہیں، تمام فرائض و واجبات کی ادائیگی میں ہو سکتی ہے۔ بندوں کے معاملے میں ”احسان“ صرف یہ نہیں کہ بھلائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کی جائے بلکہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی کی جائے، جس کا ذکر اس حدیثِ پاک میں ہے:

صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ [رواه الإمام أحمد وغيره عن عقبة بن عامر رضى الله تعالى عنه]

اور ایک روایت میں ہے:

صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْ عَلَى نَفْسِكَ [الجامع الصغير، امام سيوطي، عن على كرم الله وجهه]

ترجمہ: ”اس سے رشتہ جوڑو جو تم سے قطع تعلق کرے، اسے عطا کرو جو تمہیں محروم کرے، اس سے اعراض کرو جو تم پر ظلم کرے، اس کے ساتھ بھلائی کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے، اور حق بولو اگرچہ بات اپنے خلاف جائے۔“

اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ [عن أنس رضي الله تعالى عنه مرفوعا]

ترجمہ: ”اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، کوئی بندہ پورا مومن نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“

یہ کمالِ احسان ہے۔ اگر انسان اتنا نہیں کرتا بلکہ عام نیکی ہی کا عادی ہو تو معاشرے کی درستی یقینی ہے۔ کمزوروں کی دست گیری، ضرورت مندوں کی حاجت روائی، مظلوموں کی فریاد رسی، مخفی غربت و مفلسی والوں کی خبر گیری جیسے اوصاف ہی اگر لوگ اپنا لیں تو ایک کرب ناک ماحول کی جگہ بڑا فرحت بخش ماحول وجود میں آسکتا ہے۔

حوالہ: مقالات مصباحی (ماہنامہ اشرفیہ مئی 1987ء)

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!