| عنوان: | اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور (قسط: دوم) |
|---|---|
| پیش کش: | سائرہ الطاف امجدی |
(3) قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عدل اور نیکی کے ضمن میں شمار کیا جا سکتا ہے مگر اسے خاص طور سے مستقلاً ذکر کیا گیا اس لیے کہ یہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان اجانب اور دور والوں کے ساتھ بدسلوکی کرے تو یہ بھی بری بات ہے مگر قرابت دار سے بدسلوکی، بلکہ غفلت اور بے پروائی بھی بڑی اذیت رساں ہے۔
آدمی غیروں سے وہ امید نہیں رکھتا جو اپنوں سے رکھتا ہے۔ اگر اپنے ہی غیر بن جائیں تو انسان کے دل پر کیا گزرے گی؟ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے، لفظوں میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔
منہیات:
اب اُن تین چیزوں کو دیکھیں جن سے روکا گیا ہے:
(1) فَحْشَاء: حد سے بڑھی ہوئی برائی جیسے زنا۔
(2) منکر: ہر وہ کام جو ناجائز ہے، جیسے:
-
سرقہ (چوری)
-
غصب
-
شراب نوشی
-
سود خوری
-
جھوٹ
-
چغلی
-
غیبت
-
امانت میں خیانت
-
کسی بھی واجبی ذمہ داری میں خیانت
-
ناپ تول میں کمی
-
فریب کاری
-
بد عہدی
-
اسراف و فضول خرچی، یعنی ناحق میں صرف کرنا، اگرچہ ایک ہی پیسہ ہو۔ جیسے دیکھا جاتا ہے کہ نام و نمود اور اپنی بڑائی دکھانے کے لیے شادیوں میں بے دریغ لاکھوں صرف کر دیتے ہیں اور غریبوں، مفلسوں کی حاجت روائی کے لیے ہزار، دو ہزار بلکہ سو، دو سو دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے ناروا کاموں میں دولت لٹا کر فخر کرتے ہیں اور مصارفِ خیر میں دینے سے بھاگتے ہیں، اگر کسی نے تقاضا کیا تو بڑی ترش روئی، غیظ و غضب اور بدخلقی سے پیش آتے ہیں۔
-
بیٹوں کا باپ کی پوری میراث پر قبضہ کر لینا اور بیٹیوں کو یکسر محروم کر دینا۔ یہ وبا عام ہوتی جارہی ہے۔ ارث قہری ہے، اختیاری نہیں کہ جو چاہے لے، جو چاہے چھوڑ دے۔ مورث کے مرتے ہی میراث میں ورثہ کا حق لازم ہو جاتا ہے۔ ہاں میراث تقسیم ہونے اور ہر وارث کا حصہ متعین ہو جانے کے بعد وارث کو اختیار ہے کہ خود لے یا کسی دوسرے کو دے دے۔ مگر تقسیم و تعیین سے پہلے یہ کام نہیں ہو سکتا۔
-
کسی کا مال یا جائیداد ناحق لینا
-
ناجائز قبضہ کے لیے حکام کو رشوت دینا، جھوٹے گواہ تیار کرنا، جھوٹی دستاویز بنانا، ناجائز مقدمہ بازی میں اپنا اور اپنے فریق کا مال برباد کرنا، کرانا۔
-
فرائض و واجبات ترک کرنا
-
اپنے اوپر دوسروں کے جو حقوق لازم ہیں انہیں ادا نہ کرنا۔
یہ اور اس طرح کی ساری برائیاں ”منکر“ کے تحت آتی ہیں جن سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح باطنی برائیاں: (1) ریا، (2) عجب، (3) حسد، (4) کینہ، (5) تکبر، (6) حرص، (7) بخل، (8) حبِ دنیا، حبِ مدح وغیرہ، یہ سب ”منکر“ کے تحت داخل ہیں۔
(3) بغی: سرکشی، ظلم و زیادتی۔ یہ بھی منکر کے تحت داخل ہے مگر اسے خصوصیت سے ذکر کیا گیا۔ اس لیے کہ اس کے نتائج بڑے خطرناک ہیں۔ ظلم اگر گھر تک ہو، تو گھر برباد ہوتا ہے، محلہ اور شہر میں ہو تو محلہ اور شہر ویران ہوتے ہیں، ملک بھر میں ہو تو یوں ملک شعلوں کی زد پر ہوتا ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کا اسلامی تصور اُسی وقت مکمل ہو گا جب ان سارے امور کی بجا آوری ہو جن کا حکم دیا گیا ہے اور ان سارے امور سے پرہیز ہو جن سے روکا گیا ہے۔
ربِ قدیر و کریم خیر کو عمل میں لانے اور شر سے دور رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔
حوالہ: مقالات مصباحی (ماہنامہ اشرفیہ مئی 1987ء)
