Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خلیج کا بحران (قسط: دوم)|محمد احمد مصباحی

خلیج کا بحران (قسط: دوم)
عنوان: خلیج کا بحران (قسط: دوم)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

خلیجی بحران کیسے شروع ہوتا ہے اور کویت پر عراق کا حملہ کب اور کیوں ہوا؟ اس سلسلے میں ریڈیو اور اخبارات کے ذریعہ تفصیل معلوم ہو چکی ہے۔ لیکن ان معلومات کو اپنے ذہنوں میں ایک بار پھر تازہ کر لیں۔ ایک اخبار اس کی پوری سرگزشت یوں رقم کرتا ہے:

“قاہرہ میں 45 ممالک پر مشتمل آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کا اجلاس ہو رہا تھا، کویت اس اجلاس کی جس میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک تھے صدارت کر رہا تھا۔ دوسری طرف جدہ میں شاہ فہد، صدر حسنی مبارک کی کوششوں سے کویت اور عراق کے درمیان سرحدی تنازعہ کو سلجھانے کے لیے گفتگو ہو رہی تھی۔ عراق نے کویت کی سرحد پر زبردست فوجی اجتماع کر لیا تھا۔ لیکن کسی نے عراق کی اس حرکت کو مرعوب کرنے کی کوشش سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔

31 جولائی کو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی میٹنگ میں بھی عراق کی جھڑپ متحدہ عرب امارات اور کویت کے ساتھ ہوئی۔ عراق نے الزام لگایا تھا کہ یہ دونوں ممالک اپنے متعینہ کوٹے سے زیادہ تیل نکال کر چپکے چپکے فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی ہو رہی ہے۔ اوپیک تنظیم نے دنیا میں تیل کی قیمتیں ایک سطح پر رکھنے کے لیے تمام ممالک کا پیداواری کوٹہ مقرر کر رکھا ہے۔ سب ممبر ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ اس معینہ مقدار میں تیل نکال کر فروخت کریں۔ اور اوپیک تنظیم نے جو شرح مقرر کی ہے ان کے مطابق ہی فروخت کریں۔ دونوں ممالک عراق کے اس الزام کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور عراق، ایران اور چند دوسرے ممالک کی کوششوں سے تیل کے نرخ میں اضافہ کیا گیا۔ پہلے تیل کے ایک بیرل کی قیمت 18 ڈالر تھی۔ جو میٹنگ کے بعد بڑھا کر 20 ڈالر کر دی گئی۔ اور سب ممبر ممالک نے عہد کیا کہ وہ اپنے متعینہ کوٹے سے زیادہ تیل پیدا نہیں کریں گے۔

جدہ میں ہونے والی یہ میٹنگ درمیان میں ہی ناکام ہو گئی۔ اور عراقی وفد یکم اگست کو میٹنگ کا بائیکاٹ کر کے بغداد واپس لوٹ آیا۔ یکم اگست اور 2 اگست کی درمیانی شب میں رات ایک بجے عراقی فوجوں نے کویت کی سرحد میں گھس کر دار السلطنت جس کا نام بھی کویت ہے، کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ اور 9 گھنٹے میں انہوں نے پورے کویت پر قبضہ کر لیا۔ کویت کا حکمراں خاندان جو تقریباً ڈھائی سو سال سے کویت پر حکمرانی کر رہا تھا اس نے بھاگ کر سعودیہ عربیہ میں پناہ لے لی۔ پوری کارروائی میں لگ بھگ 800 کویتی فوجیوں اور شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اصل میں عراق اور کویت کے درمیان یہ تنازعہ بہت پرانا ہے۔ ترکی حکومت کے دوران کویت عراق کے صوبے بصرہ کا ایک حصہ تھا۔ اور بغداد کے سلطان نے کویتی حکمراں خاندان کو جس کے موجودہ سربراہ شیخ جابر الاحمد الصباح ہیں، مسندِ حکومت عطا کی تھی، بغداد میں ترکی اقتدار کے دور میں بھی حکومت اسی خاندان کے پاس رہی۔ ترکی اقتدار کے خاتمے کے بعد جب انگریزوں نے اپنی عیاری سے عالمِ اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کیے تو کویت کو عراق سے الگ کر دیا اور اس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ کیوں کہ کویت چھوٹی سی حکومت ہونے کے باوجود تیل کی دولت سے مالامال تھا۔ لیکن ساٹھ کی دہائی میں جب عالمی صورتِ حال کے تحت نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہو رہا تھا تو انگریزوں نے 1961ء میں کویت کو آزاد کر دیا۔ تو اس وقت بھی عراق کے حکمراں عبدالکریم قاسم نے دوبارہ عراق میں کویت کو ضم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت عراق ایک کمزور ملک تھا، اس کی فوجی طاقت بھی بہت کم تھی۔ چنانچہ جیسے ہی عراق نے کویت کو ضم کرنے کی کوشش کی برطانیہ کی کویت میں موجود صرف چھ ہزار فوج نے نقل و حرکت شروع کر دی اور عراق کو کسی انتہا پسندانہ اقدام سے باز رکھا۔ بعد میں بین الاقوامی حالات اور دوسری وجوہات نے عراق کا ارادہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اور کویت عالمی سطح پر ایک فوجی ریاست کے بطور اپنی منفرد حیثیت تسلیم کرانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ چونکہ کویت میں بھی بادشاہت تھی اس لیے لامحالہ اس کا جھکاؤ اور اس کی قریبی نسبت ان عرب ممالک سے رہی جہاں آج بھی شہنشاہیت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ بادشاہت اور سوشلزم ان دو متضاد نظریات نے پورے عالمِ عرب کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا۔

جس وقت عراق نے کویت پر حملہ کیا اس وقت مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں اسلامی ممالک کی کانفرنس چل رہی تھی۔ کانفرنس میں یہ خبر بجلی کی طرح گری۔ اس سے بھی زیادہ خراب حالت امریکہ اور اس کے یوروپی حلیفوں کی ہوئی۔ امریکہ جس کے سیٹیلائٹ ساری دنیا میں چکر لگا کر دن رات جاسوسی کرتے رہتے ہیں اور جس کی سی آئی اے ساری دنیا میں سیاسی افراتفری مچاتی رہتی ہے۔ عراق نے اپنی حرکت سے سب کو حیران و ششدر کر دیا۔” [اخبار نو، دہلی، جلد: 8، شمارہ: 13، 17 تا 23 اگست 1990ء، ص: 3، تلخیص]

عراقی حملے کے جواب میں امریکہ نے سعودیہ کو یہ دکھایا کہ امریکی فوجوں کا یہاں رہنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ سعودیہ بھی نہ بچ سکے گا۔ چنانچہ اس نے اس کا یقین کر لیا اور امریکہ کو اپنے صحن میں گھسنے کی دعوت دی۔ وہ اپنی ڈھائی لاکھ فوج اور بے شمار اسلحوں کے ساتھ اس سرزمین میں اتر آیا۔ اس فوج میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ اسرائیلی فوجیں بھی بڑی مقدار میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اقوامِ متحدہ پر دباؤ ڈال کر فوراً عراق کی اقتصادی ناکہ بندی کی تجویز منظور کرائی۔ اور اس پر نہایت شدت سے عمل درآمد بھی شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ عملاً اسے اقتصادی ناکہ بندی تک ہی محدود نہ رکھا، بلکہ معاشی اور غذائی ہر طرح کی پابندی عائد کر دی۔ دواؤں کا پہنچنا بھی مشکل ہو گیا۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

دوسری طرف 28 اگست 1990ء کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعہ کویت کو عراق کا ایک صوبہ بنا لیا گیا۔ اور اس کا نام قدیمہ رکھا گیا۔ ادھر امریکہ نے تمام ممالک پر دباؤ ڈالا کہ عراق کے خلاف اپنی فوجیں بھی سعودیہ میں بھیجیں۔ اور اب فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے سارے ممالک کے اتفاق کی سرگرم کوشش جاری ہے۔ امریکہ مزید اپنی ایک لاکھ فوجیں سعودیہ میں اتار رہا ہے۔ دوسری طرف عراق بھی اپنے سارے سازوسامان کے ساتھ حملے کا منتظر کھڑا ہے۔ عراق کویت خالی کرنے کے لیے یہ شرط عائد کرتا ہے کہ اسرائیل بھی عرب کے مقبوضہ علاقے واپس کرے اور خلیج سے امریکی فوجیں واپس جائیں۔ اور امریکہ و دیگر ممالک کا یہ مطالبہ ہے کہ عراق غیر مشروط طور پر کویت خالی کر دے ورنہ ناکہ بندی تو جاری ہی رہے گی، فوجی کارروائی کر کے اسے تباہ و برباد بھی کیا جا سکتا ہے۔ انجام صرف عراق ہی کے خلاف جائے گا یا سارے عرب ممالک کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو گا؟ اور امریکہ و اسرائیل سراسر فائدے ہی میں رہیں گے یا انہیں بھی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ان سوالات پر ہر طرف سے مختلف آوازیں آ رہی ہیں۔ بہرکیف صورتِ حال بڑی پیچیدہ، سنگین، اور نہایت خطرناک ہے۔ خدا خیر کرے۔

عراق نے کویت پر حملہ کیوں کیا؟

اس سلسلے میں یہ بیانات سامنے آتے ہیں۔ ہفتہ وار اخبار “بلٹز” ممبئی لکھتا ہے:

“عراق نے کویت پر حملہ کیوں کیا؟ اس کا کہنا ہے کہ کویت کے نوجوانوں اور حریت پسندوں نے عراقی افواج کو دعوت دی تھی کہ وہ کویت آئیں اور شاہی حکومت کے پنجے سے انہیں آزاد کرائیں۔ عراق کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو کویت میں عراقی فوجوں کی مزاحمت کی گئی ہوتی اور کویتی افواج نے ان کا کچھ تو مقابلہ کیا ہوتا۔ عراق یہ بھی کہتا ہے کہ امیرِ کویت اپنے عوام کو چھوڑ کر سعودی عرب کیوں چلے گئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ تاہم بادی النظر میں عراق کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیوں کہ پہلے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی تھی کہ کویت کے حکمراں کے خلاف خود کویتی فوجی یا شہری علمِ بغاوت بلند کرنے والے ہیں۔

عراق کی دوسری بات زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔ صدر صدام حسین کا کہنا ہے کہ اوپیک سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات نے زیادہ مقدار میں تیل نکالا۔ اور اسے عالمی منڈی میں بھیج کر تیل کی قیمت کوڑیوں میں کر دی۔ عراق کا کہنا یہ بھی ہے کہ کویت نے سرحدوں کے قریب گہرے کنویں کھود کر اس کا تیل چرا لیا ہے۔” [بلٹز، جلد: 27، شمارہ: 32، 11 اگست 1990ء، ص: 12]

اسی سلسلے میں اخبار نو کا ایک اقتباس یہ ہے:

“کئی ماہ قبل جب سے صدام حسین نے غاصب اور ظالم اسرائیل کو چیلنج دیا تھا کہ اگر اس نے کسی عرب ملک پر حملہ کرنے کی جرأت اور غلطی کی تو عراق اس پر انتہائی تباہ کن زہریلے گیسوں کی بارش کر دے گا کہ آدھا اسرائیل جل کر خاک ہو جائے گا۔ اس لیے اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس جیسے ملکوں میں زبردست زلزلہ آگیا۔

سب سے پہلے ساری دنیا میں صدر صدام حسین کے خلاف کردار کشی کی لہر پیدا کی گئی تاکہ عالمی رائے عامہ کو ان کے خلاف مشتعل کیا جا سکے۔ امریکہ کی بدنام خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور امریکی سفارت خانوں کے ذریعہ نیز اسرائیلی اثر میں کام کرنے والی خبر رساں ایجنسیوں کے توسط سے صدر صدام حسین کے خلاف گمراہ کن اور بے بنیاد مفروضات سے آراستہ پروپیگنڈہ شروع کیا گیا۔ اور ان کا پیکر اس طرح پروجیکٹ کیا گیا گویا وہ ہٹلر یا چنگیز ہوں۔ اس معاملے میں امریکی پروپیگنڈہ بازوں نے جرمنی کے گوئبلز کو بھی مات کر دیا۔ یہ پروپیگنڈہ مہم شباب پر تھی کہ امریکہ نے صدر صدام حسین کو قتل کرا دینے اور ان کی حکومت کا تختہ الٹ دینے کی سازش رچی۔ اور کویت کے کٹھ پتلی حکمراں جابر الصباح کو اس خطرناک سازش کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری سونپی۔ جابر سے کہا گیا کہ وہ عراق کے اندر اور باہر کام کرنے والے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ یہ دونوں کام انجام دلائیں۔

عراق کو اس سازش کی بھنک مل گئی۔ اور یہ امریکی منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا۔ صدام حسین کا تختہ الٹ دینے میں ناکام ہونے کے بعد منصوبہ کے دوسرے مرحلے میں عراق پر کویت کی سرزمین سے اچانک اور بھرپور حملہ کر دینے کا خاکہ تیار کیا گیا۔ اور اس سلسلے میں سعودی عرب، خلیجی ملکوں کے شیخ اور مصر و شام وغیرہ کے سربراہوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ جب صدر صدام حسین کو انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہو گیا کہ عراق پر اچانک اور برق رفتار حملے کی تیاریاں پوری کی جا رہی ہیں تو انہوں نے اس سازش کی بساط ہی الٹ دی۔” [اخبار نو، جلد: 8، شمارہ: 15، 31 اگست تا 6 ستمبر 1990ء، ص: 16]

عراق کی ناکہ بندی اور اسرائیل کی پشت پناہی

عراق کی ناکہ بندی پر امریکہ، اقوام متحدہ، اور سلامتی کونسل کی پالیسی پر ایک سوال کے جواب میں عراق کے سفیر عبدالودود شیخی (سفارت خانہ نئی دہلی) فرماتے ہیں:

“ہمیں اقوام متحدہ کو بحیثیت ایک عالمی کمیونٹی کے جس کا ایک تحریری چارٹر ہے یقیناً قابلِ احترام سمجھنا چاہیے۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کے قول و فعل میں بہت تضاد ہے۔ اس پورے دہے میں جو اب ختم ہونے والا ہے، امریکی اور دوسرے سامراجی ممالک نے پوری کوشش یہی کی ہے کہ وہ کہیں کچھ اور، کریں کچھ اور، وہ دنیا میں چلا چلا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے محافظ اور علمبردار ہیں۔ لیکن عملی طور پر وہ انسانی حقوق کی نفی کرتے ہیں خواہ وہ ان کے اپنے ملک ہوں یا فلسطین، مثلاً انسانی حقوق کے یہ نام نہاد محافظ فلسطینیوں کی تحریکِ انتفاضہ کی طرف سے آنکھیں موندے رہتے ہیں۔ وہ اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب فلسطین میں معصوم بچے مارے جاتے ہیں؟ اب انہی کی شہ پر عراق کے خلاف معاشی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ کیا یہ ان کے لیے ضروری نہ تھا کہ وہ پہلے اسرائیل کے خلاف یہی کارروائی کرتے۔ جب اس نے اقوامِ متحدہ کی کھلی خلاف ورزی کر کے جنوبی لبنان پر قبضہ کیا تھا یا جب اس نے جارڈن کے دریا کے مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا یا غازہ پٹی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت تو انہوں نے کبھی بھی معاشی ناکہ بندی یا معاشی بائیکاٹ کی بات نہیں کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس کی قطعی پروا نہیں ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ بلکہ ان کا اصل مقصد تو عربوں کے خلاف سازش کرنا ہے۔ اس خطے کے خلاف سازشیں کرنا ہے۔ اس کے لیے وہ یہ آڑ لیتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس خطے کے عربوں کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں عراق سے بچا رہے ہیں” [اخبار نو، دہلی، جلد: 8، شمارہ: 16، 7 تا 13 ستمبر 1990ء، ص: 9]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!