| عنوان: | رشتوں میں عدل کی کمی |
|---|---|
| تحریر: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| پیش کش: | ندائے قلم ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
رشتے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ امانت ہیں جن سے انسان کی زندگی میں محبت، سکون، سہارا اور وقار پیدا ہوتا ہے۔ والدین، اولاد، بہن بھائی، میاں بیوی، ساس بہو، عزیز و اقارب؛ یہ سب محض نام نہیں، بلکہ ذمہ داریوں کے مقدس دائرے ہیں۔ اسلام نے رشتوں کو صرف محبت کے جذبات پر نہیں چھوڑا، بلکہ ان کے ساتھ عدل، احسان، حسنِ سلوک اور حقوق کی ادائیگی کو لازم قرار دیا۔
مگر افسوس! آج بہت سے گھروں میں رشتے باقی ہیں، مگر ان میں عدل باقی نہیں۔ تعلقات موجود ہیں، مگر توازن مفقود ہے۔ ایک فرد سب کے لیے قربانی دیتا ہے، مگر اس کی قربانی کو فرض سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک دل سب کا بوجھ اٹھاتا ہے، مگر اس کے اپنے بوجھ کو کوئی نہیں دیکھتا۔ یہی رشتوں میں عدل کی کمی ہے، جو آہستہ آہستہ محبت کو تھکن، خلوص کو خاموشی، اور گھر کو بے سکونی میں بدل دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ[سورۃ النحل: 90]
ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے، تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ عدل صرف عدالتوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ زندگی کا اصول ہے۔ گھر میں عدل، رشتوں میں عدل، اولاد میں عدل، بہو بیٹی میں عدل، داماد اور بیٹے میں عدل، ساس اور ماں کے رویے میں عدل؛ یہی اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا[سورۃ النساء: 135]
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہو جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دیتے، چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا، جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو، بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے، تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو، اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ پھیرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ اسلام میں عدل کا معیار یہ نہیں کہ اپنا کون ہے اور پرایا کون؛ بلکہ معیار یہ ہے کہ حق کس کا ہے۔ اگر اپنے بھی غلط ہوں تو ان کی حمایت کرنا عدل نہیں، ظلم ہے۔ رشتوں میں فساد اکثر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ حق کے بجائے تعلق کو دیکھتے ہیں، اصول کے بجائے اپنی پسند کو دیکھتے ہیں، اور انصاف کے بجائے جانب داری کو اختیار کرتے ہیں۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک عطیہ دیا۔ ان کی والدہ نے کہا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ جب وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو ایسا ہی دیا ہے؟” انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔”[صحیح مسلم، کتاب الہبات، رقم الحدیث: 1623]
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اسلام گھر کے اندر بھی عدل چاہتا ہے۔ اولاد میں بے جا فرق، کسی ایک کو زیادہ اہمیت دینا، کسی ایک کی غلطی کو چھپانا اور دوسرے کی چھوٹی بات کو بڑا بنانا، یہ سب عدل کے خلاف ہے۔ یہی ناانصافی آگے چل کر دلوں میں دوری، رنجش، حسد اور بغاوت پیدا کرتی ہے۔
آج ہمارے گھروں کا نہایت دل خراش منظر یہ ہے کہ اچھے انسان کو اکثر کمزور سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو خاموش رہتا ہے، اسی پر زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ جو خدمت کرتا ہے، اسی سے مزید خدمت کی امید رکھی جاتی ہے۔ جو شکایت نہیں کرتا، اس کے درد کو درد نہیں سمجھا جاتا۔ جو ہر بار معاف کر دیتا ہے، اس کی شرافت کو اس کی مجبوری سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ عدل نہیں کہ ایک بہو گھر بھر کی خدمت کرے اور پھر بھی اسے طعنے ملیں، اور بیٹی معمولی سا کام کر دے تو اس کی تعریف ہو۔ یہ عدل نہیں کہ ایک بیٹا والدین کا سہارا بنے، اخراجات اٹھائے، خدمت کرے، مگر عزت کسی اور کو ملے۔ یہ عدل نہیں کہ گھر کا ایک فرد ہمیشہ صبر کرے، ہر بات برداشت کرے، ہر رشتہ بچائے، مگر جب اسے محبت، آرام اور سہارے کی ضرورت ہو تو سب اسے مضبوط کہہ کر چھوڑ دیں۔
رشتوں میں عدل کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جائے، بلکہ عدل یہ ہے کہ ہر ایک کا حق پہچانا جائے۔ جو خدمت کرتا ہے، اس کی قدر ہو۔ جو قربانی دیتا ہے، اس کا شکریہ ادا ہو۔ جو خاموش رہتا ہے، اس کی خاموشی کو بے حسی نہ سمجھا جائے۔ جو گھر کو جوڑتا ہے، اسے تنہا نہ چھوڑا جائے۔
اسلام نے حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بتایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے اعتبار سے کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو، اور تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کے اندر نرمی، عدل، احترام اور حسنِ سلوک دین کا حصہ ہیں، محض دنیا داری نہیں۔
بہت سے گھر اس لیے ٹوٹتے نہیں کہ لوگ جدا ہو جاتے ہیں، بلکہ اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ دل جدا ہو جاتے ہیں۔ زبانیں خاموش رہتی ہیں مگر دل بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے درد سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ رشتوں میں عدل کی کمی سب سے پہلے دلوں سے سکون چھینتی ہے، پھر گھروں سے برکت اٹھاتی ہے، پھر نسلوں میں تلخی چھوڑ جاتی ہے۔
عدل کا تقاضا یہ ہے کہ والدین اولاد کے درمیان انصاف کریں، ساس بہو کو غیر نہیں امانت سمجھے، بہو ساس کو بوجھ نہیں بزرگ سمجھے، شوہر بیوی کو صرف خدمت گزار نہیں شریکِ حیات سمجھے، بیوی شوہر کو صرف ذمہ داریوں کا ذریعہ نہیں گھر کا محافظ سمجھے، بہن بھائی ایک دوسرے کے حق کو پہچانیں، اور خاندان میں کمزور، خاموش اور نرم مزاج لوگوں کا استحصال نہ کیا جائے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اچھے دلوں کو بار بار آزمانا ظلم ہے۔ صابر انسان پتھر نہیں ہوتا، خاموش انسان بے احساس نہیں ہوتا، خدمت کرنے والا انسان غلام نہیں ہوتا، اور معاف کرنے والا انسان بے قدر نہیں ہوتا۔ ہر دل کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب اچھائی کو مسلسل استعمال کیا جاتا ہے تو دل تھک جاتا ہے، اور جب دل تھک جائے تو رشتے رسمی رہ جاتے ہیں۔
گھر اس وقت گھر بنتا ہے جب اس میں ہر فرد کا حق پہچانا جائے۔ رشتے اس وقت زندہ رہتے ہیں جب محبت کے ساتھ انصاف بھی ہو۔ اچھائی کو استعمال نہیں، عزت دی جائے۔ خاموشی کو رضا نہیں، احساس سمجھا جائے۔ صبر کو کمزوری نہیں، شرافت مانا جائے۔
اگر رشتوں میں عدل آجائے تو گھر سکون کا گہوارہ بن جائیں، دلوں کی دوریاں مٹ جائیں، محبت میں برکت آجائے، اور خاندان واقعی رحمت کا سایہ بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں، اپنے رشتوں اور اپنے معاملات میں عدل، احسان اور حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(3 جون 2026ء، بروز بدھ)
