| عنوان: | اسلامو فوبیا کی توسیع، اسباب و علل |
|---|---|
| تحریر: | محمد اختر رضا امجدی |
| پیش کش: | ارشد رضا مدنی |
دورِ حاضر میں اسلاموفوبیا نے جتنا نقصان مسلمانوں کی جان، مال، اور عزت و آبرو کو پہنچایا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے یا حادثے نے پہنچایا ہو۔ بلکہ یوں کہوں تو بجا ہو گا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی جملہ سازشیں، نارواں سلوک، مسلماتِ اسلام پر سوالیہ نشان، عورتوں کی آزادی اور ان کے مابین حقِ مساوات کے نام پر عریانیت کو بڑھاوا دینا، میرا جسم میری مرضی جیسے فحش نعروں کی اوچھی حرکت، نسل کشی، قتل و غارت گری اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویہ کا اظہار، قومِ مسلم کو شکوک و شبہات کی نظروں سے دیکھنا، دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ مختص کر کے پیش کرنا، دیگروں کو بڑی سے بڑی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باوجود مجرم اور مسلمانوں کے ہلکے سے ہلکے جرم کو ٹیرارزم قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہ کرنا، بلکہ سارے حوادثات و واقعات جو آئے دن مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہے ہیں، سب کے سب اسی اسلاموفوبیا کے نتائج ہیں، جو کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ملمع سازوں نے حقیقت پر جھوٹ اور مکر و فریب کی اس درجہ ملمع سازی اور تصنع کاری کر ڈالی ہے، کہ حقیقت حجاب اور پردوں کی پرت تلے چھپ گئی ہے۔ اور اس کا انکشاف تو بُعد اس طرف لوگوں کا رجحان بھی ناپید ہے۔ اسلام کی صورت کو اس قدر مسخ کر کے نظر نوازِ عام و خاص کیا گیا اور کیا جا رہا ہے، کہ اس کی حقیقی صورت سے لوگوں نے عدول کر کے جھوٹ اور مکر و فریب کی ملمع زدہ عکس اور چھوی کو ہی حقیقت سمجھ لیا ہے۔ اسی وہم فاسد کے سبب اسلاموفوبیا کو تقویت مل رہی ہے، اور سازشیوں کی سازشیں رنگ لا رہی ہیں۔ اسلام کے خلاف جتنی بھی خرافات ہوتی ہیں، وہ حقیقت سے کوسوں دور ہیں، چشم پوشی اور حقیقت کوشی کا اس سے بڑھ کر نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ بلکہ حقیقت تو بالکل ہی ان تمام مذموم بیانیوں کے الٹ ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے، جو امن کا درس دیتا ہے۔ مساوات اور حقوق کا پاسدار و پابند کر کے رکھتا ہے۔ بلکہ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے سب سے پہلے مساوات کا درس اور عورتوں کو ان کا حق دیا۔ ٹیرارزم کے ساتھ تو اسلام کا دور دور تک کوئی ناطہ نہیں ہے، پھر بھی اسے اسلام ہی کے سر منڈھا جاتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ لوگ جہاد کو غلط رخ دے کر پیش کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے ہر قانون میں “Law Of Defense” ہے اور جہاد اسی مدافعتی نظام کا ایک حقیقی مرقع ہے۔ ٹیرارزم اور فساد فی الارض کی ساری قسموں کا اسلام کھل کر مذمت اور اظہار برأت کرتا ہے۔ سو اس کا الزام مسلمانوں پر دھرنا کہاں سے قرین صواب ہو؟ اسی طرح مسلمانوں کے دیگر مسلمات اور ان کے داخلی مسائل کو مذموم، مفہوم اخذ کر کے غلط طرق پر بیان کرنا کیا یہی انصاف ہے؟ افسوس ہے ایسے انصاف پر! اسلاموفوبیا کی خلیج کو وسعت بخشنے میں چند مرکزی کردار:
-
یہود و نصاریٰ اور کفار و مستشرقین کہ ان کا مقصد اپنی اسلام دشمنی کی بنیاد پر اسلاموفوبیا کو فروغ دے کر اقدارِ اسلام کو پائے مال اور اسلام کی مثبت صورت کو مسخ کرنا ہے۔
-
مغربی اور مشرقی میڈیا کا منفی کردار اسلاموفوبیا کو فروغ دینے میں یوں ہے کہ زر خرید میڈیا مسلمانوں کے چھوٹے سے چھوٹے ردِّ عمل کو بھی ٹیرارزم سے جوڑ کر پیش کرتی ہے، جبکہ اسی میڈیا کے ذریعہ دوسرے مذاہب کے شدت پسندوں کو انفرادی مجرم کہا جاتا ہے۔
-
سیاسی مفادات کے پیش نظر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز بیانیوں کے ذریعہ اکثریتی ووٹ بینک کو متحرک کرنے کی کوشش میں اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دیتی ہیں۔
-
جہالت اور عدم واقفیت کی بنا پر مغربی بلکہ بعض مشرقی معاشروں میں اکثر لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے اسلاموفوبیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔
-
چند شدت پسند گروہوں کی انتہا پسندانہ کارروائیوں کو دین اسلام کی طرف منسوب کر کے اسلاموفوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں اور بھی بہت سارے ایسے اسباب ہیں جو اسلاموفوبیا کو فروغ دیتے ہیں۔ جس سے اسلام خلاف عناصر کی مقصد برآری ہوتی ہے۔ اس طور پر کہ مسلمان یا تو سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر مغربی تہذیب و تمدن کو اپنے مذہب میں رچا بسالے، یا پھر اسلام منافرت کا شکار ہو کر اپنے دین ومذہب سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ وگرنہ دوسری طرف غیر اسلامی عناصر اسلاموفوبیا سے مشتعل ہو کر اسلام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ہمہ وقت بر سر پیکار تو ہیں ہی! الحاصل اسلام پر تبرا کرنے والوں، اور اسلاموفوبیا کے شکار ہونے والوں سے کہنا یہی ہے کہ پہلے اسلام کی تعلیمات کو سمجھیں امید قوی ہے کہ حقائق پر چڑھے فریب کے سارے پردے چاک ہو جائیں گے، اور مکر و فریب کی ساری دھند چھٹ جائے گی۔ رہی بات مخالفین اور دشمنان اسلام کی تو ان کا کوئی علاج نہیں، سوائے اس کے کہ وہ اپنی بغض و عداوت کے سمندر میں ڈبکی لگاتے لگاتے ڈوب مریں۔ کیوں کہ بربنائے دشمنی اور ہٹ دھرمی کی جانے والی مخالفت کا کوئی علاج نہیں۔ ہاں عوام کے لیے ایک تجویز ضرور ہے کہ ان سے احتراز لازمی پکڑیں کہ ایسے لوگ “مفسدین فی الارض” کی قبیل سے ہیں، اور ان سے بچنے ہی میں عافیت ہے۔ آپ کا معمول تھا کہ بعد سماع قوالوں کو کچھ نہ کچھ ضرور نوازا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب لونڈی کے ذریعہ اہل خانہ نے یہ کہلوا بھیجا کہ گھر میں قوالوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے تو آپ نے قوالوں سے کہا کہ اس لونڈی ہی کو لے جاؤ جسے اسی وقت بعض مریدوں نے قوالوں سے کچھ داموں کے عوض واپس حاصل کر لیا اور خانقاہ میں بھیج دیا۔
حضور شیخ العالم قدس سرہ کے چند اقوال زریں:
-
علم وہ ہے جس سے خدا کی معرفت حاصل ہو۔
-
صوفی کے پاس دو روٹیاں ہو تو وہ ایک روٹی اپنے پڑوسی کو دے دیتا ہے۔
-
صوفی غرور و تکبر کو ختم کر کے عجز و انکساری کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔
-
طہارت اور پاکیزگی سے صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
-
ایثار، عفو درگزر، احسان اور مروت جب صوفی کی زندگی بن جاتی ہے تو امن و امان قائم ہوتا ہے۔
سوانح شیخ العالم [ص: 199] میں خزینۃ الاصفیاء کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ کے ہزاروں مشہور خلفا ہوئے جو دنیا کے تمام ممالک میں آپ کے سلسلے کو لے کر پہنچے۔ لیکن ”بزم صوفیہ“ [ص: 548] میں ہے کہ شیخ العالم کے خلفا میں آپ کے صاحب زادے مخدوم شاہ عارف احمد قدس سرہ کے علاوہ صرف میاں قدوہ کا ہی ذکر ملتا ہے اور ان کے علاوہ کسی کی خلافت کی صراحت نہیں ملتی۔ ہاں! بہت سارے مریدین ایسے تھے جو بڑے درجے کے بزرگ تھے، لیکن خلافت یافتہ نہ تھے۔ شیخ العالم قدس سرہ کے بعد ان کے صاحب زادے مخدوم عارف احمد جانشین ہوئے، ان کے بعد ان کے صاحب زادے شیخ محمد بن عارف قدس سرہ ہوئے جن کے خلیفہ شیخ عبد القدوس گنگوہی کے ذریعہ حضور شیخ العالم کا فیض سارے جہاں میں عام ہوا۔ اس وقت اس خانقاہ کے اٹھارہویں سجادہ نشین حضرت شاہ عمار احمد احمدی عرف نیر میاں ہیں جو دین متین کی خدمت میں نہایت متحرک و فعال کردار ادا فرما رہے ہیں۔ اللہ ان کے ذریعہ اس خانقاہ کے فیض کو عام کرے، آمین۔
[ماہنامہ اشرفیہ ص: 18]
