| عنوان: | حمورابی اور اس کے قوانین (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مہتاب پیامی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
قرض اور مالی ذمہ داری کے قوانین:
اگر کوئی شخص قرض لیتے وقت اپنی زمین یا مکان ضمانت رکھے تو قرض کی مدت پوری ہونے تک وہ زمین قرض خواہ کی ملکیت میں شمار نہیں ہوگی، صرف زیر استعمال رہے گی۔ دیوالیہ ہونے کی صورت میں قرض خواہ صرف پیداوار کا حصہ لے سکتا ہے، جائیداد ضبط نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص قرض ادا نہ کر سکے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے اس کا گھرانہ محنت مزدوری کرے گا؛ اس کے بعد قرض ختم ہو جائے گا۔ یہ قانون اس زمانے کے لیے بہت انسانی اور نرم سمجھا جاتا ہے۔
تجارت اور مال کے تبادلے کے مزید قوانین:
ہر تجارت گواہ اور تحریر کی موجودگی میں ہوگی۔ بغیر گواہ کے خریدی یا بیچی گئی چیز پر مقدمہ قائم نہیں ہو سکے گا۔ اگر کوئی تاجر مال کی قیمت چھپا کر زیادہ رقم لے تو اس پر دگنا جرمانہ ہو گا۔ سرکاری تاجر (جسے بادشاہ مقرر کرے) کا حساب ہر سال ریاست کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا۔
سفر، رہائش اور سرائے کے قوانین:
کاروان سرائے کا مالک مسافروں کے سامان کا محافظ ہو گا۔ اگر اس کی غفلت سے سامان چوری ہو جائے تو وہ فرائض کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اور نقصان کی تلافی کرے گا۔ قافلے پر حملہ کی صورت میں نقصان ریاست پورا کرے گی، کیوں کہ حفاظت اس کی ذمہ داری ہے۔
جانوروں کے نقصان کے متعلق مزید قوانین:
اگر کسی شخص کا کتا یا شکار کا جانور کسی کو زخمی کرے، تو مالک ذمہ دار ہو گا اور معاوضہ ادا کرے گا۔ اگر بیل سینگ مار کر کسی کو زخمی کرے، اور پہلے بھی ایسا ہوا ہو تو مالک کو سخت سزا دی جائے گی کیوں کہ یہ غفلت مسلسل ہے۔
خواتین کی عزت اور عفت کے متعلق قوانین:
جھوٹا الزام (خصوصاً عورت کی پاک دامنی کے خلاف) سنگین جرم تھا اور اس پر سخت سزا دی جاتی تھی۔ اگر عورت پر بدکاری کا الزام لگے اور وہ دریا کے امتحان (Trial by Water) سے بے گناہ ثابت ہو جائے تو الزام لگانے والا سزا پاتا تھا۔ زبردستی عورت کو قید یا محفوظ مقام سے لے جانا قتل یا موت کی سزا کے ساتھ جرم تھا۔
بیواؤں اور یتیموں کے تحفظ کے قوانین:
بیوہ کے پاس مہر اور وراثت محفوظ حق ہیں، کوئی رشتہ دار یا شوہر کا خاندان ان حقوق کو چھین نہیں سکتا۔ یتیم کا مال تجارت میں لگانے والے کو عدالت کے سامنے حساب دینا ہو گا۔ یتیم کے مال میں خیانت بڑا جرم تھا اور اس پر بھاری مالی جرمانہ اور سماجی بائیکاٹ لازم تھا۔
معاہدات اور دستاویزی تحریر کے قوانین:
کوئی بھی اقتصادی یا سماجی معاہدہ گواہوں اور تحریری دستاویز کے بغیر معتبر نہیں ہو گا۔ اگر معاہدہ تحریری ہو اور بعد میں کوئی فریق انکار کرے تو دستاویز فیصلہ کن دلیل ہوگی۔ اگر فریقین نے معاہدہ زبانی کیا اور جھگڑا کھڑا ہو گیا تو گواہوں کی گواہی فیصلہ کرے گی۔ اگر گواہ جھوٹی شہادت دے تو وہی سزا اس پر نافذ ہوگی جو ملزم پر عائد ہونے والی تھی۔ یہ قانون انصاف کے توازن کی اعلیٰ مثال ہے۔
کرایہ داری اور خدمات کے قوانین:
کرائے کی زمین کا کرایہ پیداوار کے تناسب سے ادا ہو گا۔ اگر کرایہ دار زمین کی مناسب دیکھ بھال نہ کرے تو نقصان وہ خود پورا کرے گا۔ کرائے کا گھر اگر کرایہ دار کی غفلت سے خراب ہوا تو مرمت کرایہ دار کرے گا۔ اگر گھر قدرتی آفت سے ٹوٹ جائے تو مالک ذمہ دار نہیں۔
اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کے قوانین:
جنگی ہتھیار ریاست کی ملکیت سمجھے جائیں گے۔ فوجی ساز و سامان کو نجی تجارت میں بیچنا یا اسمگل کرنا سنگین جرم تھا۔ اگر فوجی سپاہی جنگ سے بھاگ جائے تو اس کی اعزازی زمین ضبط کر لی جاتی تھی۔ سپاہی کی شہادت کے بعد اس کے خاندان کو راشن اور زمین ریاستی تحفظ کے تحت فراہم کی جاتی تھی۔ یہ قانون شہدا کے خاندان کی سماجی کفالت کا قدیم ترین ثبوت ہے۔
چوری، اغوا اور قید سے متعلق مزید قوانین:
بچے کا اغوا سزائے موت کے درجے کا جرم تھا۔ غلام یا خادمہ کو چوری کے لیے بھڑکانا جرم، جرمانہ اور سزا کا باعث بنتا تھا۔ چور اگر چوری کرتے ہوئے مارا گیا تو اس پر مقتول کا خون بہا واجب نہیں تھا۔ مگر اگر چور پکڑا جائے تو چوری شدہ مال سے دگنی قیمت ادا کرے گا؛ نہ کر سکے تو سخت سزا ہوگی۔
عدالت اور وکلا کے کردار کے قوانین:
مقدمہ کھلی عدالت میں سنا جائے گا، بند کمروں میں نہیں۔ وکیل کا فرض تھا کہ ثبوت اور قانون کی وضاحت پیش کرے؛ جھوٹ پر مبنی وکالت جرم تھی۔ قاضی کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق محدود مگر موجود تھا۔ مگر بلا دلیل اپیل جرم سمجھا جاتا تھا۔
وراثت اور تقسیم جائیداد کے مزید تفصیلی قوانین:
وراثت خاندانی درجہ بندی کے تحت تقسیم ہوگی: پہلے بیٹے، پھر بیٹیاں، پھر بھائی، پھر خاندان کے قریبی مرد۔ بیٹی کو جزوی وراثت مگر مہر کے برابر مالی تحفظ کا حق دیا جاتا تھا۔ اگر وراثت میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ مقامی عدالت کرے گی۔ کسی وارث کو جان بوجھ کر محروم کرنے والا شخص قانوناً مجرم ہو گا۔
پیشہ ور کاریگروں کے قوانین:
لوہار، بڑھئی، معمار، سنار وغیرہ کی اجرت متعین تھی وہ اپنی مرضی کی قیمت نہیں لے سکتے تھے۔ کاریگر اپنی چیز کے عیب چھپانے کا مجرم قرار پاتا تھا۔ اگر لوہار نے ایسا ہتھیار تیار کیا جو لڑائی میں ٹوٹ گیا اور مالک قتل یا زخمی ہو گیا، تو پیشہ ور ذمہ دار ہو گا۔ کاریگر کی ذمہ داری اُس کے کام کے معیار کے برابر تھی۔
تعلیم و تربیت کے قوانین:
استاد کی عزت قانونی طور پر محفوظ تھی۔ شاگرد کا استاد کو گالی دینا یا مارنا جرم تھا۔ استاد شاگرد پر ظلم اور بے جا سزا نہیں دے سکتا تھا؛ ایسا ثابت ہو جانے پر اسے سزا ملتی تھی۔ یہ قانون اس بات کی دلیل ہے کہ حمورابی صرف سخت سزا نہیں بلکہ سماجی توازن کا بھی قائل تھے۔
بعض دیگر قوانین:
اگر کوئی غلام اپنے آقا کی بات نہیں مانتا تو تفتیش کار اسے محل میں لے جا کر اس سے تفتیش کرے اور پھر اسے اس کے آقا کے پاس واپس کرے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا قرض دار ہے، اور اس کی فصل طوفانوں کی زد میں آ جائے، یا ناکام ہو جائے، یا سال بھر میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے نہ بڑھے، تو وہ اپنے قرض خواہ کو اس سال میں کوئی غلہ نہیں دے گا اور نہ ہی کرایہ ادا کرے گا۔ اگر کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرتا ہے اور وہ اس سے بچے پیدا کرتی ہے اور پھر مر جاتی ہے تو اس کا جہیز اس کے بچوں کو جاتا ہے نہ کہ اس کے باپ کو۔ اگر کوئی آدمی دوسرے آدمی کی آنکھ نکالتا ہے تو اس کی آنکھ نکال دی جائے گی۔ اگر کوئی مرد حاملہ عورت کو مارتا ہے، اور اس کے نتیجے میں اس کا جنین ضائع ہو جاتا ہے، تو وہ اس کے نقصان کے معاوضے کے طور پر دس مثقال ادا کرے گا۔ اگر کوئی ڈاکٹر مریض کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کا علاج کرتا ہے تو مریض اسے پانچ شیکل ادا کرے گا۔ یہ قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی ویٹرنری سرجن گدھے یا بیل کا آپریشن کرتا ہے، تو جانور کا مالک سرجن کو علاج کے لیے ایک مثقال کا چھٹا حصہ ادا کرے گا۔
[ماہنامہ اشرفیہ، دسمبر 2025، ص: 29]
