Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: اول)|مہتاب پیامی

جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: اول)
عنوان: جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: اول)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: حیدر علی مدنی

ایمانِ کامل کی عملی تصویر

اسلام کی روح “ایثار” اور “خدمتِ خلق” سے عبارت ہے۔ قرآنِ کریم میں مومنین کی جن صفات کو بلند مرتبہ عطا کیا گیا ہے، اُن میں ایک نمایاں صفت یہ بھی ہے:

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِم| وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ [سورۃ الحشر: 9]

یعنی وہ اپنی حاجت کے باوجود دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مومنین کی جو یہ صفت بیان فرمائی اصل میں یہ ایمان کی پختگی اور انسانیت کی معراج ہے۔ ہمارے آقا و مولا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ [رقم الحديث: 5017]

“قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، یعنی ہر بھلائی۔”

یہ حدیثِ مبارک دراصل صرف اخلاقی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی پیمانہ ہے جس سے کسی کے ایمان کا درجہ پرکھا جا سکتا ہے۔ اس پیمانے پر اگر ہم ماضیِ قریب کے ہندوستانی علما و چنیدہ ہستیوں کو پرکھیں تو یقیناً ان میں جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ کا نام نامی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ بلا شبہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی حدیث کے عملی سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی ذات علم، حلم، زہد اور سخاوت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی زندگی کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ آپ کا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر جذبہ “میں” سے زیادہ “ہم” کے احساس سے معمور تھا۔ آپ نے اپنی ذات کو امت کے لیے وقف کر دیا تھا۔

دنیاوی مال و دولت سے بے نیاز رہتے ہوئے بھی آپ کے دروازے پر ہمیشہ ضرورت مندوں کا ہجوم رہتا۔ نہ کوئی محروم لوٹتا، نہ کسی کو واپس جانے کا دکھ دیا جاتا۔ اپنے آرام، اپنی آسائش، حتیٰ کہ اپنے لباس اور خوراک تک میں آپ نے دوسروں کو مقدم رکھا۔ یہ وہ صفت ہے جو صرف وعظانہ تعلیم سے نہیں بلکہ دل کے ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا طرزِ حیات اس بات کی عملی تفسیر تھا کہ “مومن وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔” آپ کی طبیعت میں دوسروں کو خوش دیکھنے کا ایک فطری ذوق موجود تھا۔ اگر کسی عالمِ دین، طالبِ علمِ دین کے لیے کام کرنے والے کسی رضا کار کو مالی تنگی کا سامنا ہوتا تو آپ حتی المقدور تعاون پیش فرماتے۔ آپ کی حیات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ اپنے لیے خرچ کرنے سے زیادہ دوسروں پر خرچ کرنے میں روحانی لذت و مسرت محسوس کرتے تھے۔

کبھی کسی محتاج کی خبر ملتی تو آپ کی آنکھوں میں خوشی کی ایک خاص چمک پیدا ہوتی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ: “خوشی وہ نہیں جو ہم اپنی ذات کے لیے حاصل کریں، بلکہ وہ ہے جو کسی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر ظاہر ہو۔”

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد جب اُن کے ذاتی کمرے سے ایک پرانی ڈاک کی گٹھری ملی، تو اس نے آپ کے خاموش ایثار کی وہ داستانیں بیان کیں جس کا ذکر تک انہوں نے کبھی کسی سے نہیں کیا تھا۔ اُن خطوط میں ملک بھر کے علما، مدرسین، طلبہ اور خدامِ دین کے شکریے نامے شامل تھے، جن میں انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے اُن کی مالی و اخلاقی مدد فرمائی۔ یہ گٹھری ایک ایسا آئینہ تھی جس میں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے باطنی حسن کی جھلک نظر آتی تھی۔ انہوں نے سخاوت و فیاضی کو کبھی نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوا کہ جن کے لیے خرچ کیا، ان پر بھی ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ کسی کے احسان کے زیرِ سایہ ہیں۔ یہی خلوص، یہی بے غرضی آپ کے اخلاق کا بنیادی ستون تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ [رقم الحديث: 5787]

یعنی سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے اسی نبوی تعلیم کو اپنے دائرۂ عمل کا محور بنایا۔ یقیناً آپ کی پوری زندگی خلوص و للہیت سے مرقع تھی۔ دارالعلوم اشرفیہ کی بنیاد ہو یا طلبہ کے قیام و طعام کا انتظام، فقرا و مساکین کی خبر گیری ہو یا مساجد و مدارس کی تعمیر، ہر شعبے میں آپ نے اپنے وسائل اور اثر و رسوخ کو دین کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔

آپ کے مخلص تلامذہ کا بیان ہے کہ بارہا مدرسے کے اخراجات کے لیے مختص رقم ختم ہو جاتی مگر آپ تعلیم و تعلم پر اثر نہ آنے دیتے اور اکثر اوقات اپنا ذاتی اثاثہ بیچ کر نظامِ تعلیم کو جاری رکھتے۔ کبھی آپ نے کسی ذاتی مفاد کے لیے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کیا، بلکہ جب دوسروں کی ضرورت سامنے آئی تو آپ نے اپنی قلیل جمع پونجی بھی خوشی سے لٹا دی۔

تصوف کے زاویے سے دیکھا جائے تو ایثار دراصل “نفس کے فنا ہونے” کی علامت ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور دوسروں کے لیے جیتا ہے، تو وہ دراصل “محبتِ الہی” کے حقیقی مفہوم کو پالیتا ہے۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ اسی “فنا فی الاخلاق” کے مقام پر فائز تھے۔ ان کے دل میں مخلوقِ خدا کے لیے درد و محبت کا دریا موجزن تھا، خدمتِ خلق کو قربِ الہی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: “اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو تو کسی کی حاجت پوری کر دو۔”

حافظِ ملت علیہ الرحمہ سخاوت کے ساتھ ساتھ سادگی کے بھی بے مثال تھے۔ آپ کے کپڑے عام کپڑے تھے، خوراک عام لوگوں جیسی، مگر دل میں شاہانہ سخاوت تھی۔ آپ کے خدام نے بیان کیا کہ اکثر آپ اپنی چادر کسی غریب طالبِ علم یا مسافر کو دے دیتے اور خود پرانی اوڑھ لیتے۔ کبھی کسی نعمت کو اپنی ملکیت نہیں سمجھا۔ فرمایا کرتے تھے: “یہ سب کچھ اللہ کا ہے، ہم تو صرف اس کے امین ہیں۔”

یہ طرزِ فکر دراصل اسلامی معاشرت کا وہ گمشدہ جوہر ہے جو سماجی عدل و محبت کی بنیاد بنتا ہے۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے اس جوہر کو اپنی زندگی میں زندہ رکھا۔ ان کا یہ جذبہ صرف فردی عمل نہیں تھا بلکہ ایک سماجی تحریک کی بنیاد بھی تھا۔ انہوں نے اپنے شاگردوں اور مریدوں کو بھی یہ گوہرِ نایاب دیا کہ “خدمتِ دین” کا مطلب صرف تدریس نہیں، بلکہ عوام و خواص کی فلاح کا ہر ممکن ذریعہ اختیار کرنا ہے۔

دنیا کے تعلیمی اور روحانی نظاموں میں استاد اور شاگرد کے تعلق کی نوعیت ہمیشہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مگر جب ہم حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی سیرت کے آئینے میں اس تعلق کو دیکھتے ہیں تو وہ عام معلم اور متعلم کے رشتے سے بہت آگے بڑھ کر ایک پدرانہ اور روحانی نظامِ تربیت کی صورت نظر آتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اسلامی تعلیم کا جوہر صرف علم کا حصول نہیں بلکہ انسان کی مکمل تربیت ہے۔ قرآنِ مجید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصدِ بعثت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ [سورۃ البقرة: 129]

ترجمہ: “انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے”

اسی قرآنی معیار کو اگر کسی نے برصغیر کے علمی ماحول میں حقیقی رنگ دیا تو وہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ تھے۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ذہن کی غذا نہیں بلکہ روح کی طہارت کا ذریعہ بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حافظِ ملت کا نظامِ تدریس روایتی حلقے سے آگے بڑھ کر “تربیتِ انسانیت” کا ایک جامع ادارہ بن گیا تھا۔

رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے جو تبصرہ کیا ہے، وہ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی شخصیت کا نہایت گہرا تجزیہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ عام طور پر استاد و شاگرد کا رشتہ حلقۂ درس تک محدود ہوتا ہے، مگر حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے یہاں یہ دائرہ پورے انسانی وجود کو محیط تھا۔ شاگرد ان کے پاس محض کتابیں پڑھنے نہیں آتا تھا، بلکہ اپنی پوری زندگی کی سمت متعین کرنے آتا تھا۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا طرزِ تعلیم اس بات کا مظہر تھا کہ وہ علم کو زندگی کے عمل سے جوڑتے تھے۔ اگر شاگرد درس میں ہوتا تو آپ اس کے علمی شعور کی آبیاری کرتے، اگر وہ مجلس میں بیٹھتا تو اخلاق و آداب کی تربیت دیتے، اگر بیمار ہوتا تو روحانی علاج کرتے، اگر تنگدست ہوتا تو مالی مدد کرتے، اگر فارغ التحصیل ہوتا تو روزگار دلانے تک ساتھ دیتے، اور شادی بیاہ، گھریلو مسائل یا معاشرتی الجھنوں میں بھی ایک مشفق اور مہربان باپ کی طرح مشورہ اور معاونت فرماتے۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا امتیاز ہے کہ آپ کے درس گاہ سے نکلنے والے طلبہ نہ صرف علم میں ممتاز ہوتے تھے بلکہ اخلاق, تہذیب, اور خدمتِ خلق کے عملی نمونے بھی تھے۔ اکثر اپنے مخصوص انداز میں فرماتے “علم بغیر عمل کے بے روح ہے، اور عمل بغیر اخلاق کے بے اثر”، یہی وجہ تھی کہ شاگردوں کو محض عبارت خوانی نہیں سکھاتے تھے بلکہ ان کے دلوں میں دینی حمیت، اخلاقی غیرت، اور انسانی محبت کے چراغ روشن کرتے تھے۔ ان کے طرزِ تربیت کے چند پہلو جو علامہ ارشد القادری کی تحریروں سے ابھر اور نکھر کر سامنے آتے ہیں، درج ذیل ہیں:

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کتاب پڑھاتے وقت طلبہ کے مزاج، فہم اور روحانی کیفیت پر بھی نگ نگاہ رکھتے۔ وہ فرماتے تھے: “کتاب کو پڑھانا آسان ہے، مگر دلوں کو پڑھنا استاد کا اصل کمال ہے۔”

اگر کوئی شاگرد درس سے باہر غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتا تو آپ خاموشی سے اصلاح فرماتے، نصیحت میں سختی نہیں بلکہ محبت کا لہجہ اختیار کرتے تاکہ شاگرد ندامت کے بجائے شعورِ اصلاح سے بہرہ مند ہو۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ روحانی و جسمانی علاج کے بھی ماہر تھے، طلبہ اگر بیمار ہوتے تو آپ خود تیمارداری فرماتے۔ بعض اوقات قرآن کی آیات سے تعویذ لکھ کر دیتے، اور فرماتے: “قرآن دوا بھی ہے، دعا بھی۔”

آپ کے پاس کوئی طالبِ علم مالی تنگی میں آتا تو آپ اپنا ذاتی خرچ روک کر اس کی مدد کرتے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے کئی غریب طلبہ کو عالمِ دین بنایا، اور ان کے ذریعے ملک بھر میں علم کے چراغ روشن ہوئے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!