Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: دوم)|مہتاب پیامی

جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: دوم)
عنوان: جلالۃ العلم حضور حافظ ملت (قسط: دوم)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: حیدر علی مدنی

ان کی نگاہِ شاگرد پر اس وقت بھی رہتی جب وہ فارغ التحصیل ہو کر کسی مدرسے یا علاقے میں خدمت پر مامور ہوتا۔ اگر کسی کو تدریسی یا معاشی دشواری پیش آتی تو حافظِ ملت علیہ الرحمہ فوراً اس کی خبر گیری کرتے، مشورہ دیتے، اور عملی مدد فراہم کرتے۔

اصل میں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی تربیت محض ادارہ جاتی نہیں بلکہ روحانی تزکیہ پر مبنی تھی، ان کا ماننا تھا کہ علم کے دروازے کھولنے سے پہلے دل کے دروازے کھولنا ضروری ہیں، اسی لیے وہ شاگردوں کے ساتھ تزکیۂ نفس، مراقبہ، ذکر، اور خدمتِ خلق کو بھی تربیت کا حصہ بناتے تھے۔

علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے بقول، حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا طرزِ تربیت ایسا تھا کہ پوری درس گاہ ان کے قلب و نظر کے دائرے میں سمائی ہوئی تھی، ہر شاگرد کو محض کسی درخت کی شاخ نہیں بلکہ ایک مکمل باغ سمجھتے تھے جس کی نشو و نما ان کی ذمہ داری تھی، اسی وصف نے انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز بنایا۔ دوسرے اساتذہ تو صرف درس تک محدود رہتے تھے، لیکن حافظِ ملت علیہ الرحمہ زندگیوں کو بناتے تھے، اسی لیے ان کی درس گاہ سے نکلنے والا ہر شاگرد ایک جیتی جاگتی درسِ کتاب اور خدمتِ دین کا علمبردار بن کر نکلا۔

آج جب تعلیم کا مقصد صرف حصولِ معاش تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی سیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ “اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے۔” آپ کا تربیتی فلسفہ جدید دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل ہے جس میں علم، اخلاق، روحانیت، اور سماجی ذمہ داری کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اگر موجودہ مدارس اور جامعات حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے اس ماڈل کو اپنائیں تو یقیناً نئی نسل میں نہ صرف علم کا ذوق بیدار ہوگا بلکہ اخلاق و خدمت کا جذبہ بھی پروان چڑھے گا۔

اللہ کے مقرب بندوں کی زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہوتی ہے کہ ایمان صرف لفظوں کا نہیں بلکہ اعمال اور استقامت کا نام ہے۔ یہ استقامت اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب انسان سہولیات سے محروم، بیماری میں مبتلا، یا آرام کے مواقع سے دور ہو، یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایمان کی اصل چمک ظاہر ہوتی ہے، اور یہی چمک ہمیں حافظِ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ کی حیاتِ طیبہ میں بدرجۂ اتم نظر آتی ہے۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، علمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت، اور سنیت کی آبیاری کے لیے وقف تھی۔ آپ کے اوقاتِ درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تبلیغ و اصلاح، اور تربیت و تنظیم کے کاموں میں گزرتے۔ مسلسل محنت، قلیل آرام، اور غیر معمولی مشغولیت آخرِ کار آپ کے جسمِ نازنین کو بیماری کی طرف لے گئی، لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی بیماری آپ کے عزم و ارادہ کو مضمحل نہ کر سکی۔ ڈاکٹروں نے سختی سے آرام کا حکم دیا، مگر آپ کے لیے آرام کا مفہوم کچھ اور تھا، فرماتے تھے:

“آرام مجھے اس وقت ملتا ہے جب دل کو اطمینان ہو کہ کوئی طالبِ علم بغیر سبق کے واپس نہیں گیا، اور کوئی دینی ضرورت بغیر جواب کے نہیں رہی۔”

یہ جذبۂ خدمتِ دینِ متین آپ کے وجود کا سرمایہ اور آپ کی بیماری میں بھی قوت کا سرچشمہ تھا۔

جب بیماری نے شدت اختیار کی تو وہ لمحے اطاعت اور محبتِ الٰہی کا امتحان تھے۔ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے نہ شکایت کی، نہ غم کا اظہار، بلکہ ہر تکلیف پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کیا۔ تلامذہ بیان کرتے ہیں کہ “جب بھی ہم تیمارداری کے لیے حاضر ہوتے تو آپ کے چہرے پر تبسم ہوتا اور زبان پر الحمد لله۔”

بیماری کی شدت میں اہلِ خاندان نے التجا کی کہ: “حضور! اس رمضان میں روزے چھوڑ دیجیے، بیماری بڑھ جائے گی، کمزوری لاحق ہو چکی ہے۔” مگر آپ نے فرمایا: “زندگی اور صحت دونوں اللہ کی عطا ہیں۔ جب تک ہوش ہے، میں اس فرض کو ترک نہیں کروں گا۔”

اس طرح آپ نے رمضان المبارک کے پورے مہینے میں ایک دن کا بھی روزہ قضا نہ کیا۔ بلکہ کمال تو یہ کہ اسی حالت میں تراویح میں قرآنِ کریم کا ختم بھی فرمایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک عبادت صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ روحانی عہد ہے، جو بیماری یا آرام سے مشروط نہیں بلکہ ایمان سے وابستہ ہے۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ بیماری کے باوجود بھی نماز باجماعت کے لیے اہتمام کرتے، اگر کبھی ضعف کی شدت سے مسجد تک نہ جا سکتے تو مکان پر باجماعت نماز قائم فرماتے۔ فرائض کی ادائیگی میں ان کی احتیاط اس قدر تھی کہ اگر کسی عمل کے ترک کا اندیشہ ہوتا تو آپ قلبی اضطراب محسوس کرتے۔ ان کی عبادت میں محض رسم نہیں بلکہ عشق و شعور تھا۔ جب کوئی شاگرد یہ کہتا کہ “حضور! کچھ دیر آرام فرما لیجیے۔” تو آپ فرماتے: “عبدالعزیز کا آرام عبادت میں ہے، غفلت میں نہیں۔”

یہی کیفیت دراصل عشقِ عبادت ہے، اس کیفیت میں بندہ جسمانی راحت کے مقابلے میں روحانی راحت کو ترجیح دیتا ہے اور یہی وہ درجہ ہے جسے عرفانِ الٰہی کی منازل میں “عبادت فی المحبۃ” کہا جاتا ہے، یعنی وہ عبادت جو محض محبت کے جذبے سے ادا کی جائے، نہ کہ عادت یا مجبوری سے۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے: “جو بندہ بیماری میں عبادت کرتا ہے، وہ صحت میں بھی اللہ کی رحمت کے سائے میں ہوتا ہے۔”

آپ کی اس استقامت نے شاگردوں اور معتقدین پر گہرا اثر چھوڑا، وہ دیکھتے تھے کہ ایک بزرگ، جس کے جسم میں ضعف ہے، پھر بھی عبادت، تدریس اور خدمتِ دین سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ منظر ان کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دیتا۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا یہ طرزِ عمل دراصل اس سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا تسلسل تھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت بیماری کے باوجود عبادت اور امت کی خبر گیری جاری رکھی، اور فرمایا:

اَلصَّلَاةَ اَلصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ

“نماز! نماز! اور اپنے ماتحتوں کے حقوق کا خیال رکھو۔”

حافظِ ملت علیہ الرحمہ اس پیغام کے عملی مظہر تھے۔ آپ نے بیماری میں بھی عبادت، روزہ، قرآن، اور خدمتِ دین کو ترک نہ کیا۔ ان کی سیرت اس حقیقت کا اعلان کرتی ہے کہ “بیماری بندگی کا عذر نہیں، بلکہ بندگی کا امتحان ہے۔”

اگر ہم حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی اس کیفیت کو روحانی تناظر میں دیکھیں تو یہ دراصل “رضائے الٰہی” کے مفہوم کی عملی تصویر ہے، جب بندہ اپنے رب کی رضا پر راضی ہو جائے تو جسم کی کمزوری بھی عبادت میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ یہ “مقامِ صبرِ جمیل” اور “موضعِ عبادتِ خالصہ” ہے، جہاں بندہ صرف خدا کے لیے جیتا اور عبادت کرتا ہے، خواہ حالات کیسے بھی ہوں۔

غرض حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو امت کے لیے ایک زندہ سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان کی حیاتِ طیبہ سے حاصل ہونے والے درس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!