Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جلوۂ محبت | رضی امجدی

جلوۂ محبت
عنوان: جلوۂ محبت
تحریر: مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا
پیش کش: لباب اکیڈمی

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الْمَحَبَّةُ سُكْرٌ لَا يُصْحَى مِنْهُ إِلَّا بِمُشَاهَدَةِ الْمَحْبُوبِ.

ترجمہ: محبت ایک ایسا سرور اور مخموری ہے جس کی بیداری اور ہوشیاری مشاہدۂ محبوب کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

محبت وہ آتش فشاں ہے جسے محض وصال کے آبِ نایاب سے ہی سرد کیا جا سکتا ہے، اس کی تمام تر تشنگی کا حل فقط وصالِ یار ہے۔

تقاضا عشق کا کیا ہے؟
فقط دیدِ رخِ جاناں

محبت سوز ہے، محبت ساز ہے، محبت تپش ہے، محبت راز ہے، محبت جذب ہے، محبت آغاز ہے، محبت وجد ہے، محبت اعجاز ہے، محبت رقص ہے، پرواز ہے، محبت عکس ہے، محبت دمساز ہے۔

محبت کی حقیقت بس اتنی سی ہے کہ جب ایک چہرہ نظر میں آتا ہے تو تمام نظاروں میں رنگ بھر دیتا ہے۔ تمام مناظرِ فطرت میں محض محبوب ہی کے جلوے رقصاں نظر آتے ہیں، ہر طرف حسن ہی حسن دکھائی دیتا ہے، ہر شے میں اسی کا عکس، اسی کا نقش اور اسی کا رقص جلوہ نما ہوتا ہے۔ ہر گراں مایہ اور بیش قدر شے محبوب کے قدموں کی خاک معلوم ہوتی ہے۔ دل میں انگڑائیاں لیتی ہر آرزو اور ہر تمنا کی رہگزر محبوب ہی کی سمت گامزن ہوتی ہے۔

محبت سے آشنا قلب کو اپنے وجود میں مخفی کائنات کی وسعتوں اور نیرنگیوں کا ادراک ہوتا ہے۔ ہر شے میں محبوب کا جلوہ اور ہر جلوے میں محبوب ہی کا حسن نظر آتا ہے۔

اور دل کی زبان یوں گویا ہوتی ہے:

مری آن بھی تو، مرا مان بھی تو
مرا عشق بھی تو، پہچان بھی تو

مرا عکس بھی تو، مرا نقش بھی تو
مرے تن اور من کا رقص بھی تو

محبوب آنکھوں کا نور، دل کا سرور اور قرطاسِ روح پر مسطور ہوتا ہے۔

اس کا فراق بینائی چھین لیتا ہے۔ اور اس کا وصال بینائی سے سرفراز کرتا ہے۔ اپنی چاہت و محبت کا چہرہ نہ رہے تو بینائی کیا بینائی ہے۔

اس کا قرب مایۂ قرار اور اس کی موجودگی باعثِ بہار ہے۔ رعنائیِ خیال بھی محبوب ہی کی دَین ہے۔ محبوب شعر آشنا، سکوت آشنا اور حقیقت آشنا بناتا ہے۔ وہ محب کو باطنی وجود کی آگہی عطا کرتا ہے۔ اس کے عشق میں ماورائی خود رفتگی و شیفتگی محب کا کامل اثاثہ ہوتی ہے۔ اور اس کا والہانہ پن اس کا کل سرمایہ بن جاتا ہے۔

محبوب کی ذات ہی محب کے لیے کل کائنات ہوتی ہے۔ وہ ماسوا کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا، اس کی تنہائیوں میں بھی ہجوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہجوم میں ہو کر بھی تنہا ہوتا ہے۔ گویا محبت وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے۔

وہ سکوت سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں سراپا گفتار ہوتی ہیں اور اس کا وجود محبوب کے جلووں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

بقول شاعر:

عَاشِقِي چِيسْت، بِگُو بَنْدَهِ جَانَان بُودَن
دِل بَدَسْتِ دِگَرِے دَادَن وَحَيْرَان بُودَن

ترجمہ: عاشقی کیا ہے؟ بس محبوب کا غلام اور بندہ ہو جانا، اور اپنا دل کسی اور کے ہاتھ میں سونپ کر خود حیران و پریشان رہ جانا۔

عشقِ صادق کی تصویر کشی کرتے ہوئے کسی دانا نے کوزے میں بحرِ بیکراں کو سمیٹ دیا ہے۔

فرماتے ہیں:

فَإِذَا تَجَاوَزَ الْعِشْقُ حَدَّ التَّمَكُّنِ، وَاسْتَبَدَّ بِالْقَلْبِ اسْتِبْدَادًا، عَمِيَتِ الْبَصِيرَةُ، وَذَابَتِ النَّفْسُ، فَلَا يَمْلِكُ الدَّوَاءَ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ. وَالْعَاشِقُ فِي هَذِهِ الْحَالِ لَا يَعْرِفُ طَعْمًا لِلرَّاحَةِ، فَإِنْ حَضَرَ الْحَبِيبُ، اضْطَرَبَ خَوْفًا مِنْ فِرَاقِهِ، وَإِنْ غَابَ، قَتَلَهُ لَهِيبُ الشَّوْقِ وَمَزَّقَ أَوْصَالَهُ الْحَنِينُ.

ترجمہ: محبت حد سے بڑھ کر دل پر قبضہ کر لے تو، بینائی اندھی ہو جاتی ہے، اور روح پگھلتی رہتی ہے۔ اللہ کے سوا کسی کے پاس علاج نہیں۔ اس صورت میں عاشق کو سکون کا ذائقہ معلوم نہیں ہوتا۔ محبوب موجود ہو تو اس سے جدائی کے خوف سے پریشان ہو جاتا ہے۔ اگر وہ غائب ہو تو آرزو کے شعلے اسے مار ڈالتے ہیں اور پرانی یادیں اس کے اعضاء کو چیر دیتی ہیں۔

اور بقول شاعر:

عشق بازی جان بازی ہے حبیب
پاتے ہیں کیا کیا دل بسمل میں ہم

محبت تو چنیدہ نفوس ہی کا مقدر ہے یہ ہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں۔ یہ گل پر بلبل کی فغاں، شمع پر پروانے کی وارفتگی، سمندر بننے کی تڑپ میں دریاؤں کا اضطراب، افلاک پر ستاروں کی گردش، عنادل کے نغمے، چکور کی صدا، رمِ آہو، مور کا رقص، یہ سب عشق کی کرشمہ سازیاں ہیں۔

عشق فنا کا دوسرا نام ہے۔ وہی عشق کامل ہے جس میں انسان خودی کو فنا کر کے جلوۂ یار میں مدغم و محو ہو جائے۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الْمَحَبَّةُ دُخُولُ صِفَاتِ الْمَحْبُوبِ عَلَى بَدَلِ صِفَاتِ الْمُحِبِّ.

ترجمہ: محبت نام ہے محب کی صفات کا محبوب کی صفات میں اس طرح مدغم ہو جانا کہ محب کا اپنا وجود مٹ جائے۔

محبوب تو وہ ہے جو جلوہ بن کر دل سے گزرتا ہے، اشک بن کر آنکھوں سے ٹپکتا ہے۔ اور اضطراب بن کر دل کے گوشوں میں رقصاں رہتا ہے۔ محبوب کی جانب سے ملنے والا درد و کرب بھی سکون بخشتا ہے۔ آنکھیں اشکبار بھی ہوں تو دل مطمئن رہتا ہے۔

اور محب کی یہی وارفتہ مزاجی غالب کے اس سحر انگیز شعر کی سچی تصویر بن کر ابھرتی ہے:

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

یہ تو احوالِ محبت کی وہ جلوہ گری ہے جو قلبِ انسانی کو وارفتگیِ مجاز سے آشنا کرتی ہے۔ لیکن یہی محبت جب اپنی ارتقائی منازل طے کر کے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے تو عشقِ حقیقی کا روپ دھار کر بندے کو ذاتِ الٰہی میں فنا کر دیتی ہے۔

اسرارِ عشقِ حقیقی کو وا کرتے ہوئے کسی صوفی باصفا نے جو رقم طرازی کی ہے وہ لائقِ دید بھی ہے اور لائقِ داد بھی۔

رقم طراز ہیں:

نَمِي دَانَمْ كِه آخِر چُوں دَمِ دِيدَار مِي رَقْصَمْ
مَگَر نَازَمْ بِه اِیں ذَوْقے كِه پِيشِ يَار مِي رَقْصَمْ

بِيَا جَانَان تَمَاشَه كُن كِه دَر أَنْبُوهِ جَانْبَازَاں
بِه صَد سَامَانِ رُسْوَائِي سَرِ بَازَار مِي رَقْصَمْ

ترجمہ: میں اس رمز سے قطعی بے خبر ہوں کہ جلوۂ یار کے اس والہانہ لمحے میں، میں کیوں سراپا رقص ہوں؟ البتہ مجھے اپنے اس ذوقِ بیداد پر ناز ہے کہ میں اپنے یارِ دلنواز کے حضور محوِ رقص ہوں۔

اے جانِ جہاں! ذرا جلوہ فرما ہو کر اس منظر کی دید تو کر کہ تیرے عشق میں سر دھڑ کی بازی لگانے والوں کے اس ہجومِ عشاق میں، میں رسوائی کے تمام تر ساز و سامان کے ساتھ سرِ بازار رقصِ بسمل میں مصروف ہوں۔

عشقِ حقیقی کے سرِّ نہاں کو آشکار و عیاں کرتے ہوئے شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَلَا تَنْظُرُ الْعَيْنُ إِلَّا إِلَيْهِ
وَلَا يَقَعُ الْحُكْمُ إِلَّا عَلَيْهِ

نَحْنُ لَهُ وَبِهِ فِي يَدَيْهِ
وَفِي كُلِّ حَالٍ فَأَنَا لَدَيْهِ

ترجمہ: چشمِ بینا بجز اس کے جلوے کے کسی اور پر نگاہ نہیں ڈالتی، اور حکم و قضا کی ہر کارفرمائی کا منتہیٰ صرف اسی کی ذاتِ والا ہے۔

ہم اسی کے ہیں، اسی کے سہارے قائم ہیں اور اسی کے دستِ قدرت میں اسیر ہیں اور ہر حال اور ہر کیفیت میں ہم اسی کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہیں۔

اللہ جل و علا سے تجلیِ شہودی کی طلبگار:

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!