Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

جامع ازہر مصر اور تین طلاق | مولانا منیف عالم رضوی

جامع ازہر مصر اور تین طلاق
عنوان: جامع ازہر مصر اور تین طلاق
تحریر: مولانا منیف عالم رضوی
پیش کش: سلطانی رضویہ

گلہائے رنگا رنگ سے زینت چمن کی ہے
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

ایک مجلس میں تین طلاق، شریعت اسلامیہ میں تین طلاق قرار پاتی ہے۔ اس اسلامی قانون کو مسترد کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ داخل کیا تھا۔ ماہ مئی 2017ء میں سپریم کورٹ کو اس پر اپنا آخری فیصلہ سنانا ہے۔ مرکزی حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس حکم شرعی کو منسوخ کر دیا جائے۔ حالانکہ اسلامی قوانین وہی ہیں جو قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ کسی عدالت یا کسی حکومت کے منسوخ کر دینے سے وہ خداوندی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔ مرکزی حکومت کا یہ اقدام “مسلم پرسنل لا” میں صریح مداخلت ہے۔ جب کہ دستور ہند میں ہر مذہب کا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے اور ہر اہل مذہب کو اپنے مذہبی قوانین پر عمل کی اجازت ہے۔ مسلمانوں اور خاص کر علمائے کرام کو چاہیے کہ اس موقع پر اسلامی نظریات کو شرعی اور عقلی دلائل سے مزین کر کے حکومت ہند کے سامنے پیش کریں، تاکہ شریعت اسلامیہ کا تحفظ ہو سکے۔ ورنہ رفتہ رفتہ حکومت، ملک ہند میں یکساں سول کوڈ نافذ کر دے گی۔ یکساں سول کوڈ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہندوستان میں آباد تمام اہل مذاہب کے لیے مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ہندوستان ایک کثیر ثقافتی ملک ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ مسلم سلاطین کے عہد میں بھی ہر اہل مذہب اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتے تھے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ممانعت کا حکم جاری نہ کیا گیا۔ آج کی جمہوری حکومت کو بھی ماضی کی تاریخ اور ریکارڈ کے مطابق ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اصلاح کے نام پر افساد کی کوشش نہ کی جائے۔ شاہ بانو کیس کے معاملے میں بھی اسلامی اصول و قوانین کا لحاظ نہ کیا گیا۔ طلاق ثلاثہ سے متعلق ذیل میں چند احادیث طیبہ رقم کی جاتی ہیں۔

  1. حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت قیس سے کہا، آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بتائیں۔ انہوں نے کہا میرے شوہر نے یمن کے لیے (گھر سے) نکلتے وقت تین طلاقیں دے دیں تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ [سنن ابن ماجه، باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد، رقم الحديث: 2024، ج: 1، ص: 652، دار احیاء الکتب العربیہ بیروت]

  2. جب امیر المؤمنین حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور لوگوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو آپ کی بیوی حضرت عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ نے آپ کو امیرالمؤمنین بننے کی مبارک باد دی۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امیر المؤمنین حضرت علی کے قتل کی مصیبت ہے اور تم خوشی کا اظہار کر رہی ہو، اور مبارک باد دے رہی ہو۔

    اِذْهَبِيْ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا

    جاؤ، تمہیں تین طلاق ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا، میں نے تو اچھے ارادے سے کہا تھا اور زینت و آرائش چھوڑ دی اور عدت میں بیٹھ گئیں۔ حضرت امام حسن نے دس ہزار درہم بطور نفع و احسان اور باقی رقم مہر کی بھیجی۔ جب یہ مال ان کو ملا تو بولیں:

    مَتَاعٌ قَلِيْلٌ مِنْ حَبِيْبٍ مُفَارِقٍ

    یہ مال حبیب کی جدائی اور فراق کے مقابلے میں کس قدر حقیر و قلیل ہے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ وہ آپ کی جدائی و فراق میں بہت روتی ہیں تو آپ بھی رو پڑے اور فرمایا:

    لَوْلَا أَنِّيْ سَمِعْتُ جَدِّيْ، أَوْ حَدَّثَنِيْ أَبِيْ أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّيْ يَقُوْلُ: أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا مُبْهَمَةً، أَوْ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، لَرَاجَعْتُهَا [سنن الدارقطني، ج: 4، ص: 30، السنن الكبرى للبيهقي، ج: 7، ص: 337]

    یعنی اگر میں نے اپنے جد امجد سے نہ سنا ہوتا یا فرمایا، میرے والد ماجد نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی آدمی اپنی عورت کو ایک دم تین طلاق یا الگ الگ تین طلاق تین طہر میں دے تو اس کی عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے (اگر یہ حکم نہ ہوتا) تو میں ضرور رجوع کر لیتا۔ مذہب اسلام کے چاروں فقہائے مجتہدین یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم کے یہاں ایک مجلس کی تین طلاق نافذ ہو جاتی ہے اور تین طلاق واقع ہوتی ہے۔ اب اگر اسی شوہر سے نکاح کا ارادہ ہو تو حلالہ کی ضرورت ہوگی۔ عہد حاضر میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں، رسالے، مضامین و مقالات تحریر کیے گئے ہیں، تفصیل کے لیے ان کی طرف رجوع کیا جائے۔

جب ہندوستانی سپریم کورٹ میں تین طلاق کا مسئلہ زیر بحث آیا تو پورے عالم اسلام میں ایک تشویش ناک ماحول پیدا ہو گیا۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی ماہ فروری 2017ء میں زبانی طلاق میں اصلاح کی تجویز پیش کی۔ جامع ازہر مصر کے اکابر علمائے کرام نے صدر عبدالفتاح کی تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ زبانی طلاق کا معاملہ عہد رسالت سے غیر متنازع ہے۔ ایک مجلس میں تین طلاق، تین ہی واقع ہوتی ہے۔ اس پر مجتہدین اربعہ، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین کا اتفاق ہے۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ حرانی نے اجماع کے خلاف قول کیا، جسے امت مسلمہ نے تسلیم نہ کیا۔ آج بھی بعض لوگ ابن تیمیہ کی پیروی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جمہور مسلمین کا مذہب یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق، تین ہی واقع ہوتی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین، صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے۔ جمہوری نظام میں اکثریت ہی کا قول قبول کیا جاتا ہے۔ الیکشن کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ جس جانب اکثریت جائے، اسی کو قبول کیا جائے۔ ہندوستان بھی ایک جمہوری ملک ہے۔ امید ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ بھی جمہور مسلمین کے مذہب کے موافق ہی اپنا فیصلہ صادر کرے۔ یہ طلاق کا مسئلہ قوم مسلم کا داخلی و عائلی مسئلہ ہے۔

واللہ اعلم بالصواب [ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی، ص: 44، 45، اپریل 2017ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!