| عنوان: | سنی کون ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
(1)
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ [سورۃ الروم: 30]
ترجمہ: تو اپنا منہ سیدھا کر اللہ کی اطاعت کے لیے، اکیلے اسی کے ہو کر، اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔ [کنزالایمان]
(2)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ [السنن الكبرى للبيهقي، ج: 6، ص: 203]
ترجمہ: ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔
(3)
مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ حَتَّى يُعْرِبَ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ [صحيح ابن حبان، ج: 1، ص: 321؛ المعجم الكبير للطبراني، ج: 1، ص: 353؛ المختارة للضياء المقدسي، ج: 2، ص: 201؛ معرفة الآثار والسنن، ج: 11، ص: 391؛ حلية الأولياء، ج: 9، ص: 26]
ترجمہ: ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ بولنے لگے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
(4) امام ابوالقاسم لالکائی شافعی رحمہ اللہ (م 418ھ) نے لکھا:
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لِرَجُلٍ وَسَأَلَهُ عَنِ الْأَهْوَاءِ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِدِينِ الصَّبِيِّ الَّذِي فِي الْكِتَابِ وَالْأَعْرَابِيِّ، وَالْهَ عَمَّا سِوَاهُمَا [شرح أصول اعتقاد أهل السنة، ج: 9، ص: 6]
ترجمہ: خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنه (99-101ھ) نے اس آدمی سے فرمایا جس نے ان سے بدعتوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ نے فرمایا: تجھے اس بچے کا مذہب اختیار کرنا ہے جس کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، اور دیہاتی کے مذہب کو اختیار کرو، اور ان دونوں کے علاوہ سے غافل ہو جاؤ۔
(5) قوام السنہ حافظ ابوالقاسم اسماعیل بن محمد بن فضل جوزی اصبہانی رحمہ اللہ (457ھ - 535ھ) نے تحریر فرمایا:
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لِرَجُلٍ وَسَأَلَهُ عَنِ الْأَهْوَاءِ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِدِينِ الصَّبِيِّ الَّذِي فِي الْكِتَابِ وَالْأَعْرَابِيِّ، وَالْهَ عَمَّا سِوَاهُ. قَالَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ فِي تَفْسِيرِ السَّوَادِ الْأَعْظَمِ، فَقَالَ: هُوَ بِحَمْدِ اللَّهِ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالصَّبِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ وَالْجَمَاعَةُ، يَعْنِي هَؤُلَاءِ لَا يَعْرِفُونَ إِلَّا الْإِسْلَامَ [الترغيب والترهيب، ج: 1، ص: 531]
ترجمہ: خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنه نے اس آدمی سے فرمایا جس نے ان سے بدعتوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ نے فرمایا: تجھے اس بچے کا مذہب اختیار کرنا ہے جس کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، اور اعرابی کے مذہب کو اختیار کرو، اور ان دونوں کے علاوہ سے غافل ہو جاؤ۔ عمرو بن قیس نے “سوادِ اعظم” کی تفسیر میں فرمایا: بحمد اللہ تعالیٰ سوادِ اعظم وہ ہے جس پر عورت، بچہ، اعرابی اور جماعتِ مسلمین ہیں، یعنی یہ لوگ صرف اسلام کو جانتے ہیں۔
توضیح
بچہ، عورت اور دیہات کے رہنے والے مسلمانوں کو صرف اجمالی طور پر اسلام کی معرفت ہوتی ہے۔ نہ یہ لوگ گمراہوں کے عقائد سے واقف ہوتے ہیں، نہ ہی ان عقائد کو مانتے ہیں، پس ایسے لوگ اہل سنت و جماعت میں شمار کیے جائیں گے۔ اسی طرح وہ لوگ اہل سنت میں شمار ہوں گے، جو گمراہوں کے عقائد جانتے ہیں، لیکن ان عقائد کو مانتے نہیں، جیسے اہل سنت و جماعت کا تعلیم یافتہ طبقہ، پس ان دونوں طبقوں کا شمار اہل سنت و جماعت میں ہوگا، یعنی ایک وہ طبقہ جو خلاف اسلام و خلاف اہل سنت عقائد و نظریات سے واقف ہی نہیں، جیسے مسلمان بچہ، مسلمان عورت اور دیہاتی مسلمان، دوسرے وہ طبقہ جو خلاف اسلام اور خلاف اہل سنت عقائد سے واقف ہے، لیکن ان عقائد کو مانتا نہیں، جیسے تعلیم یافتہ سنی مسلمان۔
کافروں میں اس کا شمار ہوگا جو خلاف اسلام کوئی عقیدہ رکھتا ہو، اور گمراہوں میں اس کا شمار ہوگا جو خلاف اہل سنت کوئی عقیدہ رکھتا ہو۔ اگر بچہ یا عورت یا دیہاتی خلاف اسلام کوئی عقیدہ رکھے تو اہل اسلام میں اس کا شمار بھی نہ ہوگا، اور اگر خلاف اہل سنت کوئی عقیدہ رکھے تو اس کا شمار اہل سنت میں نہ ہوگا۔ مذہب اسلام کے خلاف کوئی ایک عقیدہ رکھے تو اسلام سے خارج ہو جائے گا، اسی طرح مذہب اہل سنت کے خلاف کوئی ایک عقیدہ بھی رکھے تو مذہب اہل سنت و جماعت سے خارج ہو جائے گا۔
عقائد دو حصوں میں منقسم ہیں: (1) ضروریاتِ اسلام (2) ضروریاتِ اہل سنت و جماعت۔
ضروریاتِ دین میں سے کسی امر کا انکار اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ ضروریاتِ اہل سنت میں سے کسی کا انکار سنیت سے خارج کر دیتا ہے۔ تفصیل “البرکات النبویہ فی الاحکام الشرعیہ” میں ہے۔ بعض امور کی وضاحت کے لیے “البرکات النبویہ” کی بعض عبارتیں مرقومہ ذیل ہیں۔
