Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کیا سچ میں بیویاں مردوں کے لیے کھیتی ہیں؟|محمد اسماعیل ازہری

کیا سچ میں بیویاں مردوں کے لیے کھیتی ہیں؟
عنوان: کیا سچ میں بیویاں مردوں کے لیے کھیتی ہیں؟
تحریر: محمد اسماعیل ازہری
پیش کش: شفا اسماعیل
منجانب: امام ماتریدی انسٹی ٹیوٹ، مالیگاؤں

میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ اعتراض آج کل خوب کیا جارہا ہے کہ قرآن میں عورتوں کی جابجا توہین کی گئی ہے، عورتوں کی اہمیت قرآن کی نظر میں بس اتنی ہے کہ وہ مردوں کی کھیتی ہیں، وہ جب چاہیں، جیسے چاہیں، منھ اٹھا کر اس میں گھس آئیں، چاہے اس میں عورتوں کی مرضی ہو یا نہ ہو! اور وہ حوالے کے طور پر سورہ بقرہ کی یہ آیت پیش کرتے ہیں:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ [سورۃ البقرة: 223]

“تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو۔”

اس سے پہلے بھی میں یہ بات کہہ چکا ہوں اور یہاں پر پھر وہی بات دہراتا ہوں کہ قرآن کی کسی بھی آیت کو اگر آپ سیاق و سباق اور جس موقع پر وہ نازل ہوئی تھی (شانِ نزول) اس سے ہٹ کر دیکھیں گے تو اس کو سمجھنا بہت دشوار ہوجائے گا، بلکہ بسا اوقات آپ غلط فہمی کا شکار ہوجائیں گے۔ جیسے اس آیت کے بارے میں لوگ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسے اس کے آگے پیچھے دیکھے بغیر، کس موقع پر خدا کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی ہے، اسے جانے بغیر یہ فیصلہ کرلیا کہ اس میں عورتوں کی توہین کی گئی اور مردوں کو لامحدود پاور اور اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں اپنی بیویوں کے پاس آئیں!

آئیے پہلے ہم اس آیت کا سیاق و سباق دیکھ لیتے ہیں تاکہ اس کا سمجھنا ہمارے لیے اور آسان ہوجائے! اس آيت سے پہلے حیض (periods) کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ جب کسی کی بیوی کے حیض کے دن چل رہے ہوں تو ان دنوں میں بیوی کے ساتھ ہمبستری (sex) کرنا نقصان دہ ہے۔ اور وہ آیت یہ ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ [سورۃ البقرة: 222]

“اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا بےشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔”

اس کے بعد یہ آیت ہے جس پر ان لوگوں کا اعتراض ہے:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ [سورۃ البقرة: 223]

“تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔”

حیض کا اور کھیتی کا آپس میں کیا تعلق ہے میں آگے چل کر آپ کو بتاؤں گا۔

اب اس آیت کا ہم شانِ نزول دیکھیں کہ کس سیاق و سباق میں یہ آیت نازل ہوئی، تاکہ بات پوری طرح واضح ہوجائے اور اس اعتراض کی حقیقت ہمارے سامنے کھل جائے!

اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر کے تحت امام بخاری و مسلم و ابو داؤد وغیرہ سے روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ یہود کا یہ گمان تھا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے پاس پیچھے سے آکر اگلے مقام میں ہمبستری کرے پھر اگر اس کو حمل ٹھہر جائے تو بچہ کانا پیدا ہوگا۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: “تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔” [صحیح البخاری، رقم الحديث: 4528، صحیح مسلم، رقم الحديث: 1435]

یعنی بیٹھ کر، کھڑے ہوکر، لیٹ کر، آگے سے یا پیچھے سے جس طرح تم چاہو، یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے اس میں کوئی دوسرا تمہیں آکر نہیں بتائے گا کہ تم دونوں کو یہ معاملات کس طرح انجام دینے ہیں، بس اتنی سی شرط ہے کہ وہ حیض کے دنوں میں نہ ہو، اور پیچھے کے مقام میں نہ ہو کیونکہ یہ دونوں طریقے میاں بیوی کی صحت کے لیے مضر ہیں! اور یہ کتنے مضر ہیں اس بات کو آج میڈیکل سائنس نے بھی ثابت کردیا ہے! اب شاید یہاں سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہو کہ پہلے والی آیت جس میں حیض کی بات کی گئی ہے اور یہ دوسری آیت جس میں کھیتی کی بات کی گئی ہے ان دونوں کا آپس میں کیا ربط ہے؟ پہلی آیت اسی دوسری آیت کی تمہید ہے! اور دونوں کا آپس میں یہ ربط آگے کی سطروں میں اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔

اس آیت میں عورتوں کی توہین کہاں ہے؟ کہیں تو نہیں دکھائی دیتی، بلکہ اس میں تو میاں بیوی کی پرائیویسی مینٹین رکھنے کی بات ہورہی ہے اور دوسرے کو ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے سے روکا جارہا ہے، اس میں میاں بیوی دونوں ہی کی عزت افزائی ہے، کسی کی بھی توہین نہیں ہے۔

اب اگر کسی کو لگتا ہے کہ عورت کو کھیتی کہنا ہی اس کی توہین ہے، کیونکہ اگر آپ کسی کو بھی کہیں گے کہ آپ میری کھیتی ہو تو وہ اس بات سے خوش نہیں ہوگا، بلکہ اگر وہ اپنی عزت کو لے کر زیادہ حساس ہے تو ممکن ہے آپ کو پلٹ کر زناٹے دار تھپڑ رسید کردے اور آپ پر ہتک عزت کا مقدمہ بھی درج کروادے!

تو اس کے لیے میں بس اتنا کہوں گا کہ ہر زبان کا اسلوب اور ہر زبان کے محاورے الگ الگ ہیں، ممکن ہے ایک زبان میں کوئی لفظ عزت کے معنی میں استعمال ہوتا ہو اور وہی لفظ دوسری زبان میں بے عزتی شمار ہوتا ہو، ایک ہی لفظ یا جملہ مختلف زبانوں میں مختلف مطلب یا احساس رکھ سکتا ہے۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں: “آپ بڑے موٹے ہو گئے ہیں۔” یہ جملہ اردو میں بعض اوقات مزاح یا پیار کے انداز میں کہا جاتا ہے، اور سننے والا برا نہیں مانتا۔ لیکن اگر یہی بات انگریزی میں کہی جائے: “You have become very fat!” تو انگریزی بولنے والے معاشروں میں یہ جملہ بے ادبی یا توہین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ کسی کے جسم کے بارے میں براہِ راست تبصرہ کرنا وہاں غیر مہذب تصور ہوتا ہے۔ اسی طرح اردو یا ہندی میں جب آپ کسی کو اپنی کھیتی کہتے ہیں تو اس کا معنی ہوتا ہے کہ وہ چیز آپ کے لیے بہت آسان ہے، آپ جب چاہیں اسے کر سکتے ہیں، یا اس پر آپ کو مکمل اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے آپ استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ عام بول چال میں ہم کہتے ہیں: “فلاں چیز تو ہمارے گھر کی کھیتی ہے!” یعنی اس چیز پر میرا مکمل اختیار ہے۔ اب یہی لفظ جملے میں پرو کر جب آپ کسی ایسے انسان کے لیے استعمال کریں گے جس پر آپ کا کلی اختیار نہیں ہے، تو وہ سمجھے گا کہ یہ شخص تو ہماری توہین کر رہا ہے، ہمیں اپنا غلام سمجھ رہا ہے! جبکہ ہم اس کے زرخرید غلام نہیں ہیں!

لیکن عربی میں یہ لفظ توہین کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے، اور خاص طور پر اس آیت میں یہاں پر “حرث” یعنی “کھیتی” سے مراد “کھیت” ہے جس سے مراد اس کا لفظی معنی ہے، یعنی وہ جگہ جہاں پر کھیتی کی جاتی ہے۔ [تفسیر طبری]

اب یہاں پر سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ بیوی کو کھیت کیوں کہا گیا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے جب ہم سائنس کا سہارا لیتے ہیں تو ہمارے سامنے بڑے عجیب و غریب انکشافات ہوتے ہیں، جس سے قرآن پر ہمارا یقین اور زیادہ بڑھ جاتا ہے، اور اس بات کا صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ ان سارے نکات کو بیان کرنے کے لیے “حرث” یعنی “کھیتی” سے بڑھ کر خوبصورت کوئی دوسرا لفظ ہو ہی نہیں سکتا تھا جو قرآن نے استعمال کیا! آئیے جانتے ہیں وہ انکشافات کیا ہیں؟

بیسویں صدی عیسوی میں ماں کے پیٹ میں پل رہے انسانی وجود کے ارتقائی مراحل کے بارے میں ابتدا سے لے کر انتہا تک بایولوجی میں ایک ریسرچ پیش کی گئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

عورت کے جسم کے اندر ہر مہینے ایک نظام چلتا ہے۔ اللہ نے عورت کے جسم کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ ایک بچہ پیدا کرنے کے لیے ہر مہینے خود کو تیار کرتا ہے۔ لیکن اگر حمل نہ ہو، تو وہ ساری تیاری ختم ہو جاتی ہے، اور یہی خون کی شکل میں باہر نکلتی ہے۔ اسی کو ماہواری (periods) کہتے ہیں۔ اور اس کی ابتدا کچھ اس انداز میں ہوتی ہے کہ ماہواری کے پہلے دن سے ایک نیا چکر شروع ہوتا ہے۔

دماغ سے کچھ خاص پیغام (hormones) نکلتے ہیں، جو عورت کے بیضہ دانی (ovary) کو کہتے ہیں: “اب ایک نیا انڈہ تیار کرو!” یہ انڈہ بہت چھوٹا سا ہوتا ہے، جیسے ایک ننھا سا بیج۔ اسی دوران عورت کے رحم (uterus) کے اندر نرم اور خون والی تہہ (lining) بننے لگتی ہے۔ جیسے زمین کو ہلکا سا کھود کر کھاد ڈال دی جائے تاکہ اگر بیج لگایا جائے تو اگ سکے۔

تقریباً چودھویں دن کے بعد، یہ انڈہ بیضہ دانی سے نکلتا ہے اور نالی (Fallopian tube) میں چلا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اگر مرد کا نطفہ (sperm) اندر جائے، تو وہ اسی نالی میں جا کر انڈے سے مل سکتا ہے، اسی کو (fertilization) کہتے ہیں! اور اسی سے حمل (pregnancy) شروع ہوتا ہے۔

اگر انڈہ fertilize ہو جائے، یعنی نطفہ اور انڈہ مل جائیں، تو وہ ایک نیا چھوٹا سا وجود بناتا ہے، جو آگے چل کر بچہ (baby) بنتا ہے۔ یہ چھوٹا سا وجود رحم میں جا کر چپک جاتا ہے، اور جسم اس کے لیے رحم کو نرم، گرم، اور خون سے بھرپور رکھتا ہے تاکہ وہ آرام سے بڑھ سکے۔ یہ سب ہارمونز (Hormones) کے ذریعے ہوتا ہے، جیسے Progesterone اور Estrogen نامی ہارمونز۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب حمل کا ٹیسٹ مثبت (positive) آتا ہے، کیونکہ جسم میں HCG ہارمون بننا شروع ہوتا ہے۔

لیکن اگر انڈہ fertilize نہ ہو: جس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ نطفہ نہ آئے، یا انڈہ fertilize نہ ہو، تو جسم سمجھ جاتا ہے کہ اب بچہ نہیں بننے والا۔ پھر وہ ساری اضافی جھلی (lining) جو رحم میں بنی تھی، خود ہی ٹوٹ جاتی ہے اور خون کی شکل میں باہر نکلتی ہے، یہی وہ خون ہے جس کو ماہواری کا خون (period blood) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد نیا چکر پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔

اگر آپ غور سے دیکھیے تو یہ سارا عمل بالکل کھیتی جیسا ہے:

  1. یہاں زمین تیار کی جارہی ہے، اور وہاں رحم تیار کیا جارہا ہے۔

  2. یہاں بیج ڈالا جارہا ہے، اور وہاں بیج نما انڈہ نکل رہا ہے۔

  3. یہاں پانی دے کر زمین کی سینچائی ہورہی ہے، اور زمین کو اناج اگانے کے لائق بنایا جارہا ہے، اور وہاں “Progesterone hormone” کے ذریعہ خون اور غذائیت سے رحم کی زمین کو سینچا جارہا ہے اور اسے انسانی وجود کے ٹھہراؤ اور اس کے بڑھنے کے قابل بنایا جارہا ہے۔

  4. یہاں اگر بیج اگ جائے تو پودا لگے، وہاں فرٹلائزیشن ہوجائے تو بچہ بنے۔

  5. یہاں اگر بیج نہ لگے تو پودا نہ اگے اور زمین میں دوسرا پودا لگانے کے لیے زمین کو صاف کردیا جائے، اور وہاں اگر فرٹلائزیشن نہ ہو تو بچہ نہ بنے اور ماہواری خون کی شکل میں رحم کو صاف کردیا جائے تاکہ دوبارہ سے بچہ بننے کا یہ عمل دہرایا جاسکے۔

اس طرح لفظ “حرث” یعنی “کھیتی” میں وہ تمام سائنسی مراحل جمع ہوگئے ہیں جو عورت کے رحم میں حمل سے پہلے اور بعد میں ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ کیا عظیم کھیت ہے! کیا شاندار کھیتی ہے! کتنی پیاری تشبیہ ہے! اور کتنا عظیم قدرت والا وہ رب ہے جس نے زمین پر حیات کے پنپنے کے لیے یہ سارے انتظامات کیے جو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم خود بخود وجود میں نہیں آگئے بلکہ ہم کو بنانے والا ایک خالق ہے جو اس نیچر کی تمام صفات سے جدا ہے، وہ قادر بھی ہے اور علیم بھی، وہ مختار بھی ہے اور فعّال بھی! تبھی تو اس نے ایک بے جان نطفے میں روح ڈال دی، ایک بے جان پودے میں جان رکھ دی۔ کیونکہ نیچر میں اتنی مجال کہاں کہ وہ خود بخود اپنے آپ میں وہ صفات پیدا کرلے کہ جن کی بنا پر وہ تخلیق کا عمل انجام دے سکے! جس ذات نے نیچر میں یہ طاقت رکھی وہی ذات خالق بھی ہے!

اب شاید آپ کو عورت کو کھیت سے مشابہت دینے کی وجہ سمجھ آگئی ہو، اور یہ بھی اندازہ ہوگیا ہو کہ اس میں عورت کے لیے توہین کا پہلو دور دور تک دکھائی نہیں دیتا اگر کچھ دکھتا ہے تو وہ ہے انسانیت کی تکریم، اس خلّاقِ کائنات کی عظمت کی نشانیاں جس نے حیوانی و نباتاتی حیات کے وجود میں آنے کے لیے ایسے بے مثال انتظامات کیے ہیں کہ جہاں پر پہنچ کر عقل حیراں ہے، خرد پریشاں ہے، اور دل ہے جو کہتے نہیں تھکتا کہ اس رب کی کیا شان ہے!

اتنی چیزیں اگر آپ کو سمجھ آگئیں تو اب آپ سے میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا کو کب معلوم ہوا ہے کہ عورت کے رحم میں ہر مہینے ایک حیاتیاتی عمل (Biological Process) ہوتا ہے؟

اس کا جواب یقیناً یہی ہوگا کہ بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک دنیا کو اس عمل کی تفصیل کے بارے میں معلوم ہوا؟

اب پھر دوسرا سوال ہے، کہ اتنی تفصیل سے اس “بایولوجیکل پروسس” کے بارے میں اکیسویں صدی عیسوی میں جاکر دنیا کو معلوم ہوا تو پھر ساتویں صدی عیسوی میں اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس نے دنیا میں کسی سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا اتنی سچی باتیں کس نے بتائیں، کہ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد سائنس آرہی ہے اور ہو بہو ان باتوں کی تصدیق کررہی ہے جن کی طرف قرآن نے صدیوں پہلے اشارہ کیا تھا؟

کیا یہ اس بات کی علامت نہیں ہے کہ قرآن خدا کی سچی کتاب ہے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالی غیب کی خبریں بتاتا ہے!؟

اور حیوانات و نباتات کی تخلیق میں یہ یکسانیت اور مماثلت اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے کہ ان دونوں کو بنانے والی ذات ایک ہی ہے، اس میں اس کا کوئی شریک نہیں! اس نے ایک ہی منصوبہ اور ایک ہی اسٹرکچر پر اس پوری حیات کو وجود بخشا، ورنہ اگر ان کو بنانے والے الگ الگ ہوتے تو ان کو بنانے کا انداز اور ان کی ڈیزائننگ بھی الگ الگ ہوتی؟!

أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ [سورۃ الرعد: 16]

“کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔”

سبحان اللہ ایک لفظ “کھیتی” سے کیا کیا معانی پیدا ہورہے ہیں، “قطرے میں دریا سماجانا” تو مشہور ہے، لیکن قطرے میں سمندر کے سماجانے کے نظارے قرآن کے سوا کہیں دیکھنے کو نہیں ملتے! اور اگر اس میں یہ نظارے دیکھنے کو نہ ملیں تو پھر وہ لسانی معجزہ کیونکر کہلائے؟

خلاصہ: گزشتہ تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ کھیتی کا لفظ جو عورت کے لیے استعمال ہوا ہے وہ جب اردو میں محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو بسا اوقات اس سے توہین کا بھی مفہوم نکال لیا جاتا ہے، لیکن عربی لٹریچر میں یہ توہین کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا اور اس سے عورت کی توہین مقصود نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعہ مرد و عورت کو اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کی اجازت دی جارہی ہے اور دوسروں کو ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کی ممانعت بھی سنائی جارہی ہے۔ اور اس میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ (تشبیہ بلیغ) دے کر ان حیاتیاتی مراحل کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے، جن مراحل سے ایک پودا اور انسان وجود میں آنے کے لیے گزرتا ہے! جو کہ قرآن کے علمی اعجاز پر نہایت روشن دلیل ہے!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!