| عنوان: | مولانا تحسین رضا بریلوی سے چند ملاقاتیں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | عالمہ نازیہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
روز جمعہ مبارکہ ۱۸ رجب ۱۴۲۸ھ / ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کو بے سان و گمان ان کی حادثاتی رحلت کی خبر سن کر دل کو صدمہ پہنچا، ہمیں اب بھی ان کی ضرورت تھی۔ ان سے علمی و دینی فیض حاصل کرنے والوں کی ایک اچھی تعداد تھی جو ان کی آمد کے لیے نگاہیں فرش راہ رکھتے مگر جو مقدر ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔
ان کی تاریخ ولادت غالباً ۱۳ شعبان ۱۳۴۷ھ / ۱۵ جنوری ۱۹۳۰ء ہے۔ اس لحاظ سے تاریخ ہجری سے ان کی عمر اسی سال اور تاریخ عیسوی سے ساڑھے ستتر سال ہوتی ہے، مولیٰ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ دراز سے دراز تر فرمائے۔ یہ یاد نہیں کہ میں کب ان سے واقف ہوا۔ غالباً ۱۹۷۳ء سے بریلی شریف عرس رضوی میں حاضری ہو رہی ہے۔ ان کے والد ماجد کی زیارت انہی ایام میں ہوئی۔ اگرچہ کتابوں کے ذریعہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمہ سے میری آشنائی بہت پہلے سے تھی۔ اندازہ ہے کہ حضرت مولانا حسنین رضا خان سے بھی ۱۹۷۴ء تک میں واقف ہو چکا تھا۔ اس کے کئی سال بعد ملاقات میں ان سے میرا تعارف ہوا، میں نے اپنا نام “محمد احمد مصباحی” بتایا تو وہ بولے “ابن مفتی عبد المنان صاحب؟” میں نے عرض کیا، “جی نہیں، میں مفتی صاحب کا شاگرد ہوں۔” ان کے فرزند میرے ہم نام ہیں۔ نام و نسبت اور ضلع وغیرہ کی مشارکت کی وجہ سے یہ اشتباہ آج بھی کچھ لوگوں کو ہو جاتا ہے۔
صدر العلماء سے ملاقاتیں تو بار بار ہوئیں مگر اطمینان سے بیٹھ کر باہم گفت و شنید کا موقع دو تین بار سے زیادہ میسر نہ آیا۔ شعبان ۱۴۰۳ھ اواخر مئی یا اوائل جون ۱۹۸۳ء میں “جَدُّ الْمُمْتَارِ” جلد ثانی کی نقل کا اصل سے مقابلہ کرنے کے لیے غالباً دو ہفتے بریلی شریف میں میرا قیام رہا۔ مولانا نصر اللہ رضوی بھیروی بھی تھے۔ ان دنوں ایک بار بعد عصر کانکر ٹولہ حضرت کے مکان پر میری حاضری ہوئی، حاضری دو مقصد سے تھی ایک تو یہ کہ حضرت کا مکتبہ، مکتبہ مشرق کچھ دنوں قبل قائم ہو گیا تھا اور الْمَجْمَعُ الْإِسْلَامِيُّ سے معاملات رہتے تھے، اس سلسلے میں مولانا عرفان الحق منیجر مکتبہ سے کچھ حساب کرنا تھا۔
دوسرے مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے رسالہ “فَوْزُ مُبِينٍ دَرْ رَدِّ حَرَكَةِ زَمِينٍ” کی اصل حضرت کے یہاں ہے، یہ رسالہ پہلے ماہنامہ “الرِّضَا” میں قسط وار شائع ہوا تھا، اس کے مدیر حضرت کے والد گرامی مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمہ تھے، اعلیٰ حضرت کی حیات میں فوز مبین کے صرف ۳ صفحات “الرِّضَا” میں شائع ہو سکے پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے وصال کے کچھ قبل یا بعد میں ماہنامہ بند ہو گیا اور رسالہ فوز مبین حضرت مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمہ کے یہاں رہ گیا۔ وہ بعد میں بھی پورے رسالے کی یکجا اشاعت نہ کر سکے، حضرت صدر العلماء سے گفتگو کے بعد یہ تحقیق ہو گئی کہ یہ رسالہ مکمل موجود ہے، البتہ بروقت تلاش کر کے نکالنا دشوار ہے۔ اس دن ہم لوگ بعد مغرب تک رہے اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔
پھر کئی سال بعد ایک موقع سے علامہ ازہری صاحب کے یہاں “مِرْآةُ النَّجْدِيَّةِ” دیکھنے کے لیے میرا قیام تھا غالبا انھیں دنوں کسی وقت اتفاقا صدر العلماء بھی تشریف لائے اور باتیں ہونے لگیں، شعر و سخن کا بھی تذکرہ آ گیا انھوں نے اپنی ایک نعت سنائی جس کا مطلع ہے:
جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
در حقیقت تیرے دیوانوں کا جشن عام ہے
اس نعت کے اشعار میں اظہار و بیان کا بانکپن اور طرز ادا کا حسن جھلکتا نظر آیا مگر یہ شعر بڑا انوکھا اور زور دار معلوم ہوا:
آ رہے ہیں وہ سر محشر شفاعت کے لیے
اب مجھے معلوم ہے جو کچھ میرا انجام ہے
انھوں نے بتایا کہ یہ نعت حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کی خدمت میں اصلاح کے لیے پیش کی تھی۔ حضرت نے ہر شعر پر صحیح کا ایک نشان لگایا ہے لیکن اس پر دو نشان لگائے اور فرمایا چچا میاں (استاذ زمن مولانا حسن رضا بریلوی) کا انداز ہے۔
گزشتہ سال ماہ ربیع الاول ۱۴۲۷ھ میں جسپور ضلع نینی تال میں حضرت سے ملاقات رہی، جہاں مدرسہ بدر العلوم حضرت کی سرپرستی میں چل رہا ہے اور ہر سال حضرت وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ان کی تدریسی خدمات کا دائرہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے۔ نہ معلوم کتنے تشنگان علوم ان کی بارگاہ فیض سے سیراب ہوئے اور آج مختلف دینی و علمی خدمات میں مصروف ہیں۔
سادگی، کم سخنی، تقویٰ و پرہیزگاری، علمی پختگی، فیض رسانی، خوش اخلاقی و انکساری وغیرہ ان کی وہ صفات ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی درسی تقریروں، علمی نکات، مجلسی افادات کو بھی قید تحریر میں لانے اور شائع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا ان کے کمالات سے کما حقہ آشنا ہو سکے۔ محمد احمد مصباحی۔ ۱۳ شعبان ۱۴۲۸ھ۔
وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ لِكُلِّ خَيْرٍ. [مقالات مصباحی، ص: 425 تا 426]
