Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقدیم نصر المقلدین (مقالات مصباحی)|محمد احمد مصباحی

تقدیم ۔ نصر المقلدین (مقالات مصباحی)
عنوان: تقدیم ۔ نصر المقلدین (مقالات مصباحی)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: ثمن فردوس امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

تقدیم (نصر المقلدین)

کتاب و سنت، اجماعِ امت اور قیاس دینی احکام و مسائل کا ماخذ ہیں۔ کسی بھی معاملے میں حکمِ شرعی معلوم کرنے کے لیے انھیں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ عہدِ صحابہ سے ہی جاری ہے۔ مگر ہر شخص میں احکام کے استنباط و استخراج کی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ کچھ خاص افراد ایسے ہوتے ہیں جنھیں ربِ علیم و قدیر اجتہادی قوت و صلاحیت سے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ اپنی خداداد قوت سے مسائل کا استنباط کرتے ہیں اور امت کے لیے راہِ عمل متعین فرماتے ہیں، پھر امت کے جو افراد خود اجتہادی صلاحیت نہیں رکھتے وہ ان حضرات کے بتائے ہوئے احکام پر کاربند ہوتے ہیں۔

یقیناً کتاب و سنت کا علم اور استخراجِ احکام کی قوت رب تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور جو حضرات اس نور سے سرفراز ہوں وہ بلاشبہ امت کی امامت اور پیشوائی کے مستحق ہیں۔ اس لیے امت نے ہر دور میں ان کی امامت اور پیشوائی تسلیم کی ہے۔ سلاطین ہوں یا امراء، محدثین ہوں یا قراء، ادباء و شعراء ہوں یا دیگر اصناف کے علماء، جو بھی منصبِ اجتہاد سے بہرہ ور نہیں، انھوں نے ائمۂ اجتہاد کی پیروی کی ہے۔

مجتہدینِ کرام کا یہ عظیم احسان ہے کہ انہوں نے استنباط کے اصول و قواعد بھی وضع کیے اور احکام کی تفصیلات بیان کرکے امت کے لیے شاہراہِ عمل بھی واضح کی۔ اس خصوص میں امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی (80 - 150ھ) کی خدمات سب سے نمایاں ہیں، انھوں نے اصولِ استنباط متعین کرنے کے ساتھ اپنے تلامذہ پرمشتمل ایک مجلسِ فقہاء بھی تشکیل فرمائی۔ ان حضرات نے نہ صرف یہ کہ پیش آمدہ مسائل حل کیے بلکہ اپنی فقاہت و بصیرت کی توانائی سے آئندہ پیش آنے والے سوالات اور ان کے جوابات بھی مرتب کیے جن سے اس دور کے فقہاء و مجتہدین نے بھی روشنی حاصل کی اور بعد کے فقہاء بھی ان سے مستفید ہوتے رہے، اس لیے امام قرشی محمد بن ادریس شافعی (150 - 204ھ) نے فرمایا: "اَلنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي الْفِقْهِ عِيَالٌ عَلٰى أَبِي حَنِيفَةَ" (فقہ میں سب لوگ امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں)۔ یعنی سب ان کے خوانِ علم سے خوشہ چینی کرنے والی اولاد کا حکم رکھتے ہیں۔

دوسری تیسری صدی میں مجتہدین بہت تھے اور ان کی تقلید بھی ہوتی تھی لیکن عامۃ الامت کو ضرورت اس بات کی تھی کہ عبادات و معاملات کے ہر باب میں طریقۂ عمل کیا ہو؟ کیا صورت ہو تو جواز ہے، کیا صورت ہو تو عدمِ جواز ہے؟ یہ سب تفصیل سے کتابوں میں درج کر دیا جائے تاکہ ان کتابوں کی مراجعت کر کے غیر مجتہد علماء اور اُن علماء سے رجوع کرنے والے عوام کے لیے راہِ عمل آسان ہو۔

اس ضرورت پر امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب و تلامذہ نے توجہ دی اور اپنے اپنے قواعد اور استخراج و استنباط کے مطابق فقہی احکام کتابوں میں جمع کر دیے۔ اس سے افرادِ امت کو یہ آسانی ہوئی کہ جس امام کی تقلید اپنائی اس امام کے مسائل کتابوں میں یکجا پا لیے اور اس کی روشنی میں اپنی عبادات اور معاملات کو درست کر لیا۔ بقیہ مجتہدین کے احکام و مسائل اس انداز سے مدون نہ ہو سکے اس لیے ان پر عمل کرنے والے بھی نہ رہے اور پوری امت ائمہ اربعہ کے مذاہب میں سے ایک مذہب پر کاربند رہی اور آج بھی امت کا سوادِ اعظم اسی روش کا پابند ہے۔

مگر تیرہویں صدی ہجری میں کچھ افراد ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے تقلیدِ ائمہ کو شرک اور مقلدینِ ائمہ کو مشرک کہنا شروع کیا۔ جیسے انہوں نے پوری امت کے اجماعی اعتقاد و عمل کے برخلاف انبیاء و اولیاء کی تعظیم اور ان سے استعانت و توسل کو شرک کہنا شروع کیا اور ایک ایسا نیا دین ایجاد کیا جس میں بارہ سو سال کی پوری امت شرک کی مرتکب ٹھہری اور سچا اسلام تیرہویں صدی میں رو نما ہوا۔ اسی طرح مذاہبِ ائمہ سے سرقہ کر کے ایسے مسائل جمع کیے جو ان کی خواہشِ نفس سے پوری طرح ہم آہنگ تھے، کچھ ایسے مسائل بھی جنم دیے جو مذاہبِ اربعہ میں سے کسی مذہب میں نہ تھے، اس طرح ایک پانچواں مذہب وجود میں آیا جس کی تقلید جاری ہوگئی۔ اس پانچویں مذہب کی پابندی کو عمل بالحدیث کا نام دیا اور ہزار سالہ پیشواؤں کو چھوڑ کر کسی امامِ مجتہد کی تقلید کو شرک کا نام دیا۔

ظاہر ہے کہ عام امت جو اپنی معیشت کے کاموں میں منہمک ہے وہ براہِ راست قرآن و حدیث کی مہارت حاصل کرنے اور ان سے مسائل نکالنے سے عاجز ہے۔ عوام اور جہلا تو درکنار، آج کے بڑے بڑے علماء بھی اجتہاد کی شرائط سے خالی اور اجتہادی قوت سے عاری ہیں، بلکہ اجتہادِ مطلق کی صلاحیت صدیوں سے معدوم چلی آرہی ہے۔ عوام سے بس یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی صاحبِ علم انہیں راہ بتائے اور یہ اس پر اعتماد کر کے اس راہ پر گامزن ہوں، خواہ تیرہویں، چودہویں، پندرہویں صدی کے کسی رہنما کی تقلید کریں یا دوسری تیسری صدی کے کسی امام کی تقلید کریں، تقلید سے کسی حال میں گلو خلاصی نہیں، اور تقلید اگر شرک ہے تو شرک سے بھی کسی طرح چھٹکارا نہیں۔ وَالْعِيَاذُ بِاللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

تیرہویں صدی کے نصفِ اخیر میں یا اس سے کچھ قبل سرزمینِ ہند ترکِ تقلید کے فتنے سے دو چار ہوئی، تقلیدِ ائمہ پر طعن و تشنیع کا ہنگامہ خیز دور شروع ہوا۔ پھر تقلید کی مخالفت، ائمہ کی تحقیر، خصوصاً امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے متبعین پر سب و شتم پر مشتمل بھاری لٹریچر سامنے آیا جس کے رد میں تقلید کی حمایت، ائمہ کی ضرورت اور مخالفین کے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل مقلدین کی بھی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ انہی میں سے ایک کتاب "نصر المقلدین" بھی ہے۔

مصنف اور کتاب کا تعارف مولانا امتیاز احمد مصباحی، لائبریرین المجمع الاسلامی مبارک پور نے لکھ دیا ہے۔ جن تقریظ نگاروں کے حالات دستیاب ہوئے ان کے حالات بھی لکھ دیے ہیں۔ حضرت محدث سورتی رحمہ اللہ کا رسالہ "جامع الشواہد" بھی نصر المقلدین کے آخر میں شامل تھا اس لیے حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے حالات بھی مختصراً لکھ دیے ہیں، ان کے حالات میں خواجہ رضی حیدر کی تفصیلی کتاب 'تذکرہ محدث سورتی' قابلِ مطالعہ ہے۔ نصر المقلدین کی اشاعت کا خیال کیسے آیا اور کتاب کی جدید اشاعت کو نئے تقاضوں کے قریب لانے کے لیے کیا کوششیں ہوئیں اور ان میں کن حضرات نے حصہ لیا، سب کی تفصیل ناشرین، طلبہ درجۂ فضیلت سالِ اول (درجہ سابعہ) نے بیان کر دی ہے جس کا مسودہ محمد شعیب احمد متعلم درجہ سابعہ نے مجھے دکھایا تھا۔ کتاب کی زبان سو سال سے زیادہ پرانی تھی جسے آج کے مطابق سلیس اور رواں بنانے کی ضرورت تھی مگر کمپوزنگ ہو جانے کے بعد اس طرف توجہ ہوئی اس لیے اس پر خاطر خواہ عمل نہ ہو سکا، قدرے سہل اور رواں بنانے کی کوشش ہوئی ہے۔ بہرحال ان طلبہ کی جد و جہد کے باعث ابتدائے غیر مقلدیت کے مناظر و مباحث سوا سو سال بعد پھر سامنے آرہے ہیں۔ اس طرح کی بحثیں غیر مقلدین آج بھی نئے نئے انداز اور الگ الگ عنوان سے چھیڑتے رہتے ہیں، اور اس وقت لوگوں کو لامذہب بنانے کے لیے وہ طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ امتِ مسلمہ کو ان کے خطرناک فتنے سے بچانے کے لیے اہلِ حق کو آج پہلے سے زیادہ محنت و کاوش کی ضرورت ہے۔ مولیٰ تعالیٰ توفیقِ خیر سے نوازے۔ وَمَا ذٰلِكَ عَلَيْهِ بِعَزِيْزٍ۔

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَفْضَلِ الْمُرْسَلِيْنَ، أَعْلَمِ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ، وَعَلٰى آلِهِ وَصَحْبِهِ الْمُرْشِدِيْنَ وَفُقَهَاءِ شَرْعِهِ الْهَادِيْنَ، لَاسِيَّمَا الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ الْمُجْتَهِدِيْنَ وَعَلٰى مَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۔


جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!