| عنوان: | مسلمان نوجوان اور شراب نوشی (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا جناب نہال علی قادری صاحب قبلہ |
| پیش کش: | محمد رضا اشرفی فیضی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مسلمان نوجوان اور شراب نوشی (قسط: اول)
پیش لفظ
اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زنا کاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی۔ آج صادق و مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی ہوتی دکھ رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی برائیاں رونما ہو چکی ہیں جن کو انجام دینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتا، انہی برائیوں میں سے ایک برائی شراب نوشی کی ہے جس میں مسلمان نوجوانوں سمیت بوڑھوں کی ایک بڑی جماعت ملوث ہے، اور شراب کی طرح دوسرے کئی مشروبات بھی ہیں جن کو بڑے شوق و کثرت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم نے چند صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا جس کے ذریعے لوگوں کو شراب کے شرعی حکم و سزا اور اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور اس سے بچنے کی ترغیب دلائی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوشش کو قبول کرے اور ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلام اور شراب
شراب اسلام سے پہلے عرب میں پانی کی طرح استعمال کی جاتی تھی، یہاں تک کہ بچوں کو گھٹی میں پلائی جاتی تھی، باقاعدہ شراب کی دعوت کی جاتی تھی، شراب کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں، اس لیے اس کا ایک دم چھڑا دینا ممکن نہ تھا، اسی وجہ سے اس کی حرمت کے احکام رفتہ رفتہ آئے۔ سب سے پہلے مکہ شریف میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ ... إِلَخْ [سورۃ النحل: 67]
مسلمان پھر بھی عام طور پر شراب نوشی کرتے رہے، پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو کچھ صحابہ کرام نے اس کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سوال کیا تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ [سورۃ البقرة: 219]
اس آیت میں شراب کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے اس آیت کے نزول کے بعد شراب کو ترک کر دیا لیکن کچھ لوگ پھر بھی پیتے رہے، اس لیے اس آیت میں حرام قرار نہیں دیا گیا تھا صرف نقصانات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ پھر کچھ ایام کے بعد حالتِ نماز میں شراب کو ممنوع قرار دے دیا گیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى [سورۃ النساء: 43]
ابھی بھی شراب کی طلب لوگوں میں باقی تھی، گاہے بگاہے لوگ استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ شراب کی وجہ سے کچھ لوگوں میں لڑائی بھڑائی ہوئی، مقدمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو اس وقت حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی کہ شراب کے متعلق پورا بیان نازل فرما، تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ ... فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ [سورۃ المائدة: 90-91]
اور شراب کو قطعی طور پر قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔
مدینہ کی گلیوں میں شراب
روایت میں آتا ہے جب شراب کو حرام کیا گیا اور مدینے میں اعلان کرایا گیا تو لوگ فوری طور پر اپنے اپنے گھروں سے شراب کے مٹکے نکال نکال کر پھینکنے لگے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہمارے گھر میں مسلمانوں کی دعوت تھی جس کا دور چل رہا تھا، ہمارے گھر میں بہت سے مٹکے شراب کے رکھے ہوئے تھے۔ اچانک منادی کی آواز کان میں آئی، میرے والد نے کہا سن کر تو آؤ۔ میں نے واپس آ کر بتایا، سنتے ہی اہلِ مجلس کی ایسی حالت ہوئی کہ جس کے ہاتھ میں جام تھا اس نے وہیں پٹک دیا، جو مٹکے سے شراب انڈیل رہا تھا اس نے وہیں پیالہ توڑ دیا، جس کے منہ میں تھی اس نے کلی کر دی، جو منہ تک پیالہ لے گیا تھا اس نے وہاں سے ہی واپس کر لیا۔ حضرت انس فرماتے ہیں سارے مٹکے میں نے ڈنڈے سے پھوڑ دیے، اس دن مدینے کی گلیوں میں شراب بارش کے پانی کی طرح بہہ رہی تھی، سوکھ جانے کے بعد بھی کئی ماہ تک زمین سے شراب کی بو آتی رہی۔ اس اطاعت کی مثال دنیا میں نہیں۔ اس کے بعد پھر شراب پینا بالکل بند ہو گیا۔
مصطفیٰ تیری صولت پہ لاکھوں سلام
سبق
ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے، وہ کیسے مسلمان تھے جو نشے کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا نہیں بھولے، اعلان سنتے ہی ہاتھوں سے جام جدا کر دیا۔ آج ہم ہیں کہ بے نشہ ہو کر بھی بے ہوش نظر آ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔ مسلمانوں ہوش میں آؤ! اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت شعاری میں لگ جاؤ۔
شراب کے تعلق سے احادیثِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
اسلام نے ہر شخص کے لیے پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے: دین، مال، جان، عزت اور عقل۔ شراب ایسی چیز ہے جس سے انسان کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور پھر اس کی وجہ سے اس کے دین، مال، اور عزت سب خطرے میں آ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے کبھی اپنی جان کے پیاسوں پر لعنت نہیں فرمائی، لیکن جن بدبختوں پر لعنت فرمائی ہے ان میں شرابی بھی شامل ہے۔
ایک حدیث میں ہے، ابو داؤد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ شراب نوشی کریں تو انہیں کوڑے مارو۔ پھر کریں پھر مارو۔ پھر کریں پھر مارو۔ اور چوتھی بار کریں تو ان کو قتل کر دو۔
اور ایک حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تین شخص جنت میں نہیں جائیں گے: شرابی، اپنے رشتے داروں سے بدسلوکی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو شرابی بے توبہ کیے مر جائے اللہ تعالیٰ اسے وہ خون و پیپ پلائے گا جو دوزخ میں فاحشہ عورت کی بری جگہ سے اس قدر بہے گا کہ ایک نہر ہو جائے گی۔ دوزخیوں کو ان کی فرج کی بدبو عذاب پر عذاب ہو گی۔ وہ سخت بدبودار گندی پیپ جو بدکار عورتوں کی فرج سے بہے گی اس شرابی کو پینی پڑے گی۔
اللہ تعالیٰ کی پناہ اتنا سخت عذاب! اے شراب کے پینے والوں، اے اپنی جوانی، جان و مال، عزت برباد کرنے والو! اللہ سے ڈرو اور ناپاک شراب کے پینے سے باز آ جاؤ۔
شراب اور مسلمان
جس خدا اور رسول (عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم) نے شراب نوشی کو قطعی طور پر حرام قرار دیا، جس کو پیشاب کی طرح نجس و ناپاک بتایا اور شیطان کا عمل قرار دیا، آج اسی اللہ اور رسول پر ایمان لانے والے مسلمان، اسلام کے ماننے والے مسلمان سب سے زیادہ شراب نوشی اور دوسری نشہ آور چیزوں میں ملوث ہیں اور شراب پی کر معاشرے میں لڑائی جھگڑے کرتے ہیں اور فساد مچاتے ہیں، قتل و غارت گری کا ماحول گرم کرتے ہیں۔ کبھی کبھار کفر کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ خود بھی ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور دین کی بدنامی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں
[افکار، امتِ مسلمہ کے حالات، عصری تقاضے اور دعوتِ فکر، ص: 41 تا 43]
