Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسلمان نوجوان اور شراب نوشی (قسط: دوم)|علامہ مولانا جناب نہال علی قادری صاحب قبلہ

مسلمان نوجوان اور شراب نوشی (قسط: دوم)
عنوان: مسلمان نوجوان اور شراب نوشی (قسط: دوم)
تحریر: علامہ مولانا جناب نہال علی قادری صاحب قبلہ
پیش کش: محمد رضا اشرفی فیضی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

شراب کے نقصانات

شراب اور دوسری نشے والی چیزیں انسان کی عقل ختم کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور انسان بھی طرح طرح کے نقصانات سے دوچار ہوتا ہے جس کی خبریں اخبارات کے ذریعے آتی رہتی ہیں۔

ایکسیڈنٹ

دورِ حاضر میں روڈوں پر جو حادثات پیش آتے ہیں اور جتنی اموات ہوتی ہیں، زیادہ تر شراب کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

فساد و قتل

گاہے گاہے خبریں موصول ہوتی ہیں کہ فلاں جگہ فساد برپا ہو گیا، فلاں جگہ لڑائی ہو گئی، فلاں نے فلاں کو قتل کر دیا، بیٹے نے باپ کو ذلیل کیا، ماں کی بے حرمتی کی۔ ان سب کے پیچھے اکثر وجہ شراب ہی ہوتی ہے۔

عصمت دری

یہ خبریں آتی ہیں کہ لوگ شراب پی کر زنا کاری میں ملوث ہو جاتے ہیں، نیک سیرت بچیوں کی آبرو ریزی کرتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ ناہنجار اپنی محرموں سے بدسلوکی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، کچھ بھی احساسِ شرم نہیں کرتے۔ العیاذ باللہ!

طلاق

دارالافتاء میں اکثر مسائل طلاق کے آتے ہیں۔ جس میں اکثر محض شراب پی کر طلاق دی ہوتی ہے۔ پہلے شراب کی مستی میں بیوی کو طلاق دیتے ہیں، جب بیوی نکاح سے باہر ہو جاتی ہے پھر اظہارِ افسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت نقصانات ہیں جس کی وجہ سے شریعت نے اسے حرام قرار دیا، لہٰذا ہر مسلمان پر اس سے بچنا لازمی ہے اور جو اس میں ملوث نہیں ان پر بھی حسبِ طاقت لوگوں کو اس سے روکنا ضروری ہے۔

چند مسائل

مسئلہ: فتویٰ یہ ہے کہ ہر نشے والی پتلی چیز یعنی انگوری شراب اور تاڑی وغیرہ مطلقاً حرام ہیں، ان کا ایک قطرہ بھی پینا جائز نہیں۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: بھنگ، چرس، شراب سب حرام ہیں مگر شراب سب میں بدتر ہے۔

نیز فرماتے ہیں کہ خمر کی حرمت قطعیہ بلکہ ضروریاتِ دین سے ہے، اس کے ایک قطرے کی حرمت کا منکر کافر ہے، ہاں بھنگ وغیرہ کسی چیز سے نشے کی حرمت کا منکر گمراہ و مخالفِ اجماع ہے۔

اور ایک جگہ لکھتے ہیں: شراب کسی قسم کی ہو مطلقاً حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی۔ برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلا۔ جس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو، اس کا کھانا پینا بھی حرام، اس کا لگانا بھی حرام، اس کا بیچنا بھی حرام، طبیب اگر اس کا استعمال بتلائے تو گناہ و آثام، یہی ائمہ کرام کا مذہبِ صحیح و معتمد ہے۔

شرابی کا ٹھکانہ

حضرت مولانا صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ بہارِ شریعت میں نقل فرماتے ہیں: غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ہب ہب ہے۔ جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کنویں کو کھول دیتا ہے جس سے بہ دستور آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا [سورۃ الاسراء: 97]

جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

یہ کنواں بے نمازیوں، زانیوں، شرابیوں، سود خوروں اور ماں باپ کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔ العیاذ باللہ والحفیظ! غور فرمائیے کہ شراب پینا کتنا سخت گناہ ہے اور کتنا سخت انجام ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

[افکار، امتِ مسلمہ کے حالات، عصری تقاضے اور دعوتِ فکر، ص: 44 تا 45]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!