Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: اول)|محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی

صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: اول)
عنوان: صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: اول)
تحریر: محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضرت ممدوح کو صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف تلمذ حاصل ہے، آپ کے جلیل القدر رفقائے درس میں چند نمایاں حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

ابو الفضل مولانا سردار احمد گورداسپوری علیہ الرحمہ محدث اعظم پاکستان

ابو الفیض حافظ ملت مولانا عبدالعزیز مراد آبادی علیہ الرحمہ، شیخ الحدیث دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور

مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن قادری علیہ الرحمہ، رئیس اعظم اڑیسہ

شمس العلماء مولانا قاضی شمس الدین احمد جعفری جونپوری علیہ الرحمہ

شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ

خیر الاذکیاء مولانا غلام یزدانی اعظمی علیہ الرحمہ

مفتی اعظم کانپور مفتی رفاقت حسین مظفر پوری علیہ الرحمہ

مولانا محمد سلیمان اشرفی بھاگل پوری علیہ الرحمہ

مفتی عبدالرشید خاں فتح پوری علیہ الرحمہ

میں یہاں حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کی کچھ وہ خوبیاں ذکر کروں گا جن میں آپ کے رفقائے درس بھی شریک ہیں اور کچھ وہ جو خاص آپ سے تعلق رکھتی ہیں۔

(1) حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری کو علامہ فضل حق خیر آبادی سے شرف تلمذ حاصل تھا اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے استاذِ حدیث حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کا سلسلۂ حدیث دو واسطوں سے مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ تک پہنچتا ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کو ارادت اور خلافت و اجازت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے حاصل تھی اور فتویٰ نویسی اعلیٰ حضرت ہی سے سیکھی تھی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا ایک سلسلۂ تلمذ بحر العلوم علامہ عبدالعلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ سے بھی ملتا ہے، اس لحاظ سے صدر الشریعہ کی ذات تیرہویں صدی ہجری کے تینوں علمی مراکز خیرآباد، دہلی اور فرنگی محل کا سنگم تھی اور ان کے تلامذہ ان تینوں اسکولوں کے علمی فیضان سے بہرہ ور تھے۔

(2) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے اس وقت جو نصابِ درس رکھا تھا اس میں تینوں اسکولوں کا عکس صاف نمایاں تھا۔ صِحَاحِ سِتَّة کی تعلیم کے ساتھ فنِ حدیث کے نکات اور احادیثِ کریمہ سے مستنبط فقہی مسائل پر محدثانہ اور ماہرانہ گفتگو رہتی تھی۔ فقہ میں هِدَايَة کی چار جلدیں مکمل پڑھائی جاتی تھیں۔ معقولات کی بھی بہت ساری کتابیں شاملِ نصاب تھیں مثلاً مُسَلَّمُ الْعُلُوم اور اس کی شروح مُلَّا حَسَن، حَمْدُ الله، قَاضِي مُبَارَك وغیرہ، اسی طرح رِسَالَة مِير زَاهِد، مُلَّا جَلَال، علامہ دوانی کے حَوَاشِي قَدِيمَة وَجَدِيدَة، فلسفہ میں صَدْرَا، شَمْسِ بَازِغَة، پھر أُمُورِ عَامَّة، تَحْرِيرِ أُقْلِيدِس اور خَيَالِي، شَرْحِ مَوَاقِف، شَرْحِ مَقَاصِد، حَوَاشِي مُلَّا عَبْدِ الْغَفُور بَر شَرْحِ جَامِي وغیرہ۔ الغرض مختلف علوم و فنون کی منتہی اور مشکل کتابیں جن کی صورت اور نام سے بھی موجودہ طلبہ اور علماء کم ہی آشنا ہوتے ہیں۔ پھر ان کتابوں کی جتنی مقدار پڑھائی جاتی تھی آج کے دور میں اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ جو طلبہ ایک سال میں قُدُورِي ختم نہیں کر پاتے اور جو اساتذہ چھ ماہ میں بھی هِدَايَةُ النَّحْو یا كَافِيَة مکمل نہ کرا سکیں ان کے لیے یہ اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہے کہ اب سے پچھتر (75) سال پہلے هِدَايَة، مِشْكَاة اور جَلَالَيْن جیسی ضخیم کتابیں پوری پوری کیسے پڑھائی جاتی تھیں۔

غور کیا جائے تو اب اس نصاب کی نصف کتابیں رہ گئی ہیں اور مقدارِ تعلیم کے لحاظ سے نصف کا نصف بلکہ بعض کتابوں کا ربع (چوتھائی حصہ) بھی باقی نہ رہا۔ اس کے ساتھ ابنائے زمانہ کی جدوجہد یہ ہے کہ نصاب کی کچھ کتابیں کم کر کے عصری علوم سائنس، حساب، جغرافیہ وغیرہ کو شامل کیا جائے۔ اس تجویز پر کسی حد تک عمل بھی ہوا ہے مگر مزید مانگ جاری ہے۔

علماء کا لقب ان حضرات کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا اور آج کے فارغین کے ساتھ بھی یہی ٹائٹل لگا ہوا ہے۔ بلکہ ٹائٹل کے معاملے میں ہم ان سے بہت آگے جا چکے ہیں۔ اُس وقت “مولوی” کہنے میں بھی اعزاز سمجھا جاتا تھا مگر اب کسی فاضل کو مولوی فلاں کہہ دیں تو وہ اپنی تحقیر سمجھے گا۔ اسٹیجوں کے اناؤنسر سنیے تو ہر کس و ناکس کے لیے مولانا کے ساتھ علامہ کا بھی پیوند سنائی دے گا کیوں کہ اس کے بغیر اکرام و اعزاز میں کمی کا خدشہ ہونے لگتا ہے۔ لیکن پہلے دور کا کوئی عالمِ فرزانہ اٹھ کر آ جائے تو کسی کو “مولوی” ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوگا۔ اگرچہ بزعمِ خویش کوئی “علامہ” سے کم نہیں۔

بس مجھے یہ دکھانا مقصود ہے کہ حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کا جو دورِ تعلیم تھا وہ اتنا بلند و بالا تھا کہ اس دورِ انحطاط میں اس کا صحیح اندازہ بھی مشکل ہے۔

(3) حضرت ممدوح اور ان کے رفقائے کرام علیہم الرحمہ میں دہلی، خیر آباد اور فرنگی محل کی درس گاہوں کے فیوض اور ان کی خصوصیات جمع تھیں اور آج نظر اٹھا کر دیکھیے تو پاک و ہند اور بنگلہ دیش کی درس گاہوں میں اکثر و بیشتر علما وہی ملیں گے جن کا علمی سلسلہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے ان ہی تلامذہ تک پہنچتا ہے۔ اس لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی علمی درس گاہ سے ان رفقائے کرام کی جماعت ایسی باکمال اور بافیض نکلی جس نے اپنے استاذ اور ان کے علمی سلسلوں کا فیضان ہر طرف عام کیا اور اس دورِ انحطاط میں بھی دینی علوم کی آبرو باقی رکھی۔ آج برصغیر سے باہر بھی جو دینی اداروں اور تنظیموں کی چہل پہل نظر آ رہی ہے وہ ان ہی حضرات کی کیمیا اثر نگاہوں کا ثمرہ ہے۔[مقالات مصباحی، ص: 346]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!