Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: دوم)|محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی

صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: دوم)
عنوان: صدر العلماء مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی (قسط: دوم)
تحریر: محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اب آئیے ہم خود حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کی کچھ خصوصیات پر نظر ڈالیں۔

(1) مجھے یاد آتا ہے کہ مبارک پور میں دارالعلوم اشرفیہ کا جلسۂ دستار بندی تھا، حضرت ممدوح بھی مدعو تھے اور ان کے رفیقِ درس مولانا محمد سلیمان اشرفی بھاگل پوری، سابق استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور بھی۔ حافظ ملت علیہ الرحمہ کے زمانے میں امتحانِ سالانہ کے لیے ان رفقائے کرام میں سے دو تین حضرات ضرور مدعو ہوتے تھے بلکہ کبھی زیادہ بھی ہوتے۔ مولانا محمد سلیمان اشرفی علیہ الرحمہ نے رات کے اجلاس میں ایک مختصر تقریر کی جس میں انھوں نے فرمایا کہ پہلے مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی علیہ الرحمہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے متعلق فرماتے تھے کہ “یہ علم کی لائبریری ہیں۔” اور اب میں مولانا غلام جیلانی صاحب کے متعلق کہتا ہوں کہ “یہ علم کی لائبریری ہیں۔”

مولانا سید سلیمان اشرف بہاری علیہ الرحمہ نے صدر الشریعہ کے نام اپنے ایک مکتوب 20 ستمبر 1932ء میں لکھا ہے: “اس وقت سنی حنفی کوئی مدرس ایسا نہیں ہے جو معقول و منقول صحیح استعداد کے ساتھ پڑھا سکتا ہو، میرے علم میں مولانا (وصی احمد) محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ اور استاذ (مولانا ہدایت اللہ رام پوری) علیہ الرحمہ کے آپ ہی یادگار ہیں۔”

مولانا سید سلیمان اشرف علیہ الرحمہ بڑے بڑے کج کلاہوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اگر حدیث و فقہ کے کسی معرکۃ الآرا مسئلہ میں بحث ہو رہی ہے اور کوئی تاریخ داں “علامہ” درمیان میں بول پڑے تو منہ پر بلا جھجک کہہ دیتے کہ “آپ سیرت اور تاریخ دیکھیے، یہ مسئلہ آپ کے بولنے کا نہیں۔” اس لحاظ سے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے متعلق ان کا جملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت ممدوح علیہ الرحمہ سے متعلق ان کے ایک رفیقِ درس کا جملہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دارالعلوم فیضیہ نظامیہ باراہاٹ، بھاگل پور کے ایک اجلاس میں حافظ ملت نے مولانا محمد سلیمان بھاگل پوری علیہ الرحمہ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا تھا: “یہ ایک متبحر اور زبردست عالم ہیں، انھوں نے جو کتابیں پڑھی ہیں وہ آج کے لوگوں نے دیکھی بھی نہیں ہیں۔” ضلع کے عوام تو انھیں بس ایک مولانا اور ایک زمین دار اور رئیس کی حیثیت سے جانتے تھے لیکن ان کی امتیازی حیثیت سے حافظ ملت نے لوگوں کو روشناس کرایا اور بہت کچھ بتایا۔ یہ پینتیس سال پہلے کی بات ہے۔

معاصرین کی شہادت بجائے خود بڑی اہمیت رکھتی ہے اس لحاظ سے مولانا بھاگل پوری کے ارشاد کی روشنی میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت ممدوح کو علم و فن سے کیسا شغف اور کیسا زبردست علمی استحصار تھا کہ انھیں “علم کی لائبریری” کہنا راست اور بجا نظر آیا۔

(2) حضرت ممدوح نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ آپ کے علمی تبحر کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ بخاری شریف کی شرح صرف باب بدء الوحی کی شائع ہوئی ہے اور تقریباً ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف علوم و فنون کے جواہر زواہر ہیں۔ ساتھ ہی عربی زبان میں فیض الباری کا زبردست علمی تعاقب بھی ہے۔ فن نحو میں آپ کو امامت کا درجہ حاصل تھا۔ البشیر الکامل، بشیر الناجیہ اور البشیر کے ذریعہ آپ نے اس فن کی بیش بہا خدمت انجام دی ہے اور ایسی نادر تحقیقات پیش کی ہیں جو عام متداول کتابوں میں نظر نہیں آتیں، ساتھ ہی مدرسہ دیوبند کے بلند بانگ مسند نشینوں کی جو خبر گیری کی ہے وہ ان مسند نشینوں کے علمی افلاس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عوام کے لیے لکھی ہوئی کتاب “نظام شریعت” بھی اپنا ایک خاص رنگ رکھتی ہے۔ مسائل کی تفہیم کے ساتھ واعظانہ اور ناصحانہ اسلوب بھی دل چسپ ہے۔

(3) سمنانی کتب خانہ کے ذریعہ آپ نے بیش قیمت اشاعتی کام انجام دیا ہے۔ فلسفہ قدیمہ کے رد میں امام احمد رضا قدس سرہ کا رسالہ “الْكَلِمَةُ الْمُلْهِمَةُ فِي الْحِكْمَةِ الْمُحْكَمَةِ لِوَهَاءِ فَلْسَفَةِ الْمَشْئَمَةِ” (1328ھ) پہلی بار اسی کتب خانہ سے شائع ہوا۔ اس کتاب نے فلسفہ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ زبردست محقق اور ماہر علوم علامہ شبیر احمد خاں غوری نے اسے عہد حاضر کا “تہافت الفلاسفہ” قرار دیا ہے۔ مگر اس میں بے شمار تحقیقات وہ بھی ہیں جو رد فلسفہ کی قدیم کتابوں میں دستیاب نہیں۔ ابطال جزء لایتجزی پر فلاسفہ کی بیشتر دلیلوں سے قدیم کتابیں خاموش نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر ان کے براہین ہندسیہ کا کوئی جواب نہ دیا گیا، لیکن “الکلمۃ الملہمۃ” نے ہندسی، غیر ہندسی کوئی دلیل سلامت نہ رکھی اور ایک ایک کر کے ساری دلیلوں کو باطل کر دیا۔

فتاویٰ رضویہ دوم، انوار آفتاب صداقت، الصبح المنیر، كِفَايَةُ الْمُتَحَفِّظِ وغیرہ بہت سی علمی کتابیں آپ نے شائع کیں، یہ اس دور کی بات ہے جب کتابت، تصحیح، طباعت، اشاعت کی راہ میں دشواریاں آج کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ تھیں اور پورے ملک میں دو چار کتب خانے تھے جو اپنی چند کتابوں پر قانع اور زیادہ اشاعت سے قاصر تھے۔ خریداری کافی حد تک افسوس ناک حد تک کم تھا۔

(4) مدرسہ سمنانی میرٹھ میں آپ صدر المدرسین تھے اور منتہی کتابوں کا درس دیتے تھے، مگر طلبہ کو دستارِ فضیلت یا سندِ فضیلت دینے میں بڑے سخت اصول پر کاربند تھے۔ پورے دورِ تدریس میں شاید دو بار آپ نے فارغین کو دستار دی ہے۔ وہ یہ فرماتے تھے کہ جب تک معقولات و منقولات کی تمام نصابی کتب پڑھنے کے ساتھ طالبِ علم ان کے پڑھانے پر بھی قادر نہ ہو جائے وہ دستار کا اہل نہیں ہوتا۔ وہ دیوبند کے اس رویے سے سخت نالاں تھے کہ جو آیا دورۂ حدیث میں اس کا داخلہ لے لیا اور دو چار کتابوں کا دور کرا کے سندِ فضیلت عطا کر دی۔ وہ فرماتے تھے کہ جاہلوں کو سند دے دے کر ان لوگوں نے علم اور علما کا وقار مٹیا میٹ کر دیا۔

(5) حضرت ممدوح اپنے رفقا اور معاصرین کے بھی قدر داں تھے۔ حافظِ ملت کا بھی محبت سے ذکر کرتے تھے۔ مولانا رحمت اللہ عزیزی بلرام پوری نے انوار القرآن بلرام پور سے حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کے زمانۂ صدارت میں فراغت حاصل کی۔ اس سے قبل میرٹھ میں حضرت ممدوح سے تعلیم حاصل کی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ صدرالعلما علیہ الرحمہ حافظِ ملت کا ذکرِ خیر کرتے اور فرماتے کہ زمانۂ طالبِ علمی میں، ہم لوگوں کے بعض اوقات تفریح کے لیے خاص تھے۔ کبھی کبھی ہم لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے مگر حافظ صاحب ہم لوگوں کی ایسی مجلس میں کبھی شریک نہ ہوئے۔ وہ مطالعہ سے خالی ہوتے تو قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے یا استاذ کی خدمت میں حاضر ہوتے، وہاں کمرے کی صفائی، لالٹین کی صفائی، کمرے کی چیزوں کو سلیقے سے رکھنا، وقت پر جو کام نظر آتا وہ کرتے، کبھی یہ سب ہو چکا ہوتا اور وقت خالی بچتا تو دیواروں کی صفائی میں لگ جاتے، گرد و غبار، دھبے وغیرہ صاف کرتے، ہنسی مذاق میں شریک نہ ہونے پر خفا ہو کر ایک ساتھی نے حافظ صاحب کا کمرہ باہر سے بند کر کے کنڈی چڑھا دی کہ نکلنے کے لیے جب کھلوائیں گے تو خوب مزہ آئے گا، انھوں نے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت شروع کر دی، بند کرنے والا انتظار کرتے کرتے خود ہی اکتا گیا اور کنڈی کھول کر کہیں چلا گیا۔

(6) میرٹھ میں ان کے قیام سے گرد و نواح میں بلکہ پورے مغربی یوپی میں اہل سنت کا ایک علمی دبدبہ قائم تھا۔ دیوبند کی باتیں ان تک پہنچتی رہتی تھیں اور وہ جواب دیتے تھے۔ اہل دیوبند اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے سے عاجز ہیں اس لیے ہمیشہ جھوٹ اور غلط پروپیگنڈہ سے اپنا کام چلاتے ہیں اور اہل سنت کو جاہل بتاتے ہیں۔ حضرت ممدوح جس زمانے میں البشیر الکامل لکھ رہے تھے ایسا ہی ایک طعنِ جہالت ان کے کانوں تک پہنچا تو البشیر الکامل کا ایک مقدمہ لکھا، جس کی سرخی ہے “دیوبندی ترکیب کی خامیاں”۔ اس میں حضرت نے دیوبند کی علمی تشہیر کا پردہ اچھی طرح چاک کیا ہے۔ افسوس کہ ان کے بعد میرٹھ یا اس کے اطراف میں حضرت کا کوئی علمی جانشین نہ رہا۔

الغرض وہ بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔ ایک زمانے تک ان کا فیض ابرِ کرم بن کر برستا رہا اور ان شاء اللہ ان کا علمی فیضان ان کی تصانیف اور ان کے تلامذہ کے ذریعہ آئندہ بھی برستا رہے گا۔ ربّ کریم ان کے مزار پر رحمت و انوار کی بارش فرمائے اور ہم سب کو توفیقِ خیر سے نوازے۔ آمین[مقالات مصباحی، ص: 348]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!