Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صاحب ہدایہ (قسط: اول)|مولانا عبد الحیی فرنگی محلی

صاحب ہدایہ (قسط:اول)
عنوان: صاحب ہدایہ (قسط:اول)
پیش کش: سائرہ الطاف امجدی

فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب ہدایہ سے کون واقف نہیں؟ صدیوں سے علمی دنیا میں اس کی جلالتِ شان کا ڈنکا بج رہا ہے۔ فقہ کی کسی دوسری کتاب کے ساتھ آج تک اتنا اعتنا نہیں کیا گیا ہو گا جتنا کہ علما نے ہدایہ کے ساتھ کیا۔

مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہو کر مفید عام ہو چکے ہیں۔ 1791ء میں اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا۔

اس مختصر مقالے میں اسی جلیل الشان کتاب کے عظیم مصنف سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نام و نسب

اس کے مصنف شیخ الاسلام برہان الدین علی مرغینانی ہیں۔ یہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل سے ہیں۔ مختصر نسب نامہ یہ ہے: شیخ الاسلام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر بن عبد الجلیل بن خلیل بن ابو بکر۔

ولادت و تعلیم

رجب 511ھ دوشنبہ کے دن نماز عصر کے بعد بزم گیتی کو رونق بخشی۔ اپنے والد شیخ ابو بکر بن عبد الجلیل اور اس زمانے کے اکابر علماء و مشائخ سے استفادہ کیا جن میں سے چند اہم شخصیتوں کے اسمائے گرامی یہاں لکھے جاتے ہیں:

  1. مفتی ثقلین شیخ نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد نسفی (461 - 537ھ) صاحب ہدایہ نے اپنے مشائخ کے تذکرے میں ان کو سر فہرست ذکر کیا ہے۔

  2. شیخ نجم الدین ابو حفص کے صاحب زادے ابواللیث احمد بن عمر نسفی (م 552ھ)

  3. صدر شہید حسام الدین عمر بن عبد العزیز بن عمر بن مازہ (483 - 536ھ)

  4. صدر سعید تاج الدین احمد بن عبدالعزیز

  5. شیخ ابو عمرو عثمان بن علی بیکندی، شاگرد شمس الائمہ سرخسی (465 - 552ھ)

  6. قوام الدین احمد بن عبد الرشید بخاری، والد صاحب خلاصۃ الفتاویٰ

  7. امام بہاء الدین علی بن محمد بن اسماعیل اسبیجابی (454 - 535ھ)

حج و زیارت اور وفات

شیخ الاسلام 544ھ میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ انور سے سرفراز ہوئے، 14 ذی الحجہ 593ھ منگل کی رات میں اس دار فانی سے دار بقا کو رحلت فرمائی، اور سمرقند میں مدفون ہوئے۔ سمرقند میں "تربة المحمديين" نامی ایک قبرستان ہے جس میں تقریباً چار سو ایسے افراد مدفون ہیں جن کا نام ”محمد“ ہے اور ہر ایک صاحب تصنیف و افتا اور اپنے زمانے کی ایک عظیم جماعت کا استاذ و شیخ ہے۔ صاحب ہدایہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے انہیں اس میں دفن کرنے سے روکا، غالباً اس لیے کہ وہ قبرستان "محمد" نام والوں کے لیے مخصوص تھا اور ان کا اسم گرامی ”علی“ تھا، پھر اس کے قریب دوسری جگہ آسودہ خاک ہوئے۔

جلالتِ علم

شیخ الاسلام کی منقبت میں محمود بن سلیمان کفوی (متوفی 990ھ) کتائب اعلام الاخیار معروف بطبقات کفوی میں رقم طراز ہیں:

كَانَ إِمَامًا فَقِيهًا حَافِظًا مُحَدِّثًا مُفَسِّرًا جَامِعًا لِلْعُلُومِ، ضَابِطًا لِلْفُنُونِ، مُتْقِنًا، مُحَقِّقًا نَظَّارًا مُدَقِّقًا زَاهِدًا وَرِعًا فَاضِلًا مَاهِرًا أُصُولِيًّا أَدِيبًا شَاعِرًا، لَمْ تَرَ الْعُيُونُ مِثْلَهُ فِي الْعِلْمِ وَالْأَدَبِ، وَلَهُ الْيَدُ الْبَاسِطَةُ فِي الْخِلَافِ وَالْبَاعُ الْمُمْتَدُّ فِي الْمَذْهَبِ.

ترجمہ: ”وہ امام، فقیہ، حافظ، محدث، مفسر، علوم و فنون کے جامع و ضابط، حفظ و علم کے پختہ، بحر تحقیق کے شناور، فکر و نظر کے بہت تیز، میدان تدقیق کے شہ سوار، زہد و ورع کے حامل، مرتبۂ کمال پر فائز، فاضل ماہر، فن اصول کے نکتہ داں، ادیب، شاعر سب تھے، علم و ادب میں نگاہوں نے ان کا مثل نہ دیکھا، انہیں خلافیات میں ید طولیٰ اور مذہب میں پوری دسترس حاصل تھی۔“

تلامذہ

بڑے بڑے علما اور جلیل القدر شیوخ کو صاحب ہدایہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے۔ چند حضرات کے اسمائے گرامی درج کیے جاتے ہیں:

  1. شیخ جلال الدین محمد بن صاحب ہدایہ

  2. شیخ نظام الدین عمر بن صاحب ہدایہ

  3. شیخ عماد الدین بن صاحب ہدایہ

  4. شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری (م 642ھ)

  5. جلال الدین محمود بن حسین استروشنی

تصنیفات

"ہدایہ" کے علاوہ شیخ الاسلام کی اور بھی کئی تصنیفات ہیں جو آپ کی جلالت علم اور کمال شان کا بے مثال مظہر ہیں، کتاب المنتقی، نشر المذہب، التجنيس والمزيد، مناسك الحج، مختارات النوازل اور فرائض میں ایک کتاب، ان سب کا ذکر طبقات کفوی میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں ہدایہ کے ساتھ اور دو کتابیں ایسی ہیں جو رہتی دنیا تک یاد کی جائیں گی، بدایۃ المبتدی اور کفایۃ المنتہی۔

بدایۃ المبتدی

برہان الملہ والدین نے اس میں مختصر قدوری اور جامع صغیر کے مسائل یکجا کر دیے ہیں اور اس کی ترتیب وہی رکھی ہے جو امام محمد بن الحسن شیبانی شاگرد امام اعظم (132 - 189ھ) نے اپنی کتاب جامع صغیر میں رکھی ہے۔ طبقات کفوی میں ہے:

قَالَ فِي أَوَّلِ الْبِدَايَةِ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَلِيلِ: كَانَ يَخْطُرُ بِبَالِي عِنْدَ ابْتِدَاءِ حَالِي أَنْ يَكُونَ كِتَابٌ فِي الْفِقْهِ فِيهِ مِنْ كُلِّ نَوْعٍ، صَغِيرُ الْحَجْمِ كَبِيرُ الرَّسْمِ وَحَيْثُ وَقَعَ الِاتِّفَاقُ بِتَطْوَافِ الطُّرُقِ، وَجَدْتُ الْمُخْتَصَرَ الْمَنْسُوبَ إِلَى الْقُدُورِيِّ أَجْمَلَ كِتَابٍ فِي حُسْنِ إِيجَازٍ وَإِعْجَابٍ وَرَأَيْتُ كُبَرَاءَ الدَّهْرِ يُرَغِّبُونَ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ فِي حِفْظِ جَامِعِ الصَّغِيرِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا وَلَا أَتَجَاوَزُ فِيهِ عَنْهُمَا إِلَّا مَا دَعَتِ الضَّرُورَةُ إِلَيْهِ، وَسَمَّيْتُهُ بِدَايَةَ الْمُبْتَدِي وَلَوْ وُفِّقْتُ لِشَرْحِهِ سَمَّيْتُهُ بِكِفَايَةِ الْمُنْتَهَى.

ترجمہ: ”برہان الدین بدایہ کے شروع میں رقم طراز ہیں: ابو الحسن علی بن ابو بکر بن عبدالجلیل کہتا ہے، ابتداء میرے دل میں یہ خیال ہوتا تھا کہ فقہ میں ایک ایسی کتاب ہونی چاہیے جس میں ہر نوع کے مسائل ہوں، ضخامت میں چھوٹی اور فوائد و مضمون کے لحاظ سے بڑی ہو اور جب بہت ساری راہ پیمائیوں کا اتفاق ہوا تو یہی دیکھا کہ (ابوالحسین احمد بن محمد بغدادی) قدوری (362 - 428ھ) کی مختصر قدوری ایجاز و اختصار اور پسندیدگی کے اعتبار سے نفیس ترین کتاب ہے اور یہ بھی دیکھا کہ اکابر زمانہ، چھوٹے بڑے ہر شخص کو امام محمد کی جامع صغیر حفظ کرنے کی ترغیب دیا کرتے ہیں، تو میں نے چاہا کہ دونوں کے مسائل یک جا کر دوں اور کسی خاص ضرورت کے بغیر ان دو کتابوں سے تجاوز نہ کروں۔ ان مسائل کو یکجا کر کے میں نے مجموعے کا نام ”بدایۃ المبتدی“ رکھا اور اس کی شرح کی توفیق ارزانی ہوئی تو اس کا نام ”کفایۃ المنتہی“ رکھوں گا۔“

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!