Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صاحب ہدایہ (قسط: دوم)|مولانا عبد الحیی فرنگی محلی

صاحب ہدایہ (قسط: دوم)
عنوان: صاحب ہدایہ (قسط: دوم)
پیش کش: سائرہ الطاف امجدی

کفایۃ المنتہی

اس ارادے کے مطابق توفیقِ ربانی نے مصنف کی یاوری کی اور انہوں نے ”بدایۃ المبتدی“ کی ”کفایۃ المنتہی“ نامی شرح تصنیف فرمائی جو اسی جلدوں پر مشتمل تھی۔ ملا احمد آفندی بن مصطفی معروف ”طاش کبری زادہ“ (م 962ھ) مفتاح السعادۃ میں لکھتے ہیں: ”یہ کتاب نادر الوجود ہے، دوسرے حضرات نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ کتاب اس وقت مفقود ہے، کہیں اس کا سراغ نہیں ملتا۔“ لیکن ہدایہ دیکھنے والے یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کتاب کتنی مبسوط اور کتنے مباحث، دلائل اور مسائل کی جامع ہوگی۔

ہدایہ

شیخ الاسلام نے کفایۃ المنتہی نامی شرح کے بعد ”ہدایہ“ لکھنے کی ضرورت محسوس کی اور چہار شنبہ کے دن ظہر کے وقت ذی قعدہ 573ھ میں اس کی تصنیف شروع کی۔ ہدایہ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:

وَقَدْ جَرَى عَلَى الْوَعْدِ فِي مَبْدَإِ بِدَايَةِ الْمُبْتَدِي أَنْ أَشْرَحَهَا بِتَوْفِيقِ اللَّهِ شَرْحًا أَرْسُمُهُ بِكِفَايَةِ الْمُنْتَهَى فَشَرَعْتُ فِيهِ وَالْوَعْدُ يُسَوِّغُ بَعْضَ الْمَسَاغِ، وَحِينَ أَكَادُ أَتَكَاَّعُ عَنْهُ اتِّكَاءَ الْفَرَاغِ تَبَيَّنْتُ فِيهِ نُبَذًا مِنَ الْإِطْنَابِ، وَخَشِيتُ أَنْ يُهْجَرَ لِأَجْلِهِ الْكِتَابُ فَصَرَفْتُ عِنَانَ الْعِنَايَةِ إِلَى شَرْحٍ آخَرَ مَوْسُومٍ بِالْهِدَايَةِ أَجْمَعُ فِيهِ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى بَيْنَ عُيُونِ الرِّوَايَةِ وَمُتُونِ الدِّرَايَةِ، تَارِكًا لِلزَّوَائِدِ فِي كُلِّ بَابٍ مُعْرِضًا عَنْ هَذَا النَّوْعِ مِنَ الْإِسْهَابِ، مَعَ أَنَّهُ يَشْتَمِلُ عَلَى أُصُولٍ يَنْسَحِبُ عَلَيْهَا فُصُولٌ.

ترجمہ: ”بدایۃ المبتدی“ کے شروع میں قلم سے یہ وعدہ سرزد ہو گیا تھا کہ توفیقِ الٰہی سے اس کی ایک شرح لکھوں گا جو کفایۃ المنتہی سے موسوم ہوگی۔ میں نے یہ شرح شروع کر دی، اور ایفائے وعدہ کی ذمہ داری ایسے اہم کام میں ہاتھ لگانے کا ذرا جواز پیدا کر دیتی ہے۔ اب اس شرح سے آرامِ فراغ حاصل کرنے والا ہی تھا کہ میں نے اس میں کچھ طول و اطناب عیاں دیکھا، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کی وجہ سے کتاب کہیں متروک نہ ہو جائے اور کوئی اس کے مطالعہ کی ہمت ہی نہ کر سکے۔ تو میں نے زمامِ توجہ ایک اور شرح کی طرف پھیری جو ہدایہ سے موسوم ہو۔ میں بتوفیقِ الٰہی ہر باب میں زوائد کو ترک اور اس نوعِ اسہاب و تطویل سے اعراض کرتے ہوئے بہترین دلائلِ نقلیہ اور قوی دلائلِ عقلیہ دونوں ہی یکجا کروں گا۔ اس کے باوجود کتاب ایسے اصول پر مشتمل ہو گی جن سے بہت سی فروع برآمد ہو سکیں گی۔“

چنانچہ شیخ الاسلام نے اسی شان سے ہدایہ تصنیف کی اور جب یہ تصنیف ہو کر منظرِ عام پر آئی تو ساری دنیا اس کی طرف جھک پڑی۔ بے شمار شرحیں اور حواشی لکھے گئے۔ مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ علمائے فقہ و فتویٰ نے اسے اپنا مرجع و معتمد بنایا۔ اور اُسے وہ قبولِ عام حاصل ہوا جو فقہ کی کسی دوسری کتاب کو نصیب نہ ہو سکا۔

ہدایہ کی خصوصیت

دیباچہ ہدایہ کی سطورِ بالا سے معلوم ہوا کہ ہدایہ میں صرف بیانِ مسائل پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ہر مسئلہ کی دلیل بھی مذکور ہے۔ اگر صرف دلیلِ نقلی یا عقلی کا موقع ہے تو وہی، ورنہ عموماً نقلی و عقلی دونوں طرح کی دلیلیں دی ہیں۔

مثلاً (1) وضو میں پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونے کے مسنون ہونے پر دلیلِ نقلی پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.

ترجمہ: ”اس لیے کہ ارشادِ رسول علیہ الصلوۃ والسلام ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو ہرگز اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک اسے تین بار دھو نہ لے، اسے کیا پتہ رات کو اُس کا ہاتھ کہاں رہا۔“ [یہ حدیث صحاحِ ستہ میں موجود ہے۔ تخریج زیلعی ج 1، حاشیہ ہدایہ]

اس کے بعد عقلی دلیل پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

وَلِأَنَّ الْيَدَ آلَةُ التَّطْهِيرِ فَتُسَنُّ الْبِدَايَةُ بِتَنْظِيفِهَا وَهَذَا الْغُسْلُ إِلَى الرُّسْغِ لِوُقُوعِ الْكِفَايَةِ بِهِ فِي التَّنْظِيفِ.

ترجمہ: ”اور اس لیے کہ ہاتھ دوسرے اعضا کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے تو پہلے خود اُسے صاف کر لینا مسنون ہو گا۔ اور یہ دھونا بس گٹے تک ہے کیونکہ کارِ تنظیف کے لیے اتنا حصہ کافی ہے۔“

(2) دو آدمیوں نے ایک مقرر دام پر کوئی چیز آپس میں بیچی خریدی۔ اب کوئی اس بیع پر پچھتا رہا ہے اور ختم کرنا چاہتا ہے تو دونوں کا جو دام طے تھا وہی لے دے کر بیع فسخ کر سکتے ہیں۔ "الْإِقَالَةُ جَائِزَةٌ فِي الْبَيْعِ بِمِثْلِ الثَّمَنِ الْأَوَّلِ" کے تحت صاحبِ ہدایہ نے اس مسئلہ کی دلیلِ نقلی میں یہ حدیث پیش کی، جسے ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ أَقَالَ نَادِمًا بَيْعَتَهُ أَقَالَ اللَّهُ عَثَرَاتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ترجمہ: ”اس لیے کہ ارشادِ رسول علیہ الصلوۃ والتسلیم ہے کہ جس نے کسی شرمندہ اور پچھتانے والے شخص کی بیع ختم کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشیں ختم کر دے گا۔“

پھر دلیلِ عقلی پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَلِأَنَّ الْعَقْدَ حَقُّهُمَا، فَيَمْلِكَانِ رَفْعَهُ، دَفْعًا لِحَاجَتِهِمَا. [بدایه، ص: 53، ج: 3]

ترجمہ: ”اور اس لیے کہ عقد دونوں کا آپسی حق ہے۔ تو اپنی ضرورت کے پیشِ نظر دونوں مل کر اسے ختم کر لینے کے مالک و مختار ہوں گے۔“

اسی پر بس نہیں، انہوں نے مسائل میں ائمہ کے اختلافات، ان کی عقلی و نقلی دلیلیں، جوابات، ترجیح سب ذکر کی ہے۔ اگر سب کی نظیریں پیش کروں تو مضمون طویل اور بہت سے قارئین کے لیے اکتاہٹ کا باعث ہوگا۔ ہدایہ کا مطالعہ کرنے والے اس کی ان سب خصوصیات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اور یہی وہ خوبیاں ہیں جن کے باعث ہدایہ صدیوں سے داخلِ نصاب ہے۔ اور صحت، جامعیت، اختصار، بیانِ مذاہب، ذکرِ دلائل وغیرہ میں اب تک کوئی کتاب اس کے مثل نہ پیش کی جا سکی۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (1272ھ - 1340ھ) تحریر فرماتے ہیں: "مِنَ الْمُتُونِ مَعَ أَنَّهَا شَرْحٌ بِالصُّورَةِ" [فتاویٰ رضویہ اول حاشیہ، ص: 810]

ترجمہ: ”باوجودے کہ ہدایہ شرح کی شکل میں ہے مگر اس کا شمار متون میں ہے۔“

شیخ الاسلام کے فرزند شیخ عماد الدین ہدایہ کی منقبت میں فرماتے ہیں:

كِتَابُ الْهِدَايَةِ يَهْدِي الْهُدَى
وَيَجْلُو الْعَمَى لِحَافِظِيهِ
فَلَازِمْهُ وَاحْفَظْهُ يَا ذَا الْحِجَى
فَمَنْ نَالَهُ نَالَ أَقْصَى الْمُنَى

ترجمہ: ”ہدایہ اپنے حفظ کرنے والوں کو ہدایت کا ہدیہ پیش کرتی ہے اور بے بصیرتی و نابینائی دور کرتی ہے۔ تو اے صاحبِ ہوش و خرد! اسے پابندی سے اختیار کر اور حفظ کر لے کہ جس نے اُسے پا لیا اپنی آخری اور انتہائی امید و آرزو کے حصول سے شادکام ہوا۔“

قبولِ ہدایہ کا سبب

جس طرح صحیح بخاری شریف کے قبولِ عام اور صدیاں گزر جانے کے باوجود اس کے افاضۂ تام کا خاص سبب یہ ہے کہ اُسے امام محمد بن اسماعیل بخاری (194ھ - 256ھ) نے سولہ برس کی مدت میں چھ لاکھ صحیح احادیث سے منتخب کر کے جمع فرمایا ہے اور ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کر کے دو رکعت نفل نماز پڑھی ہے اور پھر اس کے تراجم (ابواب کے عنوانات) نبی کریم ﷺ کی قبرِ انور اور منبرِ اطہر کے درمیان اس طرح تحریر کیے ہیں کہ ہر ترجمہ لکھنے سے پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خیرات و حسنات کا التزام کیا جس کے باعث اس کے برکات و اثرات بھی زیادہ ہیں۔

اسی طرح ہدایہ کی مقبولیت کے کچھ روحانی اسباب بھی ہیں۔ شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے اس کتاب کی تصنیف میں تیرہ برس صرف کیے ہیں۔ اس طویل مدت میں لازماً ہر دن روزہ رکھا۔ سوائے ایامِ ممنوعہ کے کبھی بھی دن میں کچھ نہ کھایا پیا۔ اس پر بھی ان کی پوری کوشش یہ ہوئی کہ ان کے روزے سے کوئی باخبر نہ ہو۔ خادم دن کا کھانا لے کر حاضر ہوتا تو اس سے فرماتے "خَلِّهِ وَرُحْ" (کھانا رکھ کر تم چلے جاؤ)۔ خادم چلا جاتا تو کسی طالبِ علم یا حاضرین میں سے دوسرے کسی آدمی کو کھلا دیتے۔ دوبارہ اُن کا خادم حاضر ہوتا تو برتن خالی دیکھ کر سمجھتا حضرت نے کھانا تناول فرما لیا، اور برتن لے کر چلا جاتا۔

یقیناً مصنفینِ عظام کی روحانی مشقیں اور ان کا اخلاصِ بیکراں رنگ لایا۔ قرن گزر گئے، صدیاں بیت گئیں، کتنے باجبروت سلاطین کی بساطیں الٹ گئیں۔ مگر ان علمائے قدس کے نقوشِ تحریر کی جہانگیر حکومتیں اسی طرح زندہ و تابندہ ہیں جیسے ان کے عصورِ حیات میں تھیں، یا اس سے بھی زیادہ۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!