Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: دوم)|ریاست علی رضوی نعیمی زاہد علی سلامی نعیمی

شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: دوم)
عنوان: شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: دوم)
تحریر: ریاست علی رضوی نعیمی زاہد علی سلامی نعیمی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

شرع اسلام نے سود کو قطعی حرام کیا

شرعِ اسلام سود کو قطعی حرام فرماتا ہے اور اس کا حلال جاننے والا شریعت کے حکم کا مخالف اور اس کے آئین کو توڑ کر حدودِ اسلام سے باہر ہو جاتا ہے اور شریعتِ طاہرہ ایسے شخص پر کفر کا حکم دیتی ہے۔ پناہ بخدا یہ سرکشی کہ خداوندِ عالم جس چیز کو حرام فرمائے، اسلام کا دعویدار ہو کر کوئی شخص اس کو حلال کہے ”تف ہزار تف“، اور پھر یہ کہنا کہ شریعت نے تجارتی سود کو حرام ہی نہیں کیا شریعتِ مطہرہ اور قرآنِ پاک پر افتراء ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَّذِيْنَ يَأْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِllَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ [سورۃ البقرة: 275]

جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن کھڑے نہ ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سود خوار روزِ قیامت مخبوط و بدحواس کی طرح اٹھیں گے اور ان کی یہ شان ہوگی کہ مصروع کی طرح اٹھتے ہیں اور گر پڑتے ہیں، اٹھتے ہیں اور اٹھنا دشوار ہے، جو سود کھایا ہے پیٹوں میں بار ہے۔ اہل موقف کے لیے سود خواروں کا یہ اٹھنا اور گر پڑنا سود خواری کی علامت ہے اور سود خواری کی ذلت ہے جو قبر سے اٹھتے ہی اس کو گھیرے گی۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اٰكِلَ الرِّبٰوا وَمُوْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ [صحيح مسلم]

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر، سب پر لعنت کی اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔ قرآن پاک میں سود خواروں کا یہ حالِ بد مال بیان فرمانے کے بعد اس کے سبب کا ذکر فرمایا ہے جس سے اس شخص کا حکم ہی صاف و صریح معلوم ہوتا ہے جو تجارتی سود کو مباح کہتا ہے۔ ارشاد ہوا:

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ [سورۃ البقرة: 275]

یہ (عذاب) اس سبب سے ہے کہ انہوں نے کہا کہ بیع سود ہی کی طرح ہے اور (حقیقتِ امر یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام فرمایا۔ اس آیتِ مبارکہ میں سود کی حرمت کا کیسا صاف و صریح اور غیر مشتبہ بیان ہے اور جو لوگ سود کو بیع کی طرح حلال قرار دیتے تھے ان کے بطلان کا اظہار ہے، ان آیات کو دیکھنا اور نابینا بن جانا، ان کے معانی بدلنے کی کوشش کرنا، دین کی، اسلام کی، خدا اور رسول کی مخالفت اور کمال جُرأت و بے دینی ہے۔ اس کے بعد حضرت ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے:

فَمَنْ جَاءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمْرُهٗ اِلَى اللّٰهِؕ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ هُمْ فِىْهَا خٰلِدُوْنَ [سورۃ البقرة: 275]

جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آئی (اور ممانعتِ سُود کا حکم اسے ملا) پس وہ باز رہا (اور سود سے مجتنب ہوا) تو اس کے لیے ہے جو گزر چکا (یعنی حرمتِ سُود کے نزول سے قبل جو لے چکا ہے اس پر مواخذہ نہ ہوگا) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور ایسی حرکت پھر کریں (سود کو حلال سمجھیں) وہ دوزخی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیرِ مدارک میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

لِاَنَّهُمْ بِالْاِسْتِحْلَالِ صَارُوْا كَافِرِيْنَ لِاَنَّ مَنْ اَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ فَهُوَ كَافِرٌ فَلِذَا اسْتَحَقَّ الْخُلُوْدَ۔ [تفسير المدارک]

کیونکہ وہ لوگ سود کو حلال جان کر کافر ہو گئے اس لیے کہ جو شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال جانے وہ کافر ہے۔ یہ ہے حکمِ قرآنی اور اس پر ان لوگوں کی یہ جُرأتیں ہیں، العیاذ باللہ۔ اس کے بعد ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے:

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِى الصَّدَقٰتِؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ [سورۃ البقرة: 276]

اللہ تعالیٰ سود کو ہلاک کرتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کو پسند نہیں کوئی ناشکرا بڑا گناہ گار۔ اللہ تعالیٰ تو سود کو ہلاک کرے، مٹائے اور اسلام کے دعوے کرنے والے اس کو رائج کرنے، رواج دینے میں سر کھپائیں، اللہ تعالیٰ ہدایت فرمائے۔ اس کے ایک آیت بعد فرمایا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ [سورۃ البقرة: 278]

اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا سود اگر تم مسلمان ہو یعنی حرمتِ سود کے نزول سے قبل تمہارا جو سود دوسروں کے ذمہ باقی تھا اس کو نزولِ حرمت کے بعد چھوڑ دو اور نہ وصول کرو کہ اب سود حرام کر دیا گیا۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖۚ [سورۃ البقرة: 279]

بھر اگر ایسا نہ کرو (یعنی اس سود کو وصول کرو) تو یقین کرو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کا۔ اب جو سود کے جواز پر زور دے رہے ہیں وہ خدا اور رسول سے لڑائی پر آمادہ ہیں، کس منہ سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلمانو! ہوشیار ہو جاؤ، ان خدا اور رسول سے جنگ کرنے والوں کی بات پر توجہ نہ کرو! یہ دشمنانِ خدا اور رسول تمہیں ہلاکت میں ڈالیں گے۔

اخبار نویسوں کی بے قیدی

مسلم اخباروں میں ایسے مخالفِ اسلام مضامین کا شائع ہونا اور دینِ پاک کے مٹانے کا پروپیگنڈہ کرنا اور اخبار نویسوں کا بہ جوشِ دلی اسے اپنے اخبار میں درج کرنا، دین کی حمایت اور مذہب کی تائید میں ایک حرف تک زبانِ قلم پر نہ لانا نہایت افسوسناک اور قابلِ شرم جرم ہے، پھر کس منہ سے وہ اپنے آپ کو مسلمان اور اپنے اخبار کو اسلام کا حامی کہہ سکتے ہیں۔ دنیا طلبی پر لعنت جو ایسی بیہودہ دشمنِ اسلام تحریک کی مخالفت میں زبان و قلم کو جنبش نہیں کرنے دیتی۔ اللہ تعالیٰ ہدایت فرمائے، آمین۔

سود میں سراسر ضرر ہے

شریعتِ طاہرہ کے تمام احکام حکمت سے مملو ہیں اگر کوئی قاصر اپنے قصورِ فہم سے اس حکمت تک نہ پہنچے تو یہ اس کی عقل کی کوتاہی ہے اور یقیناً حکمتِ ربانیہ کے اسرار تک رسائی نہیں، عقل کا عاجز رہ جانا بہت ہی قرینِ قیاس ہے۔ جبکہ ایک معمولی عقل و دماغ کا انسان حکیموں اور فلسفیوں کے کلام کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز رہتا ہے تو اگر وہ حکمتِ الٰہیہ تک نہ پہنچے اور اس کی باریکیوں کو نہ سمجھے تو کیا تعجب ہے۔ بچہ استاد کی تنبیہ و تنقید کی حکمت نہیں سمجھتا اور کھیل سے روکنے اور پابند کیے جانے کو اپنے حق میں مصیبت سمجھتا ہے اور اس کی عقل ان نتائج و فوائد تک نہیں پہنچتی جو اس تعلیم و تربیت پر مرتب ہونے والے ہیں۔ لیکن وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ میرے مہربان باپ نے مجھے اس استاد کے سپرد کیا ہے اور وہ ان تمام قیود و پابندیوں پر راضی ہے تو اس بچے کو تسلی ہو جاتی ہے اور وہ اطمینان کر لیتا ہے کہ باپ کی مہربانی میں شک نہیں تو جو کچھ وہ میرے لیے کر رہا ہے وہ ضرور میرے حق میں بہتر ہے اگرچہ میری عقل اس کو نہ سمجھ سکے۔ ایک بچہ تو اپنے باپ کی محبت پر اتنا یقین رکھتا ہے مگر ان عقل و خرد کے دعویداروں پر افسوس جنہیں پروردگارِ عالم کی حکمت و رحم پر یقین و اعتماد نہیں اور وہ اپنی عقلِ پُر از خطا کو غلط روی میں صرف کیے جاتے ہیں۔ مسلمان کو قرآن و حدیث کی تعلیم پر تمام جہاں کی راؤوں اور عقلیوں سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے اور وہ خدا اور رسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مقابل سارے جہاں کو بے حقیقت جانتا ہے، اس کے لیے شریعت کے ارشاد سے بڑھ کر اور کوئی چیز تسلی دینے والی نہیں سود میں بکثرت مفاسد ہیں، اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے تو انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ:

  1. انصاف کی شریعت بلا عوض کسی کا مال لینے کو حلال نہیں کر سکتی، سود بے عوض لیا جاتا ہے، دیے زید نے دس روپے تھے بارہ وصول کرتا ہے تو یہ دو محض بے عوض ہیں، اس لیے ان کا لینا حرام ہونا ہی چاہیے اور اس حکم میں عقلِ سلیم ذرا بھی تردد نہیں کرتی.

  2. سود تجارت کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ سرمایہ دار جب سود کے ذریعہ بے محنت و مشقت دوسروں کی دولت پر قابض اور ان کی جائیدادوں کا مالک ہو جاتا ہے تو وہ تجارت کی مشقتوں کو برداشت کرنا ناگوار سمجھتا ہے اور جس روپے کو تجارت میں لگا سکتا تھا، اس کو جال بنا کر دوسروں کی دولتوں کا شکار کھیلنے کا لطف اٹھاتا ہے اور تجارتوں کی ترقی کے ساتھ عامۃ الناس کے جو منافع وابستہ تھے ان میں بہت کمی آجاتی ہے۔

  3. انسان کو روحانی طور سے بھی سود سے بہت نقصان پہنچتا ہے۔ احسان کرنے اور قرضِ حسن دینے کی عادتیں جاتی رہتی ہیں۔ اپنے کمزور اور غریب بھائی کو قرض دے کر اس کی دستگیری کرنا اور گری ہوئی حالت سے اٹھانا، بگڑے ہوئے کو سنبھالنا یہ سب موقوف ہو جاتا ہے اور اس طرح دنیا برادرانہ رحم کی پاکیزہ خصلت سے محروم ہو جاتی ہے اور برادرانہ ہمدردی کا خون ہو جاتا ہے۔

  4. حرص کا بدترین جذبہ جو انسان کی روحانیت کے لیے مہلک بیماری ہے، نہایت قوی ہو جاتا ہے اور سود خور ہر شخص کے مال و جائیداد، مکان کو حرص و طمع کی نظر سے دیکھتا ہے، اپنے بھائیوں کے لیے مبتلائے مصیبت ہونے کی تمنا کرتا ہے کہ وہ کسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہوں اور مجھ سے قرض لیں تاکہ میں ان کی جائیدادوں اور املاک پر قابض ہوں۔

  5. ظلم اور درندہ خصال سود خوار انسان کی طبیعت بن جاتی ہے اور وہ دوسروں کی تباہی اور بربادی سے خوش ہوا کرتا ہے، ایک آدمی اپنے تمول کی حرص میں ایک پورے خاندان اور اس کے متوسلین کو جو دنیا میں عزت و حرمت کے ساتھ عیش و راحت کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، نانِ شبینہ کا محتاج اور دربدر پھرنے اور بھیک مانگنے کے قابل بنا دیتا ہے اور اس طرح ان بے کسوں مجبوروں پر ظلم کرتا ہے کہ کبھی اسے ان کی تباہی و بربادی اور صدہا انسانوں کی مصیبت و نکبت پر ترس نہیں آتا۔ ہندوستان میں مسلمان اس کے خوب تجربے کر چکے ہیں اور سیاہ دل سود خواروں کے ظلم و جفا کے خوب مزے لے چکے ہیں، صدہا ناز پروردے آج ان ظالموں کی بے رحمانہ سفاکیوں کی بدولت دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔ اسلام اس سیاہ دلی، بد باطنی، درندہ خصال جفا شعاری، طماعی، حرص اور روح کو تاریک کرنے والے جذبات سے اپنے نیازمندوں کو بچاتا ہے اور رحم، ہمدردی، سلوکِ نیک جیسے پاک جذبات پیدا کرتا ہے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ تعجب یہ ہے کہ اس صدی میں عملی طور پر سود کے مہلک اثر اور تباہ کن نتائج کا تجربہ ہو جانے کے بعد پھر کوئی شخص سود کو مفید ثابت کرنے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ اس کو راہِ راست دکھائے اور گمراہی سے بچائے، آمین۔ [ماہ نامہ مقالات نعیمی، ص: 64 تا 68]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!