Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: اول)|ریاست علی رضوی نعیمی زاہد علی سلامی نعیمی

شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: اول)
عنوان: شریعت مطہرہ کا احترام (قسط: اول)
تحریر: ریاست علی رضوی نعیمی زاہد علی سلامی نعیمی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی جھارکھنڈ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ایک مسلمان، سچا مسلمان شریعت طاہرہ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز اور پیارا سمجھتا ہے۔ اس پر مٹنا، فدا ہونا اپنی اعلیٰ ترین سعادت اعتقاد کرتا ہے۔ ایمانی جذبات کی امنگیں اس کو شریعت پر قربان ہونے کے لیے آرزومند بنائے رکھتی ہیں، وہ اپنے عمل سے، اپنے طریق زندگی سے اسلام کی جاں نثاری کا ایک منظم ثبوت ہوتا ہے۔ عہد گزشتہ کا ہر مسلمان ایسا ہی تھا، اس کی نظر میں شریعت طاہرہ ہر چیز سے زیادہ محترم تھی اور وہ اس کی حفاظت و حمایت پر اپنے آرام و راحت، مال و دولت، اولاد و عزت سب کو نثار کر دیتا تھا مگر شریعت کے جامے پر ایک شکن آنا اس کو گوارا نہ تھی۔ دین پاک میں ایک شمہ تغیر اس کی آنکھ نہ دیکھ سکتی تھی۔ اسلام کے کسی انداز میں ذرہ برابر فرق آنا اس کا قلب برداشت نہ کر سکتا تھا۔ میدان کربلا کے خاکی صفحات پر خاتون جنت کے نونہالوں نے اپنی گردنیں کٹا کر خونی حرفوں سے حمایت اسلام کے قیامت تک نہ مٹنے والے نقوش ثبت فرمائے ہیں جو عقل و دماغ والے، دل و جگر والے، ہمت و استقلال والے، صبر و استقامت والے، صدق و دیانت والے، راستی پسند اور راستی شعار انسانوں کو ہمیشہ درس عبرت دیا کریں گے۔ سعادت مند اور خوش نصیب دنیا و آخرت تک ان سے حمایت ملت و نصرت دین کے سبق لیتی رہے گی۔ حضور سید الانبیاء محبوب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک و مقدس تعلیم کو شہدائے کربلا کی جانبازیاں دلوں سے فراموش نہ ہونے دیں گی۔ جنہوں نے ایک فاسق بطینت کی بیعت سے وقار اسلام کو صدمہ پہنچانا گوارا نہ کیا اور اپنے کنبہ اور خاندان، عزیز و برادران، دل کے ٹکڑوں اور گود کے پالوں کو راہ خدا میں نذر کر دیا۔

عہد صدیقی

ادوار خلافت میں خلافت اولیٰ کا مبارک عہد اپنی بے مثال خوبیوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اگر خلفائے راشدین کی ہر ایک خلافت تاریخ دنیا میں عدل و انصاف، نظم و نسق، سیاست و ملک داری کا نیر عالم افروز ہے جس کے سامنے دنیا کی تاریخ کسی دوسری دینی و دنیوی سلطنت کا نام پیش کرتے شرماتی ہے، لیکن عہد صدیقی اپنی شان میں سب سے نرالا عہد ہے، جس میں امن و امان علم و تحمل سر تپہ آرائے سلطنت تھا۔ تدبر کی زبردست فوجیں نبرد آزما لشکروں سے زیادہ فاتحانہ کامیابیوں کے مناظر دنیا کی نگاہ کے سامنے پیش کر رہی تھیں۔ اس مبارک عہد میں بھی شریعت طاہرہ کی حفاظت کا مسئلہ اتنے مہتم بالشان طریقہ پر نظر آتا ہے کہ زکوٰۃ کے نہ دینے اور اس شرعی حکم کی مخالفت کرنے پر مجسمۂ حلم و تدبر خلیفۂ اول صدیق اکبر تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھ کر آمادۂ جہاد ہو جاتا ہے اور اس رحم طینت، کرم خصلت، خاطر اقدس دین پاک کے ایک فرض میں فرق آنا برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر ان کے عہد میں کوئی شخص دین پاک کے احکام کے حضور گردن جھکانے میں تامل کرنا چاہے یا کوئی گردن فرمان شریعت کے حضور نہ جھکے تو صدیق جیسے کوہ حلم کی تلوار اس سرکش کی گردن جدا کرنے اور اس کا خون چاٹنے کے لیے پیاسی نظر آتی ہے۔ ایسی بے شمار مثالوں سے عالم کی تاریخ لبریز ہے۔

بزرگان اسلام! اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کے متبع شرع بنانے اور مستحب و مندوبات کے احترام پر دوسروں سے زیادہ اپنے حق میں سخت نظر آتے ہیں۔ اسلام کے ترقی کا دور ہر طرح سے شریعت مطہرہ کے احترام کا محافظ پایا جاتا ہے اور دنیا میں کبھی وہ قوم اپنے عز و وقار بلکہ اپنی زندگی و حیات کو باقی اور محفوظ نہیں رکھ سکتی جو اپنی خصوصیات و امتیازات، اپنے آئین و قوانین کی حفاظت پر اپنی پوری قوت اور انتہائی جدوجہد صرف نہ کرے، جو قوم اپنے امتیازات کو محفوظ نہیں کر سکتی اس کی بقا حرف غلط سے زیادہ ناپائیدار ہے۔

روز سیاہ

آج وہ روز سیاہ ہے، بد نصیبی کی وہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے کہ دشمنوں کے ظلم و ستم کی بارشوں کے باوجود مسلمانوں کی بد مذاقی کا نشہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بدنظمی ترقی پر ہے، طرح طرح کے مہلک امراض نے گھیر لیا ہے۔ ہر شخص لیڈر بن کر اسٹیج پر آجاتا ہے۔ پیش قدمی و آزادی کے ساتھ جو چاہتا ہے کہتا ہے، آزادی فخر سمجھی گئی ہے اور اسیر ہوا نے اپنے نام کے ساتھ آزاد کا لقب اپنا طرۂ امتیاز بنا لیا ہے۔ علم و کمال کا، زہد و ورع کا، صدق و دیانت کا کوئی امتحان لیڈر بننے کے لیے درکار نہیں ہے البتہ چندہ مانگنے میں مشق بہم پہنچانا اور طرح طرح کے حیلوں سے مسلمانوں کی جیبیں خالی کرنا تو لیڈر کے فرائض میں سے ناقابل ترک فرض ہے اور کسی قسم کا کوئی معیار نہیں۔ بدچلن سے بدچلن، خائن سے خائن، فاسق فاجر، بے علم، شراب خوار، مجموعۂ شر و ور شخص لیڈر بن کر دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اسٹیج پر آجاتا ہے اور اپنی جہالت اور بے دینی سے خلق کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے کہ مسلمانوں کی ہدایت و ارشاد کی سند آپ کو کہاں سے تفویض ہوئی، اور پیشوائی و مقتدائی کی دستار کن ہاتھوں نے آپ کے سر پر باندھی، اسلام کی کونسی شایان خدمات انجام دینے اور شریعت کی کیا پابندی کرنے کی جزا میں یہ منصب جناب کو ملا ہے؟ کوئی نہیں ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ ہر خود غرض، طماع، حریص، بندۂ نفس لیڈر بن کر خلق کو گمراہ کرنے کے لیے میدان میں آجاتا ہے۔ علمائے اسلام اور بزرگان دین پر تبرا، سب و شتم اس کا معیار قابلیت ہوتا ہے اور بے قیدی کے ساتھ وہ اسلام اور شرع اسلام پر سفاکانہ و بے رحمانہ دراز دستی کرتا ہے۔

مسئلۂ سود

ایسے خود ساختہ امیر نفس لیڈروں نے جہاں بے دینی و گمراہی کے اور بہت سے جال پھیلائے ہیں وہاں سود کو حلال کر لینے اور شرع مطہر کے احکام کو مٹا ڈالنے اور قرآن پاک کی ربانی و حقانی تعلیم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھی ان کی کوششیں لگاتار جاری ہیں۔ تحریر و تقریر سے مسلمانوں کو اسلام کے ایک زبردست اور مضبوط حکم کو توڑ ڈالنے کی ترغیبیں دے رہے ہیں۔ اخباروں میں ایسے فساد انگیز اور گمراہ کن مضامین نکل رہے ہیں۔ 28 جولائی 1917ء کے ہمدم میں سود کو رائج کرنے اور اس کو حلال کر ڈالنے اور شرع اسلام کو تبدیل کرنے پر کسی صاحب نے بہت زور قلم صرف کیا ہے۔ عاقبت کی تو پرواہ نہیں خداوند عالم جل وعلا اور اس کے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پر از حکمت احکام کا تو لحاظ نہیں، غیر مسلموں کی تقلید سود خواری کا شوق پیدا کر رہی ہے اور اس خیال سے کہ اگر ہم نے سود لیا تو دنیا سود خوار کہے گی اور مسلمان مورد الزام سمجھیں گے اور ایسے شخص اور اس کے مال کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھیں گے، ایک حرام قطعی کو حلال کرنے کی کوشش میں اپنا اور دوسروں کا دین برباد کیا جاتا ہے۔ الْعِيَاذُ بِاللّٰهِ تَعَالٰى۔ [ماہ نامہ مقالات نعیمی، ص: 61 تا 63]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!