| عنوان: | تاج الشریعہ کا ایک ایمان افروز خطاب |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عزیز احمد رضوی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بیشک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے نور سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا، پھر اس نور سے تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہاں، انہیں کے نور سے کائنات کا ذرہ ذرہ روشن ہوا مگر یہ نور کہاں کہاں رہا اور کہاں سے کہاں پہنچا؟ قرآن حکیم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ لاکھوں برس پہلے ابھی دنیا بھی آباد نہ ہوئی تھی، ابھی وہ نور دنیا میں ظاہر نہ ہوا تھا کہ دنیا میں آنے والے ہزاروں پیغمبروں سے ان کے پروردگار نے ایک تاریخی اور یادگار عہد لیا۔ خود پروردگارِ عالم اس عہد کو ان الفاظ میں یاد دلا رہا ہے:
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے اُن کا عہد لیا: “جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔” فرمایا: “کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟” سب نے عرض کیا: “ہم نے اقرار کیا۔” فرمایا: “تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔”
انجیل کے مطالعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے رسولوں اور پیغمبروں کو آپ کی صورت بھی دکھا دی گئی تھی چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:
“یقین جانو میں نے اُسے دیکھا ہے اور اس کی تعظیم کی ہے جیسے اُسے ہر نبی ہی نے دیکھا ہے کیوں کہ اُس کی روح سے خدا نے انہیں نبوت دی، جب میں نے دیکھا تو میری روح تسکین سے بھر گئی ہے۔”
نورِ محمدی کی تخلیق کے لاکھوں برس بعد جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو یہ نور مبارک ان کی پشت میں رکھ دیا گیا۔ حدیث شریف میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ ہے:
“اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی پشت مبارک میں رکھ دیا اور یہ نور ایسا شدید چمک والا تھا کہ باوجود پشتِ آدم علیہ السلام میں ہونے کے پیشانیِ آدم علیہ السلام سے چمکتا تھا اور آدم علیہ السلام کے باقی انوار پر غالب آ جاتا تھا۔”
ہاں اسی نور کا نام سرِ عرش لکھا ہوا تھا جس کو آدم علیہ السلام نے عالمِ ظاہر میں آتے ہی ملاحظہ فرمایا، پھر اسی نور کے وسیلے سے اپنی لغزش کی معافی چاہی اور رب تعالیٰ نے اپنے کرم سے معاف فرما دیا۔ یہ تفصیل خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس طرح بتائی:
آدم علیہ السلام: “اے پروردگار میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔”
رب تبارک و تعالیٰ: “تم نے محمد کو کیسے پہچانا، ابھی تو میں نے ان کو پیدا بھی نہ فرمایا؟”
آدم علیہ السلام: “میں نے اس طرح پہچانا کہ تو نے جب مجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور میرے اندر اپنی طرف کی روح پھونکی، میں نے اپنا سر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ لکھا ہوا دیکھا تو میں نے جان لیا تو نے اپنے نام کے ساتھ جسے ملایا ہے یقیناً وہ تیرے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے۔”
رب تبارک و تعالیٰ: “آدم تم نے سچ کہا، یقیناً وہ میرے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے اور جب تم نے اس کے وسیلے سے دعا کی تو میں نے تم کو بخش دیا، اگر محمد نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔”
انجیل برناباس کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو فضاؤں میں ایک چمکتی دمکتی تحریر دیکھی:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
دیکھ کر وہ حیران ہو گئے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا: “مجھ سے پہلے بھی انسان ہوئے ہیں؟”
اس بارگاہِ عالی سے جواب آیا: “اے میرے بندے آدم! تمہارا آنا مبارک ہو میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جس کو میں نے پیدا کیا ہے اور جس کا نام تو نے دیکھا وہ تیرا ہی بیٹا ہے لیکن وہ آج سے سالوں بعد دنیا میں آئے گا اور میرا پیغمبر ہوگا، اس کے لیے میں نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں وہ جب آئے گا تو دنیا کو روشن کر دے گا۔ یہ وہی ہے جس کی روح تخلیقِ کائنات سے ساٹھ ہزار برس پہلے ایک آسمانی نور کی شکل میں تھی۔”
حضرت آدم علیہ السلام نے یہ سن کر رب تعالیٰ کے حضور التجا کی کہ کلمہ طیبہ کے دونوں جز ان کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں پر آ جائیں۔ خدا کی شان سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے پر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ اچانک ظاہر ہوا اور الٹے ہاتھ کے انگوٹھے پر مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ آپ نے دیکھتے ہی بے تابانہ اپنے انگوٹھے چوم لیے اور آنکھوں سے لگائے اور فرمایا: “مبارک ہو وہ دن جس دن تو اس دنیا میں تشریف فرما ہو۔”
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی اس سنت پر عمل فرمایا اور آج مسلمانانِ عالم کی ایک کثیر تعداد اس سنت پر عمل کر رہی ہے۔ علامہ ابن جوزی نے سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مزید تفصیلات لکھی ہیں اور لکھا ہے:
“یہ نور مبارک آدم علیہ السلام کی پشت میں ودیعت رکھا گیا، پھر یہ نور پاک اور طاہر پشتوں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ عبد اللہ کی پشت تک پہنچا اور پھر پیکرِ بشری میں ظاہر ہوا۔ یہ نور دیکھنے والوں نے عبد اللہ کی پیشانی میں دیکھا پھر یہ نور حضرت آمنہ کے بطن میں منتقل ہو گیا۔”
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما رہے ہیں: “اللہ تعالیٰ نے مجھے صلبِ آدم میں زمین پر اتارا اور مجھے حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا اور مجھے صلبِ ابراہیم میں آگ میں ڈالا، میں اسی طرح اپنے والد حضرت عبد اللہ تک ایک صلب سے دوسری صلب کی طرف منتقل ہوتا گیا۔”
انبیاء علیہم السلام آپ کی آمد آمد کا اعلان کرتے رہے اور آرزوئیں کرتے رہے۔ تعمیرِ کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: “اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمائے، بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔”
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ آخری اعلان فرمایا: “اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے، ان کا نام احمد ہے۔”
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “میں تمہیں اپنے ابتدائے حال کی خبر دوں، میں دعائے ابراہیم ہوں، بشارتِ عیسیٰ ہوں، اپنی والدہ کے اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا اور اُن کے لیے ایک نورِ ساطع ظاہر ہوا جس سے ملکِ شام کے ایوان و قصور ان کے لیے روشن ہو گئے۔”
وہ نور لاکھوں برس پہلے جھلملایا جس کے دم سے کائنات جگمگائی جو چلتا چلتا پشتِ آدم تک پہنچا اور پشتِ آدم سے صلبِ عبداللہ تک۔ ہاں آنے والے ہر پیغمبر نے اپنی اپنی قوم کو جس کی آمد آمد کی خوشخبریاں سنائیں جو سب کے لیے آیا تھا جو ساری قوموں کے لیے آیا تھا جو سارے جہان کے لیے آیا تھا۔ سب انتظار کرتے رہے۔ سب راہ تکتے رہے۔ سنیے، سنیے قرآن کیا کہہ رہا ہے:
“عنقریب نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں، وہ غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت میں اور انجیل میں، وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا، اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور اُن پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتارے گا۔ تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی بامراد ہوئے۔”
شاہِ حبش نجاشی، حضرت عبد اللہ بن سلام اور حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہم علمائے یہود و نصاریٰ میں سے تھے، ان حضرات نے توریت اور انجیل کی پیش گوئیوں کی تصدیق کی اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ قرآن حکیم کی مندرجہ بالا آیات میں اسی قسم کے حضرات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
