Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دعا کی طاقت (قسط: اول)مہتاب پیامی

دعا کی طاقت (قسط: اول)
عنوان: دعا کی طاقت (قسط: اول)
تحریر: مہتاب پیامی
پیش کش: زرین امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دعا کی طاقت (قسط: اول)

دعا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ہمارے پیارے آقا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ، وَعِمَادُ الدِّيْنِ، وَنُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔

یعنی: “دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔”

دعا کی اہمیت وافادیت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

أَتَهْزَأُ بِالدُّعَاءِ وَتَزْدَرِيهِ؟
وَمَا يُدْرِيكَ مَا صَنَعَ الدُّعَاءُ؟

سِهَامُ اللَّيْلِ لَا تُخْطِئُ وَلَكِنْ
لَهَا أَمَدٌ وَلِلْأَمَدِ انْقِضَاءُ

وَقَدْ شَاءَ الْإِلَهُ بِمَا تَرَاهُ
فَمَا لِلْمُلْكِ عِنْدَكُمْ بَقَاءُ

مذکورہ اشعار کے نفسِ مضمون پر بات کی جائے تو حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا تم دعا کو ہنسی کا موضوع بناتے ہو اور اسے بے وقعت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟ تمہیں کیا معلوم کہ دعا کس طرح تقدیروں کے بند دروازے کھول دیتی ہے! رات کی تنہائی میں بلند ہونے والی دعائیں خاموش تیر کی مانند ہوتی ہیں، جو کبھی خطا نہیں کرتیں، البتہ ان کے اثر ظاہر ہونے کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، اور ہر مقررہ وقت اپنی گھڑی پر آکر پورا ہو جاتا ہے۔ اور جو حالات تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، وہ سب اللہ جل شانہ کی قدرتِ کاملہ اور اس کے فیصلے سے وجود میں آئے ہیں؛ اس لیے یاد رکھو کہ کسی اقتدار، کسی حکومت اور کسی طاقت کو یہاں دائمی بقا حاصل نہیں۔

آج جب کہ ہم اپنے موجودہ حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اسباب کی دنیا میں ہمارے ہاتھ خالی ہیں، تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں اور مادی وسائل کے اعتبار سے ہم ایک نہتی قوم ہیں۔ ایسے حالات میں جب زمین کے تمام دروازے ہمارے لیے بند ہو چکے ہیں، ہماری طاقتیں ختم ہو چکی ہیں، کوئی ہمارا پرسانِ حال نہیں، مصائب و آلام ہیں کہ پے در پے ہمیں اپنا نشانہ بنانے کو بے قرار ہیں، ایسے میں ہمیں اپنی اس بھولی ہوئی طاقت کو یاد کرنے کی ضرورت ہے جو لوہے اور بارود سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے ماضی میں دنیا کی سپر پاورز اور فرعونیت کے بڑے بڑے دعوے بھی ریت کی دیوار ثابت ہو چکے ہیں۔ آج ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ ہمارے پاس مادی وسائل کی کمی ہے، بلکہ ہماری حقیقی محرومی یہ ہے کہ ہم نے اپنے سب سے مؤثر ہتھیار، یعنی “دعا” کو زنگ آلود کر دیا ہے۔

ہمارے سامنے رمضان المقدس کا مہینہ ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا موسم نہیں، بلکہ اس موسم میں اپنے اسی زنگ آلود ہتھیار کو صیقل کرنے اور اسے آزمانے کا بہترین وقت ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب عرش کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت مسلسل اپنے بندوں کو پکارتی ہے۔ موجودہ پرآشوب حالات میں، جب ہماری مساجد، مدارس اور ہمارے تشخص پر یلغاریں ہیں، ہمیں اس رمضان کو روایتی انداز سے ہٹ کر ایک مہم کے طور پر گزارنا ہو گا۔ ہمیں اپنی سجدہ گاہوں کو میدانِ جنگ بنانا ہو گا، جہاں ہم اپنے آنسوؤں اور آہ و زاری کے ذریعے آسمانی فیصلوں کو اپنے حق میں کر سکیں۔

یاد رکھیے! جب زمین کے نام نہاد منصفوں کے فیصلے انصاف سے عاری ہو جائیں تو اللہ عزوجل کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے دعا سے بہتر کوئی وکیل اور کوئی سفارش نہیں ہوتی۔

ایک موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اہمیت و فضیلت پر گفتگو فرماتے ہوئے قرآنِ مقدس کی یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔ [سورۃ المؤمن: 60]

اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یقیناً جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

معلوم ہوا کہ دعا عبادات میں جلیل القدر اور عظیم ترین عبادت ہے۔ دین میں دعا کا بہت اونچا مقام اور بلند مرتبہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دعا میں گریہ و زاری اور اللہ کے سامنے اپنی کمزوری اور محتاجی کا اظہار ہوتا ہے۔ نیز عبادت میں دل کی حاضری اور خشوع جتنا زیادہ ہو گا، وہ اتنی ہی افضل اور مکمل ہو گی، اور دعا اس مقصد کے حصول کے لیے سب سے قریب ترین ذریعہ ہے۔ دعا میں اللہ پر توکل اور اس سے مدد مانگنے کا پہلو لازم و ملزوم ہے۔ توکل کا مطلب یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت پر اعتماد رکھے اور اس بات پر یقینِ کامل ہو کہ پسندیدہ چیزوں کا حصول اور ناپسندیدہ چیزوں کا دفاع صرف اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔

دعا کی فضیلت اور اس کی عظمتِ شان میں بے شمار نصوص موجود ہیں۔ ماہِ صیام، یعنی رمضان المبارک کو دعا کے حوالے سے ایک خاص مقام حاصل ہے؛ کیوں کہ روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی، بشرطیکہ وہ اخلاص کے ساتھ روزہ رکھے، اپنی عبادت میں مخلص ہو اور اللہ کے ساتھ سچا رہے۔ طبرانی نے “الدعاء” میں یہ حدیثِ شریف نقل فرمائی ہے:

ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ: دَعْوَةُ الصَّائِمِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ۔

یعنی تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں: روزہ دار کی دعا، مظلوم کی دعا اور مسافر کی دعا۔

ماہِ رمضان میں دعا کی اہمیت اور اس کے بلند مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔ [سورۃ البقرة: 186]

ترجمہ: “اور (اے محبوب!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ کہہ دیجیے کہ) یقیناً میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہیے کہ وہ میرے حکم کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔”

یہ آیت روزوں کے احکام والی آیات کے درمیان آئی ہے۔ اس آیت سے پہلے فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔ [سورۃ البقرة: 185]

یعنی رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔

اور اس کے بعد فرمایا:

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ۔ [سورۃ البقرة: 187]

تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کیا گیا ہے۔

چنانچہ خاص دعا سے تعلق رکھنے والی اس مبارک آیتِ کریمہ کا احکامِ صیام کی آیات کے درمیان ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ اس مہینے میں دعا کی کتنی عظمت اور اہمیت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں بندے کا دل اس امید سے لبریز ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس مہینے کے حقوق کو بہترین اور مکمل انداز میں ادا کرنے کی توفیق دے گا، اور اس کا واحد راستہ اللہ سے سوال کرنا اور دعا مانگنا ہے۔ اسی طرح وہ اس مہینے میں کثرت سے طاعات، عبادات اور نیکیاں کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بندہ رمضان سے پہلے کچھ گناہوں کا مرتکب ہوا ہو، یا رمضان کے دوران اس سے کوئی کمی، کوتاہی یا غفلت سرزد ہو گئی ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ اور مغفرت کا خواہاں ہو، تو اس کا راستہ بھی دعا کے سوا کچھ دوسرا ہے ہی نہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس چیز کی طرف متوجہ کر رہا ہے جس کی وہ پناہ لیتے ہیں، جس کی طرف وہ بھاگتے ہیں اور جس کے ذریعے ان کی خواہشات پوری ہوتی ہیں، لغزشیں معاف ہوتی ہیں اور گناہ بخشے جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں دعا کی فضیلت پر متعدد دلائل موجود ہیں۔ بعض آیات اور احادیث میں دعا کرنے کا حکم ہے، بعض میں دعا ترک کرنے پر تنبیہ کی گئی ہے، اور بعض میں دعا کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعا اسلام میں ایک مطلوب اور پسندیدہ عمل ہے، جسے اختیار کرنا ہر مسلمان کے لیے اہم ہے۔

قرآنِ کریم کی ترتیب خود دعا کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ قرآن کا آغاز سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے، جو مکمل طور پر دعا پر مشتمل ہے۔ اس سورہ میں بندہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا ہے، اس سے مدد مانگتا ہے اور سیدھے راستے پر قائم رہنے کی دعا کرتا ہے۔ یہ قرآن کا اولین پیغام ہے کہ انسان کو اپنی بنیادی ضرورت، یعنی ہدایت، اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔

اسی طرح قرآنِ کریم کا اختتام سورۂ ناس پر ہوتا ہے۔ یہ سورہ بھی دعا پر مشتمل ہے۔ اس میں وسوسوں سے حفاظت طلب کی گئی ہے، خواہ وہ وسوسے جنات کی طرف سے ہوں یا انسانوں کی طرف سے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے تک اللہ کی حفاظت اور مدد کی ضرورت رہتی ہے۔

قرآنِ کریم کا دعا سے شروع ہونا اور دعا پر ختم ہونا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دعا اسلام میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ عمل بندے کو اللہ سے جوڑتا ہے، اسے عاجزی سکھاتا ہے اور اسے اپنی ہر ضرورت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی لیے دعا کو عبادت کا ایک لازمی اور مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ جل و علا نے قرآنِ مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دعا کو “عبادت” کا نام دیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حکایت میں فرمانِ ربانی ہے:

وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا ۞ فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا۔ [سورۃ مریم: 48-49]

اور میں تم سے اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں، اور میں اپنے رب کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا۔ پھر جب وہ ان سے اور جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، ان سے الگ ہو گئے تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں دینے والا (نبی) کیا۔

قابلِ غور مقام ہے کہ جس عمل کو پہلی آیت میں “دعا اور پکار” سے موسوم کیا گیا، اسی عمل کو مابعد کی آیت میں “عبادت” سے تعبیر کیا گیا۔

ماہ نامہ اشرفیہ (اداریہ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!