Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کے احکام و مسائل (قسط دوم)|پیر محمد تبسم بشیر اویسی

طلاق کے احکام و مسائل (قسط دوم)
عنوان: طلاق کے احکام و مسائل (قسط دوم)
تحریر: پیر محمد تبسم بشیر اویسی
پیش کش: شہربانو نعیم قادریہ

خاندانی ثالثی کا کردار:

رشتۂ ازدواج ایک اہم ترین رشتہ ہے، اس پر بے پروائی سے ضرب نہیں لگائی جانی چاہیے۔ اور اس مصالحت و مفاہمت کی تدبیر یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کے خاندان کا ایک ایک آدمی اس غرض سے مقرر کیا جائے کہ دونوں مل کر اختلاف کے اسباب کی چھان بین کریں، پھر آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں۔ اسلام کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ خانگی الجھنوں اور میاں بیوی کے مابین مناقشوں (جھگڑوں) کا علم ہونے کے باوجود ان کے خاندان کے بااثر، بارسوخ اور باوقار افراد دامن سمیٹ کر الگ تھلگ ہو جائیں، جیسے کہ ان کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں؛ بلکہ حکم یہ ہے کہ اس خانگی نزاع کو یہ لوگ اپنا ہی معاملہ سمجھیں اور اپنی کوشش میں کوئی کمی نہ کریں؛ بلکہ زوجین اگر اپنے رشتہ داروں میں سے خود کسی کو منتخب نہ بھی کریں، تو خاندان والوں کو چاہیے کہ خاندانی وقار کی خاطر خود مداخلت کریں اور احکامِ شرعی کی روشنی میں مناسب فیصلہ دیں، آگے ماننا نہ ماننا ان دونوں کے اختیار میں ہے۔

طریقۂ طلاق اور جاہلی رسم کا خاتمہ:

اب بھی اگر اصلاح نہ ہو اور اصلاحِ احوال کی تمام تدبیریں رائیگاں جائیں اور قصور کا بوجھ صرف عورت پر ہو، تو اب شوہر کو اجازت ہے کہ اسے طلاق دے دے۔ زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بے حساب و کتاب طلاق دینے کا مجاز تھا۔ جس عورت سے اس کا شوہر بگڑ جاتا، وہ اس کو بار بار طلاق دے کر رجوع کرتا رہتا تھا، تاکہ وہ غریب نہ تو اس کے ساتھ گزر بسر کر سکے اور نہ ہی اس سے آزاد ہو کر کسی اور سے نکاح کر سکے۔ قرآنِ مجید و حدیثِ شریف نے اس ظلم کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا اور طلاق کے باب میں شوہروں پر پابندیاں عائد کیں اور انہیں بتایا کہ اگر تم عورتوں کو طلاق دینے پر مجبور ہو جاؤ اور سوائے طلاق کے کوئی اور چارۂ کار نہ رہے، تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت اپنے ایامِ معمولہ (حیض) سے فارغ ہو تو حالتِ طہر (پاکیزگی کے دنوں) میں، جس میں جماع نہ کیا ہو، صرف ایک مرتبہ طلاق دی جائے۔ اور اگر جھگڑا ایسے زمانے میں ہوا ہو جبکہ عورت ایامِ ماہواری میں ہو، تو شوہر کو اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب وہ ایامِ ماہواری سے فارغ ہو جائے۔ ان ایام کا یہ انتظار بھی پہلی طلاق کے روکنے کے لیے ایک نفسیاتی بند کا کام کرتا ہے۔ اب پہلی طلاق کے بعد بھی اگر عورت کے دل میں ندامت نہ ہو یا شوہر کے دل میں برداشت کی طاقت نہ ہو اور ایک ماہ گزرنے پر عورت دوبارہ حیض سے فارغ ہو جائے، تو اب شوہر دوسرے مہینے میں (حالتِ طہر میں) دوسری طلاق دے سکتا ہے۔

اب پھر ایک مہینے کی لمبی میعاد ان دونوں کے درمیان ہے۔ اس میعاد میں اگر جھوٹے غصے، بے جا بدگمانیاں اور فضول شکایتیں معدوم ہو چکیں اور دونوں میں پھر نبھاؤ کی خواہشیں بیدار ہو رہی ہوں، تو شریعتِ مطہرہ مرد کو رجعت (رجوع کرنے) کا حکم دیتی ہے اور اس رجعت کے آڑے آنے والی جھوٹی ناموریوں، خاندانی وجاہتوں، دنیاوی طعنوں اور دشنام طرازیوں کو کچل کر، دونوں کو پھر دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے کی اجازت دیتی ہے؛ بلکہ پہلی یا دوسری طلاق کی عدت بھی گزر جائے تب بھی موقع باقی رہتا ہے کہ وہ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر لیں؛ گویا اس آخری گنجائش سے فائدہ اٹھا کر طلاق واپس لے لی جائے اور تعلقاتِ زوجیت از سرِ نو قائم کیے جائیں۔ البتہ شریعتِ مطہرہ نے مردوں کو تنبیہ فرمائی کہ رجوع کرتے ہو تو اس نیت سے کرو کہ اب حسنِ سلوک سے رہنا ہے، ورنہ بہتر یہ ہے کہ شریفانہ طریقے سے رخصت کر دو؛ زوجیت میں واپسی خانہ آبادی کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ خانہ بربادی کے لیے۔

تیسری طلاق اور اس کے حتمی اثرات:

بہر حال، اب ان دو طلاقوں کے بعد بھی ناخوشگوار تعلقات کا خاتمہ نہ ہو اور نفرت و ضد کی بنیاد ایسی مضبوط ہو کہ مرد اب تک طلاق ہی پر تلا ہوا ہو، ادھر عورت دوسری طلاق کے بعد ایامِ ماہواری سے فارغ ہو چکی ہو، تو اب شریعت اسے بتلاتی ہے کہ دیکھ! یہ ہما تیرے ہاتھ سے نکلنے والی ہے، چڑیا اڑ گئی تو کفِ افسوس ہی ملنا پڑے گا، خوب سمجھ لے! لیکن مرد اگر اپنی بات پر اڑا ہوا ہو تو شریعت اسے مجبور نہیں کرتی اور معاہدۂ شادی کو زندگی بھر کے لیے طوقِ لعنت بنانا گوارا نہیں کرتی۔ البتہ اس تیسری طلاق کے بعد، نہ تو شوہر کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور نہ اس کا ہی موقع رہتا ہے کہ دونوں کا پھر سے نکاح ہو سکے۔ اب (شرعی) حلالہ کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہتا۔ لفظِ طلاق چاہے تین مرتبہ ایک ایک مہینے کے وقفے سے کہے یا اکٹھے تین بار کہہ دے، طلاق واقع ہو جائے گی۔

معزز قارئین! مجھ کو ان مباحث کی تحریر کے دوران کئی بار یہ خیال آیا کہ ان باریک بحثوں اور موشگافیوں سے عورتوں کو کیا واسطہ؟ لیکن فوراً ہی اس خیال سے دل کو تسکین ملتی رہی کہ ماشاء اللہ قوم کی سمجھ دار بیٹیاں اور بہنیں اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور کم از کم وہ تو یہ سمجھ سکتی ہیں کہ شریعتِ مطہرہ نے کس طرح عورتوں کے حقوق کی حفاظت فرمائی ہے اور ان کی زندگی کو بامقصد اور باوقعت بنایا ہے۔ کیا نئی (مغربی) تہذیب کے کسی بھی گوشے میں یہ موتی اور گوہرِ نایاب دستیاب ہو سکتے ہیں جن سے اسلام نے عورت کے دامن کو مالا مال فرمایا ہے؟

ضروری تنبیہ:

طلاق دینا (بذاتِ خود) جائز ہے، ہاں! بے حاجت اور بلا وجہِ شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے۔ مگر کوئی دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ طلاق کا اختیار شوہر کی زبان پر رکھا گیا ہے؛ لہٰذا اس کا مرتکب ہونا (خواہ مکروہ ہو یا بعض صورتوں میں گناہ ہی کیوں نہ ہو) طلاق کو واقع ہونے سے نہیں روکتا۔ جیسے حالتِ حیض میں طلاق دینا حرام ہے کیونکہ یہ حکمِ الٰہی کی نافرمانی ہے، مگر کوئی دے گا تو ضرور ہو جائے گی اور دینے والا گناہ گار ہوگا۔

اور اگر وجہِ شرعی موجود ہو تو طلاق دینا مباح، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہو جاتا ہے۔ مثلاً عورت پر (بدچلنی کا) شبہ ہو یا وہ سخت نافرمان ہو، تو ایسی صورت میں اسے طلاق دینا بلا کراہت جائز و مباح ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر عورت شوہر کو یا دوسروں کو ایذا (تکلیف) دیتی ہے یا نماز نہیں پڑھتی، اور شوہر مہر ادا کرنے پر قادر ہو، تب بھی طلاق دے دینی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اس کا مہر میرے ذمے باقی ہو، اس حالت میں دربارِ خداوندی میں میری پیشی ہو، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں اس کے ساتھ زندگی بسر کروں۔“

بعض صورتوں میں طلاق واجب ہو جاتی ہے؛ مثلاً شوہر نامرد یا ہجڑا ہو، یا شوہر کے ماں باپ اسے حکم دیتے ہیں کہ عورت کو طلاق دے دے اور طلاق نہ دینے کی صورت میں انہیں شدید ایذا پہنچتی ہو یا وہ سخت ناراض ہوتے ہوں، تو واجب ہے کہ طلاق دے دے، اگرچہ عورت کا کچھ قصور نہ ہو؛ کیونکہ ماں باپ کی نافرمانی کا وبال اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ وغیرہ)

چند اہم فقہی مسائل:

مسئلہ (۱): ہر عاقل و بالغ کا فعل چونکہ شریعت کے نزدیک قابلِ تسلیم ہے، اس لیے طلاق کے لیے شرط یہ ہے کہ شوہر عاقل اور بالغ ہو۔ نابالغ یا مجنون (پاگل) نہ خود طلاق دے سکتا ہے اور نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے۔ ہاں! اگر عقل کسی خارجی شے سے زائل کر دی جائے، مثلاً نشے کی حالت میں کسی نے طلاق دی، یا سخت غصے کی حالت میں طلاق دی، تو طلاق واقع ہو جائے گی؛ کیونکہ وہ عاقل ہی کے حکم میں ہے، اور نشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا کسی اور چیز سے (طلاق واقع ہو جائے گی) تاکہ کوئی شخص غصے یا نشے کو مکر و سپر نہ بنا سکے جس سے عورت کے حقوق تلف ہوں۔ اور طلاق واقع ہونے میں عورت کی جانب سے عاقل یا بالغ ہونا شرط نہیں؛ عورت نابالغہ ہو یا مجنونہ، بہرحال طلاق واقع ہو جائے گی۔ (فتاویٰ عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ (۲): اگر عورت کو حمل کی حالت (Pregnancy) میں طلاق دی جائے، تو وہ قطعاً واقع ہو جائے گی۔ عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ حاملہ عورت پر طلاق نہیں پڑتی، یہ محض بے اصل اور من گھڑت بات ہے۔

مسئلہ (۳): آج کل اکثر لوگ (جذباتی ہو کر) طلاق دے بیٹھتے ہیں، بعد میں افسوس کرتے ہیں اور طرح طرح کے حیلے بہانے تراشتے ہیں۔ ایک عذر اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ "میں نے غصے میں طلاق دی تھی"۔ عزیزو! طلاق تو عموماً غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور اس حالت میں طلاق فی الفور واقع ہو جاتی ہے؛ اور وہ صورت کہ غصے کی وجہ سے عقل بالکل ہی جاتی رہے (انسان پاگل ہو جائے)، بہت نادر اور نایاب ہے۔ یوں ہی طلاق بخوشی دی جائے خواہ جبر و اکراہ سے، وہ واقع ہو جائے گی۔ عزیزو! نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ (پتھر)؛ اب شیشے پر پتھر خوشی سے پھینکا جائے، یا مجبوری میں، یا خود ہاتھ سے چھوٹ جائے، شیشہ ہر طرح ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ (۴): اگر کسی نے شوہر کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا اور اس نے (دباؤ میں آکر) لکھ دیا، مگر نہ دل میں طلاق کا ارادہ ہے اور نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا، تو طلاق نہ ہوگی۔ لیکن یاد رہے کہ یہاں مجبوری سے مراد "شرعی مجبوری" (اکراہِ شرعی، یعنی جان یا عضو کا ضیاع) ہے؛ محض کسی کے اصرار کر دینے پر لکھ دینا یا یہ خیال کر کے لکھ دینا کہ "برا مانیں گے، ان کی بات کیسے ٹالوں" تو یہ شرعی مجبوری نہیں ہے، ایسی صورت میں لکھنے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ (رد المحتار)

(جاری ہے...)

(محرر: علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!