| عنوان: | مسئلہ رفع یدین کی توضیح و تشریح |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد صابر رضا محب القادری نعیمی |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
نقطۂ نظر
علم و دانش سے شغف رکھنے والوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عربی قواعد (گرامر) علم نحو و صرف، فصاحت و بلاغت، معانی و بیان، حقیقت و مجاز، ایجاز و اطناب، محاورات، استعارات و کنایات، تفسیر، اصول تفسیر، فقہ، اصول فقہ اور قرآن مجید سے متعلق دیگر ضروری علوم مثلاً آیات کا شان نزول، ناسخ و منسوخ، مقدم و موخر آیات، لغات قرآن کریم کی مصطلحات اور آیات کے باہم ربط و تعلق وغیرہ کے بغیر قرآن سے مسائل کا استخراج و استنباط اور اس کے درست مفاہیم تک رسائی ممکن نہیں۔ ان علوم کی تحصیل کے بغیر اپنی رائے سے کسی آیت کی تفسیر بتانا جائز نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.” [رواہ عبد اللہ بن عباس فی السنن للترمذی والنسائی فی سننہ]
یعنی جس نے اپنی رائے سے تفسیر بیان کی اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
“مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ.” [رواہ أبو داود والترمذي]
یعنی اپنی رائے سے تفسیر کرنے والا اگر درست تفسیر بھی کرے پھر بھی وہ گنہگار ہے۔ بعینہ یہی حال احادیث کریمہ کا بھی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کے قول و فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
قول: حضور کے ارشادات، فعل: اعمال اور تقریر: کسی صحابی نے کوئی عمل کیا، آپ نے نکیر نہ فرمائی بلکہ سکوت فرما کر ثابت فرما دیا۔
احادیث کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے اور ان میں احکام احادیث کی تعداد تین ہزار کے آس پاس ہے۔ ہر شیء کے حکم کے بارے میں متضاد (بظاہر متضاد) اور صحیح احادیث موجود ہیں اور ان سے مختلف متضاد احکام ثابت ہوتے ہیں۔
گویا حدیث بھی کوئی معمولی شربت نہیں جو بغیر کسی محنت شاقہ انسان بس پی لے اور اپنے مطلب کے معنی مفہوم گڑھ لے۔ قرآن حکیم کی طرح احادیث میں بھی حقیقت و مجاز، استعارات و کنایات، محکم و متشابہ، خاص و عام اور مشترک و مؤول احادیث ہیں، ان کے درجات اور اقسام بھی ہیں۔ جب تک عربی قواعد اور احادیث سے متعلق سارے علوم خاص کر اصول حدیث اور اصول جرح و تعدیل وغیرہ پر کامل عبور نہ ہو یہ طے کرنا کسی بھی صورت ممکن نہیں کہ احکام میں سے کس قسم کی احادیث سے وجوب، کس قسم سے استحباب، کس سے اباحت اور کس سے حرمت اور کراہت وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے، اسی طرح ناسخ و منسوخ کیا ہے؟ اور ظاہری تضاد میں تطبیق و توفیق کی صورت کیا ہوگی؟
اس سے معلوم ہوا کہ صرف اردو یا معمولی درس نظامی پڑھ کے قرآن و حدیث سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے لیے درجنوں علوم پڑھنے اور ان میں عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
لیکن افسوس کہ آج کا نام نہاد اہل حدیث وہابیہ غیر مقلدین جو سطحی ذہن کے ہوتے ہیں تقلید سے چڑتے ہیں اور مٹھی بھر تعداد میں ہو کر دنیا بھر کے مسلمانوں پر مشرک و بدعتی ہونے کے سنگین الزامات عائد کرتے نہیں تھکتے، بلا تفریق ان کی جماعت کا عالم، غیر عالم سب اجتہاد کی کرسی لگائے بیٹھے ہیں۔ قرآن و احادیث کی تفہیم سے متعلق سارے اصول و ضوابط اور شرائط کو پس پشت ڈال کر محض اردو تراجم پڑھ کر خرافات پھیلانے میں مصروف ہیں اور اب تو جنابِ گوگل کے سہارے یہ سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مذکورہ نیا فرقہ بظاہر تو خود کو تقلید سے آزاد گردانتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں وہ علمائے سوء کے مقلد ہیں۔ تجربہ شاہد ہے کہ یہ نام حدیث کا لیتے ہیں لیکن دو چار منٹ بحث و مباحثہ میں ٹھہرا کے دیکھیے تو البانی، ابن باز اور ابن عثیمین کے نظریات کا پرچار اور ان کی تقلید کا گن گانا شروع کر دیتے ہیں۔
قارئین! یوں تو ہمارے اور غیر مقلدین کے درمیان بہت سے اصولی، بنیادی اور اعتقادی اختلافات ہیں اور جزوی فروعی مسائل میں بھی بہت سے اختلافات ہیں۔ خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اعتقادات و نظریات کے باب میں غیر مقلدیت سراسر ظلمت و ضلالت کا نام ہے اور ان کے بہت سارے عقائد کفریہ بھی ہیں لیکن یہاں سر دست ان کے دیگر اختلافات سے قطع نظر مسئلہ رفع یدین (تکبیر تحریمہ کے علاوہ کانوں تک دونوں ہاتھ کا اٹھانا) جو کہ ایک فروعی جزوی مسئلہ ہے، اس حوالے سے اہلسنت کا نظریہ اور تعامل بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ محبی حافظ و قاری شہباز رضا دالکولہ، اتر دیناجپور، بنگال نے بتایا کہ ان کے یہاں چند غیر مقلد نوجوان سنی حنفی نوجوانوں کے ذہن میں رفع یدین کی غلط تشریح ڈال کر اپنے باطل مسلک کا خوب پرچار کر رہے ہیں، ان کا احمقانہ دعویٰ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین کیا عدم رفع یدین ثابت نہیں۔ رفع یدین پر ان کی ضد اور اصرار سے سنی نوجوانوں کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز کے دیگر مقامات پر بھی رفع یدین کرنا گویا واجب اور ضروری ہے۔
نوجوان ہوشیار رہیں! اہلسنت ائمہ اربعہ مجتہدین کا موقف یاد رکھیں اور انہی میں سے کسی ایک کے ہمیشہ کے لیے مقلد بن جائیں۔ اہل سنت و جماعت احناف کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین اور عدم رفع یدین دونوں ثابت ہیں، احناف اس کے منکر نہیں۔ کچھ احادیث سے رفع یدین کا ثبوت ہوتا ہے اور کچھ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد میں آپ نے رفع یدین کرنا چھوڑ دیا تھا اور چونکہ بعد والا عمل ہی سنت ہوا کرتا ہے، اسی لیے احناف کے یہاں رفع یدین نماز میں نہ کرنا سنت ہے اور رفع یدین والی احادیث منسوخ ہیں۔ اب بھی اگر کوئی رفع یدین کر رہا ہے تو وہ ترک شدہ عمل پر عمل کر رہا ہے۔ ترکِ رفع یدین پر احادیث پیش کرنے سے پہلے سمجھنے کے لیے مجددِ دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قدس سرہ کا ایک مختصر مدلل اور جامع فتویٰ یہاں نقل کر رہا ہوں۔ کوئی غیر مقلد وہابی اسے صرف امام احمد رضا کا فتویٰ ہونے کے نظریے سے نہ دیکھے بلکہ اس میں مندرج دلائل پر بھی اپنی نظر مرکوز رکھے اور تعصب و عناد اور کج فہمی کی فصیل سے نکل کر نفس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرے، اگر ایسا کرے گا تو ان شاء اللہ ان پر حق آشکارا ہو جائے گا۔
اعلیٰ حضرت سے پوچھا گیا کہ رفع یدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا نہیں؟ اور کب تک کیا؟ یہ بات ثابت ہے کہ ہمیشہ آپ نے کیا؟ اور مسلمانوں کو کرنا چاہیے یا نہیں؟ مکمل ارشاد فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ جواباً ارشاد فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز کسی حدیث میں ثابت نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا خلاف (رفع یدین نہ کرنا) ثابت ہے، نہ احادیث میں اس کی مدت مذکور، ہاں حدیثیں اس کے فعل و ترک (کرنے نہ کرنے) دونوں پر وارد ہیں۔ سنن ابی داؤد و سنن نسائی و جامع ترمذی وغیرہا میں ایسی سند سے ہے جس کے رجال (روایت کرنے والے) رجال صحیح مسلم ہیں۔
بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الأسود عن علقمہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی:
“قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.”
یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: کیا تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ یہ کہہ کر نماز میں کھڑے ہوئے تو آپ نے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھایا پھر دوبارہ نہ اٹھایا۔ امام ابوعیسی ترمذی نے اس حدیث پاک کی تخریج کے بعد حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.”
یعنی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث حسن ہے، یہی متعدد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعین کرام کا قول ہے اور یہی إمام سفیان ثوری اور علمائے کوفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مذہب ہے۔
مسند امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے:
“حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَا يَعُودُ لِشَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ.”
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے شروع میں رفع یدین فرماتے پھر اس کے بعد کسی جگہ ہاتھ نہ اٹھاتے۔
امام جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
“حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: حَدِيثُ وَائِلٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ. فَقَالَ: إِنْ كَانَ وَائِلٌ رَآهُ مَرَّةً يَفْعَلُ ذٰلِكَ، فَقَدْ رَآهُ عَبْدُ اللّٰهِ خَمْسِينَ مَرَّةً لَا يَفْعَلُ ذٰلِكَ.”
ترجمہ: حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم نخعی سے حدیث وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت دریافت کیا کہ انہوں نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا، ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پچاس (50) بار دیکھا ہے کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا۔
صحیح مسلم شریف میں ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ.”
ترجمہ: کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دم ہیں۔ نماز میں قرار اور سکون سے رہو۔
اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عمومِ لفظ کا ہے نہ خصوصِ سبب کا اور حاضر مبیح پر مقدم ہے، ہمارے ائمہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے احادیثِ ترک پر عمل فرمایا، حنفیہ کو ان کی تقلید چاہیے، شافعی وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی پیروی کریں کوئی محل نزاع نہیں ہاں وہ حضرات کہ تقلید ائمہ دین کو شرک و حرام جانتے ہیں اور بآنکہ علمائے مقلدین کا کلام سمجھنے کی لیاقت نصیب اعداء! اپنے لیے منصب اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین و اثارت فتنہ بین المومنین کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسی کو اپنا ذریعہ شہرت و ناموری سمجھتے ہیں ان کے راستے سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہیے۔ مانا کہ حدیث رفع ہی مرجح ہوں تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں غایت درجہ اگر ٹھہرے گا تو ایک امر مستحب ٹھہرے گا کہ کیا تو اچھا نہ کیا تو کچھ برائی نہیں، مگر مسلمانوں میں فتنہ اٹھانا، دو گروہ کر دینا، نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تک پہنچانا شاید اہم واجبات سے ہوگا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ.
فتنہ قتل سے بھی اشد ترین ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 598، کتاب الصلاۃ]
خود ان صاحبوں میں بہت لوگ صدہا گناہ کبیرہ کرتے ہوں گے انہیں نہ چھوڑنا اور رفع یدین نہ کرنے پر ایسی شورشیں کرنا کچھ بھلا معلوم ہوتا ہوگا اللہ سبحانہ تعالیٰ ہدایت فرمائے آمین واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
قارئین! مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اس پورے فتویٰ کو پڑھیں، دلائل کے ساتھ ان کی دیانت کو بھی دیکھیں انہوں نے دونوں طرح کی احادیث و روایات کا ذکر فرمایا اور پھر اخیر میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے قول و فعل سے استدلال کرتے ہوئے احناف کا موقف بتایا کہ یہاں ترک رفع یدین پر عمل ہے، اس پر سنن نسائی، جامع ترمذی، مسند الامام ابو حنیفہ، شرح معانی الآثار، صحیح مسلم جیسی عظیم معتبر کتب احادیث کے حوالے دیے اور اپنے فتویٰ میں شافعیہ وغیرہم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ اپنے ائمہ کی تقلید کریں سبحان اللہ کتنی پیاری بات ہے، آگے فرماتے ہیں کوئی محل نزاع نہیں، مطلب رفع یدین کا کرنا نہ کرنا نزاع (جھگڑا) کا محل نہیں یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ لوگ باہم دست و گریبان ہو جائیں۔
ہاں آپ نے خود ساختہ مجتہدین فہم و بصیرت سے عاری غیر مقلدین سے متعلق یہ ضروری تنبیہ فرمائی کہ لوگ مسلمانوں میں تفریق اور گروہ بندی کا زہر گھولنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں سے دور و ہوشیار رہنا چاہیے، اخیر میں فرماتے ہیں اگر حدیثِ رفع یدین ہی کو راجح مان لیں تو بھی کسی کے نزدیک یہ ایسا کرنا واجب نہیں ہے زیادہ سے زیادہ مستحب ٹھہرے گا۔
وہابی غیر مقلدین جو خود کو اہل حدیث بھی کہتے ہیں شعور و نظر سے کام لینا چاہیے اگر وہ واقعی میں اہل حدیث ہیں تو پھر ترک رفع یدین پر جو احادیث و روایات موجود ہیں ان کا کیا ہوگا؟ تقاضا تو یہ ہے کہ اہل حدیث ہونے کی حیثیت سے دونوں پر عمل کریں، لیکن میں جانتا ہوں یہ کہنے کو اہل حدیث ہیں جو حقیقتاً نفس پرستی، انانیت، ضد اور ہٹ دھرمی کا استعارہ ہے، ان سے دونوں پر عمل نہ ہو سکے گا اور یہ بھی طے ہے کہ ان کے بڑے سے بڑا عالم مندرجہ احادیث کا انکار نہیں کر سکتا، انکار نہ کرنے کی صورت میں پھر یہ اپنے علمائے سوء کی معنوی تقلید کرتے ہوئے جیسے تیسے جواب دے کر راہ فرار اختیار کریں گے، یہ ہزار تقلید کے منکر ہوں ان کا اقرار و انکار دونوں انہیں تقلید تک لے جائے گا۔
مسلمان ہوشیار رہیں، شورش پھیلانا، مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا، ائمہ حق کی تقلید کو حرام بتانا یہ ان کا شیوہ ہے۔ ان سے بچیں۔
وہ احادیث جن میں رفع یدین سے منع کیا گیا:
-
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ. [صحیح مسلم، ج: 4، کتاب الصلاۃ]
یہ حدیث تمیم بن طرفہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لے آئے (ہم لوگ نماز میں تھے اور رفع یدین کر رہے تھے) تو حضور نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو چنچل گھوڑوں کی دموں کی طرح رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں؟ نماز سکون کے ساتھ پڑھو۔
نماز کیسے پڑھی جائے اس حوالے سے بڑی مشہور حدیث ہے:
صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي. [صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ والاقامۃ]
تم ویسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
صحابہ حضور ہی کے طریقے پر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے حضور کو رفع یدین کرتے دیکھا تھا اس لیے وہ بھی کر رہے تھے جب منع فرما دیا تو چھوڑ چکے جیسا کہ مسلم شریف کی مندرجہ بالا حدیث میں واضح ہے اور خاص کر “اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ” اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے، گویا یہ حدیث ناسخ اور باقی احادیث اس سے منسوخ ہو گئیں، عمل منسوخ پر نہیں ناسخ پر ہوگا۔ اور یہ بھی ہے کہ کتب احادیث میں رفع یدین والی احادیث فعلی ہیں قولی نہیں، اور یہ امر مسلم ہے کہ قولی اور فعلی میں تعارض ہو تو عمل، حدیث قولی پر ہوتا ہے اور بخاری شریف کتاب الأذان میں امام بخاری کے استاذ امام عبداللہ بن زبیر حمیدی کی ایک روایت موجود ہے فرماتے ہیں کہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل پر ہوتا ہے اور ابھی آپ نے دیکھا۔ ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پچاس (50) بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہیں فرمایا۔
-
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ. [سنن أبی داؤد، باب مالم یذکر الرفع عند الرکوع]
ترجمہ: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے مبارک کانوں کے قریب اٹھاتے پھر (اس کے بعد اخیر نماز تک دونوں ہاتھوں) کو نہ اٹھاتے۔
-
صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو رکوع جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے دیکھا تو فرمایا:
لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ هٰذَا شَيْءٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَكَهُ. [عمدۃ القاری، ج: 5]
تم یہ کام نہ کرو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کیا تھا پھر بعد میں چھوڑ دیا۔
-
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ.
ترجمہ: میں نے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
فَهٰذَا ابْنُ عُمَرَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ، ثُمَّ قَدْ تَرَكَ هُوَ الرَّفْعَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَكُونُ ذٰلِكَ إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدَهُ نَسْخُ مَا قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِعْلَهُ وَقَامَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ بِذٰلِكَ. [شرح معانی الآثار، باب التکبیر للرکوع و التکبیر للسجود، ج: 1]
پس یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھاتے دیکھا پھر اسی ہاتھ اٹھانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کر دیا، تو یہ نہیں ہوا ہوگا مگر اس وقت کہ ان کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے اس (رفع یدین) کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ہوگا اور (ان کے نزدیک) رفع یدین کے منسوخ ہونے پر دلیل قائم ہو چکی ہوگی۔
قارئین اس طرح کی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں، مزید دلائل کے لیے سنن نسائی، سنن ابوداود، جامع ترمذی، موطا امام محمد، السنن الکبریٰ، مسند ابویعلی اور شرح معانی الآثار دیکھا جا سکتا ہے۔ اخیر میں یہ کہہ کر اپنا قلم اٹھاتا ہوں کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ لوگ آپس میں لڑیں بھڑیں، مقلدین ان مسائل کے باب میں اپنے اپنے ائمہ کی تقلید کریں رہی بات غیر مقلدین کی تو اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
ماہنامہ اشرفیہ 2026
