Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بحر العلوم... بحر محاسن و مفاخر (قسط: اول)محمد احمد مصباحی

بحر العلوم... بحر محاسن و مفاخر (قسط: اول)
عنوان: بحر العلوم... بحر محاسن و مفاخر (قسط: اول)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: عالمہ نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی مبارک پوری علیہ الرحمہ سے میں کب روشناس ہوا، اس کی تعیین مشکل ہے۔ اتنا وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آٹھ سال کی عمر (۱۳۷۹ھ / ۱۹۶۰ء) تک میں ان سے ضرور متعارف ہو چکا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ میرا ننہال مبارک پور میں ہے اس لیے والد گرامی (جناب محمد صابر اشرفی) کے ساتھ بھیرہ سے مبارک پور آمد و رفت بچپن ہی سے جاری تھی۔ والد صاحب مبارک پور آتے علماے اشرفیہ خصوصاً حافظ ملت، مفتی عبد المنان صاحب، قاری محمد یحییٰ صاحب اور مولانا مفتی علی احمد صاحب سے ملاقات اور کچھ گفت و شنید ضروری تھی۔ میں والد صاحب کے ساتھ آتا تو میری بھی حاضری ہوتی۔ اسی طرح بھیرہ میں جب انجمن اہل سنت کا اجلاس ہوتا تو اول الذکر تین بزرگوں کی تشریف آوری لازمی تھی۔ جب یہ حضرات بھیرہ آتے تو والد صاحب کی گزارش پر ہمارے گھر بھی آتے اس طرح مجھے انہیں قریب سے دیکھنے سننے اور جانے پہچانے کا موقع میسر آتا ہے۔

بحر العلوم کے جن اوصاف سے میں متاثر ہوں ان میں ان کی سادگی، بے تکلفی اور بذلہ سنجی بھی ہے جس کے ابتدائی نقوش میرے ذہن میں عہد طفلی سے ہی مرتسم ہیں۔ عقل و عمر اور فہم و شعور میں کچھ اضافہ ہوا تو ان کی تقریروں سے اثر پذیری کا دور آیا، جب باقاعدہ علمی میدان میں قدم رکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ سادہ و بے تکلف تقریریں بہت سے علمی و فنی محاسن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان میں موضوع کے لحاظ سے دلائل کی سطوت بھی ہوتی ہے، ترتیب کا حسن بھی، تفہیم و تاثیر کی رعنائی بھی، حسب موقع اشعار کی دل کشی بھی، ان سب کے ساتھ زبان و بیان کی شوکت اور اردوئے معلیٰ کی نزاکت بھی۔ اگر ان کے کچھ خطبات ٹیپ ریکارڈ سے منقول ہو کر زینت قرطاس بن چکے ہوں تو کسی ژرف نگاہ ادیب و خطیب کے اشہب قلم کی عمدہ جولان گاہ بن سکتے ہیں۔ ان کی سنجیدہ، مدلل اور اثر انگیز تقریریں عقائد حقہ کی تفہیم، اعمال صالحہ کی ترویج اور اخلاق عالیہ کے فروغ میں ضرور کارگر اور معاون ثابت ہوئیں۔ اور ان کے ذریعہ عظیم دینی خدمات انجام پذیر ہوئیں۔

فتاویٰ کے ذریعہ جو دینی، علمی، شرعی کام ملک گیر پیمانے پر نفع رساں ہوا اس کی تفصیلات سے آگاہی کے لیے “فتاویٰ بحر العلوم” کی چھ ضخیم جلدوں کا مطالعہ کافی ہے۔

ان کی برجستگی، بے تکلفی اور شائستگی کا اثر ان کی تدریس میں بھی نمایاں تھا۔ طلبہ بصد شوق ان کے درس میں پابندی سے حاضر ہوتے اور اپنی علمی تشنگی کا مداوا پا کر مسرور ہوتے۔

فتاویٰ رضویہ کا ڈنکا آج پوری علمی دنیا میں بج رہا ہے اور غواصان علم و فن ان سے مختلف علوم و فنون کے ہزارہا ہزار موتی نکالتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ بکرم سیدی مفتی اعظم و تقویت حافظ ملت قدست اسرار ہما، صدقہ ہے استاذنا العلام مولانا عبد الرؤف بلیاوی کی ہمت مردانہ و سعی پیہم کا اور حضرت بحر العلوم کی شبانہ روز کاوشوں کا، جن کے ذریعے جلد سوم تا ہشتم گوشۂ نارسا سے میدان افادہ و افاضہ میں جلوہ نما ہوئیں۔

بحر العلوم ایک صاحب طرز ادیب بھی تھے جس پر ان کی تحریریں شاہد عدل ہیں۔ ان کی قلمی سحر طرازی کا ایک دور وہ تھا جب وہ قرآن کریم کی کوئی سورہ یا کوئی رکوع لے کر اس کا توضیح و تفسیر آمیز ترجمہ اردوئے معلیٰ کے رنگین ادبی قالب میں ڈھالتے۔ زبان و بیان کی دل کشی، معانی قرآن کی اثر آفرینی اور سلاست و روانی کا حسن دل و دماغ کو اپنی زنجیروں کا اسیر بنا لیتا۔

ان کی حیات اور کارناموں کے بہت سے ابواب ہیں جو اہل علم و قلم کی توجہات کا مرکز بن سکتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ حسب ذوق و بساط بہت سے حضرات طبع آزمائی کر چکے ہوں گے اور آئندہ بھی مختلف جہتوں سے کوششیں ہوتی رہیں گی۔

وَاللَّهُ خَيْرٌ مُوَفِّقٌ وَمُعِينٌ.

محمد احمد مصباحی
صدر المدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
۱۳ صفر المظفر ۱۴۳۴ھ / ۲۷ دسمبر ۲۰۱۲ء [مقالات مصباحی، ص: 427 تا 428]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!