Loading...

تاج الفحول عبد القادر بدایونی

تاج الفحول عبد القادر بدایونی رحمتہ اللہ علیہ (سوانح و خدمات)
عنوان: تاج الفحول عبد القادر بدایونی رحمتہ اللہ علیہ (سوانح و خدمات)
تحریر: مولانا محمد عطاء النبی حسین مصباحی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

اسمِ گرامی: شاہ عبد القادر۔
القاب: تاج الفحول، محبِ رسول، مظہرِ حق، شیخ الاسلام فی الہند۔
سلسلۂ نسب: تاج الفحول حضرت علامہ مولانا شاہ عبد القادر بدایونی بن حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضلِ رسول بدایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی بن شاہ عبد الحمد بدایونی رحمتہ اللہ علیہم۔

تاریخِ ولادت

آپ کی ولادتِ با سعادت ۱۷ رجب المرجب ۱۲۵۳ھ مطابق ۱۸۳۷ء کو ہوئی۔

تحصیلِ علم

آپ کی رسمِ تسمیہ خوانی آپ کے جدِ محترم نے فرمائی۔ بعد ازاں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، حضرت مولانا نور احمد صاحب نے کمالاتِ علمیہ میں آپ کو معراجِ کمال تک پہنچایا۔ اس کے بعد آپ نے استاذ الاساتذہ امام الوقت مجاہدِ جنگِ آزادی حضرت مولانا فضلِ حق خیر آبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ استاذ کو اپنے تلامذہ میں سے آپ پر فخر تھا، وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ "صاحبِ قوتِ قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عصر بعدِ عصر پیدا ہوتے ہیں، اگر اس زمانے میں کسی کا وجود تسلیم کیا جائے تو وہ عبد القادر ہیں"۔

ذہن کی جودت کا یہ عالم تھا کہ والدِ محترم فرمایا کرتے تھے کہ "برخوردار عبد القادر کی ذہانت مجھ سے بھی زیادہ ہے"۔ حضرت مولانا فضلِ حق کے شاگردوں میں چار شاگرد عناصرِ اربعہ مانے جاتے تھے مگر تاج الفحول کا نام ان میں بھی سرِ فہرست تھا کیوں کہ تین شاگرد تو کسی خاص فن میں وحیدِ عصر تھے مگر حضرت تاج الفحول کا تبحر جملہ علوم و فنون میں تھا۔ فراغتِ علومِ عقلیہ و نقلیہ کے بعد سندِ اجازتِ حدیث اپنے والدِ ماجد سے لی، اور مکہ مکرمہ میں شیخ جمال عمر مکی رحمتہ اللہ علیہ سے سندِ حدیث حاصل کی۔

بیعت و خلافت

اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔

درس و تدریس و فتاویٰ نویسی

درس و تدریس آپ کا خاندانی ورثہ تھا، اس لیے آپ نے اس جانب پوری توجہ فرمائی۔ مشکل سے مشکل مسئلہ بڑی آسانی سے حل فرما دیتے، اور سخت سے سخت بحثیں بچوں کے ذہن میں یوں اتار دیتے کہ محسوس ہوتا کہ پہلے سے جانتے ہیں۔ منطق و فلسفہ میں خاصا شغف نہ ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی لاینحل مسئلہ سامنے آتا تو چٹکیوں میں حل فرما دیتے تھے۔

درس و تدریس کے ساتھ آپ فتویٰ نویسی کا کام بھی انجام دیتے تھے۔ سائل کی منشا کو جان کر نہایت شستہ لفظوں میں بڑے ہی اختصار کے ساتھ جواب مرحمت فرماتے، اور مسائل کے جزئیات مستند کتابوں سے تحریر فرماتے۔ اس تعلق سے آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ "مفتی جب تک مخصوص جزئیات کو مستند کتابوں میں نہ پائے تو ہرگز جواب تحریر نہ کرے، محض اپنی یادداشت پر اعتماد نہ کرے"۔

آپ کے تفقہ فی الدین کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب مجددِ اعظم امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کی نظر میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کے فتوے پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جا سکتا ہے؟ تو امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: "میری نظر میں صرف دو لوگ ہیں جن کے فتوے پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جا سکتا ہے اول والدِ گرامی مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ دوم تاج الفحول عبد القادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ان کے علاوہ کوئی نہیں ہے"۔

تصنیفی خدمات

وعظ و تقریر کے ساتھ ساتھ آپ کو تصنیف و تالیف سے بھی شغف تھا۔ تقریباً بیسوں کتابیں مختلف موضوعات پر تصنیف فرمائیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • (۱) حقیقت الشفاعۃ علیٰ طریق اہل السنۃ والجماعۃ
  • (۲) سیف الاسلام المسلول علیٰ المناع لعمل المولد والقیام
  • (۳) رسالہ در ردِ تقویۃ الایمان
  • (۴) الناصحہ فی تحقیق مسائل المصافحہ
  • (۵) ہدایت الاسلام
  • (۶) ارشاد الانام
  • (۷) رسالہ در تحقیقِ حیات الانبیاء
  • (۸) رسالہ در تحقیقِ تحریفِ توریت وانجیل
  • (۹) رسالہ در تحقیقِ معنیِ سنت و بدعت

تاریخِ وصال

آپ کا وصال ۱۸ جمادی الاول ۱۳۱۹ھ، مطابق ۲۹ ستمبر ۱۹۰۱ء کو ہوا۔ خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔

القاب و خطابات

اعزازیہ القاب: (۱) اعلیٰ حضرت (۲) تاج الفحول (۳) محب الرسول (۴) خاتمۃ المحققین (۵) فاضلِ بدایونی (۶) ناظمِ اہتدا (۷) ظلِ غوثِ الوریٰ (۸) زبدۃ الاتقیاء (۹) عمدۃ الازکیاء (۱۰) خادمِ مرتضیٰ (۱۱) مظہرِ ارتضا (۱۲) نائبِ مصطفیٰ (۱۳) امام الہدیٰ (۱۴) محققِ عصر (۱۵) محققِ شریعت و طریقت (۱۶) عالمِ اہل سنت (۱۷) مجددِ عصر (۱۸) فردِ فرید۔

حضرت تاج الفحول رحمۃ اللہ علیہ ان دو عظیم جلیل شخصیات میں سے ہیں جن پر امامِ اہل سنت کلی اعتماد فرماتے تھے۔ پچیس سال تک آپ کی صحبتِ بابرکت سے امامِ اہل سنت مستفید بھی ہوتے رہے۔ اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ اور دیگر مکاتیب و رسائل میں آپ کو جلیل القدر القاب (جیسے "محب الرسول"، "تاج الفحول" اور "خاتمۃ المحققین" وغیرہ) سے یاد فرماتے رہے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!