Loading...

امام احمد رضا اور فن نحو (قسط پنجم)

امام احمد رضا اور فن نحو (قسط پنجم) - فن نحو کے اہم قواعد و قوانین
عنوان: امام احمد رضا اور فن نحو (قسط پنجم) - فن نحو کے اہم قواعد و قوانین
تحریر: مولانا طارق انور مصباحی (کیرلا)
پیش کش: سعدیہ سلطانہ عطاریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

مضمون کی طوالت کے خوف سے امام موصوف کی تحریروں سے صرف ان قواعد واصول کو سپرد قرطاس کیا جاتا ہے، جو بہت اہم ہیں۔ ان اصول وقوانین کو دیکھ کر علم نحو میں امام ممدوح کے وسیع الادراک اور کثیر العلم ہونے کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ یوں کئی درجن علوم وفنون میں آپ کے تبحر علمی کا اعتراف اپنوں اور بیگانوں نے کر دیا ہے۔ ہماری تحریر محض اس اعتراف کی تقویت کے لیے ہے۔

اسم تفضیل کے طریق استعمال پر بحث کرتے ہوئے امام موصوف نے رقم فرمایا:

«قال المولى السامى نور الملة والدين الجامي قدس الله تعالى سره: وضعه لتفضيل الشئ على غيره فلا بد فيه من ذكر الغير الذى هو المفضل عليه وذكره مع من والاضافة ظاهر، واما مع اللام فهو في حكم المذكور ظاهرًا لانه يشار باللام الى معين بتعيين المفضل عليه مذكور قبل لفظا او حكمًا كما اذا طلب شخص افضل من زيد - قلت، عمر و الافضل ای الشخص الذي قلنا انه افضل من زيد، فعلى هذا لا تكون اللام في افعل التفضيل الا للعهد - انتهى»

[فتاوی رضویه جلد ۲۸ ص ۶۰۶، ۶۰۷ - جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]

ترجمہ: حضرت بلند مرتبت نور الملت والدین جامی قدس الله تعالیٰ سرہ القوی نے فرمایا: اسم تفضیل کی وضع شی کی غیر پر فضیلت بتانے کے لیے ہے، لہذا اس میں غیر جو مفضل علیہ ہے، اس کا مذکور ہونا ضروری ہے، اور من (حرف جار) اور اضافت کے ساتھ تو مفضل علیہ کا مذکور ہونا ظاہر ہے۔ رہا لام تعریف کے ساتھ تو مفضل علیہ ظاہراً مذکور کے حکم میں ہے، اس لیے کہ لام تعریف سے کسی معین کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو پہلے لفظی یا حکمی طور پر مذکور مفضل علیہ کی تعیین کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے کہ اگر کوئی شخص زید سے افضل مطلوب ہو تو تم کہو گے کہ عمر والا فضل (لام تعریف کے ساتھ) یعنی وہ شخص جسے ہم نے زید سے افضل کہا، وہ عمرو ہے تو اس بنا پر صیغہ افضل التفضیل میں لام، عہد (تعیین) ہی کے لیے ہوگا۔ (عبارت ختم ہوئی)

توضیح: اسم تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں۔ من (حرف جار) اور اضافت کے ساتھ استعمال ہو تو مفضل علیہ کا ذکر ضروری ہے، جیسے زید افضل من بکر اور زید افضل المحدثین، اور جب اسم تفضیل معرف باللام ہو کر استعمال ہو تو مفضل علیہ مذکور کے حکم میں ہوتا ہے، کیوں کہ وہاں مفضل علیہ لفظی یا حکمی طور پر ماقبل میں مذکور ہوتا ہے۔

مبتدا و خبر جب دونوں معرفہ ہوں:

جب کسی جملہ میں مبتدا و خبر دونوں جز معرفہ ہوں تو کس کو مبتدا اور کس کو خبر بنایا جائے؟ امام موصوف نے اس کی نفیس بحث رقم فرمائی ہے۔ حکیم ترمذی کی روایت میں ہے: «الحيـــاء زينة والتقـى کرم»

[نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول ص ۲۰۰ - دار صادر بیروت]

اور ابن ابی الدنیا کی کتاب الیقین میں ہے: «الكرم التقوى والشرف التواضع»

[كتاب اليقين من رسائل ابن ابی الدنيا جلد ۱ ص ۲۸ - مؤسسة الكتب الثقافيه بيروت]

امام موصوف نے تحریر فرمایا کہ الکرم التقویٰ کا عکس یعنی ”التقوی الکرم“ مقبول نہیں ہوگا۔ اسی بحث میں نحوی قاعدہ کو بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا:

«وانا اعطيك ضابطة لهذا - كلما رأيت في امثال هذا المقام اسمين معرفين باللام محمولا احدهما على الاخر - فان صح ان يحمل الآخر على الأول مجردًا عن اللام فاعلم انه يجوز ان يكون محمولا في تلك القضية ايضا والا لا: نظيره قول الشاعر: بنونا بنو ابنائنا وبنو بناتنا ابناء الرجال...»

ترجمہ: اور میں تم کو اس کے لیے ایک ضابطہ دیتا ہوں۔ جب کبھی تم ایسے مقامات میں دو اسم معرف باللام دیکھو کہ ان میں کا ایک دوسرے پر محمول ہوتا ہے تو اگر دوسرے کا پہلے کے لیے محمول بننا بغیر لام کے صحیح ہو تو جان لو کہ وہ اس قضیہ (جملہ) میں محمول بھی ہو سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ اس کی نظیر شاعر کا قول ہے:

ہمارے بیٹے ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں اور ہماری بیٹیوں کے بیٹے دیگر مردوں کے بیٹے ہیں۔

اس لیے کہ اگر تم یوں کہو کہ ہمارے پوتے ہمارے بیٹے ہیں تو یہ صادق ہوگا اور اگر یوں کہو کہ ہمارے بیٹے ہمارے پوتے ہیں تو یہ کاذب ہوگا تو شعر میں "بنونا" ہی محکوم بہ ہے، اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ محمول کو نکرہ لانا جائز ہے اور افادہ قصر اگر اس کو امر کلی تسلیم کر لیں نفس حکم پر ایک زائد بات ہے، اور موضوع کبھی نکرہ محضہ نہیں لایا جاتا ہے، اس لیے یوں نہ کہا جائے گا کہ: "الکرم تقوی" یا "الکرم دین" (یعنی جب جملے کے جزائے ثانی کو مبتدا بنائیں تو اس کو نکرہ لانا جائز نہیں)، بلکہ تم (دوسرے جز کی) تعریف کے ساتھ بولو گے، اس لیے کہ حقیقت میں دوسرا جز ہی موضوع ہے، اسی وجہ سے اگر اس جملے کا عکس کر دو، اور پہلے جز کو نکرہ کر دو تو صحیح ہوگا۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ”تقویٰ“ کو مقدم کیا حکیم ترمذی کی گزشتہ حدیث میں تو ”کرم“ کو نکرہ لائے (التقوی کرم)، اور دوسری حدیث میں جب اس کا عکس کیا تو "تقوی" کو معرفہ لائے (الکرم التقوی)۔ الٰہی! تیری پیہم نعمتوں پر تیری حمد ہے۔

[فتاوی رضویه ۲۸ ص ۶۳۵، ۶۳۶ - جامعہ نظامیہ لاہور]

توضیح: اس قانون نحوی کے آغاز و اختتام میں جو الفاظ امام اہل سنت نے تحریر فرمایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے مستنبط قواعد میں سے ہے: واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

ان شرطیہ اور لو کی بحث:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز نے علم کلام کی مشہور کتاب "المعتقد المنتقد" مؤلفہ: حضرت علامہ فضل رسول بدایونی (۱۲۱۳ھ-۱۲۸۹ھ / ۱۷۹۷ء-۱۸۷۲ء) کے حاشیہ "المعتمد المستند" میں ان اور لو کی تفصیلی بحث فرمائی ہے۔ ان دونوں کتابوں کا اردو ترجمہ حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری (۱۹۴۳ء - ۲۰۱۸ء) نے فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ مطبوعہ ہے۔ اسی سے ان شرطیہ اور ”لو“ سے متعلقہ عبارتوں کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

امام احمد رضا قادری نے فرمایا: اب ہم اس مقام کی تحقیق اور مقصد کی توضیح میں وہ لائیں جو ملک (بادشاہ) علام ہمارے لیے کھولے۔ تمہیں معلوم ہو کہ 'لو' وصلیہ اور یوں ہی 'ان' وصلیہ ایسے حکم کے عموم کی تاکید کے لیے آتے ہیں، جس کے بعد یہ دونوں یعنی ”لو“ اور ”ان“ آتے ہیں، اور اس وجہ سے کہ ان کے مدخول کی نقیض فرد ہو یا حالِ مدخول، ان اور لو سے زیادہ حکم کی سزاوار ہوتی ہے، اور اس میں ایک قسم کی پوشیدگی ہوتی ہے۔ جس کا ثبوت فرد کے لیے یا اس حالت میں بسا اوقات غیر معروف یا مستبعد ہوتا ہے، لہذا تقدیر یقیہ القدیر نقیض کا ذکر اس کے ظہور کی وجہ سے لپیٹ دیا جاتا ہے (چھوڑ دیا جاتا ہے) اور اس حکم پر (جو لو اور ان کے بعد آتا ہے) نص کی جاتی ہے، تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ حکم دونوں تقدیروں پر لازم ہے۔ اب واؤ عطف یوں ٹھہرتا ہے گویا کہ وہ اصل میں کسی قضیہ شرطیہ غیر مذکورہ پر عطف ہے، جیسے کہ اللہ نے فرمایا: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمُ خَصَاصَةٌ} (سورة الحشر: آیت ۹) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو۔ (کنز الایمان)

اور ایثار عدم نقصان کی صورت میں وجود نقصان کی حالت میں ایثار کی نسبت ظاہر تر ہے تو خفی کی تصریح کی، تاکہ ظاہر بدرجہ اولیٰ دلالت کرے، گویا کہ یوں کہا گیا کہ اگر انہیں نقصان نہ ہو تو ایثار فرمائیں، اور اگر ان کو نقصان ہو جب بھی ایثار کریں۔ الحاصل ایثار دونوں تقدیروں پر ان کا وصف لازم ہے، اور یوں ہی اللہ تعالیٰ کا قول {أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ} (سورة النساء: آیت ۷۸) تم جہاں کہیں ہو، موت تمہیں لے آئے گی، گرچہ مضبوط قلعوں میں ہو۔ (کنز الایمان)

تو موت کا اس کو جالینا جو کسی پناہ گاہ میں نہیں، اس شخص کو موت آنے کی بہ نسبت جو مضبوط قلعے میں ہے، ظاہر تر ہے تو خفی پہلو پر نص فرمائی، اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ موت آنا دونوں فریق کو لازم ہے، پھر تقدیر مذکور کبھی تحقیقی ہوتی ہے جیسے کہ ان دونوں آیتِ کریمہ میں، اس لیے کہ انصار کچھ وہ تھے، جو تنگی میں تھے اور لوگوں میں کچھ وہ ہیں جو اونچے محلوں میں ہیں اور کبھی فرضی ہوتی ہے کہ خارج میں اس کا وجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ ممتنع ہوتی ہے، جس کے ہونے کا امکان نہیں۔ یہ تقدیر تاکید عموم میں زیادہ دخل رکھتی ہے، اس لیے کہ یہ فرضی تقدیروں کو بھی شامل ہے، اور مجھے قرآن عظیم سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے باپ سے جو عرض کی، اس کے سوا کوئی مثال اس وقت یاد نہیں آتی (ان کی عرض یہ تھی) {وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَدِقِينَ} (سورة يوسف: آیت ۱۷) اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے، گرچہ ہم سچے ہوں۔ (کنز الایمان)

تو بھیڑیئے سے متعلق جھوٹی خبر میں ان کا سچا ہونا فی الواقع ممتنع ہے، لیکن یہ ان کا مقصود نہیں، پھر اگر وہ تقدیر مفروض ہو تو قضیہ شرطیہ سے زیادہ کسی چیز کا فائدہ نہ دے گی، اور اگر وہ تقدیر حکمِ ملی کے بعد محقق ہو تو پہلے جیسے ایک قضیہ حملیہ کا فائدہ ہوگا جو حکم میں ایجاباً یا سلباً پہلے حملیہ کی طرح ہوگا۔ اس میں محمول وہی قضیہ اولیٰ کا محمول ہوگا اور تقدیر قضیہ اولیٰ کے عنوان کے ساتھ وصف عنوانی میں ماخوذ ہوگی، جیسا کہ دونوں آیتوں میں ہے، اس لیے کہ مفادِ آیت یہ ہے کہ وہ انصاری جسے تنگی ہے، وہ اپنے نفس پر دوسرے کو ترجیح دیتا ہے اور وہ انسان جو مضبوط محل میں ہے، اس کی موت اسے پالیتی ہے۔ یہ اس کے برخلاف ہے کہ تم کہو کہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کا یقین لانے والے نہ تھے، اگرچہ وہ سچے ہوتے، اس لیے کہ تم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ان بچوں کا وہ یقین نہ لاتے، بلکہ تمہاری مراد یہ شرطیہ ہے کہ اگر بالفرض سچے ہوتے، ان کے دل میں ان کے سچے ہونے کا یقین نہ آتا، پھر حملیہ میں دو حکم ہوتے ہیں۔ ایک قصدی وصفِ محمول کے ساتھ، اور دوسرا ضمنی وصف عنوانی کے ساتھ، اور شرطیہ کے دونوں جز میں سے کسی میں کوئی حکم نہیں ہوتا، جیسا کہ تحقیق ہے۔ حکم اس میں کسی حکم کے لیے دوسرے حکم کے لزوم کا ہوتا ہے، یا ایک حکم کی دوسرے حکم کے ساتھ نسبت عناد کا ہوتا ہے۔ یہ نکتہ یادرکھو، اس لیے کہ یہ بروقت خیال میں آنے والے نکتوں میں سے ایک ہے، اور کثیر الفائدہ ہے۔

[ترجمہ: المعتمد المستند ص ۲۴۲ تا ۲۴۴ - مکتبہ برکات المدینہ کراچی]

توضیح: اس بحث کے ابتدا واختتام میں امام موصوف نے جو کچھ تحریر فرمایا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اصول وقواعد امام ممدوح کے اضافات میں سے ہیں: فالحمد للہ علی ذلک۔

[حوالہ: مصنف اعظم ص ۷۳۴ تا ۷۳۷]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!