فاضلِ کامل سید عبد الرحمن بیتھوی رحمۃ اللہ علیہ

فاضلِ کامل سید عبد الرحمن بیتھوی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: فاضلِ کامل سید عبد الرحمن بیتھوی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت

آپ کا آبائی گھرانہ تو موضع ترہٹ (ضلع نوادہ، بہار) میں تھا، لیکن آپ کی ولادت بیتھو شریف (ضلع گیا، بہار) میں علمی و روحانی فیضان کے نثار، آپ کے نانا جان عارفِ باللہ حضرت سید شاہ عبد الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دولت کدے میں ۱۲۹۳ھ کو ہوئی۔

تعلیم و تربیت

عہدِ طفلی ہی میں آپ کے والد محترم حضرت سید شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ مالکِ حقیقی سے جا ملے، جس کے سبب آپ شفقتِ پدری سے زیادہ محظوظ نہ ہو سکے اور آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے نانا جان کے زیرِ سایہ ہوئی۔ آپ کی تعلیمی تفصیلات کے حوالے سے ڈاکٹر احمد رضا محمد صاحب نے ایک مختصر ذکر کچھ یوں کیا ہے:

"حضرت شاہ صاحب قبلہ کے تعلیمی مراحل کے تعلق سے ابتدائی تعلیم سے فراغت تک کی تعلیم کا باضابطہ تذکرہ عام طور پر کہیں دست یاب نہیں ہے۔ آپ کے سوانح نگار سید شاہ محمد حسنین رضا قادری سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ کیری شریف، بانکا (بہار) نے ایک جگہ اس تعلق سے آپ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس تذکرہ سے پتا چلتا ہے کہ خانگی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو کر آپ نے سہسرام، کلان پور، بلند شہر کا رخ کیا۔ وہاں درس نظامی کی متوسطات تک کی تعلیم حاصل کی۔ اس تعلیمی سفر کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے اندر مزید حصولِ تعلیم کا ذوق اور بھی بڑھ گیا اور یہ جذبہ جب طغیانی پر آگیا تو اب اس کی تسکین کے لیے صرف ایک بارگاہ تھی جہاں سالکوں کی بھیڑ تھی، پینے والوں کا میلا تھا اور لے جانے والے بھر بھر کر جامِ شریعت و طریقت لے جا رہے تھے۔ آپ کو بھی وہاں پہنچنے کا باطنی اشارہ ہوا اور آپ سیدھے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔ گویا اب آپ اس در تک پہنچ گئے جہاں آپ کی ہر تشنگی دور ہو سکتی تھی، ہر غلط کا علاج تھا اور جہاں آپ طبیعت کے مطابق شریعت و طریقت کا جام سیر ہو کر پی سکتے تھے۔"

فراغت

سید صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں اکتسابِ علم کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کی فراغت کی مسرت آمیز ساعت بھی آن پڑی اور ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۲۳ھ (مطابق ۱۹۰۳ء) کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ اقدس سے دستار و سندِ فراغت اور سندِ حدیث سے سرفراز ہوئے۔

میدانِ عمل میں

بعدِ فراغت آپ نے میدانِ عمل میں قدم تو رکھا لیکن کس کس شعبہ میں آپ نے اپنی کارکردگی سے خلقِ خدا کو فائدہ پہنچایا، اس کی مکمل تفصیل دست یاب نہیں۔ البتہ ڈاکٹر احمد رضا صاحب کی تحریر سے اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ آپ بریلی شریف میں دو سال تک درس و تدریس میں اپنا جوہر لٹاتے رہے:

"فراغت کے بعد آپ نانا جان کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے۔ ۱۳۲۳ھ (مطابق ۱۹۰۵ء) میں آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا، ایک سال بعد آپ کے نانا شیخ حضرت شاہ عبد الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ۱۳۲۴ھ (مطابق ۱۹۰۶ء) میں انتقال ہو گیا۔ ایسے عالم میں آپ نے پھر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور دو سال مسلسل درس و تدریس میں مشغول رہے۔"

رضوی دار الافتا میں

آپ نے بریلی شریف کے زمانہ تدریس میں صحبت و قربتِ اعلیٰ حضرت کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اور طلبہ کو فائدہ پہنچانے اور اعلیٰ حضرت سے استفادہ کرنے میں لگے رہے۔ پھر کیا تھا، صحبت و تربیت کا اثر یہ ہوا کہ آپ رضوی دار الافتا کی مسند پر فائز ہوئے اور تقریباً گیارہ سال فتویٰ نویسی کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر احمد رضا صاحب قبلہ رقم طراز ہیں:

"رفتہ رفتہ (اعلیٰ حضرت نے) انہیں اس لائق بنا دیا کہ رضوی دار الافتا میں آنے والے استفتائ کا جواب دینا بھی آپ کے حصے میں آگیا۔ حضرت شاہ صاحب قبلہ نے اعلیٰ حضرت کی حیات میں ہی ۱۳۲۸ھ تا ۱۳۳۰ھ فتاویٰ لکھے، اس پر اعلیٰ حضرت نے تصدیق فرمائی، گویا اعلیٰ حضرت نے اپنے فیض ظاہری و باطنی سے شاہ صاحب قبلہ کو شریعت کا عالم اور طریقت کا عارف بنا دیا۔"

وصال

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس عظیم سرگرم خلیفہ کی طبیعت ۱۱ ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ کو علیل ہوئی اور دو دن اسی حالت میں بسر کرتے ہوئے ۱۳ ذو الحجہ ۱۳۹۳ھ بروز جمعۃ المبارک کا دن گزار کر رات میں اپنے مالک حقیقی سے واصل ہو گئے۔ آپ کے حجرہ مبارکہ میں آپ کی تغسیل اور تجہیز و تکفین کے بعد کیری شریف میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

القابات و خطابات

حضرت سید عبد الرحمن بیتھوی رحمۃ اللہ علیہ امام احمد رضا کے گم نام خلفا اور تلامذہ میں سے ہیں، اور ان چیدہ اشخاص میں سے تھے جن کو رضوی دار الافتا میں خدمت کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ کو بارگاہِ امام سے درج ذیل خطابات کا تحفہ ملا:

  • فاضلِ کامل
  • مرضی الخصال
  • محمود الشمائل

آپ کی فراغت (۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۳ء بروز جمعہ) کے وقت اعلیٰ حضرت نے سند و دستارِ فضیلت اور سندِ حدیث سے نوازا اور سند میں اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا:

"ايها الفاضل، الكامل، مرضی الخصال، محمود الخصائل، محمود الشمائل، الرفيع الشان مولانا عبد الرحمن، قادری بن سيد عبد القادر بيتھوى"
(ماہنامہ معارف رضا، کراچی، اکتوبر ۲۰۱۴ء، ص: ۲۷)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!